Member Login

Attock Poll

Do you think recent suicide blasts are a reaction against Lal Masjid operation?

Attock Weather

Attock
28°C

Syndicate

شاہ عبداللہ کی طرف سے بلائی گئی بین المذاہب کانفرنس PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 


گذشتہ دنوں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ اور سپین کے بادشاہ جوئن کارلوس نے مشترکہ طور سپین کے شہر میڈرڈ میں بلائی گئی ایک بین المذاہب کانفرنس کا افتتاح کیا، جس میں شاہ عبداللہ نے کہا کہ"اللہ کی وحدانیت کو بنیاد بنا کر دنیا امن کا گہوارہ بنائی جا سکتی ہے، ہم سب اللہ کی واحدانیت پر یقین رکھتے ہیں تو اس ایک نکاتی بنیادی ایجنڈے کے تحت بھائی چارے اور محبت کے فروغ پر کیوں متفق نہیں ہو سکتے؟" ایسی ہی ایک کانفرنس اس سے پہلے سعودی عرب میںہوچکی ہے جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ دوسرے مذاہب جن میں عیسائی اور یہودی بھی شامل ہیں کے لوگوں سے بات چیت کی جائے گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہبی رواداری ہونی چاہیے ، مذہبی رواداری کو فروغ دینا چاہیے ایک دوسرے کے مذہبی رہنماؤں کی عزت و توقیر ہونی چاہیے مگر اس کے باوجود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی کانفرنسوں کا انعقاد ہونا چاہیے ؟ کیا ایسی کانفرنسوں کی کامیابی کے امکانات ہیں؟ کیا ایسی کانفرنسوں کے بعد برداشت اور رواداری فروغ پا سکے گی؟ اور سب سے بڑھ کر کیا پاکستان، ایران، افغانستان، کشمیر، بنگلہ دیش، انڈو نیشیا ، ملائیشیا، بھارت اور سری لنکا جیسے ممالک میں رواداری اور برداشت کی فضا پیدا ہو سکے گی خاص طور پر اس صورت میں جب مذہب کا کاروبار کرنے والے لوگ مذہب کے نام پر جھوٹ اور فریب کاری کا سہارا لیکر لوگوں کے جذبات کو منفی رنگ میں ابھار رہے ہوں جن کو جاگیرداری، وڈیرہ ازم اور سیاسی اشرافیہ کے ساتھ ساتھ حکومتی لوگوں کی آشیر باد بھی حاصل ہو کیونکہ ان ممالک میں ماضی سے لیکر اب تک تو یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ مذہب کا نام لیکر لوگوں کو بے گھر کیا گیا، ان کے گھر بار جلائے گئے ان کے مال و اسباب لوٹے گئے اور ان کے جانیں لی گئیں ان کی عبادت گاہیں نذرِ آتش کی گئیں اور یہ سلسلہ پوری شدت کے ساتھ ان تمام ممالک جن کا میں نے ذکر کیا ہے پوری آب و تاب سے جاری و ساری ہے اور ان تمام ممالک اور جگہوں پر کسی نہ کسی رنگ میں مذہب مخالف قوتوں کو اگر حکومتوں کی درپردہ ہمایت حاصل نہیں تو ان کو دوسروں ممالک میں سے کسی نہ کسی طور پر مدد مل رہی ہوتی ہے بالکل اسی طرح جسطرح افغانستان اور بعض دوسرے ممالک میں اب تک پاکستان میں سے بعض مولویوں کے ہتھے چڑھنے والے لوگ( خاص طور پر نوجوان) جہاد کا نام لیکر حکومت مخالف کاروائیوں میں مصروف رہتے ہیں جو امریکی اور افغانی افواج کی کاروائیوں میں مارہے جا رہے ہیں یا جواباً ان لوگوں کو مارہے ہیں ۔ یہ سلسلہ یہاں ہی نہی رکا بلکہ ان کا دائرہ کارہمسایہ ممالک سے نکل کر یورپ اور امریکہ تک بھی جا پہنچا ہے ۔ ان کے سرپرست بڑی ڈھٹائی سے یہ کہتے ہیں کہ فلاں ملک میں ہم نے کاروائی اور فلاح جگہ پر ہمارے لوگ سرگرمِ عمل ہیںاور تو اور اگلے دنوں القاعدہ کی طرف سے منسوب یہ بیان بھی میڈیا کی زینت بنا کہ امریکہ میں9/11کا واقع ان کے آدمیوں کی کاروائی تھی جو امریکہ سے ان زیادتیوں کا بدلہ لینے کیلئے کی گئی جو وہ مسلمان ممالک میں کر رہا ہے۔
ہماری اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ لوگ جو 9/11کے واقعے میں ظاہری طور پر یا درپردہ ملوث ہیں وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، ان نام نہاد مسلمانوں سے جا کر کوئی پوچھے کہ کیا اس کے بعد امریکی اپنی حرکتوں سے باز آ گیا ہے یا اس کے ظلم و ستم میں کمی آئی ہے؟ یہ لوگ اس کا تو جواب نہیں دے سکتے مگر اتنا ضرور ہے کہ ان کی ایسی حرکتوں کے بعد ساری دنیا میں بالعموم اور امریکی اور یورپ میںبالخصوص مسلمان زیرِ عتاب ضرور آ گئے جو روٹی روزی کیلئے اپنے گھر بار چھوڑ کر ان ممالک میں آباد تھے، اس کے ساتھ ساتھ عراق اور افغانستان میں سالوں سے میرے آقا و مولا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب لوگوںکا جو بالواسطہ قتلِ عام ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے اور یہ کہ ان معصوموں کا خون کس کی گردن پر ہوگا؟ان ممالک کے نہتے عوام پر کون سے بم نہیں چلے اور کون سا بارود نہیں برسا ہو گا ؟ اس سوچ کے حامل لوگوں کی مسلمانوں سے کیایہی ہمدردی ہے کہ ان کے لئے قدم قدم پر مصیبتوں کے پہاڑ کھڑے کر دیئے جائیں کہ ان کے لئے کوئی جائے اماں ہی نہ رہے۔
شاہ عبداللہ اور شا جوئن کارلوس کی سوچ کوئی نئی اور انوکھی سوچ نہیں اور نہ ہی یہ وقت آج آیا کہ مذہبی اور سماجی طور پر رواداری کو فروغ دیا جائے بلکہ اس کی بابت تو ہمارے بہت سے بزرگ صدیوں پہلے سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ لڑائی جھگڑے کو چھوڑ کر دلائل اور محبت سے ایک دوسرے کو قائل کرتے ہوئے پیار اور محبت کو فروغ دیا جائے مگر افسوس کہ یہ صدا اس وقت سے لے کر اب تک ویرانے میں دی جانے والی صدا کے علاوہ کچھ بھی ثابت نہ ہو سکی کیونکہ لوگوں کو بھٹکانے ، پھسلانے اور اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے، عرب سے لیکر عجم تک جس طرف نظر دوڑائیں کسی نہ کسی رنک میں مذہب کا سیاسی طور پر بھر پور استعمال نظر آتا ہے جو کہیں حکومتوں کو مضبوط کرنے کیلئے استعمال ہوا تو کہیں گرتی ہوئی مقبولیت کو بڑھانے کیلئے استعمال ہوامگر انجام کار ایسے ملکوں کے حکمرانوں کی نہ تو حکومتیں ہی بچ سکیں اور نہ ہی ان کی اپنی جانوں کو امان مل سکی خود پاکستان میں بھٹو کی حکومت کا حال ہمارے سامنے ہے کہ جن مولویوں نے بھٹو کو استعمال کیا وہی اس کے خلاف اتحاد بنا کر کھڑے ہو گئے اور انجام کا رحکومت کے ساتھ اس کی جان بھی گئی ۔
شاہ عبداللہ صاحب نے سپین کے شاہ کے ساتھ ملکر اگر اس چیز کا بیڑہ اٹھایا ہے کہ مذہبی معاشری رواداری کو فروغ دینا ہے تو پھر ان دونوں کو اپنے عمل سے اس کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی مذہبی اور معاشرتی رواداری کو فروغ دینا چاہتے ہیںجس کیلئے ایسے عناصر کے سروں سے دستِ شفقت اٹھانا ہوگا اور ان کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی جو شدت پسندی اور انتہا پسندی کے دلدادہ ہیں اوردوسری طرف اپنی پسند اور ناپسند کو پسِ پشت ڈال کر ہر اس سخص کے پاس خود چل کر جانا ہوگا جس کو وہ اپنا مخالف سمجھتے ہیں، سینوں میں چپھی کدورتوں اور نفرتوں کو سے نکالنا ہو گا اگر ایسا نہیںکر پاتے تو پھر یا د رکھیں کہ ان کی کوششوں کا انجام بھی ویسا ہی ہو گا جیسا کہ اس سے پہلے ایسی ہی کوششوں کا ہوتا آیا ہے۔
01-08-2008 16:45 M Afzal Qamar
This entry was posted on 01-08-2008 16:45. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured None time. You can leave a comment.
Views: 592    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >