| جس کی لاٹھی اس کی بھینس |
|
|
|
دیکھنا یہ ہے کہ ضلع سےعام لوگوں کا کیا فائدہ ہوا۔کیا ترقی ہوئی۔اتنا ضرور ہے کہ مقدمہ باز گجرات کے چکروں سے بچ گئے۔ خرچہ کرایہ اور وقت کی بچت ہوئی۔ وقتی طور پرلوگوں کو امید لگی کہ منڈی ضلع میں ترقیاتی کام ہوں گے۔ نئی قیادت میدان میں اترے گی۔ ترقیاتی منصوبے اوران کی تکمیل مقامی لوگوں کی شرکت اورزیرنگرانی ہو گی۔ ٹھیکے معقول اوراہلیت کے حامل لوگوں کو مقابلے کی بنا پر دیئے جائیں گے۔ سڑکیں معیاری اوران کی زندگی لمبی ہو گی۔محکمہ جات خاص طور پر محکمہ مال اور محکمہ پولیس کی کارگردگی شفاف ہو گی عوام کو انصاف ملے گا۔ رشوت ختم ہو گی۔ ٹاؤٹوں کا خاتمہ ہو گا۔ سفارش اوراقراء پروری کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ چوری اور ڈاکہ زنی کی وارداتوں میں کمی ہو گی۔ عام شہری خاص طورپرکمزوراورغریب طبقہ کو ظلم سے نجات مل جائے گی۔ انصاف اور قانون کی حکمرانی ہو گی۔
دھیرے دھیرے وقت گزرتا گیا۔ مقامی سیاست دانوں نے ضلع کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ ان کے وفاداروں اور منظورنظرنےتمام سرکاری وغیر سرکاری محکمہ جات اوراداروں کو اپنے زیراثرکرلیا۔ پولیس ملازمین تک غریب آدمی کی رسائی ناممکن ہے۔تھانہ جانے کیلئے بڑے لوگوں یا ٹائوٹوں کی مدد ضروری ہے۔ محکمہ مال کے اہلکاروں سے جائزکام بغیررشوت کے نہ کرایا جاسکتا ہے۔ مال ہو تو ناجائز کام بھی ہو سکتا ہے۔ محکمہ کے ریکارڈ میں غلط اندراج کرنا جھوٹا مقدمہ بنانا ملازمین کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ان ملازمین کا کوئی محاسبہ نہ ہوتاہے۔ ان کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں۔ دیہاتی لوگوں کے درمیان زیادہ ترمقدمہ بازی ان ملازمین کی غلط کاروائیوں، بدنیتی اورلالچ کا نتیجہ ہوتی ہے۔
اشتمال اراضی کا مقصد زمینداروں کی ٹکڑوں میں زمین کو اکٹھا کرنا ہے تا کہ کاشتکاری میں سہولت اور آسانی ہو۔ لیکن عملی طور پر اس مقصد کو پس پشت رکھ دیا جاتا ہے۔ اشتمال کے دوران زمینداروں کو اپنی ہی زمین بحال رکھنے کے لئے اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ جو لوگ قیمت ادا نہیں کر سکتے ان کو بعد از اشتمال محکمہ مال کی عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ جس کے لئے لمبا عرصہ درکار ہے انصاف اصل حقائق پر نہیں ہوتا بلکہ یہ تکنیکی دکاوٹوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔۔ اکثر یہ مقدمہ بازی دویا تین نسلوں تک جاری رہتی ہے۔ آخر تنگ آکر زمیندار ہمت ہار جاتے ہیں۔ اور اس طرح انصاف ملنےکا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر ظالم کا حوصلہ مزید بلند ہوتا ہے۔ اور سچائی دب کر رہ جاتی ہے۔
گذشتہ چند سالوں میں منڈی ضلع میں نئی کاروں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان گاڑیوں کے مالکان زیادہ ترحکومت کے ٹھیکیداران اورپولیس ملازمین ہیں۔ کیونکہ ان کی دہاڑیاں نفع بخش ہوتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ اڈوں کے مالکان کی بھی چاندنی ہے۔ بغیرمشقت کے ماہانہ آمدنی لاکھوں میں ہوتی ہے۔ اس آمدنی میں بڑے افسران کا حصہ ہوتا ہے یا نہیں۔ معلوم نہیں۔
میونسپل ایڈمینسٹریشن شہرحدود میں داخل و خارج ہونے والی گاڑیوں سے اچھی شرح پر خوب ٹول ٹیکس اکٹھاکرتا ہے۔ شہر کی سڑکیں اور گلیاں ہر سال بنتی اور ٹوٹتی ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر کے دوران ٹھیکیداران زیادہ تر وقت بڑے افسران کے دفاتر کے چکر لگانے میں صرف کرتے ہیں۔ تعمیری سامان سڑکوں پر ڈھیر کر دیتے ہیں۔ منصوبہ بندی اورکام مزدوروں کے احوالے کر دیتے ہیں جو تعمیری سامان کو بچھا کر تعمیرمکمل ہونے کا اشارہ ٹھیکیداران کو دے دیتے ہیں تا کہ وہ متعلقہ افسران سے ٹھیکہ کی رقم وصول کر لیں۔ یہ سڑکیں سال کے اندر ہی ٹوٹ جاتی ہیں۔ موجودہ حالت یہ ہے کہ کوئی سڑک منڈی ضلع میں ایسی نہیں جو ناگفتہ بہ حالت میں نہ ہو۔ عوام کو سخت کوفت اور تکلیف ہوتی ہے۔ پیدل چلنا بھی محال ہے۔
میونسپل ایڈمنسٹریشن نے پراپرٹی ٹیکس بڑانے کے لئے گردونواح کی بستیوں کو اپنی حدود میں شامل کر لیا ہے۔ اور اب ان بستیوں کے مکینوں سے پراپرٹی ٹیکس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالانکہ ان بستیوں میں میونسپل ایڈ مینسٹریشن نے کوئی سہولت نہ دے رکھی ہے۔
ڈاکہ زنی اور چوری کی وارداتیں عام معمول ہے۔ کبھی کبھار چور اور ڈاکو پکڑے بھی جاتے ہیں لیکن ایسے خوش قسمت کم ہی لوگ ہیں جن کو مسروقہ سامان واپس کیا گیا ہو۔
نئی حکومت سےعوام کی بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ لیکن اس کے آتے ہی غریبوں کی حالت مزید بگڑ گئی ہے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کرتی ہے۔۔ڈاکہ زنی کی وارداتوں میں آۓ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ بے روز گاری ہے۔ عدالتیں وکلاء کی ہڑتالوںسے بند ہیں۔ کہیں انصاف کے نام کی شے نظر نہیں آتی۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا راج ہے۔ بھلا ایسے عالم میں غریب اور کمزور کس کو مدد کے لئے پکارے۔
غالباً یہی حالت ملک کے دوسرے اضلاع کی بھی ہے جہاں بر سر اقتدارسیاست دانوں اور ان کے خوشامدیوں کی بے جا مداخلت سے ضلع سطح کے محکمہ جات مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ملازمین ایمانداری سے فرائض کی ادائیگی نہ کرتے ہیں۔ بلکہ نوکری کے بچا نے کی فکر میں دہتے ہیں۔ اور عوام انصاف سے محروم ہے۔ موجودہ افراتفری اور حکومت کی بے بسی ان ہی نا انصافیوں کا نتیجہ ہے۔
گینگلے خان
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 1308