Nov
22
2008
Today

Your Favorite GSM Service ?
Attock
9°C
بے نظیر کی جانچ سے پیسہ ضائع ۔۔دھشت گری کی پھیلاوٹ سے او PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
پاکستان حکومت نے پاکستان کی ملکہ جمہوریت محترمہ بے نظیر صاحبہ کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کی عرضی ۔جس کے عوج اس کو سرکاری خزانہ سے ایک ارب چالس کروڑ روپیہ خرچ ہوں گے۔اتنی بڑی رقم پاکستان کی خوش حالی کیلئے کام آسکتی ہے۔ وہ مذکورہ رقم سے پاکستان میں ایک تعلیمی ادارہ ان کے نام سے تعمیر کر کے اس طرح کون خیراج عقیدت بھی پیش کرے جس سے ان اداروں سے ایسے لوگ ابھر کر سامنے آئیں۔ کہ پاکستان کی ملکہ جمہوریت محترمہ بے نظیر صاحبہ کے قتل کی تحقیقا ت میں معاون و مددگار بنیں۔غیر ملکی لوگوں کے اتنی بڑی رقم حوالہ کرنا محض پیسہ ضائع کرنا ہے۔ اور پھر بھی نتیجہ لاحاصل ہی رہے گا۔ کیونکہ پاکستان کی ملکہ جمہوریت محترمہ بے نظیر صاحبہ کا قتل ایک گہری سازش تھی ۔ ان کے قتل کے موقع پر تخلیقی کیسٹوں کے ذریعہ سے قتل کی زمہ داری کی پہلے تصدیق اور پھر تردید کی گئی۔ تخلیقی کیسٹوں سے اسلامی حلیہ مکھوٹے مسٹر بش اور ان کی پارٹی کو سیاسی فائدہ پہنچانے کیلئے دھمکیاں دیتے ہیں۔ الجزیرہ کا عربی چینل جس کو مسلسل اسلامی حلیہ مکھوٹوں کے کیسٹس حاصل ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ان کی اشاعت پر پابندی لگ جائے اور وہ ٹیلی کاسٹ ہونے بند ہوجائیں تو امریکی ری پبلیکن پارٹی کو سیاسی طور پر نقصان ہوگا۔ اور اس کا دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ لڑنے کا ایشو فرسودہ و بے کار ہوجائے گا۔ مجوزہ ایشو کو توانا بنئے رکھنے کیلئے اسلامی حلیہ مکھوٹوں کی تخلیقی دھمکیاں محض اسی لئے ہی آتی ہیں۔، ۔ اب مسٹر بارک اوبامہ نے مسٹر بش کی پارٹی کی اس صدارتی الیکشن والی چال کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔ اور وہ بھی تخلیقی اسلامی حلیہ مکھوٹوں کو نشانہ بناے لگ گئے ہیں۔ لیکن تخلیقی القاعدہ و طالبان تخلیقی کیسٹوں سے بارک اوبامہ کو خلاف لب کشائی سے گریز کر رہی ہے۔ جب تخلیقی القاعدہ و طالبان پاکستان کی ملکہ جمہوریت محترمہ بے نظیر صاحبہ کے سیاسی قتل میں خود کو ملوث کرلیتی ہے۔ اور بے نظیر صاحبہ پر الزام لگاتی ہے۔ کہ وہ مسٹر بش کی دوست بنتی جارہی تھیں۔ ان لئے ان کا قتل کیا گیا۔ پھر ان کا بیان آتا ہے۔ کہ طالبان خواتین پر حملہ نہیں کرتے۔ ۔تخلیقی القاعدہ و طالبان صرف مسٹر بش کی پارٹی کا سیاسی پروپیگنڈہ ہے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ اگر اس کی کچھ حقیقت ہوتی تو مسٹر بارک اوبامہ کے خلاف بی وہ مکھوٹے محاذ کھولتے۔کیونکہ وہ ہی ان پر حملہ آور زیادہ ہیں۔
مسٹر بش کی پارٹی جو پاکستان و افغانستان کے کچھ علاقوں کو اپنا تختہ مشق بنارہی ہے۔ تخلیقی القاعدہ کے اعلان سے ، بے نظیر کے قتل سے ، ، افغانستان میں ہندوستانی سفارت خانہ پر حملے سے اس خطہ میں دھشت گرد ماحول کو سجایا جارہا ہے۔ اور اس کی تحقیقات پر پاکستان و افغانستان کا پیسہ ضائع ہورہا ہے۔
حامد کرزائی صاحب ۔ بش کی پارٹی کو پاکستان کے قبائیلی علاقوں اور افغانستان میں پہاڑی علاقوں پر حملہ کی اجازت پاکستان کی جمہوری حکومت سے دلوانے کیلئے مذکورہ ہندوستان کے سفارت خانہ پر تحقیقات کے بہانے ان کو آمادہ کرنے کی کوشیش کررہے ہیں۔ کہ پاکستان کی حکومت پہاڑی و قبائیلی علاقوں کی سیاست کاری کیلئے ان کی مد کرے لیکن اگر پاکستان حکومت نے ان مخصوص علاقوں پر حملہ کی اجازت نہیں دی تو ممکن ہے۔ تب امریکہ بھی اس کا الزام پاکستان حکومت کے سر ہی نہ مڑھ دے۔ کیونکہ امریکہ کا صدارتی لیکشن جیتنے کیلئے ضروری ہے۔ قبائیلی و پہاڑی علاقوں پر حملے در حملے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اب مسڑ بش کی پارٹی کو سب سے زیادہ خطرہ تخلیقی القاعدہ و طالبان سے نہیں ہے۔ بلکہ اصل خطرہ مسڑ بارک اوبامہ سے ہے۔ ان کو شکست دینے کیلئے پاکستان و افغانستان کین دھشت گردی کی پھیلاوٹ کا سلسلہ پاکستان کی ملکہ جمہوریت محترمہ بے نظیر صاحبہ کی شہادت کے بعد سے شروع ہوچکا تھا۔ جو اب تک جاری ہے۔ یہ سن کچھ امریکہ کے سیاسی حملہ کی تیاری کے پش منظر میں ہے۔ مسٹر بارک اوبامہ ۔مسٹر بش کی پارٹی کے سیاسی ایشو کو اس سے چھینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ القاعدہ کی دھمکیاں اگر مسڑ بارک اوبامہ کیلئے نہیں آئیں۔ تو یہ بات آشکارہ ہوہی جائے گی۔ کہ القاعدہ امریکن ری پبلیکن پارٹی کی اسی سیاسی حکمت عملی ہے جس کو سمجھ نے میں تقریباََ پچاس سال چاہئیں۔خادم گذشتہ دس سال سے اس کی قلمی کھوج بین میں تھا۔ ۔ اب یہ احساس ہوا۔ کہ القاعدہ و طالبان ایک اسلامی دشمن تحریک ہے جو مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میںتبدیل کرنے کیلئے مذکورہ پارٹی کے اشارے پر تخلیقی کیسٹوں سے وجود میں لائی گئی ہے۔ اصل اس کا کوئی وجود نہیں۔ اس کاایک خاص مقصدہے مذہب اسلام کو امریکہ ،برطانیہ ، و یورپین ممالک میں پھیلنے پھولنے پر روک لگا نا ہے۔دنیا میںاسلامی حلیہ اختیار کرکے جو مکھوٹے کیسٹوں کے ذریعہ امریکہ کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔وہ امریکہ کو دھمکیاں نہیں دے رہے بلکہ اس طرح وہ غیر مسلموں کے مذہب اسلام میں داخلہ پر قدغن لگارہے ہیں۔چونکہ اگر اسلامی حلیہ مکھوٹوں کی دھمکیاں نہیں آئیں گی۔ تو وہ اسلام پر تحقیق کرکے اس میں داخل ہونے سے نہیں رک پائیں گے۔جو لوگ اسلام پر تحقیق کررہے ہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں۔ کہ دھمکیاں بھی مذہب اسلام کا ہی حصہ ہیں یعنی اسلام جبر ہے۔ اور وہ دنیا میں طاقت کے بل پر پھیلتا ہے۔ یہ غلط تصویر ۔۔مغربی میڈیا کے زیر اثر ٹی وی چینل پیش کررہے ہیں۔اور الجزیرہ کا عربی چینل اور مسٹر جارج بش کی موجودگی۔ میں امریکہ و برطانیہ میں قائم کئے گئے۔الجزیرہ کے انگریزی چینل مذہب اسلام کے خلاف صف آراء ہیں۔وہ مصنوعی تخلیق کو حقیقت بنا کر دیکھاتے ہیں۔ اور اپنا سیاسی مقصد حاصل کرتے ہیں۔یہ اقدام عالم اسلام و مسلمانوں کیلئے کسی المیہ سے کم نہیں۔
بہرحال چونکہ پاکستان کی ملکہ جمہوریت محترمہ بے نظیر صاحبہ کا قتل اس خطہ میں دھشت گردی پھیلاکر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے ہوا تھا۔ لیکن اس دھشت گردی کی پھیلاوٹ کا سیدھا فائید ہ امریکن ری پبلکن پارٹی کے امیدوار مسٹر جان میکن کے بجائے امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدار وار مسٹر بارک اوبامہ کو پہنچ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان و افغانستان کے پہاڑی و قبائیلی علاقوں پر حملے محض سیاست کاری ہے ۔ بس اب یہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی ملکہ جمہوریت محترمہ بے نظیر صاحبہ کے قتل کی جانچ کرانا پیسہ کو ضائع کرانا ہے اور مذکورہ علاقوں پر امریکی حملہ کرانا ۔اب ایسا ہوتا جارہا ہے ۔جیسے۔ مسٹر بارک اوبامہ صدارتی امیدواری میںکامیاب کرانا ہے۔ یعنی حملے کس کے سیاسی فائدے کیلئے کرائے جارہے ہیں۔ مگر فائدہ کس کی جانب بڑھ رہا ہے۔
ایاز محمود۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی دہلی



25-07-2008 12:58 Ayaz Mehmood
This entry was posted on 25-07-2008 12:58. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 818    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >