Nov
22
2008
Today

Your Favorite GSM Service ?
Attock
9°C
کن لوگوں سے بات چیت کی جائے؟ PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
جب سے امریکہ ہمارے پڑوس میں آیا تب سے وہ جہادی تنظیمیں جو افغانستان ارو دوسرے ہمسایے ملکوں میں جا جا کر اپنا رانجھا راضی کیا کرتی تھیں نے اپنا رخ پاکستان کی طرف کر لیا اور ہماری پاک سرزمین سے اسلام اور جہاد کے نام سے اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا ثبوت وہ ساری کاروائیاں ہیں جو اس وقت سے لیکر اب تک ان کی طرف سے پاکستان اورہمسایہ ممالک میں ہوتی رہی ہیں اور یہ بات اب کوئی راز بھی نہیں رہی ۔پاکستان میں انہوں نے پہلے پہل سی ڈی سنٹروں، موبائل فون اور حجام کی دوکانوں کو نشانہ بنایا پھر لڑکیوں کے اسکول ان کا تختۂ مشق بنے، پھر ان لوگوں میں سے کچھ نے مالدار لوگوں سے لیکر عام سرکاری اہل کاروں تک کو کسی نہ کسی طور پر اغوا کرکے پیسوں کے عوض چھوڑنے کا دھندہ کرنا شروع کر دیا بعدہ ان میں سے ایک مسلک کے لوگوںنے اسلام کا نام لیکر دوسرے مسلک کے لوگوں کو مارنا( قتل کرنا) شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تعداد سینکڑوں میں چلی گئی اوران علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ مختلف علاقے مختلف لوگوں کے لئے شجرِ ممنوعہ بن کر رہ گئے یعنی نو گو ایریاز بن گئے ، اِس ضمن میں لشکرِ اسلام تنظیم کے سربراہ منگل باغ کا وہ انٹرویو جو اس نے جیو ٹی وی کی ایک ٹیم کو دیا تھا یاد رکھنے کے قابل ہے جس میں اس نے واضح طور پر مخالف مسلک کے افراد کی بابت تحفظات کے اظہار کے ساتھ ساتھ بیزاری کا اظہار بھی کیا تھا۔
انہی علاقوں کے رہنے والے لوگوں نے مزید یہ بھی دیکھا کہ مختلف جگہوں/علاقوں کیبعض گروپوں نے حکومت پاکستان کی طرف سے بنائے گئے قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اپنے اپنے قانون نافذ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں، اپنی عدالتیں اور اپنی سزائیں مقرر کر ڈالیں ، سرکاری تنصیبات کو بارود سے اڑایا جانے لگا، تھانوں اور دوسرے سرکاری اداروں پر قبضہ ہونے لگا اور سر عام لوگوں کو پھانسی اور ذبع کرنے کی خبریں آنے لگیں اور اس دن تو حد ہی ہو گئی جب شمالی علاقہ جات کے ایک علاقے میں پندرہ سو کے مجمع میںسرِ عام ایک شخص کو ذبع کر دیا گیا، جب اخبارات نے وہ تصویر شائع کی جس میں اس شخص کو زمین پر بیٹھا دکھایا گیا تھا جس کو ان سفاک لوگوں نے سرعام ذبع کیا تھا تومیں کئی روز تک کھویا کھویا سا اور انتہائی بددل رہا کہ ہماری قوم کن لوگوں کے چنگل میں پھنستے چلے جا رہی ہے جن کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ، جو میرے آقا کے دین کی حرمت کو خاک میںملارہے ہیں، جو آپ ﷺ کے دین کی عزت گرانے کے در پے ہیں جو اپنے کرتوتوں سے اسلام کو ایک ظلم روا رکھنے والا مذہب بنانے کی کوشش میں ہیں۔
اِن ساری کاروائیوں کے بعد جب پاک فوج نے جب شمالی علاقہ جات، سوات ، ہنگو اور باقی دوسرے علاقوں میں نصب و نسق بحال کرنے کی خاطر کچھ کاروائی شروع کی تو بہت سی مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ طاقت کا استعمال نہ کیا جائے بلکہ ان لوگوں سے بات چیت کی جائے اور ان کو سمجھایا جائے جس پر 18فروردی کے انتخابات کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آنے والی سول حکومتوں نے ان سے بات چیت کرنے کی کوشش کی اور کچھ دیر امن بھی ہوا مگر پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا اِن لوگوں کے مطالبات بڑھتے گئے، اِن لوگوںکی من مانیا ں پھر سے عود کر آئیں ، پھرو ہی دھمکیاں کہ ہم یہ کر دیں گے اور ہم وہ کر دیں گے وغیرہ وغیرہ۔جس پر مجبور ہو کر پاکستانی فورسز کو بعض علاقوں میں پھر سے کاروائی کرنی پڑی جس پر شور مچانے والی جماعتوں نے ایک بار پھر آسمان سر پر اٹھا لیا کہ پاکستانی فورسز اپنی کاروائیاں روک دے جس کا صریحاً مطلب یہ نکلتا ہے کہ انتہا پسند اور شدت پسند لوگوں اور تنظیموں کو اپنی من مانیاں کرنے دی جائیں،اِن کو اجازت دے دی جائے کہ وہ جس کے چاہیں گلے کاٹ ڈالیں، جس عمارت پر چاہیں قبضہ کرلیں، جس اسکول /کالج اور دوکان کو چاہیں بارود سے اڑا دیں۔
بہرحال پاکستانی فوج نے کچھ علاقوں میں کچھ دیر آپریشن کیا اور صورتحال قدرے بہتر ہوئی مگر ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ فورسز کے نکلتے ہی ان علاقوں میں پھر سے وہی صورتحال پیدا ہو چکی ہے ۔ مورخہ29جولائی کی خبروں کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے ایک مرکز خالی کیا تو اس پر مقامی طالبان نے قبضہ کرکے وہاں اپنے پرچم لہرا دیئے، اسی دوران طالبان نے سرکاری ٹی وی بوسٹر اور لیویز کی چیک پوسٹ پر بھی قبضہ کر لیا۔ دریں اثنا یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ طالبان نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر مالا کنڈ میں فوری طور پر شریعت نافذ نہ کی گئی تو پشاور میں اے این پی کے باچا خان مرکز کو بموں سے اڑا دیا جائے گا،جبکہ مورخہ30جولائی کی خبروں کے مطابق سوات میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے سکیورٹی فورسز میں چھڑپوں کے بعد 100 سے زائد مسلح جنگجوؤں نے دیولئی چوکی سے36پولیس اہلکاروں کا اغواء کر لیااور اس دوران فائرنگ اور گولہ باری سے فوج کے ایک کیپٹن سمیت4افراد جان بحق ہو گئے، کیل میں راکٹ لانچروں اور دیگراسلحہ سے فائرنگ کی گئی۔ ہنگو میں شر پسندوں نے ایک پولیوسنٹر جلادیا، نویکلے میں حفاظتی ٹیکوں کے ایک مرکز کو نذرِ آتش کر دیا گیا، اسی دوران پاک فوج کے تین جوانوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔پاک فورسز کا آپریشن ختم ہونے کے معاً بعد طالبان کہلانے والے افراد کی سرگرمیاں دوبارہ سے شروع ہو گئیں جس پر قومی فورسز کو پھر سے اپنی کاروائی کرنا پڑی جس میں تا دمِ تحریر( اس کالم کے تحریر کرنے تک) طالبان سمیت بہت سے دوسرے ساٹھ(60) سے زائد افراد مارے جا چکے تھے جن میں ملا فضل کا نائب بھی مارا جا چکا ہے ا وراب علاقے میں غیر معینہ مدت کیلئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
وہ لوگ جو دن رات واویلا کر رہے ہیں کہ فورسز ظلم کر رہی ہیں ان کو ان لوگوں کے مخالفین پر کئے جانے والے ظلم کیوںیاد نہیں آ رہے جو خود کو طالبان کہلاتے ہیں ، جو لوگوں کے گلے کاٹ رہے ہیں،لوگوں کی زندگیاںچھین رہے ہیں، لوگوں کے کاروبار چھین رہے ہیں، سرکاری تنصیبات پر حملے کر رہے، ندی نالوں پر بنے پل بارود لگا لگا کر اڑا رہے ہیں، سرکاری ڈیوٹی کرنے والوں کو اپنی ڈیوٹی سے انحراف کرنے کا کہہ رہے ہیں اور مجبور کر رہے ہیں کہ ان کی بات مانی جائے غرض ایک خوف کی فضا طاری کی جارہی ہے اور لوگوں کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی کوشش ہو رہی ہے،ایسے لوگوں سے بات چیت کرنے کا مشورہ دینے والوں سے میرا فقط ایک سوال ہے کہ کیا ان لوگوں کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ جو چاہیں کرتے چلے جائیں اور کوئی ان سے باز پرس کرنے والا نہ ہو؟چاہے اس کے لئے ملک کی وحدت ہی کیوں نہ پارہ پارہ ہو جائے؟



01-08-2008 17:15 M Afzal Qamar
This entry was posted on 01-08-2008 17:15. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 1957    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >