Nov
22
2008
Today

Your Favorite GSM Service ?
Attock
9°C
جب لوگ ایک دوسرے کے گریبان نوچیں گے PDF Print E-mail
User Rating: / 1
PoorBest 
 
starving-children.jpgملک میں رہنے والے چھوٹے اور درمیانے طبقے کے لوگ جن کے لئے مہنگائی کی وجہ سے ہر گذرتے دن کے ساتھ دو وقت کی روٹی پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے اِن دنوں زیادہ ہی پریشان دکھائی دیتے ہیں ، بددل ہیں اور مایوسی کے عالم میں ہیں جس کی وجہ سے اِن کے اندر خود کو ختم کرنے اور خودکشی کرنے کا رحجان غالب آ رہا ہے اور اس تعداد میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے اس کی مثال میں یوں دوںگا کہ اب آئے دن اخبارات میں ایک تواتر سے پڑھنے کو یہ خبریں ملتی ہیں کہ فلاں شہر میں لوگ اپنے بچوں کو فروخت کے لئے بازار میں لے آئے فلاں نے بھوک اور افلاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر زہر پی لیا یا کسی طور خود کشی کر لی یا چلتی ٹرین کے آگے کود گیا وغیرہ وغیرہ۔ انتخاب کے بعد موجودہ حکومت کے بر سرِ اقتدار آنے سے پہلے اِس طبقہ کو بہت زیادہ امیدیں تھیں کہ اب ان کی بھی سنی جائے گی یا شاید اب ملک میں کوئی انقلاب آ جائے گا مگر افسوس کہ ِان کی پریشانیوں میںکمی آنے کی بجائے اِن میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ، شتر بے مہار کی طرح بڑھتی ہو ئیں بجلی، پٹرول، گیس اور دوسری روز مرّہ ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں نے اِن کی امیدوں پر پانی پھیر دیااور خوش فہمیوں کو بر ی طرح پامال کر دیا اور اِن لوگوں کے حالات پہلے سے بھی بد تر ہو گئے کیونکہ کچھ بھی تو نہ بدل سکا ، کچھ بھی تو نہ ہوسکابلکہ مایوسیوں میں ڈھیروں اضافہ ہو ا اور ہر طرف نامیدیوں کے مہیب سائے اور گھٹاٹوپ ا ندھیرے ہی اندھیرے اوپر سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے سونے پہ سوہاگے کا کام دیا ہے جس کی
بنا پر سالوں سے وڈیروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروںکے ظلم و ستم کے ستائے، پسے ہوئے زخموں سے چور چور مزدور جن کو مزدوری دیتے ہوئے بھی یہ بھیڑیے (مالکان) فقط تنگ ہی کیا کرتے تھے جاگ اٹھے اور فیصل آباد کی پاور لوموں کے ورکروں اور مزدوروں نے ہڑتال کر دی اور تاحال ہڑتال پر ہیں کیونکہ اِن ملوں اور فیکٹریوں کے مالکان زیادہ سے زیادہ کام لے کر کم سے کم معاوضہ دینے کے اصول پر کاربند ہو چکے تھے ،پکی ملازمتیں قصۂ پارینہ بن چکی ہیں اور اِن جگہ ٹھیکداری نظام نے لے لی ہوئی جس کی وجہ سے صورتحال اب ان کی برداشت سے باہر ہو چکی تھی کیونکہ ہمارے ملک میں ٹھیکداری نظام میں کسی کو کوئی سہولت میسر نہیں ہوتی ، نہ پنشن، نہ بڑھاپے کا کوئی سہارا اور نہ علاج معالج کی سہولت اور اوپر سے ملازمت جانے کا ہر وقت ڈھرکہ ، اسی ہڑتال میں مسلم لیگ (نواز گروپ) کے ایک ایم پی اے نے فائرنگ بھی کر ڈالی جس سے ایک مزدور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا یہ ممبر اسمبلی تاحال گرفتار نہیں ہو سکا ، بجلی اور گیس کی عدم دستیابی کی بنا پر ایک فیصل آباد کی پاور لومیں ہی بند نہیںہوئیں بلکہ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی بیشتر کارخانے بند ہو چکے ہیں یا بند ہو رہے ہیں ۔
اوپر کی چند لائنوں میں دگرگوں حالات کا ایک اجمالی سا خاکہ کھینچنے کی کوشش کی ہے کہ ان حالات میںجوں جوں وقت گذر رہا ہے چھوٹے طبقے کی بڑے طبقے (غریب کی امیرکے خلاف) کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ امیر طبقے نے اپنے لئے اسقدر مراعات سمیٹ لی ہوئی ہیں کہ ان کو بڑھتی ہوئی یا کم ہوتی ہوئیں قیمتوں سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ،جو بھی حکومت آتی ہے یہ لوگ اس سے اپنے لئے مراعات اکٹھی کر لیتے ہیں کیونکہ یہ لوگ ہمارے ملک میں اب ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں جنہوںنے اپنے جال اسطرح بنے اور پھیلائے ہوئے ہیں کہ اس قبیل کے مختلف لوگوں نے مختلف طبقہ فکر کے لوگوں میں اپنے بچوں کی شادیا ں کی ہوئی ہیں اور اسطرح ہوتا یوں ہے کہ اگر ایک بیٹاکسی ایک پارٹی میں ہے تو دوسرا دوسری پارٹی کا سرخیل نظر آتا ہے اور اسطرح جو بھی پارٹی برسرِ اقتدار آتی ہے مراعات کسی نہ کسی طور اپنے ہی گھر میں رہتی ہیں، یہ بات یہیں پر بس نہیں بلکہ اس سے اور آگے جا چکی ہے کہ ان لوگوں نے فوج کے اعلیٰ افسران (خاص طور پر جرنیلوں سے) اور عدلیہ کے ججوں سے رشتہ داریاں بھی بنا لی ہوئی ہیں تاکہ کل کلاں اگر کوئی برا وقت آ بھی جائے تو بھی سہولت (ریلیف) ملتی رہے۔
مراعات سمیٹنے ہی کے ضمن میں گذشتہ دنوں میڈیا میں ایسی رپورٹیں آئیں جس کے مطابق سال2007ء میں پانچ سو ساٹھ(560) سیاستدانوں اور صنعت کاروں کے بائیس(22)ارب روپوں کے قرضے معاف کئے گئے، قرضے معاف کروانے والوں میں ایک غریب سیاستدان چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے شافع حسین کا بھی قرضہ معاف ہوا جو پانچ کروڑ95لاکھ سے زیادہ کاتھا، اِسی طرح الہی بخش سومرو کا بیٹا حکومت پاکستان کا4کروڑ78لاکھ ہضم کر گیا، عزیز سپنگ مل کے86کروڑ49لاکھ تھے، مست قلندر کاٹن فیکٹری کے ذمے17ارب70کروڑ روپے تھے جو سب معاف ہو گئے اسی طرح صوبہ سرحد میں بھی بہت سے اداروں کے کروڑوں کے قرضے معاف کر دیئے گئے۔ ان تمام قرضوں کے روپے کس کے تھے یہ یا تو آپ کے اور ہمارے ٹیکسوں کی صورت میں حکومت کے پاس تھے یا پھر بیرون ملک سے لئے گئے قرضوں میں سے تھے جو سب معاف ہو گئے اور اس طرح ہمارے حقوق یہ لوگ کاروبار کے نام پر کھا گئے جب کہ جو واقعی غریب تھے وہ غریب کے غریب ہی رہے اس کے برعکس یہ قرضے معاف کروانے لوگ اس قدر کھانے اور ہضم کرنے کے بعد بھی حکومت کی نظروں میں شریف، معصوم، پاک باز اور امانت دار ہیں جو عوام کا درد رکھنے والے ہیں جبکہ ان کے کرتوت اس کے الٹ ہیں، ایک طرف بھوک اور افلاس ہے تو دوسری طرف مراعات ہی مراعات امارت ہی امارت ۔
جیساکہ میں نے اوپر تحریر کیا ہے کہ میرا یہ مشاہدہ ہے کہ ملک میں میرے جیسے چھوٹے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی مایوسی میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو تا چلا جا رہاہے اور اوپر سے جب بجلی ہی نہ ہوگی، گیس کی پائپ لائنیں ہر روز بم دھمکاکوں اڑائی جا رہی ہوں تو پھر اس کا نتیجہ ملک کی انڈسڑی (کارخانے اور ملیں) کے بند ہونے کی صورت میں ہی نکلے گے جس سے بے روز گاری میں بہت زیادہ اضافہ ہو گا جو اگر ایک طرف چوری چکاری میں اضافے کا باعث بنے گا تو دوسری طرف لوگوں کا آپس میں میل جول کم ہوگا اور کھانے کو نہ ملنے کی صورت میں تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق لوگ ایک دوسرے سے الجھیں گے اور یہ الجھاؤ بڑھتے بڑھتے اسقد ر بڑھ جائے گا کہ نچلے اور درمیانے طبقے کے لوگوں کے ہاتھ بالآخر امیروں (بڑے طبقے) کے گریبانوں تک پہنچ جائیں گے جو ایک دوسرے کو نوچیں گے اور یوں سارا ملک ایک طرح سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ جائے گا ایسے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے ، حکومت تو اگلے سال آخر تک لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا کہہ رہی ہے ، مگر کیا بھوک اور پیاس سے ستایا ہوا آدمی اتنی دیر تک انتظار کر سکے گا؟ اتنی دیر جی سکے گا؟



16-07-2008 13:12 M Afzal Qamar
This entry was posted on 16-07-2008 13:12. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 4 time. You can leave a comment.
Views: 1373    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >