مولانا
جلال الدین رومی کا قول ہے.جو شخص یا ادارہ اپنی خطاوں کو معلوم کرکے ان
کا اعتراف کرتا ہے.وہ کمال کی جانب پرواز کرتا ہے.تلسی داس نے کہا تھا کہ
غریب کی آہ سے بچ.کیونکہ یہ خدا سے بھی نہیں سہی جاتی.کیونکہ مردہ کھال
کے پھونکنے سے لوہا بھی پگھل جاتا ہے.پاکستان کے موجودہ سیاسی و انتظامی
معاملات کو نہ تو خوش کن کہا جاسکتا ہے. اور نہ ہی اٹھارہ فروری کو
جمہوریت و مساوات کی کبریائی کے نام پر معرض وجود میں انے والی مخلوط
حکومت کی کارکردگی کو احسن کہنا درست ہوگا. کیونکہ موجودہ سرکار نہ تو
عوام کو خوشی کے چار لمحات مہیا کرنے میں کامران ٹھری ہے.اور نہ ہی غریب
لوگوں کی گردنوں سے مہنگائی اور گرانی کا طوق اتارا جاسکا ہے.اس پر مستزاد
یہ کہ اطراف و جوانب میں حکومتی رٹ کا دور دور تک کوئی اتہ پتہ
نہیںہے.زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والا پاکستانی چاہے وکیل ہو.یا
مزدور.دوکاندار ہو یا استاد سب ہی مایوسی اور بے چینی کی بیڑیوں میں جکڑے
ہوئے ہیں.ہر کوئی کف افسوس ملتے ہوئے ایک سوال کرتا ہے.کہ ہمارے ملک کو
کیا ہوگیا.؟ہماری حکومت کیا کررہی ہے.؟حکومت اتنی سست.غیر فعال اور بے حس
کیوں بنی ہوئی ہے.؟جنرل مشرف کی عوام دشمن پالیسیوں کا تسلسل ابھی تک کیوں
قائم ہے.؟جن میں اجارہ داریاں.مالی دھاندلیاں.ذخیرہ اندوزوں کی سیاہ
کاریاں.ڈاکووں کی کھلی چھٹیاں.سمگلروں کی فنکاریاں.استحصالی طبقوں کی چیرہ
دستیاں لوٹ کھسوٹ.کرپشن کی داستانیں خود کش حملوں کی بربریت.سیاسی انتشار
کی گلقاریاں وغیرہ شامل تھیں.یہ تو آج بھی پوری روانی سے جاری و ساری
ہیں.مخلوط سرکار کے بانیوں نے نئی رشتہ داری سے قبل قوم سے جن وعدوں کی
تکمیل کے عہد کئے تھے.وہ تو تہہ خاک ہوچکے.اس پر طرہ یہ کہ ریاست کی چار
بڑی جماعتوں کا اتحاد بھی ڈانوا ڈول ہے.طرفین کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف
الزام تراشیوں کی بھرمار ہلکے پھلکے انداز میں جاری ہے.عوام کے ازہان میں
ایک سوال زور شور سے ٹھاٹھیں مار رہا ہے.کہ عوامی نمائندگی کی دعویدار
پارلیمنٹ غیر آئینی فوجی صدر کو ڈھیل کیوں دے رہی ہے.؟ پارلیمان صدر کی
رسی کیوں دراز کرہی ہے.؟ملک کی چار بڑی جماعتوں کی بنیادوں پر کھڑی کی
جانیوالی حکومت عوامی امنبگوں کو کیوں روند رہی ہے.اور عوامی خواہشات کے
برعکس فیصلہ سازی جوبن پر کیوں نظر اتی ہے.؟ان سوالات کا جواب تلاش کرنے
کے لئے ہمیں ماضی کے جھرونکوں کی سیرکرنی ہوگی.ہمارے ہاں ویسے تو ہر دور
کی جنتا چاہے وہ فوجی ہو یا پھر سویلین عوامی ارا کو پھانسی دیتی آئی
ہے.لیکن عوامی خواہشات کو راندہ درگاہ بنانے کا سنگین ترین سانحہ میں
1971ہوا جب فوجی آقاووں نے اکثریتی پارٹی کو دانستہ طور پر اقتدار سے
محروم رکھا.پاکستان کے موجودہ اور سقوط ڈھاکہ کے موقع پر سیاسی و انتظامی
معاملات میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے. اکہتر میں مکتی باہنی کے گوریلوں
نے بغاوت کا علم بلند کردیا تھا تو اج یہی کام قبائلی کررہے ہیں.سقوط کے
وقت بھی ایک جرنیل تخت نشین تھا.اور اج بھی ایک جرنیل نے لولی لنگڑی
جمہوری سرکار کو غیر مستحکم کرنے کی مچان سنبھال رکھی ہے. پورا ملک گو
مشرف گو کے نعرے مار رہا ہے.لیکن لاٹ صاحب کا کہنا ہے.کہ ان کی صدارت ملکی
سلامتی کے لئے ناگزیر ہے.سرکاری ٹولے کی ساخت و پرداخت.طرز فکر.جاہ طلبی
اور ہوس اقتدار وہی ہے.جو اکہتر میں تھی.لیکن ظلم تو یہ ہے کہ حکومتی
بزرجمہر آدھا ملک گنوانے کے باوجود ہوش کے ناخن نہیں لیتے.پاکستان کے
موجودہ بگاڑ کی پوزیشن اس وقت پیدا جب مارچ2007 کو فوجی صدر نے چیف جسٹس
آف پاکستان کو معزول کردیا.اور پھر ایسٹیبلشمنٹ کی دشمن سمجھی جانے والے
سیاسی جماعت پی پی اور مشرف کے درمیان NROنامی رومانس پروان چڑھا.NRO نامی
منصوبہ عالمی طاقتوں کی گارنٹی اور جیو اور جینے دو کے اصولوں کو مد نظر
رکھ کر مرتب کیا گیا nro' کے کمالات اکتوبر 2007کے صدارتی الیکشن سے ایک
روز قبل منکشف ہوئے تاکہ مشرف پی پی کی حمایت سے صدارتی سنگھاسن پر دوبارہ
فائز ہوجائیں. NROبھی PCO.LFO کی طرح عوام دشمن معاہدہ ہے.جس کی جزیات
پردوں کے پیچھے چھپا دی گئی ہیں. nro اورpcoمیں یہ فرق ہے کہ pco نافذ
پہلے ہوتا ہے جبکہ اس پر عمل درامد بعد میں ہوتا ہے.لیکن nroکا معاملہ اس
کے الٹ ہے. پی پی کوکی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے.کہ مشرف ایوان صدر پر قابض
اور عدلیہ اپنے آئینی ججز سے محروم ہے.اس مرحلے کا ماضی کے ساتھ گہرا
تعلق پایا جاتا ہے.جس کا پودا راولپنڈی سازش کیس اور لیاقت علی خان کے قتل
سے پھوٹا تھا.1954 تک یہ پودا تنااور درخت بن گیا تھا. اور کمانڈر انچیف
ایوب خان وردی میں وفاقی کابینہ میں وزیر دفاع بن گئے . اس درخت کا ایک
پھل1958 کے مارشلا کی صورت میں ملا. جو ساٹھ کی دہائی میں مذید پکتا رہا.
اور فوج کے ساتھ وڈیروں کے عملی الحاقfeudal army axis کے نوکدار بیج
سرزمین پاکستان پر بکھیرتا رہا.یہ ٹولہ اور طبقہ اشراف مشرقی پاکستان کی
بااواز اکثریت اور اواز جمہور کو اپنے اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتا تھا.اسی
لئے مسلسل سازشوں اور بعد میں عجلت میں ہتھیار ڈال کر مشرقی پاکستان کو
ہمیشہ کے لئے الگ کردیا گیا.سقوط ڈھاکہ کی وجوہات جاننے کے لئے بھٹو نے
حمود الرحمن کمیشن قائم کیا لیکن کمیشن کی رپورٹ اٹھائیس سال عوام کے لئے
اوپن نہیں کیا گیا..اس رپورٹ کے کچھ حصے اس وقت منظرعام پر لائے گئے.جب
بھارت نے کمیشن کی رپورٹ شائع کردی.رپورٹ میں مجاز افسران نے شکست کی ذمہ
داری یحےی خان پر ڈالی.کمیشن نے تسلیم کیا کہ حکمران ٹولے نے سوچے سمجھے
منصوبے کے تحت بنگا لیوں کا استحصال کیا.جنگ کے اسباب پیدا کئے.اور پھر
جان بوجھ کر ہتھیار ڈلوائے.حمود الرحمن رپورٹ کے طویل اخفا کی وجہ یہ تھی
کہ وڈیروں اور خاکیوں کا دوطرفہ الحاق اکہتر کے بعد پھیل کر وسیع ہوگیا.جس
میں ملا اور بیوروکریٹ بھی شامل ہوگئے.پاکستان کے دونوں ادوار(1947تا1971)
اور (71 تا موجودہ عہد رفتہ تک) کا ماحاصل یہ ہے.کہ ہماری مذہبی و سیاسی
جماعتوں نے ہمیشہ امروں کو سیاسی ایندھن فراہم کیا.بھٹو واحد شخصیت تھے.جس
نے ملاووں.جرنیلوں .بیروکریسی اور جاگیرداروں کے اتحاد ثلاثہ کو توڑنے کے
لئے جان کی بازی لگائی.پاکستان کے موجودہ نظام کو جمہوری اور عوامی توقعات
سے جوڑنا درست نہیں بلکہ یہ تو وہ نظام امریت ہے.جس کی استبدادیت کو چار
فوجی امروں نے بہ نوک شمشیر پاکستان پر ٹھونسا ہے.پاکستان کا ایک دانشور
طبقہ یہ رائے رکھتا ہے اور انکی سخن وری میں وزن بھی نظر اتا ہے.کہ NROکی
رو سے زرداری اور نواز شریف دراصل ماضی کے نظام استبدادیت کو ہی مظبوط
بنارہے ہیں.اتحاد ثلاثہ کے اس نظام کی سیاسی سماجی و معاشی جڑیں اتنی گہری
ہوگئی ہیں.اور جبر اتنا راسخ ہوچکا ہے.کہ اس نظام کا از خود جاناممکن
نہیں. کی موجودگی میں موجودہ سرکار نہ تو مشرف کی گوشمالی کرسکتی ہے اور
نہ ہی اس نظام کی موجودگی میں عوام کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے.آذاد عدلیہ
کی حمایت میں اٹھنے والے عوامی طوفان کو بھی شاطرانہ چالوں سے بکھیر کر
رکھ دیا گیا ہے.آصف علی زرداری اگر مستقبل میں عوام کی حمایت کے متمنی
ہیں.اگر وہ پی پی کی مقبولیت کے بھرم کو مستقبل میں بھی قائنم و دائم
رکھنے کے خواہاں ہیں تو پھر انہیںnro کے خفیہ رازوں کو جشت ازبام کرنا
ہوگا.nro کا دامن پکڑ کر بھٹوز کے خود ساختہ دعویداروں نے اپنے ہاتھ پاوں
مقفل کروالئے ہیں.پی پی کی قیادت نے تین ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو ججز کی
بحالی کو یقینی بنایا گیا ہے اور نہ ہی وہ کوئی اور انتخابی وعدہ پورا
کرنے میں کامران ہوئی ہے. .اس وقت اس امر کی ضرورت ہے.کہ پی پی کی اپر
قیادت زمینی حقائق اور مولانا روم کے محولہ بالا قول کی روشنی میں یہ
تسلیم کرے کہnro کی پرستش کرنا انکی سنگین غلطی تھی.مولانا روم ایسے بیدار
مغز مفسر نے درست کہا ہے کہ جو شخص اپنی غلطی تسلیم کرلے وہ اوج ثریا کا
ذادہ راہ پالیتا ہے. پی پی کی موجودہ قیادت کو اپنی غلطی کا ڈنکے کی چوٹ
پر احساس کرنا چاہیی.تاکہ معاملات کو درست کیا جائے.پی پی ملک کی بڑی
عوامی جماعت ہے. پی پی کو لوگوں نے اپنے مصائب کے حل کے لئے ووٹ دئیی
تھے.لیکن عوام کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوسکی.ملک کی پچھتر فیصد ابادی کو
مہنگائی اور غربت کے شکنجے نے جکڑ رکھگا ہے.وزیراعظم پاکستان اور پی پی
قائدین کو بے بس و بے کس پاکستانیوں کے زخم خوردہ وجودوں پر راحت کے پھاہے
رکھنے ہونگے.حکمرانوں کو تلسی داس کی وارننگ کے نتیجے میں عوام کے دکھوں
کا مداوا کرنا ہوگا.ورنہ کل کلاں انہیں خدائی عذاب کے لئے تیار رہنا
ہوگا.پاکستانی قوم کو بھی ایک نقطے پر گہریعرق ریزی کرنی ہوگی.کہ جب تک وہ
خود کھڑے ہوکر ظلمت و وحشت بھرے نظام کو غرقاب نہیں کرتے.تو اس وقت تک نہ
تو غربت کے کارن ملک کے طول و عرض میں ہونیوالی خود کشیوں کو روکنا ممکین
ہوگا. اور نہ ہی اس مملکت خداداد میں ایک ایسی صبح صادق طلوع ہوسکتہ ہے.جس
کی کرنیں استحصالی طبقوں کو اندھا لولا اور لنگڑا کردیں.
This entry was posted on 25-07-2008 11:24. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 3 time. You can leave a comment.
Views: 1229
Views: 1229