Nov
22
2008
Today

Do you think recent suicide blasts are a reaction against Lal Masjid operation?
Attock
9°C
بین المذاہب اور بین الکلچرل تصادم PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
سماجی ہم آہنگی کی مختلف سرگرمیوں کے دوران اور مضامین میں میں نے سماجی ہم آہنگی کا شیرازہ بکھرنے کے ثقافتی اور تہذیبی حقائق کے بارے میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ اس کے علاوہ مملکت خداداد میں ان جبری ثقافتی ، تہذیبی روایات کا بھی تذکرہ گزشتہ کئی فکری نشتوں میں کیا جن کو ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستان میں کلچر اور مذہب کے درمیان ایک تناؤ ہے اور آج ہم اسی ٹکراؤ یا تصادم کو دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کریں گے کہ یہ تصادم کیوں ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟
کسی بھی لمبی چوڑی تمہید میں گئے بغیر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس ساری بحث کا مرکزی نقطہ ’’انسان‘‘ ہے۔ ایک عام انسان اس کی علاح اور بقاء کی سوچ بچار، اس کے لئے ایک پر امن ماحول اور بھائی چارے کی فضا کا خواب۔ کیونکہ جییس ہی انسان تہذیبی اور تمدنی ارتقاء کے ذریعے ’’سماجی دنیا‘‘ میں پہنچا۔ وسائل پر قابض ہونے کی دوڑ بھی شروع ہو گئی لہٰذا ایک طبقہ وسائل اور وسائل کے ذرائع پر قابض ہو گیا اوراس نے اپنے قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے وسائل پیدا کرنے والوں کے لئے سماج میں رہنے کے قواعدو ضوابط او ر طور طریقے طے کر دئیے۔ اور انسان کو جبراً مجبور کیا کہ وہ حاکم طبقوں کے بنائے ہوئے سانچوں کے عین مطابق زندگی گزاریں۔ اس جبری زندگی، جبری ثقافت کی سب سے خوبصورت عکاسی منیر نیازی نے اپنی ایک نظم ’’میں تے ایہہ شہر‘‘ میں کی ہے۔
بھل گئے مینوں طور طریقے کویں میں ایتھے رہنا
کویں میں ایتھے دن کٹنا اے کویں میں اٹھنا بہنا
کس ویلے کیہ کم کرنا اے کد میں جاگنا سونا
کس موقع میں خوش لگنا اے کد میں خوش نئیں ہونا
منیر نیازی کی اس نظم میں ایک طرف’’شہر‘‘ ہے اور ایک طرف اس میں بسنے والا فرد۔ شہر نے شہر میں رہنے کی طور طریقے، رات دن کی مصروفیات کے اصول، اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ اور مختلف کاموں کے سر انجان دینے کے اوقات یہاں تک کے سونے جاگنے کے وقت تک طے کئے ہوئے ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ اس فرد کوکن کن موقعوں پر خوش ہونا اور کن کن موقعوں پر خوش نہیں ہونا۔ مگر وہ فرد باقی شہریوں سے علیحدہ شہری ہے۔ جسے یہ سب کچھ بھول گیا ہے یا اس نے ان سانچوں کو رد کر دیا ہے۔ وہ زندگی کو اپنے ڈھنگ سے گزارنا چاہتا ہے۔ اپنی مرضی سے سونا جاگنا، غمگین اور خوش ہونا چاہتا ہے۔
پس ثابت ہوا کہ کسی بھی سماج میں زندہ رہنے والا فرد دوہری زندگی جیتا ہے ایک وہ سماجکے بنائے ہوئے سانچوں کے مطابق اور ایک مرضی کے عین مطابق جوحاکم سماج کو قبول نہیں۔ سماج کے بنائے ہوئے طریقوں سے زندگی ایک اورطرح کا کلچر پیدا کرتی ہے جبکہ ’’عوامی امنگوں اور خواہشات‘‘ کی صورت میں اس کی ضدمیں ایک’’ کاؤنٹر کلچر‘‘ خود روپودوں کی طرح پھوٹتا ہے۔ لہٰذا سماج میں حاکم اور محکوم طبقوں کے درمیان ایک تناؤ اور ٹکراؤ کی طوتحال ہر وقت موجود رہتی ہے۔
اب اگر اس مفروضے کوبھی سچ مان لیا جائے کہ سماج اور حاکم طبقوں کی چیرہ دستیوں اور قوت کو لگام ڈالنے اور انسان کے اندر کی ان جبلتوں کونکیل ڈالنے کے لئے جنہوں نے قابیل کو ہابیل کا قتل کرنے پرمجبور کیا اورخدا کی زمین پر پہلی لکیر کھینچ کر اعلان کیا کہ ادھر کی زمین میری اور ادھر کی زمین تمہاری، جس نے زندگی کے وسائل پر بھی قبضہ کر کے کہا یہ زیادہ پھل دینے والا درخت میرا اور یہ کم پھل دینے والا درخت تمہارا ہے۔ اس قادر مطلق رب نے مذہب کو بھیجا۔ مذہب نے آکر سماج کے حکمران طبقات کے اختیارات اور ملکیت کو چیلنج کیا، انسانوں کو رہائی دلائی اور ان کے بنیادی حقوق وضع کر دیئے تو حکمراں، ریاست اور انسانوں کیلئے زندگی گزارنے کے اصول وضع کر دئیے لہٰذا حاکم سماج یا حکمرانوں اور مذہبی پیامبروںکے درمیان بھی ایک ٹکرؤں نے مستقل صورت اختیار کر لی ۔ وہ کبھی فرعون،کبھی نمرود اور کبھی ابوجہل کی صورت میں نظر آیا۔ مگر وہ مذہب جو غریبوں کو غربت سے رہائی، غلاموں کو غلامی سے رہائی دلوانے کے لئے آیا تھا اس نے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی وفات کے بعد’’چرچ‘‘ کی صورت میں خود انپی ایک علیحدہ سلطنت اور حکومت قائم کر لی اور یوں عوام، سماج اور مذہب کے مابین ایک تصادم،ٹکراؤں اور نتاؤ مستقل صورت اختیار کر گیا۔
پیغمبر اسلام رحمت العالمینﷺ بھی قرآن پاک کی صورت میں’’ امن ‘‘ اور ’’خیر خواہی‘‘ اپنی وجہ سے دوسروں کی زندگی کی ضمات کا درس لے کر آئے مگر بنوامیہ کی حکمرانی میں ’’ملوکیت کے ساتھ ساتھ ملائیت‘‘ نے بھی جنم لیا اور یوں ریاست اور مذہب کے درمیان بھی ایک براہ راست تصادم برپا ہو گیا جو کہ دراصل’’چرچ کی بادشاہت‘‘ کی ہی بڑھوتی (Extiension) تھی۔
اس تناؤ،ٹکراؤ یا تصادم کی اگر وجوہات دیکھی جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ’’ سماج ‘‘ اور ’’مذہب‘‘ انسانوں کے مخصوص طرز عمل کے متقاضی ہوتے ہیں۔ دونوں ایک مخصوص تہذیب اور کلچر چاہتے ہیں۔ وہ وسائل اور ذرائع و سائل کی تقسیم کے بارے میں علیحدہ علیحدہ نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ چونکہ مذہب حاکم سماج کے دائروں کو توڑ کر بندر بانٹ کے نظام کا خاتمہ کر کے انسانوں کو ہر طرح سے رہائی دلاتا ہے لہٰذا سماج اور مذہب کے درمیان ایک ٹکراؤ کی صورتحال شروع دن سے ملتی ہے۔ یہاں ایک نقطہ توجہ طلب ہے۔ ریاست اور مذہب کے درمیان ٹکراؤ کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ ریاست مدینہ کے وجود میں آجانے کے بعد چوتھے خلیفہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت تک ریاست کا کام مذہب کی حاکمیت قائم کرنا اور حاکم سماج کو مذہب کے طابع کرنا تھا۔ جس کی سب سے عمدہ مثال حضرب ابو بکر صدیق کا دور ہے۔ نبی اکرمﷺ کی رحلت کے فوراً بعد کچھ قبائل نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تو آپ نے ان قبیلوں کے خلاف تلوار نکال لی اور مذہب کی حاکمیت قائم کی۔ مگر جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت کے بعد یہ ترتیب الٹ گئی لہٰذا ریاست نے مذہب کو خود کو طاقتور کرنے، حاکم طبقوں کو بلیک میل کرنے اور عوام الناس کو محکوم رکھنے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ لہٰذا یہ تصادم ،ٹکراؤ اور تناؤ کی فضا، مذہب، حاکم سماج اور سماجی اور عومی کلچر کے مابین ہمیشہ سے رہی ہے۔
مگر مملکتِ خداداد پاکستان میں یہ ٹکراؤ علیحدہ نوعیت کا ہے۔ یہاں حاکم طبقوں، مذہب اور عوامی کلچر کے مابین ٹکراؤ کو سمجھنے کے لئے ہمیں 58 سال پیچھے تقسیم ہند تک کا تاریخی سفر کرنا پڑے گا۔ تقسیم ہند اور قیام پاکستان انسانی تہذیبی تاریخ کا ایک انوکھا واقع ۔ کیونکہ یہاں صرف زمین ہی تقسیم نہیں ہوئی اور نہ ہی نئی حد بندیاں قائم ہوئی ہیں بلکہ ایک نئی ریاست، ایک نیا سماج، ایک نئی معاشرت اور ایک نئی ثقافت نے بھی جنم لیا۔ یہاں مذہب کے بنیادی فلسفے کو ’’مغربی‘‘ اساس میں بھی اپنایا گیا اور مشرقی اساس میں بھی۔ پاکستانی مسیحیوںنے مغربی فلسفہ مذہب کو اپنایا جبکہ مسلمانوں نے مشرقی فلسفہ مذہب یہ کہنا زیادہ موزوں ہو گا کہ پاکستانی مسلمانوں کی اکثریت نے صوفیانہ فلسفہ مذاہب کو اپنایا۔ یہ تو آج کی بات ہے جب پاکستانی چرچ نے (Theology and Christalogy) ’’تھیالوجی‘‘ اور ’’کرسٹیا لوجی‘‘ کو مقامی (Localize) کیا اور مذہب کو مقامی کلچر سے ہم آہنگ کرنا شروع کیا۔ ورنہ مغربی فلسفہ مذہب کی تقلید نے مقامی کلچر میں گندھے خمیر کو زمین سے اٹھا کر ہوا میں متعلق کر دیا تھا۔ کیونکہ مغربی فلسفہ مذہب اور مشرق وجدان میں بڑا وضح تضاد ہے۔ فادر پاسکل رابرٹ اپنی کتاب’’مذہب اورمعاشرہ‘‘ کے صفحہ28 میں لکھتے ہیں:
’’غرباء کے اسائل کا حل ان الہیاتی وسائل کی مدد سے نہیں ہو سکتا جو درآمدی مغربی (یورپی) افکار و نظریات اور زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنی مقامی مسائل کا حل تلاش کرنے ڈھونڈنے کے لئے چند مغربی وسائل سے کنارہ کشی کر رہے ہیں تاکہ ان سے دوری اختیار کر کے مقامی اور مشرقی حالات و واقعات کی روشنی میں جدید سوچ و نظریات کے مطابق نئے اور اپنے منفرد طریقہ سے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔‘‘
خواجہ آشکار حسین بھی اپنے مقالے فلسفہ مذہب اورمشرقی وجدان میں لکھتے ہیں:
’’اگر کوئی فسلفہ مذہب ہے اور وہ ایک ایسا دائرہ تحقیق ہے جس کو اپنی ذات میں اختصاصیت حاصل ہے تو اس کی مندرجہ ذیل میں سے ایک نہ ایک شرط ہونی چاہئے، جس کے بغیر یہ ممکن الوجود ہی نہیں ہے۔
ا۔ کائنات کے مختلف اعتبارات وجود اس طرح ہیں کہ ان میں سے ایک مذہب سے عبارت ہے۔
ب۔ کائنات پر بہت سے زایوں سے نظر ڈالی جا سکتی ہے۔ ایک انداز نظر مذہب بھی ہے۔
ج۔ مذہب نہ صرف کائنات کا ایک اعتبار وجود ہے بلکہ ایک مخصوص زاویہ نگاہ بھی ہے۔
ان تینوں میں سے کسی ایک شرط کی تکمیل فلسفہ مذہب کی وجوبی، قبل تجربی اور منطقی اساس ہو گی۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ ان میں سے ہر شرط ایسی ہے جو بجائے خود مغرب کے ضمیر کے مطابق ہے۔ ان میں سے ہر شرط مغربی تعقلات کے موافق، مغربی تصوبیات سے ہم آہنگ اور اس کی اصل روح کی غماز ہے۔
مغربی ذہن تقسیم، انتشار و الفشار کے اس درجہ تک پہنچ چکا ہے جہاں وہ بلا احساس وشعور گویا اپنے باطنی تقاضا سے بالکل مجبور ہو کر مندرجہ بالا دعویٰ میں سے ہر ایک کو بلا کم و کاست قبول کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے اور اسی بنا پر ذہن مغرب کے لئے یہ ممکن ہے کہ فلسفہ مذہب کا علم کے بہت شعبوں میں سے ایک شبعہ قرار دے۔ جس کی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہو اور جو اپنی جگہ پر خود مختار ہو نیز اپنے ضابطہ افکار کی خود تشکیل کرتا ہو۔ لیکن اہل مشرق کا ذہن اس طرح مطمئن نہیں ہو سکتا، اوپر کی بیان کردہ ہر شرط روح مشرقی کے وجدان کے منافی ہے۔
اہل مشرق کے نزدیک کائنات ایک ہے۔ اس کو دیکھنے ،پرکھنے اور سمجھنے کا زاویہ بھی ایک ہی ہے۔ اس لئے امکانات صرف دو ہو سکتے ہیں یاتو پوری دنیا داخل مذہب ہے یا قطعی خارج از مذہب ۔ ایک ہی وقت میں دونوں حیثیتوں کی مالک نہیں ہو سکتی۔‘‘
لہٰذا پاکستانی مسیحیوں کے مغربی طرز فکر نے بھی مقامی مسیحیوں، مقامی کلچر اور مقامی اسلامی فلسفے سے ایک تصادم کی صورتحال اپنائے رکھی۔ اس پر المیہ یہ ہے کہ جب بھی مختلف عقائد کے لوگ باہم جمع ہوتے ہیں تو وہ ظاہری غرض تبادلہ خیالات ہی بتاتے ہیں، مگر در پردہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ جن تصورات و خیالات کی گود میں ان کی پرورش ہوئی ہے ان کی بیجا حمایت کی جائے۔ ان کے دفاع میں اعتراضات پیش کئے جائیں، دیگر مذاہب کی خوبیوں کو مسخ کیا جائے اورپوری مجلس کو ایک ایسے آلہ کار کی حیثیت سے استعمال کیا جائے جس کے ذریعہ حیوانی و بربری جذبات، اجتماعی عصبیات وغیرہ کو بر آنگیختہ کر کے اپنے حلقہ بگوشوں کو دوسرے ادیان سے زیادہ سے زیادہ دور رکھا جا سکے۔ یہی کارن ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے مابین السطور ایک تناؤ کی صورت موجود رہی ہے۔
پاکستانی مسیحیوں نے تو حیقیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے’’کرسٹیالوجی‘‘ اور ’’تھیالوجی‘‘ Localize کر لیا مگر پاکستانی اسلامی مذہبی گروہوں اور ریاست نے جس میں جنرل ضیاء الحق کا دور خاصی اہمیت رکھتا ہے مذہب کے ’’مقامی فلسفے‘‘ اور مقامی تفہیم جو کہ صوفیاء کرام کی تفہیم اور فلسفہ تھا جس نے یہاں کے مظلوم، مجبور اور محکور طبقوں کی عزت نفس بحال کر کے انہیں ڈر، خوف اور جبر سے رہائی دلا کر اخوت اور محبت کے لازوال رشتے میں باندھ دیا تھا سے کاٹ کر عربی فلسفہ مذہب اور عربی کلچر سے جوڑنے کی بھر پور کوشش کی جس کی بنیادی اورخمیر ہی نسلی امتیاز ہے۔ قبائلی عصبیت ہے۔ ’’ اَنّا کویتی‘‘ یا’’ اَنّا سعودی‘‘ ہونے کا دعویٰ باقی تمام قوموں سے افضل ہونے کا دعویٰ ہے۔ عراق کو اپنی تہذیب اور ثقافت پر مان ہے تو اپنی ’’مایا‘‘ تہذیب فرعونی سرمائے کے تفاخر کاشکار ہے۔ آج تک یہی وجہ ہے کہ اسلام کا منبع ہونے کے باوجود ہے۔ عرب لیگ کبھی کبھی کوئی اعلامیہ جاری بھی ہوتا ہے تو خانہ پوری کے لئے اس پر عمل درآمد کی صورت آج تک پیدا نہیں ہوئی۔
غالباً یہی وجہ ہے کہ 80کی دہائی میں پاکستان میں بین العقائد موجود تناؤ نے براہ راست تصادم کی صورت اختیار کر لی۔ شیعہ، سنی اور اہلحدیث فرقوں نے پاکستان کر بھی بیروت بنا لیا۔ مساجد، امام باگاہوں پر دستی بموں اورکلاشنکوفوں سے حملے ہوئے۔ آج ہر عقیدہ اپنا علیحدہ مسلح ملیشیا رکھتا ہے۔ یہ تصادم تو اپنی جگہ مگر اس در آمدی جبری کلچر نے معاشرے کا شیرازہ بھی بکھیر دیا۔ پورا معاشرہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہو گیا۔ ذات برداری کی بنیادوں پر ، عقائد اور مسلک کی بنیادوں پر ۔ اور یہ کام اس بار ’’حاکم سماج‘‘ کی بجائے ریاست نے سر انجام دیا جس نے قیام پاکستان کے اساسی عنصر کو ختم کر کے جو کہ ایک سیکولر Out Look کا مظہر تھا۔ ایک تھیو کریٹک سٹیٹ کا روپ دے دیا۔
پروفیسر خورشید احمد اپنی کتاب ’’جمہوریت، پالیمنٹ اور اسلام ‘‘



25-07-2008 13:04 Haroon Adeem
This entry was posted on 25-07-2008 13:04. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 1144    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >