| تشدد اور دہشت گردی انسانی ارتقاء میں رکاوٹ ؟ |
|
|
|
اب
ہمیں یہ طے کر لینا چاہیی کہ معاشرے اور ملک کو چند شر پسند اور خود ساختہ
نظریات کے حامل افراد کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا چاہیی کہ وہ جس طرح کا
چاہے سلوک کرتے پھریں یا اسغلبہ استبدا دسے نجات حاصل کرنے کی کوئی سبیل
کرنی چاہیی ،دیکھنا یہ بھی ہے کہ دنیائے کائنات میں ہمارا سفر ارتقاء کی
جانب ہے یا ہم "جہنم" میں کھڑے ہیں (جہنم کا ایک مطلب رک جانا بھی ہے)اگر
ہم نے اب بھی یہ طے نہ کیا کہ کائناتی اصولوں کے مطابق ترقی کے سفرکے لئے
ہر قوم کوارتقاء کا راستہ اپنانا پڑتا ہے اس کے بغیرترقی ممکن نہیں ۔جن
قوموں نے اس سنہرے اصول پر عمل کیا وہ نہ صرف دنیاپر حکمرانی کر رہی ہیں
بلکہ کائنات کی خوبصورتی میں اضافے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے انسانوں کو
لاحق بیماریوں اور دکھوں کے علاج کے حوالے سے بھی بیش بہا خدمات سر انجام
دے رہی ہیںجبکہ "امت مسلمہ " کی حالت پر غو ر کرنے کے بعد یہ اندازہ لگانے
میں چنداں دشواری پیش نہیں آتی کہ اس کا سفر رک چکا ہے ۔56[L:
44]57اسلامی ملکوں میں افراد ،گروہ، فرقے تو موجود ہیں اور ان گروہوں اور
فرقوں میں بھی عصبیتوں اور عقیدوں کی جنگ عروج پر ہے ،مسلمان ،مسلمان کا
نہ صرف خون بہا رہا ہے بلکہ اس خون کی ہولی کو "مقدس"قرار دے کر اپنے اس
فعل کو اسلام کا لبادہ اڑھانے کی مکرہ کوشش بھی کی جاتی ہے ،امت مسلمہ کی
اس حالت کو دیکھنے کیبعد دنیا کا با شعور طبقہ جو اکثریت میں ہے اور اسلام
کی ابدیت،افادیت اور اسے ایک بہترین نظام سمجھتا ہے مگروہ اسلام اور
مسلمانوں سیبر گزشتہ بھی نظر آتا ہے ۔
پاکستان اس لحاظ سے زیادہ بد قسمت ملک ہے کہ یہاں نظریات کے بیوپاریوں اور دائیں بازو کے دانشوروں اور خود ساختہ جہادی گروپوں نے ایک بہت ہی خوبصورت ،قدرت کے بے بہا اانعا مات کے حامل ملک کو یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ آج اس ملک کے باشندے خوراک کی قلت کے شکار کے ساتھ زندگی کی بقاء کی خاطر دوسروں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو چکے ہیں حالنکہ قیام پاکستان کے بعد یہ خطہ دنیا بھر کا اناج گھر کہلاتا تھا اور آج دانے دانے کا محتاج نطر آتا ہے ،ملک کو انارکی کا شکار کرنے میں دائیں بازو کے اخبارات اور دانشوروں نے اپنا حصہ "ایمان" سمجھ کر ڈالا جس میں یہ ابھی بھی کوئی کمی کرنے کو تیار نہیں ،پاکستان کے دائیں بازو کے اخبارات اور ان پر قابض "ایڈیٹروں اورادارتی صفحوں کے انچارج" کی ذہنیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے ان کے ہوتے ہوے دنیا کو سوچ اور فکر کی دعوت دینے والے کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کی تحریریں ان کی مرضی کے بغیر شائع نہیں ہوسکتیں خواہ وہ اسی ادارے میں کام کرتے ہوں جبکہ معاشرے کو انتشار میں مبتلا اور نفاق میں اضافہ کرنے والی تحریریں ان کی "مرغوب"ہوتی ہیں جو فوراً شائع کر دی جاتی ہیں ،ہمارے ساتھ ہاتھصرف ملاء اور خود ساختہ جہادی ہی نہیں کر رہے یہ لوگ بھی نہایت ایمانداری سے فریضہ سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔اصل میں بحث دائیں یا بائیں بازو کی نہیں میرا کہنے کا یہ مطلب ہے کہ انتہا ہ پسندی کسی بھی طرح کی ہو وہ ملک اور معاشرے کے لئے نقصان کا ہی باعث ہوتی ہے اور انسانی ارتقاء کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ۔
اسلام جو اعتدال کی بات کرتا ہے وہ کائناتی سچائی ہے مگر ہم کسی سچائی کو ماننا ہی نہیں چاہتے وہاں اسلام کے اصولوں کا کیا قصور، اسلام تو ایک ایسی رواں صاف اور شفاف ندی ہے جس سے کوئی بھی فیضاب ہو سکتا ہے اور اس کے اصول غیر متبدل ہیں ،جب یہ کہہ دیا گیا کہ غور و فکر کرو اور کائنات کو تسخیر کرو تو جو قومیںغور وفکر سے کام لے کر کائنات کو مسخر کرنے میں لگی ہوئی ہیں ان کی اور اپنی حالت دیکھنے کے بعد ہی اندازہ لگا لینا چاہیی کہ خدا کی مرضی کیا ہے؟ ہم دشمن کو للکارتے وقت اپنی حیثت اور تیاری کا بھی خیال نہیں کرتے جبکہ نبی کریم ﷺ نے بھی اس وقت تک جنگ نہیں کی جب تک اپنی تیاری مکمل نہیں کر لی حالنکہ وہ تو خدا کے رسول ﷺ تھے اور خدا ان کے ساتھ ہم کلام ہوتا تھا اور اس کی مددہر وقت ساتھ تھی ،رسول کریم ﷺ دنیا کے لئے ایک مثال ہیں اس لیے ان کی ہی پیروری واجب ہے ۔
باقی رہے یہ لوگ جو ڈنڈے ،بندوق اور ذرائع ابلاغ کے اسلحہ سے لیس ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی من مرضی کے مطابق ،جس طرح کا "مذہب"یہ پیش کرتے ہیں پر چلیں تو یہ خدا کے اس حکم کے بھی خلاف ہے کہ دین میں جبر نہیں ،جبریہ مذہب کا نتئجہ سوائے بربادی کے اور کچھ نہیں نکلے گا ،پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ بہر حال اس کی گواہ بھی ہے اور اور آج حالت یہ ہو چکی ہے کہ اس جبریہ سوچ کے نتیجے میں ملک کے کئی حصوں میں جنگ وجدل کا بازار گرم ہے بلکہ ریاست کے خلاف اعلان جنگ کر دیا گیا ہے اور اپنیبھائیبندوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا جا رہا ہے ،ریاست کے خلاف جنگ جہاد نہیں فساد ہوتا ہے ،اور فساد برپا کرنے والوں کے بارے میں قران میں بڑے واضع احکامات موجود ہیں ۔
جو کچھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میںجہاد کے نام پر ہو رہا ہے اسکا اسلام اور اسلامی تعلیمات سے دور کا واسطہ نہیں،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ جنگ و جدل پاکستان اور مسلم امہ کے خلاف ایک بہت بڑیاور گھناونی سازش ہے تو یہ مبالغہ آرائی نہیں، کیونکہ ذرائع ابلاغ کے تیز اور موثر ترین دور میں اب حقائق کو چھپانا ناممکن ہو چکا ہے اور ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی رپورٹیں آچکی ہیں کہ سورش زدہ علاقوں میں بر سر پیکار گروہ پاکستان کے دشمن ملکوں کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں اور ان سے یہ اس کام کا بھاری ماوضہ وصول کرکے ان کی جنگ اپنے ہی ملک اور شہریوں کے خلاف لڑ رہے ہیں ،اور اس طرح کے شواہد بھی ملے ہیں کہ ان گروہوں اور گروپوں میں بعض باقائدہ جرائم پیشہ ہیں جنہوں نے اسکاروبار کو منفت کے طور پر لیا ہے چھوٹے چوٹے معصوم بچے اغوا کرتے ہیں ،ان کی برین واشنگ کر کے انہیں خود کش بمبار کے ھتیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔دنیا بھر میں اس طرح کی سفاقی کا مطاہرہ آ پ کو کہیںنظر نہیں آئے گا جس طرح کی سفاکی ہمارے یہاں ان گرپوں اور گروہوں ذریعے ہو رہی ہے ۔
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ پاکستان کے ایک بڑے پرائیویٹ ٹی وی چینل نے القائدہ کے تیسرے نمبر کے راہنما سعید شیخ کا انٹر ویونشر کیا ہے ، ایک ایسے وقت میں جب بین ا لا قوامی فوجیں ہماری سرحدوں پر بیٹھی ہیں اس کے نشر کرنے کے پیچے کیا محرکات ہیں پر آئندہ کسی کالم میں اظہا خیال کیا جائے گا اس وقت سر دست القائدہ کے رہنما کے صرف چند جملوں پر اکتفا کرتے ہوئے یہ بتانا مقصود ہے کہ القائدہ کے راہنما نے اپنے انٹر ویو میں بار بار امہ کا لفظ استعمال کیا ہے کہ یہ جنگ امہ کی جنگ ہے ،جبکہ وہ خود بھی اس بات کا اعترف کرتے ہیں کہ مسلم دنیا کے کسی بھی ملک کی جانب سے ان کی اس "مقدس مشن" کے لئے کہیں سے کوئی امداد یا حمائیت انہیں میسر نہیں ،پھر یہ جنگ امہ کی جنگ کیسے ہوئی ؟؟