Member Login

Attock Poll

Your Favorite GSM Service ?

Attock Weather

Attock
25°C

Syndicate

.کیا ہم آذاد قوم ہیں...؟ PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 


معروف ادبی شخصیت واصف علی واصف کے دوجملے کچھ یوں ہیں. جب تو حالات بگاڑنے اور سنوارنے کا ملکہ نہیں رکھتا تو خون جلانے کا کیا فائدہ.زندگی وقت دکھاتی ہے.زمانے نگل جاتی ہے.صدیاں ہڑپ کرجاتی ہے.اور ٹس سے مس نہیں ہوتی.اور کبھی کبھی ایک لمحے میں انقلاب برپا کردیتی ہے. کیا ہم آذاد قوم ہیں.؟ کیا قیام پاکستان کے بعد ہمارے پاوں میں مقید غلامی کی بیڑیاں ٹوٹ چکی ہیں.؟کیا ہمیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جس کو بنیاد بناکر قیام پاکستان کی راہ ہموار کی گئی تھی.؟ کیاہم جیتے جاگتے انسان ہیں اگر نہیں تو ملک کا دانشور طبقہ ہمیں عالم غنودگی سے باہر لانے کے لئے ہمارے جمود زدہ فکر و خیالات میں طغیانی پیدا کیوں نہیں کرتا..؟ پاکستان کے موجودہ حالات اور محولہ بالا پیرائے اور سوالات کی جانچ پرکھ کے دوران سکندر اعظم کے زمانے کا ایک سبق اموز واقعہ راقم کے زہن کے صفحہ قرطاس پر جھومنے لگا..جو میں قارئین کی دلچسپی اور احتساب کے لئے قلم بند کرتا ہوں؛سکندراعظم نے شمالی یونان پر اپنی جیت کے پھریرے لہرائے.تو اسکے دربار میں قیدیوں کو پیش کیا گیا.قیدیوں کو قطار در قطار کھڑا کیا گیا جس میں صاحبان علم و ہنر.جاگیردار.استاد شاعر اور زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے.سکندراعظم کے ایک مشیر نے باری باری تمام قیدیوں کا تعارف کروایا.صاحبان علم اور اہل قلم دانشوروں کو ایک علحیدہ سائیڈ پر کھڑا کیا گیا.اور ساتھ ہی میزوں پر انکی تخلیقوںکے نمونے بھی سجادئیی گئے.یہ لوگ سکندر کے فیصلے کے منتظر تھے. اسی قطار میں اچانک ہلچل مچ گئی.ایک بوڑھا جس کے بدن سے خون کی بوندیں ٹپک رہی تھیں.اور جسم کے ہر حصے پر زخموں نے ڈیرہ ڈالا ہوا تھا۔ یہ بوڑھا سکندری فوجوں کے خلاف تحریک مزاحمت کا معروف کردار اور بے حس لوگوں کے دلوں میں مزاحمت کا اتعاش پیدا کرنے والا انقلابی شاعر تھا.قطار میں کھڑے ہوئے دوسرے قیدیوں نے سکندر اعظم کو بتایا.کہ یہ باغیانہ خیالات رکھنے والا شاعر ہے.اسی لئے ہم نے اسکی شاعری کو پاگل پن سے جوڑ دیا تھا.اور پاگل شاعر کی سرکاری تقاریب میں شرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی.یوں تمام قیدیوں نے سکندراعظم کو بوڑھے شاعر کے کئی نقائص سے اگاہ کرتے ہوئے اسے سخت سے سخت سزا دینے کی استدعاکی.بوڑھے شاعر کے متعلق بتا یاگیا کہ وہ لوگوں کو پکڑ پکڑ کر دشمنوں کے خلاف مزاحمت کے پندو نصائح کرتا رہا.وہ لوگوں کی گریبانیں پکڑ کر کہتا کہ وطن کی حفاظت کے لئے لڑنے کی مشق کرو.تلواروں اور جنگی سازو سامان کی تیاری کی طرف توجہ دو.اپنے گھوڑوں کی رفتار پر توجہ دو.زیادہ بچے پیدا کرو جو بڑے ہوکر دشمنوں کے دانت کٹھے کرسکیں.وہ بلند آوازوں اور دلوں میں پیوست ہوجانے والے جملوں سے عوام کو اپنی طرف متوجہ کرکے صدا لگاتا.کہ اگر تم نے ملکی سلامتی کی طرف توجہ نہ دی تو ایک روز دشمن تمھیں دبوچ لے گا.اگر تم نے اپنے دیس کی دیواریں مظبوط نہ کیں.تو دشمن تمھیں ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ہلاک کردیگا.تمھاری گردنوں میں غلامی کا ایسا طوق ڈالے گا.کہ تم غلامی کی گمنام دلدل میں ہمیشہ کے لئے گم ہوجاو گے.سکندر نے قیدیوں کی قطار پر نگاہ دوڑائی اور پوچھا.تم میں کون کون اس بوڑھے کا سخت ناقد رہا ہے.سارے مجمع میں سے ایک قیدی بولا.صرف میں ہی اسے باغیانہ خیالات پر مبنی شاعری کرنے پر زلیل و خوار کرتا تھا.ہم نے پرتشدد قسم کے اشعار سنانے پر اسے پتھر مارے مگر یہ پھر بھی باز نہ ایا.ہم نے زچ ہوکر اس کی شاعری کو پر از جہالت قرار د ے دیا. ہم نے اپنے علم و ہنر کے تما جواہر اسکی زندگی میں اگ جھونکنے کے لئے لگا دئیی.لیکن یہ ڈٹ گیا.جھکا نہیں.یہ ثابت قدم رہا مگر بکا نہیں.یہ پاگل زمین پر رہتے ہوئے اسمانوں پر کمند ڈالنے کے خواب دیکھا کرتا.اس نے ہماری اولادوں کو بگاڑ دیا.جب آپ نے ہماری نجات کے لئے یہاں حملہ کیا.تو ہم نے اپکے لئے دیدہ دل فرش واہ کردیا.لیکن یہ بوڑھا اپنے لاغر بدن کے ساتھ گلیوں کوچوں میں بے پروائی سے گھومتا رہا.آزادی کے گیت گاتا رہا.بیداری کے نغمے الاپتا رہا.نوجوانوں کو مزاحمت پر امادہ خاطر بناتا رہا.اور ہمارے بچے آپکی فوجوں کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے.ساروں نے یک زبان ہوکر کہا کہ اگر یہ شخص ہمارے درمیان پیدا نہ ہوتا تو علم و ہنر کی شاہراہ پر ہمارے بچے ہمارے شریک سفر ہوتے.سکندر نے ایک کڑیل جوان سے استفسار کیا کہ جب میں نے تمھارے ملک پر حملہ کیا.تو اس وقت تم کیا کررہے تھے.؟جوان نے ہانپتے ہوئے جواب دیا.کہ میں سائنسی تجربات کررہا تھا.میں جنگ سے نفرت کرتا ہوں اور جینا چاہتا ہو.سکندر اعظم نے دربار میں موجود قیدیوں اور اہل علم و دانش و بنیش سے پوچھا.کیا میری غلامی قبول ہے..جواب میں تسلیم و رضا کی آوازیں کانوں کو چیرنے لگیں.لیکن ایک نحیف سی آواز کی شان جدا تھی.جس نے سکندر کو باآواز بلند کہا کہ مجھے یہ غلامی منظور نہیں.میں لڑنا چاہتا ہوں.تلوار تمھاری اور میری طاقت کا فیصلہ کریگی.یہ ہنر مند لوگ ہیں.ہنر جانتے ہیں.آج تم ہو.کل کوئی اور ہوگا.انکا ہنر ترقی کریگا. میں تمھاری جاہ و حشمت اور فوجی طاقت سے ہر گز مرعوب نہیں. یہ بے نام(غلامی قبول کرنے والے) لوگ ہیں.جبکہ میں ذندہ جاوید حقیقت.کل کا فخر اور اج کا عزم .وہ تاریخ جسے امن کی سچائی اورفلاح کی آواز کہا جاتا ہے.آزادی کے چند لمحات غلامی کی صدیوں پر محیط زندگی سے بہتر ہوتے ہیں.سکندر نے بڑے پیار سے بوڑھے کو اپنے پاس بلایا.اور پوچھا.کیا تو میری قوم کے جوانوں کو ازادی کے گیت دے سکتا ہے.؟کیا عزم و ہمت کے جنون سے لبریز تیرے یہ گیت ہماری تہذیب و ثقافت میں ڈھل کر ہماری ترقی کا زریعہ بن سکتے ہیں..؟ جیو اور جینے دو کے اصول کی روشنی میںہم تجھے ازاد کردیں گے اور تو پھر سے اپنے من پسند گیت گاتا.لیکن بوڑھے نے پائے حقارت سے سکندر کی آفر ٹھکرا دی.اور کہا.سکندر تو ازادی کے مفہوم سے اگاہ نہیں بلکہ تو لاشوں پر حکومت کرتا ہے.دلوں پر نہیں.اب سکندر نے تلوار لہرائی اور مفتوحین سے استفسار کیا..کہ اب تم کیا چاہتے ہو ؟.ساروں نے سکندر کی مدح سرائی کرکے زندگی کی بھیگ مانگی.کسی نے کہا.آپ نے ہمیں نجات دلوائی ہے.اور کسی نے خوشامدانہ لہجے میں فریاد کی کی اپکا اقبال بلند ہو..ہمیں زندگی دے دو ہم جینا چاہتے ہیں.سکندر نے جلادوں کو حکم دیا کہ سارے مفتوحین کا سر قلم کردو.یوں سارے مارے گئے.دربار سکندری کے خون الود فرش پر دوقدم سکندر کی جانب بڑھ رہے تھے.اور یہ وہی بوڑھا تھا.جس نے سکندر کو کھری کھری سنائیں تھیں.سکندر نے کمانڈروں کو حکم دیا؛کہ اس بوڑھے کو قید تنہائی میں نظر بند کردو.اس کے گیت ہمارے بندی خانوں کو اباد کریں گے.سکندری فرامین پر ایک مشیر نے سکندر سے پوچھا..آئے آقا.تمام مفتوحین کی گردنیں ہمارے سامنے جھک چکی تھیں.یہ اہل علم و ہنر ہمارے کام اسکتے تھے.سکندر مسکرایا.اپنے مشیر کی طرف نگاہیں مرکوز کیں اور بولا.انکا علم و ہنر تیری شجاعت کو گھن کی طرح چاٹ جاتا.اور ایک روز ہم بھی انکی طرح کسی کے غلام بن جاتے.اور یہ بوڑھا ہمارے خلاف اپنی قوم میں عزم و جنون کے جزبات ابھارا کرتا.یہ لوگ زندہ رہتے تو ہمارے لئے سوہان روح بن جاتے.سکندر نے کہا جو قوم دنیاوی علم و ہنر کے فریب میں مبتلا ہوکر مادی حیات کو زندگی کا مطمع نظر بنالے.تو اس کی رفعت پرواز ختم ہوجاتی ہے۔ اورغلامی کا پردہ ہمیشہ کے لئے اس کی شناخت کو ڈھانپ لیتا ہے.سکندر کی کہانی میں پاکستانی قوم اور عوام کے لئے کئی درس پنہاں ہیں.اگر ہم ازادی کے مفہوم کا تجزیہ کرکے پاکستانی قوم اور حکمرانوں کا احتساب کریں تو یہ سچائی الم نشرح ہوتی ہے.کہ دونوں قوم اور حکمران غلام ہیں.پاکستانی قوم کو استحصالی طبقات جبکہ حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو امریکی شکاریوں نے غلامی کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے.دونوں کو ازادی کے لئے سربکف ہونا پڑے گا.حکمرانوں کو بوڑھے کے پائے استقلال کی پیروی کرکے سامراجی ممالک سے ازادی حاصل کرنا ہوگی.جبکہ عوام کو پچھلے ساٹھ سالوں سے لوٹنے والے طبقہ اشراف کی غلامی کے طوق کو اتارنا ہوگا.پاکستانی قوم بے حسی کے خول میں بند ہوکر اپنے مصائب کو فطرت کے لکھے سے منسوب کرتی ہے.لیکن واصف علی واصف نے درست ہی کہا تھا.جب ہم حالات سنوارنے کا جذبہ نہیں رکھتے تو پھر ہمیں دیگر کو دشنام نہیں دینا چاہیی.دوسری طرف حکمران طبقات کو ہوش کے ناخن لے کر عوامی خواہشات کا احترام کرنا چاہیی.ورنہ واصف کی پیشین گوئی کہ انقلاب کسی لمحے بھی اسکتا ہے.کیونکہ دنیا بھر میں برپا ہونے والے انقلابات کی تاریخ دیکھی جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے.کہ انقلاب کا سبب بننے والے تمام نسخے ہمارے ہاں ایک ایک کرکے منصفہ شہود پر اچکے ہیں.
01-08-2008 16:41 Rauf Amir
This entry was posted on 01-08-2008 16:41. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured None time. You can leave a comment.
Views: 392    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >