Like what you see? If you like what you see, please tell a friend or family member about us! It's simple! Just click on the Tell a Friend hotlink below
Syndicate
حسن نصراللہ تیری عظمت کو سلام
لبنان
مڈل ایسٹ کا وہ حرمان نصیب ملک ہے.جو ہمیشہ سے خانہ جنگیوں.یہودی چیرہ
دستیوں اور بارود کے ڈھیروں اور خون آشام جھگڑوں کی زد میں آیا رہتا
ہے.لبنان کی بڑی قوموں میں مسلمان اور عیسائی شامل ہیں.ایران عراق فلسطین
و شام اور اسرائیل کی سرحدوں سے جڑے ہوئے اس ملک کے باسیوں نے ہمیشہ توپوں
کی گھن گرج تو سنی ہے.آگ برسانے والے صلیبی ٹینکوں کی قیامت سوزی کا ظلمت
آمیز تو دیکھا ہے.لیکن سچ تو یہ ہے.کہ لبناننیوں کی قسمت میں خوشیوں کے
گہوارے اور نقارے بہت کم دیکھنے کو ملے ہیں.ابھی چند ماہ( 7 مئی )پہلے
بیروت کی سڑکوں پر اس وقت جانہ جنگی کا جن محو خرام ہوگیا تھا.جب حزب اللہ
کی ریلی میں صہیونی ایجنٹوں اور فواد سنیاریو حکومت کے مغرب نواز ایجنٹوں
نے گڑ بڑ کروادی تھی.پھر پورے لبنان کو خانہ جنگی کے آتش فشاں نے گھیر
لیا.اس وقت حکومت نے حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی چیف(ایرپورٹس)
کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا.یہودیت نواز لبنانی سرکار نے الزام عائد کیا
تھا.کہ سیکیورٹی چیف حزب اللہ کے لئے جاسوسی کررہا ہے.تین ماہ پہلے کشیدہ
ترین سیاسی صورتحال کی دلدل میں دھنسے اور خانہ جنگی کے دہانے پر دستک
دینے والے ملک لبنان میں اس وقت اتحاد و یگانگت اور خوشیوں کے چشمے پھوٹ
پڑے جب پورا ملک اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے جنگی قیدیوں کے
معاہدے کے نتیجے میں یہودیت کی قید سے رہائی پانے والے ایک سرفروش گوریلے
لیڈر کی لبنان آمد پر دیدہ دل فرش واہ کئے ہوئے تھا.لبنانی سرکار کے تمام
گرگے جنہوں نے کچھ عرصہ قبل حزب اللہ کو ملکی کی سلامتی کے لئے خطرے کا
الارم کہہ کر غیر مسلح کرنے کے بھونڈ ے ا علان کی ہانک لگائی تھی. تھا.وہ
بھی کشاں کشاں alkuntarکو خوش آمدید کہنے اور جزب اللہ کے کمانڈر حسن
نصراللہ کی جرات کوسلام پیش کرنے کے لئے وہاں در آئے تھے.جن میں لبنان کے
صدر وزیراعظم اور اعلی حکومتی و فوجی عہدیدار شامل تھے.اس پر طرہ یہ کہ
لبنان کی تمام دینی و سیاسی پارٹیوں کے کارکن اور نمائندگان تمام نظریاتی
رنجشوں کو طاق نسیان کی بھینٹ چڑھا کر استقبالی ہجوم میں شامل تھے.لوگوں
کی خوشی دیدنی تھے.نوجوان زبان و بتان سے بے نیاز ہوکر دیوانہ وار رقص
کررہے تھے .بیروت کی سیاسی و سماجی تاریخ اور لبنان کے دردیوار نے اس سے
پہلے ایسی عظیم و انیق .منظم اور پر عزم ریلی اور دیوانگی کے مناظر اس سے
پہلے کبھی نہ دیکھے تھے.عربوں کی روایات میں ایسی جاہ و حشمت والی ریلیوں
میں فائرنگ معمولی بات سمجھی جاتی ہے.لیکن اس روز ایک انوکھا اور نرالا
منظر تھا.حسن نصراللہ نے اعلان کیا تھا.کہ کوئی گولی نہیں چلائے گا.انہوں
نے بیانگ دہل کہا تھا.کہ جو گولی چلائے گا.وہ یہ سمجھے کہ وہ میری(حسن
نصراللہ) کی چھاتی.سر اور قبا کو نشانہ بنا رہا ہے.اپنے قائد کے تاریخ ساز
حکم کی اتباع یوں ہوئی.کہ جشن میں ایک بھی گولی نہ چلی.یوں لبنان کی تاریخ
میں حسن نصراللہ کا ایک اور باکمال کارنامہ روشن ابواب میں عرق گلاب اور
جنون کے جذبات سے دھلے ہوئے جملوں سے ہمیشہ کے لئے نقش ہوگیا. حسن نصراللہ
کی زیر قیادت یہودیوں کی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر جہاد کا علم بلند کرنے
والی حزب اللہ خطے کی طاقتور ترین عسکری قوت بن چکی ہے.اسرائیل مڈل ایسٹ
کی سپرپاور بننے کے زعم میں ایران کی جوہری طاقت کے پرخچے اڑانے کے لئے بے
تاب ہے.لیکن سچ تو یہ ہے کہ حزب اللہ نے تل ایب اور تہران کے درمیان ایک
ایسی خلیج حائل کردی ہے.جسے عبور کرنا یہودیوں کے بس میں نہیں.حضرت حزقیل
علیہ اسلام کا قول ہے.کہ جہاد سے دور بھاگنا بزدلی اور نامردی ہے.مسلم
ریاستوں کے بادشاہوں کو امریکی عسکری شان و شوکت اور جنگ کی دھمکیوں سے
مرعوب نہیں ہونا چاہیی.بلکہ انہیں حزب اللہ کی منصوبہ بندیوں اور جہادی
جنون کی پیروی کرنی چاہیی.ورنہ سچ تو یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کے
سوا تمام مسلم حکمران راہ جہاد کو ترک کرکے بزدل اور نامرد بن چکے ہیں.جب
تک نفرتوں.رنجشوں اور نظریاتی بعدالمشرقین اور مذہبی افراط و انتشار کے
جال میں جکڑے ہوئے مسلم بادشاہ جہاد و یقین محکم کو سینے سے نہیں لگاتے.اس
وقت تک وہ بڑی طاقتوں کی تھوک چاٹنے پر مجبور ہونگے.اور انکی آزادی و خود
مختیاری کا لباس بھی وائٹ ہاوس کے مہذب درندے تار تار کرتے رہیں گے . یہاں
حضرت عمر کا ایک قول جہاد کو دہشت گردی سے منسوب کرکے روشن خیالی نام کی
پتنگیں اڑانے والے مسلمان حاکموں اور نئی نسل کے بابووں کے لئے درس کا
سامان لئے ہوئے ہیحضرت عمر نے فرمایا تھا.جو اللہ کی راہ میں جان دے دے
اسے شہادت کا رتبہ ملے گااور اگر کوئی جہاد میں زندہ لوٹ آئے تو اسکا
شمار مجاہدین میں ہوگا.انکا یعنی دونوں کا اللہ تعالی کے ہاں جو اجر لکھا
جاتا ہے.اسکا کوئی اندازہ بھی نہیں کرسکتا. صہیونی منصوبہ بازووں نے اپنے
مفادات کی تکمیل کے لئے ہمیشہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف ارا
کردیا.تاکہ یہ ایک دوسرے کو نوچتے رہیں.اور مغرب کی کاسہ لیسی کرتے
رہیں.امریکہ نے ہی سازشوں کے جال بن کر ہماری رگوں میں فرقہ واریت کا زہر
بھر دیا.کہ ہم ایک خدا اور رسول اور دین اسلام کا نام لینے کے باوجود ایک
دوسرے کو بھنبوڑ رہے ہیں.کہیں کوئی شعیہ سنی کے نام پر بم دھماکوں سے
مسلمانوں کو سپرد موت کررہا ہے.اور کہیں کوئی انتہاپسندی کا علم لہرا کر
خود کش حملوں سے اپنے بھائیوں کو خون کا کفن پہنا رہا ہے.ایک طرف مسلمان
غیر ملکی طاقتوں کی خوشنودی کے لئے دوسرے مسلک پر کفر کے فتوے لگا رہا
ہے.تو دوسری طرف خدا کے نام لیوا ہی مسلمانوں کو ہلاک کرنے کے عوض جنت کی
ٹکٹ الاٹ کرکے دین اسلام سے غداری کے مرتکب ہورہے ہیں.ایسے بدبختوں کو
حضرت ابوبکر صدیق کے اس جملے کی عرق ریزی کرکے اغیار کی سازشوں سے بچنا
ہوگا.آپ نے فرمایا.کہ کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا؛کہ وہ دوسرے مسلمان
بھائی کے لئے رسوا کن الفاظ استعمال کرے. لبنان کے نو منتخب صدر میدان
سیاست میں کودنے سے پہلے لبنانی فوج کے سربراہ تھے.یوں انہوں نے وہاں آکر
نہ صرف حزب کی حثیت کو تسلیم کرلیا.بلکہ انہوں نے حزب کی قیادت کے ان تمام
اقدامات کو قانونی شکل دے ڈالی جو حسن نصراللہ اور اسکے مریدین ماضی میں
لبنان کی سیکیورٹی اور صلیبیوں کے جنگی جنون کے سامنے بند باندھنے اور
انکا مکو ٹھپنے کیلئے کرتے رہے ہیں. حزب اللہ نے ماضی میں اسرائیل کے خلاف
جتنی جنگیں لڑیں.انکو بھی قانونی جواز کے غلاف میں لپیٹ دیا گیا. .اس پر
مستزاد یہ کہ لبنانی فوج کے ریٹائر چیف کی شکل میں وہاں جلوہ گر لبنانی
صدر کی موجودگی نے ایک روز روشن نقطے کو عیاں کردیا.کہ لبنان کی عسکری
فوجوں نے بھی حزب کی قانونی اہمیت کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیی ہیں..یوری ہنری
کا شمار خلیج کے اہم ترین سیاسی دانشوروں .کالم نویسوںاور سیاستدانوں میں
ہوتا ہے.گو کہ وہ یہودی اور اسرائیلی ہیں.لیکن انکی رگوں میں حق پرستی اور
باضمیری خون بن کر دوڑتی ہے.ہنری یوری اسرائیل کی پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے
ہیں.وہ نہ صرف آذاد اسرائیلی ریاست کے حق میں ہیں بلکہ انہوں نے ہمیشہ
آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں اپنے قلم کی جولانیاں دکھائی
ہیں.انہوں نے اپنے حالیہ بصیرت افروز کالم بعنوان (حزب اللہ اور سرائیل)
میں لکھا ہے.کہ لبنان کی تاریخ میں اس سے زیادہ تابندہ لمحہ پہلے کبھی
نہیں ایا.لبنان کی فوج نے بھی سچ کا دامن پکڑتے ہوئے حزب اللہ کی قوت کو
دل سے تسلیم کرلیا.ہنری لکھتے ہیں.کہ ہر جماعت کے ورکروں نے alkuns کا
والہانہ اور دیدنی استقبال کرکے حسن نصراللہ کو خطے اور لبنان کا مقبول
ترین رہنما تسلیم کرلیا.یوں وہ لبنان کے سب سے طاقتور سیاسی و مذہبی لیڈر
بن گئے.لبنان دوبارہ ایک وحدت میں ڈھل چکا ہے.شیبافارمز کی ازادی.کلسٹر
بموںاور بارودی سرنگوں کے نقشوں کی حوالگی کے مطالبات کے حوالے سے تمام
لبنان یکسو ہوچکا ہے.کلسٹر بم اور بارودی سرنگیں اسرائیل نے دوسری لبنان
جنگ میں یہاں چھوڑی تھیں.وہ لوگ جو لبنان کو علاقے کا غیر محفوظ.کشیدہ
ترین علاقہ اور شعیہ کمیونٹی کو فساد برپا کرنے والی ابادی سمجھتے تھے.وہ
لبنان کی تعریفوں کے پل باندھے ہوئے ہیں.قیدیوں کے تبادلے کو بہت سارے
اسرائیلی حسن نصراللہ اور چند عرب ملکوں کا دھوکہ قرار دیتے ہیں. اور یہود
المروٹ کو اپنی کرپشن سے توجہ ہٹانے کا ڈھونگ کہتے ہیں. لیکن ایسے لوگوں
کی نیت کا جواب ہنری نے یوں دیا ہے.کہ یہ وہ لوگ ہیں.جنہوں نے لبنان کے
ساتھ جنگ کرنے کے احمقانہ فیصلے کی حمایت کی تھی.دوفوجیوں کی لاشوں کو
مزاکرات کے زریعے حاصل کیا جاسکتا تھا.جیسے کہ اب لاشوں کی واپسی گفت و
شنید سے ہوئی ہے.دوسری لبنان جنگ شروع ہونے سے ایک دن پہلے تک اسرائیل کی
تمام سیاسی جماعتیں.دانشور اور صحافی یہود المروٹ کے جنگی جنون کی حمایت
کررہے تھے.یوری ہنری اس بات پر کف افسوس ملتے ہیں کہ.جنگ سے پہلے لبنان کی
شعیہ کمیونٹی کے ساتھ ہمارے اچھے ہمسائیوں ایسے تعلقات تھے.جسے جنگ کے
احمق دیوانوں نے ہمیشہ کے لئے ختم کروادیا.حزب اللہ کو علاقے کی طاقتور
قوت اور حسن نصراللہ کو خطے کی مقبول ترین شخصیت بنانے میں بھی اسرائیل کے
جنونی انتہاپسندوں کا کمال ہے.وہ اگر علاقے میں اپنی دھاک بٹھانے کے لئے
حسن نصراللہ کے پیش رو کو ہلاک کرنے کا بزدلانہ فیصلہ نہ کرتے.تو آج حزب
اور حسن نصراللہ کو موجودہ مقام حاصل نہ ہوتا.اسرائیل کی ترمام حکومتوں نے
اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو بروئے کار لانے کے لئے لبنان اور فلسطین میں
جن مظالم کی بھرمار کی.اس نے عرب ممالک میں اسرائیل کے لئے ایک ایسی نفرت
بھری لہر پیدا کردی.جو یاسر عرفات اور حسن نصراللہ سے بھی زیادہ خطرناک
ہے.جس کا مستقبل میں ہمیں(اسرائیل) کو بھیانک خمیازہ بھگتنا ہوگا.ہنری نے
المروٹ سرکار کو مشورہ دیا ہے.کہ جس طرح اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے
ساتھ مذاکرات کئے ہیں.اسی طرح ہمیں فلسطین میں حماس کے ساتھ شروع کرنے
چاہیں.گو کہ اس سے حماس کو قانونی جواز مل جائے گا.لیکن اسکے بغیر خطے میں
امن کا قیام ممکن نہیں.اسرائیل بش کے دور صدارت میں ہی ایران پر شب خون
مارنا چاہتا ہے.تاکہ اسکی جوہری طاقت کا تیاپانچہ کیا جائے.اسرائیل کے حق
پرست دانشوروں نے حکومت کو وارننگ دی ہے.کہ اتران کے ساتھ جنگ کرنا تل ایب
کے لئے تباہ کن مقام کا انجام ہوگا.سارتر نے کہا تھا.کہ بھیڑئیی سے خیر کی
توقع مت کرو.ایران اور مسلم حکمرانوں کو ایسی خوش فہمیوں سے دور رہ کر
اپنے اپکو مضبوط سے مضبوط تر بنانا چاہیی.کیونکہ قرائن سے صاف نظر ارہا
ہے.کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو تختہ مشق بنانے کا کوئی موقع مس نہیں
کریں گے.ان حالات میں حزب اللہ کے قائد حسن نصراللہ کو پھونک پھونک کر قدم
رکھنے ہونگے.انہیں صہیونیوں کو ایران کے خلاف جنگی مہم سے باز رکھنے کے
لئے سارے لبنان کو اتحاد و یکجہتی کے آنگن میں رکھنا ہوگا.اگر وہ اٹل و
ثابت قدم رہے تو یہودیوں کا ایران کو جوہری قوت سے محروم رکھنے کا کوئی
خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوگا.خیر حسن نصراللہ نے اپنی پامردی اور قوت فیصلہ
کو بروئے کار لاکر ٹکڑوں میں بٹے ہوئے لبنان کو دوبارہ قوم کی لڑی میں پرو
دیا ہے.اس پر داد نہ دینا زیادتی ہوگی.ہم ایسے کم مایہ قلمکار صرف اتنا
کہہ سکتے ہیں.کہ عرب دنیا کو اکیسویں صدی کا صلاح الدین ایوبی مل چکا
ہے.اور وہ ہے.حسن نصراللہ.جو پوری امہ کے لئے گوہر مقصود کی حثیت رکھتا
ہے.آئیی...سب ملکر کہیں.حسن نصراللہ تیری عظمت کو سلام
This entry was posted on 01-08-2008 16:09. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured None time. You can leave a comment.
Views: 1801
Views: 1801