اور دوسری بات جو انہوں نے کہی کہ خود کش حملے ان کے فہم اسلام اور ان کی شریعت کے مطابق درست ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ القائدہ کے راہنما اسلام اور اسلامی تعلیمات سے نہ صرف نا بلد ہیں بلکہ وہ اس طرح کے بیانوں کے ذریعے عام مسلمانوں کے ذہن کو ورغلانے کے گناہ عظیم کابھی شکار ہیں ،محسوس یوں ہوتا ہے کہ یہ انٹر ویو بھی ملک کے خلاف ایک سازش ہے ،ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کو بچانے کے لئے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے راہنماوں اور ملک بھر کے دانشوروں کو اپنا قومی اور ملی کردار ادا کرتے ہوئے ملک وملت کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے متحد ہوجانا چاہیی ۔کیونکہ تشدد اور دہشت گردی ہی انسانی ارتقاء اور ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔۔
zameerafaqi[L: 64]yahoo.com cell[L: 35] 03009439033
پاکستان اس لحاظ سے زیادہ بد قسمت ملک ہے کہ یہاں نظریات کے بیوپاریوں اور دائیں بازو کے دانشوروں اور خود ساختہ جہادی گروپوں نے ایک بہت ہی خوبصورت ،قدرت کے بے بہا اانعا مات کے حامل ملک کو یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ آج اس ملک کے باشندے خوراک کی قلت کے شکار کے ساتھ زندگی کی بقاء کی خاطر دوسروں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو چکے ہیں حالنکہ قیام پاکستان کے بعد یہ خطہ دنیا بھر کا اناج گھر کہلاتا تھا اور آج دانے دانے کا محتاج نطر آتا ہے ،ملک کو انارکی کا شکار کرنے میں دائیں بازو کے اخبارات اور دانشوروں نے اپنا حصہ "ایمان" سمجھ کر ڈالا جس میں یہ ابھی بھی کوئی کمی کرنے کو تیار نہیں ،پاکستان کے دائیں بازو کے اخبارات اور ان پر قابض "ایڈیٹروں اورادارتی صفحوں کے انچارج" کی ذہنیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے ان کے ہوتے ہوے دنیا کو سوچ اور فکر کی دعوت دینے والے کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کی تحریریں ان کی مرضی کے بغیر شائع نہیں ہوسکتیں خواہ وہ اسی ادارے میں کام کرتے ہوں جبکہ معاشرے کو انتشار میں مبتلا اور نفاق میں اضافہ کرنے والی تحریریں ان کی "مرغوب"ہوتی ہیں جو فوراً شائع کر دی جاتی ہیں ،ہمارے ساتھ ہاتھصرف ملاء اور خود ساختہ جہادی ہی نہیں کر رہے یہ لوگ بھی نہایت ایمانداری سے فریضہ سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔اصل میں بحث دائیں یا بائیں بازو کی نہیں میرا کہنے کا یہ مطلب ہے کہ انتہا ہ پسندی کسی بھی طرح کی ہو وہ ملک اور معاشرے کے لئے نقصان کا ہی باعث ہوتی ہے اور انسانی ارتقاء کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ۔
اسلام جو اعتدال کی بات کرتا ہے وہ کائناتی سچائی ہے مگر ہم کسی سچائی کو ماننا ہی نہیں چاہتے وہاں اسلام کے اصولوں کا کیا قصور، اسلام تو ایک ایسی رواں صاف اور شفاف ندی ہے جس سے کوئی بھی فیضاب ہو سکتا ہے اور اس کے اصول غیر متبدل ہیں ،جب یہ کہہ دیا گیا کہ غور و فکر کرو اور کائنات کو تسخیر کرو تو جو قومیںغور وفکر سے کام لے کر کائنات کو مسخر کرنے میں لگی ہوئی ہیں ان کی اور اپنی حالت دیکھنے کے بعد ہی اندازہ لگا لینا چاہیی کہ خدا کی مرضی کیا ہے؟ ہم دشمن کو للکارتے وقت اپنی حیثت اور تیاری کا بھی خیال نہیں کرتے جبکہ نبی کریم ﷺ نے بھی اس وقت تک جنگ نہیں کی جب تک اپنی تیاری مکمل نہیں کر لی حالنکہ وہ تو خدا کے رسول ﷺ تھے اور خدا ان کے ساتھ ہم کلام ہوتا تھا اور اس کی مددہر وقت ساتھ تھی ،رسول کریم ﷺ دنیا کے لئے ایک مثال ہیں اس لیے ان کی ہی پیروری واجب ہے ۔
باقی رہے یہ لوگ جو ڈنڈے ،بندوق اور ذرائع ابلاغ کے اسلحہ سے لیس ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی من مرضی کے مطابق ،جس طرح کا "مذہب"یہ پیش کرتے ہیں پر چلیں تو یہ خدا کے اس حکم کے بھی خلاف ہے کہ دین میں جبر نہیں ،جبریہ مذہب کا نتئجہ سوائے بربادی کے اور کچھ نہیں نکلے گا ،پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ بہر حال اس کی گواہ بھی ہے اور اور آج حالت یہ ہو چکی ہے کہ اس جبریہ سوچ کے نتیجے میں ملک کے کئی حصوں میں جنگ وجدل کا بازار گرم ہے بلکہ ریاست کے خلاف اعلان جنگ کر دیا گیا ہے اور اپنیبھائیبندوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا جا رہا ہے ،ریاست کے خلاف جنگ جہاد نہیں فساد ہوتا ہے ،اور فساد برپا کرنے والوں کے بارے میں قران میں بڑے واضع احکامات موجود ہیں ۔
جو کچھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میںجہاد کے نام پر ہو رہا ہے اسکا اسلام اور اسلامی تعلیمات سے دور کا واسطہ نہیں،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ جنگ و جدل پاکستان اور مسلم امہ کے خلاف ایک بہت بڑیاور گھناونی سازش ہے تو یہ مبالغہ آرائی نہیں، کیونکہ ذرائع ابلاغ کے تیز اور موثر ترین دور میں اب حقائق کو چھپانا ناممکن ہو چکا ہے اور ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی رپورٹیں آچکی ہیں کہ سورش زدہ علاقوں میں بر سر پیکار گروہ پاکستان کے دشمن ملکوں کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں اور ان سے یہ اس کام کا بھاری ماوضہ وصول کرکے ان کی جنگ اپنے ہی ملک اور شہریوں کے خلاف لڑ رہے ہیں ،اور اس طرح کے شواہد بھی ملے ہیں کہ ان گروہوں اور گروپوں میں بعض باقائدہ جرائم پیشہ ہیں جنہوں نے اسکاروبار کو منفت کے طور پر لیا ہے چھوٹے چوٹے معصوم بچے اغوا کرتے ہیں ،ان کی برین واشنگ کر کے انہیں خود کش بمبار کے ھتیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔دنیا بھر میں اس طرح کی سفاقی کا مطاہرہ آ پ کو کہیںنظر نہیں آئے گا جس طرح کی سفاکی ہمارے یہاں ان گرپوں اور گروہوں ذریعے ہو رہی ہے ۔
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ پاکستان کے ایک بڑے پرائیویٹ ٹی وی چینل نے القائدہ کے تیسرے نمبر کے راہنما سعید شیخ کا انٹر ویونشر کیا ہے ، ایک ایسے وقت میں جب بین ا لا قوامی فوجیں ہماری سرحدوں پر بیٹھی ہیں اس کے نشر کرنے کے پیچے کیا محرکات ہیں پر آئندہ کسی کالم میں اظہا خیال کیا جائے گا اس وقت سر دست القائدہ کے رہنما کے صرف چند جملوں پر اکتفا کرتے ہوئے یہ بتانا مقصود ہے کہ القائدہ کے راہنما نے اپنے انٹر ویو میں بار بار امہ کا لفظ استعمال کیا ہے کہ یہ جنگ امہ کی جنگ ہے ،جبکہ وہ خود بھی اس بات کا اعترف کرتے ہیں کہ مسلم دنیا کے کسی بھی ملک کی جانب سے ان کی اس "مقدس مشن" کے لئے کہیں سے کوئی امداد یا حمائیت انہیں میسر نہیں ،پھر یہ جنگ امہ کی جنگ کیسے ہوئی ؟؟اور دوسری بات جو انہوں نے کہی کہ خود کش حملے ان کے فہم اسلام اور ان کی شریعت کے مطابق درست ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ القائدہ کے راہنما اسلام اور اسلامی تعلیمات سے نہ صرف نا بلد ہیں بلکہ وہ اس طرح کے بیانوں کے ذریعے عام مسلمانوں کے ذہن کو ورغلانے کے گناہ عظیم کابھی شکار ہیں ،محسوس یوں ہوتا ہے کہ یہ انٹر ویو بھی ملک کے خلاف ایک سازش ہے ،ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کو بچانے کے لئے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے راہنماوں اور ملک بھر کے دانشوروں کو اپنا قومی اور ملی کردار ادا کرتے ہوئے ملک وملت کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے متحد ہوجانا چاہیی ۔کیونکہ تشدد اور دہشت گردی ہی انسانی ارتقاء اور ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔۔
zameerafaqi[L: 64]yahoo.com cell[L: 35] 03009439033
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 1123