ارشادباری
تعالی ہے.زمین پر اکڑ کر نہ چلا کرو.کہ اکڑ کر چلنے سے تو زمین کو پھاڑ
نہیں دے گا اور نہ تن کر چلنے سے تو پہا ڑوں کی بلندی کو پہنچ سکے گا.
لیکن ظلم تو یہ ہے کہ ہمارے سرکاری دفاتر میں بیٹھے ہوئے لاٹ صاحبان
سائلین اور غریب افرادد کو اچھوت سمجھ کر نہ صرف انکی عزت نفس پامال کرتے
ہیں. بلکہ اپنی جھوٹی شان و شوکت اور جاہ و حشمت کے مظاہر دکھانے کے لئے
مجبوروں و دکھیاروں کی کمزوریوں کی آڑ میں بلیک میلنگ کرتے ہیں. اللہ کی
عطا کردہ کرسی کو شاہی خدام اور ملازمین اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر
انسانوں کے گلے میں مصیبتوں کا طوق ڈال کر تکبر کرتے ہیں. ا یسے طرم خان
اپنے اختیارات کے فن و کمالات دکھا کر سماج کے روندے ہوئے زخم خوردہ لوگوں
سے نہ صرف پیسے بٹورتے ہیں.بلکہ فرعونیت و رعونت کا ایسا مظاہرہ کرتے
ہیں.کہ خدا کی خدائی بھی اشک بار ہوجاتی ہے.لیکن ظلم تو یہ ہے کہ رشوت کا
ناسور سرکاری ملازمین کی رگوں میں ایسا سرائیت کرچکا ہے.کہ راشی افسران
ہرص حوص.جاہ طلبی اور دنیاوی الائشوں کی فکر میں اتنے اندھے گونگے اور
بہرے بنے ہوئے ہیں..کہ وہ مسلمان ہونے کے باوجود فرامین خدا کو مسخ کرنے
کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے.اب سوچنا تو یہ چاہیی.کہ جو شخص اپنے مسلمان
ہونے کا دعوی تو زور شور سے کرتا ہے.رب تعالی کا نام آتے ہی عاجزی و
انکساری کا پتلی تماشا بن جاتا ہے.لیکن مخلوق خدا کو ایسے کاٹتا ہے.جس طرح
زمانہ قدیم والا جنگلی انسان اپنی شکم سیری کے لئے شکاری جانوروں کی تکہ
بوٹی کرتا تھا.کیا ایسے لوگ خدا کی بستی میں رہنے کے قابل ہیں. جو اللہ کی
مجذوب رعایا پر جبر کرتے ہیں.جو بغل میں چھری منہ منہ میں رام رام کے
مصداق پنشنرز کو پیرانہ سالی میں جھٹکے دیتے ہیں.عوام کی عزت نفس کو پامال
کرنے شریفوں کی پگڑیاں اچھالنے والے بدفطرت انسانوں کو انسانیت کے مقام پر
فائز کرنا درست ہوگا. کیا اپنے محکموں اور بنکوں کا نام بدنام کروانے والے
اس محکمے یا ادارے میں کام کرنے کا حق رکھتے ہیں.؟اس کا فیصلہ نیشنل بنک
آف پاکستان کی مرکزی صدر.حق پرست افسر اور دیانت دار معاشی ماہر جناب علی
رضا اور ارباب بزرجمہر کریں.ہم اس آس و یاس کے ساتھ جناب علی رضا سے رجوع
کرتے ہیں .کہ وہ کوٹ ادو برانچ میں بیٹھے ہوئے بداخلاق منیجر.دشمن انسانیت
شخص اور بے لگام بن کر چھوٹے ملازمین کو ہراساں کرنے رشوت بٹوڑنے اور ننگی
گالیاں دینے والے تیرہ بخت فرعون کے خلاف نہ صرف سنگین کاروائی کریں
گے.بلکہ اسے ایسی سزا دیں گے.کہ نیشنل بنک میں کام کرنے والے ہزاروں
لاکھوں ملازمین کا قبلہ درست ہوجائے.اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو بروز قیامت
ہم بھی خدائے لم یزل کی عدالت میں ماتم کنائی کریں گے کیونکہ ہمارا رب ہی
کائنات کا سب سے بڑا عادل ہے..ویسے ہم آپ کی ان خدمات کو دل کی گہرائیوں
سے سلام عقیدت پیش کرتے ہیں جو آپ نے نیشنل بنک کو بلند قامت مالیاتی
ادارہ بنانے کے لئے کیں.آپ نے پاکستان میں قومی کھیل ہاکی کو زوال پزیری
سے نکالنے کے لئے ہاکی فیڈریشن کی جو مالی و اخلاقی امداد و استعانت
فرمائی. وہ بھی قابل دید بھی ہیں اور قابل داد بھی.آپ پاکستان کا قیمتی
ترین اور گوہر نایاب اثاثہ ہیں.جس پر پوری قوم کو ناز ہے. جناب علی رضا
صاحب... کوٹ ادو جیسے پسماندہ مگر کارزار سیاست میں عالمی شہرت یافتہ شہر
کوٹ ادو کا نیشنل بنک کسی ادارے کی بجائے مچھلی بازار کا منظر پیش کرتا
ہے.بنک انتظامیہ کی نااہلیوں.سیاہ کاریوں کے کارن انویسٹرز اس بنک کا رخ
نہیں کرتے.معاف کیجئیی گا..کہ میں اسے کسی ادارے کی بجائے قصاب خانہ کہنا
پسند کرونگا.کیونکہ یہاں منیجر کی بادشاہت میں انسانوں کو جانور سمجھ کر
زبح کرنے کا دھندہ عروج پر ہے.یہاں چند ماہ قبل مکھڑا دکھانے والے موجودہ
بنک منیجر کی شاطرانہ چالوں .عیاری و مکاری سے لاقانونیت.اقرباپروری.لوٹ
کھسوٹ.انسانیت کشی زوروں پر ہے.یہاں اخلاقی و اسلامی و انسانی روایات کے
بخئیی ادھیڑ دئیی گئے ہیں.یہاں ایک ہنس مکھ فرعون کا راج ہے.جو خود کو
دیوتا سمجھ کر سائیلین تو درکنار بنک ملازمین کو بھی ہیبت ناک سزائیں دیکر
مسکراتا ہے. کوٹ ادو بنک کے باہر بوڑھے اور بزرگ لوگوںکوسارا دن رگیدا
جاتا ہے. راقم کی موجودگی میں درجنوں سائلین اور پنشنرز نے بنک انتظامیہ
کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دیتے ہوئے ایجنٹوں کی چیرہ دستیوں کے
متعلق بتایا.ہر پنشنر کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو
رقم مل جائے.اس لالچ میں ہر پنشنر ایجنٹ کوپچاس سے سو روپے نذرانہ دیتا
ہے.اب یہ کیسے ممکن ہے.؟کہ بنک منیجر کے دفتر سے چند فٹ دور ایجنٹ غریبوں
کا خون نچوڑ رہا ہو.اور بنک انتظامیہ اس بنارسی ٹھگی سے واقف نہ ہو.باوثوق
زرائع سے معلوم ہوا ہے.کہ ایجنٹ حضرات موجودہ منیجر کے دور میں اپنی بلوں
سے باہر ائے ہیں....جناب علی رضا صاحب..خدا ئے لم یزل آپکو لمبی عمر
دے.کیونکہ اپ نے نیشنل بنک آف پاکستان کو دنیا کا بہترین معاشی ادارہ
بنانے کے لئے دن رات ایک کیا.لیکن جناب ہمارے علاقے میں قائم برانچ ّأپکی
کوششوں پر پانی پھیر کر ملک دشمنی کا ثبوت دے رہی ہے.یہاں ہر سو نفسا نفسی
کا عالم ہے.یہاں انسانیت سسکتی اور احترام بلکتا ہے.کوٹ ادو کے دیگر بنکوں
کے مقابلے میں یہاں کا انتظام و انتصرام پتھر کے زمانوں جیسا ہے.ایک روز
مجھے بنک منیجر کے کمرے میں ایک عورت داد و فریاد کرتے ہوئے ملی.کالم نویس
ہونے کے ناطے میں نے استفسار کیا.کہ کیا مسئلہ ہے.اس نے جو کچھ بتایا کم
از کم میرے لئے باعث شرم تھا.اس نے بیٹی کی شادی کرنی تھی.وہ اپنا لون
reshudle کرانا چاہتی تھی.لیکن یہاں کے بظاہر ہنس مکھ نظر انے والے منیجر
نے دس ہزار کا نذرانہ طلب کیا جو وہ دینے کی استظاعت نہ رکھتی تھی.
جناب..ہوا کی بیٹی صدائیں دیتی رہی.لیکن خون کے منجمد لوتھڑوں کی طرح بے
حس بنے ہوئے سردار بنک نے اسے بے نیل و مرام واپس پلٹا دیا.سیلری لون
منظور کرانے کا ریٹ طے کیا گیا ہے. اور یہ اطلاع ایک مظلوم استاد نے نام
نہ بتانے کی شرط پر دی .وہ دس ہزار رشوت دینے کے بعد ہی لون حاصل کرنے میں
کامیاب ہوا. دو لاکھ پر دس ہزار اور تین لاکھ پر پندرہ ہزار روپے بٹورے
جاتے ہیں.اگر کسی کی قسط لیٹ ہوجائے تو اسے پرچہ کروانے کی دھمکیاں دی
جاتی ہیں.اور پھر اس آڑ میں جیب گرم کرنے کا سامان پیدا کیا جاتا ہے .
شیر خدا حضرت علی کے نام شریک بنک صدر...جو کیس یا ملازم تگڑی سفارش رکھتا
ہو.اسکا کیس منٹوں میں منظور ہوجاتا ہے.جو سفید پوش یا اللہ والے ہوں
انہیں مہینوں گھسیٹ کر رسوا کیا جاتا ہے.صنعتی اور تجارتی قرضوں میں تو
لاکھوں کا ہیر پھیر ہوتا ہے.میں ہاکی کا نیشنل کھلاڑی رہا ہوں.کوٹ ادو شہر
کی معزز فیملی سے تعلق رکھتا ہوں اور جنوبی پنجاب کا واحد کالم نویس ہوں
جس کے کالم امریکہ اور یورپی ممالک میں شائع ہوتے ہیں. میں نے اپنی سات
سالہ کالم نویسی کے ادوار میں آج تک کسی گورنمنٹ ملازم کے خلاف کوئی کالم
نہیں لکھا. راقم بنک میں پچھلے چار مہینوں سے غریبوں اور شریفوں پر بنک
منیجر کی ظلمت کی بھرمار دیکھ رہا تھا.لیکن جس روز منیجر صاحب نے میری عزت
خاک میں ملائی اور مجھے گیدڑ بھبکیاں دیں تو پھر میں نے آپ سے مخاطب ہوکر
انصاف طلب کرنے کا فیصلہ کیا.میں بیس جولائی تک بنک کا تیرہ ہزار روپے کا
مقروض تھا.منیجر نے میرے خلاف چیف سیکریٹری پنجاب کو لکھا.اس وقت میں صرف
چار ہزار کا مقروض تھا.منیجر نے انسان دوستی کا ثبوت دیکر روزانہ مجھے فون
پر دھمکیاں دیں. منیجر نے مجھے زہنی طور پر اتناٹارچر دیا.کہ میں اب
depressionمستقل مریض بن چکا ہوں. میرے رابطے اور پندرہ دن کی مہلت طلب
کرنے کے عوض بنک کے لاٹ صاحب نے دس ہزار طلب کئے گئے.میں افورڈ نہ
کرسکا.یوں مجھے بلیک میل کرنے کا سلسلہ برقرار رہا.باہمی اعتماد بنکوں کا
طرہ امتیاز رہا ہے .میں نے اپنے شاگرد کے زریعے منیجر کو پانچ ہزار روپے
بجھوائے.بنک ٹائم آف ہونے کی وجہ سے کہا گیا کہ سلپ کل دیں گے .دوسرے روز
ایک میچ کے سلسلے میں شہر سے دور جانا پڑا.دوچار روز کے بعد جب منیجر سے
رسید طلب کی گئی.تو جواب ندارد..بتایا گیا کہ رسید اپکے دفتر بجھوا دی گئی
ہے.لیکن حضور....مجھے نہ تو رسید ملی.اور نہ ہی میرے کھاتے میں پانچ ہزار
جمع ہوئے.میں نے شرافت کا لبادہ اوڑھتے ہوئے اس درد کو سہہ لیا.تاکہ کوٹ
ادو برانچ کا حاکم وقت کسی اور امرانہ سزا کا اعلان نہ کردے. میں نے تیرہ
ہزار کے بدلے جولائی کی دوسری دہائی میں اپنی تنخواہ کا چیک مبلغ بارہ
ہزار روپے بنک منیجر کو دینے کا یوں انتظام کیا کہ میں نے حاکم وقت کی
موجودگی میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ اکاوئنٹس افیسر مظفر گڑھ کو التجا کی کہ میری
تنخواہ کا چیک منیجر کو دے دیا جائے. جب سے اکاونٹس کے دفاتر نے فارم کی
بجائے تنخواہوں کے چیک جاری کرنے کا کام شروع کیا ہے.اس وقت سے جولائی
پہلا مہینہ ہے .کہ مجھے فرسٹ ٹائم تنخواہ کاچیک ملا.چیک میں اکاونٹس آفس
والوں نے میرے عہدے تحصیل سپورٹس افیسر کی بجائے ڈسٹرکٹ سپورٹس افیسر لکھ
دیا.اور چیک براہ راست فرعون کے ہاتھوں میں ایا.میں بنک گیا.تو مجھے معلوم
نہ تھا.کہ بادشاہ کا بلڈپریشر بہت تیز ہے. بنک منیجر نے مجھے گالیاں
دیں.میں اسے رام کرنے کے لئے سمجھاتا رہا.کہ اگر چیک میں کوئی غلطی ہے تو
اس سے میرا کوئی سروکار نہیں کیونکہ ایک توچیک تو وصول ہی اپ نے کیا. اور
چیک کی غلطی کے ذمہ داران اکاوونٹس افس والے ہیں.میرے حق پرستانہ دلائل کو
اس نے پائے حقارت سے جوتے کی نوک پر رکھا اور میرے سمجھانے بجھانے پر وہ
مذید اگ بگولہ بن گیا.میری عزت نفس پ مجروح کی گئی .مجھے اندر کرانے کی
دھمکیاں دیں. مجھے بنک کے سٹاف نے باہر بجھوا دیا.جناب ..میں نے بنک کی
تمام اقساط ادا کردی ہیں.اس کے باوجود مجھے ستانے کا سلسلہ فرعون اعظم نے
جاری رکھا ہواہوا .رشوت کا بازار جاری ہے.پنشنروں کا خون بھی چوسا جارہا
ہے.گورنمنٹ ملازمین کو روزانہ پھانسی پر چڑھایا جاتا ہے. کئی کئی سال ملک
و قوم کی خدمت کرنے والے پنشنرز کے جذبات کا روزانہ قتل عام جاری ہے.جو
دولت و دھن والا ہے.وہ یہاں معزز گردانا جاتا ہے.اور جو محکوم ہے.اسکی
حثیت یہاں برسات کے موسم میں پیدا ہونے والے اس پتنگے جیسی ہے.جو ساری رات
بجلی کے قمقموں کے گرد پھڑ پھڑا کر طلوع آفتاب کے وقت زندگی کی بازی ہار
جاتا ہے. منیجر نے سائیلین پر مصائب کی برسات کررکھی ہے. بنک کا دیگر عملہ
فرض شناس ہے.دیگر عملے سے انکوائری کی جاسکتی ہے.کہ کیا راقم نے کبھی کسی
ملازم سے بدتمیزی کی ہو..منیجر کی طرح کسی سے بداخلاقی کی ہو. کبھی کسی کے
ساتھ جھوٹ بولا ہو.تو مجھے پھانسی کی سزا دی جائے .میں یہ سزا بخوشی قبول
کرونگا.میرے کردار اور گفتار کے متعلق نیشنل بنک کے ملازمین بہتر انداز
میں روشنی ڈال سکتے ہیں. میں اہلیان کوٹ ادو کی جانب سے درخواست کرتا ہوں
کہ اس کرپٹ اور راشی افسر کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے اس کا کوٹ ادو سے
تبادلہ کیا جائے.عوام کے ساتھ ساتھ اس نام نہاد شریف زادے نے بنک ملازمین
کی بھی نیندیں حرام کررکھی ہیں. خود کو دیوتا سمجھ کر عوام اور بنک
ملازمین کو کیڑے مکوڑے تصور کرنے والے اس جابر و شاطر منیجر کا تبادلہ کیا
جائے.تاکہ نیشنل بنک کی حرمت قائم رہ سکے. .عوام پر جبر کی یلغار کرنے
والے فرعون ٹائپ افسروں کو رب العالمین کے محولہ بالا حکم کے مطابق کہ
زمین پر اکڑ کر مت چلا کرو.ورنہ فنا کردئیی جاو گے..کی روشنی میں فرعونیت
کی تلوار کو اور کڑوی و زہریلی زبان کو ترک کردینا چاہیی..ورنہ بڑے بڑے
طرم خان فرعونیت کے باعث نیرنگی زمانہ کا شکار بن کر قصہ پارینہ بن چکے
ہیں. میں نیشنل بنک کوٹ ادو کے موجودہ شہنشاہ معظم بنے ہوئے منیجر کو
دنیائے ادب کے نامور مفکر تلسی داس کا جملہ سنانا چاہتا ہوں شائد کہ بے حس
ضمیر میں خدمت انسانیت کا کوئی چراغ جل اٹھے.اور ہمارے من کی تاریکیاں
اجالوں میں بدل جائیں.تلسی داس نے کہا تھا.غریبوں کی آہ سے بچو.کیونکہ یہ
تو اسمانوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے.میں بنک کے ملازمیں جن میں منیجر
آپریشن صفدر سہانی.نعیم خان آفیسر.شیخ الیاس.مہر ارشد کیشیر .رندھاوا
صاحب. اور قریشی صاحب کو غریب پروری.انسان دوستی.دیانت داری.صاف گوئی پر
کوٹ ادو کے شہریوں اور ہزاروں کھلاڑیوں کی جانب سے داد تحسین کے پھول
برساتا ہوں. کہ وہ اللہ کی کمزور مخلوق کی دل و جان سے خدمت کرکے نیک نامی
سمیٹ رہے ہیں.نوٹ...جناب.میں نے اس کالم میں حقائق اجاگر کئے ہیں.بنک
منیجر میرے والد صاحب کی طرح ہیں.میں نے یہ مضمون کسی عناد یا بغض کے تحت
نہیں لکھا.اگر میرے کسی فقرے سے کسی کی دل ازاری ہوئی ہو تو میں معذرت
خواہ ہوں کیونکہ نامور مفکر سقراط کا ایک جملہ ہمیشہ میرے ساتھ رہتا ہے.کہ
انسان بننا چاہتے ہو تو انسانیت کو پہچانو.اگر اس فلسفے کی رو سے ہم اپنا
اپنا احتساب شروع کریں تو فرعونیت.رشوت خوری.کمزوروں سے نفرت ایسی برائیاں
ہم سے دور بھاگ جائیں گی.
This entry was posted on 01-08-2008 17:40. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 1975
Views: 1975