| آزاد عورت |
|
|
|
ہم دنیا کی پرانی ترین تہذیب کے بچے صدیوں سے بچے بهی پیدا کرتے آئے هیں اور زندگی بهی گزارتے رہے هیں ـ
تاریخ کے ہر دور میں بهوکی قومیں ہمیں لوٹنے بهی آتی رهی هیں ـ ہم قتل بهی هوتے رهے هیں اور لوٹے بهی جاتے رهے هیں ـ
اور آج همیں بتایا جا رها هے که هم بچه بنانے کے عمل یعنی سیکس سے لا علم هیں ـ
پچهلی پوسٹ میں میں نے آپنے معاشرے کے مہذب رشتے گنوائے تهےـ آج غیر مہذب رشتوں کی بات کرتے هیں ـ
وه رشتے هیں رکهیل ـ داشته ـ کنجری ـ اور رنڈی ـ
ہمارے معاشرے میں جب عورت کو مشینوں کی وجه سے گچھ سہولت حاصل هوئی تو اس کو ہری ہری سوجهنے لگیں ـ وه پہناوه جس کو دو نسلوں پہلے تک ناچوں اور کنجروں کا پہناوا کہا جاتا تها وه چمکیلے اور جسموں سے چپکے چپکے کپڑے ہمارے گهروں میں داخل هو گئے ــ
ہماری عورتوں کو کنجریوں پر رشک آنے لگاـ ان گپڑوں کی نمائیش کے لئے شادی بیاه کی رسموں کو بہانه بنا کر مجرے کی سی کیفیت بنا دي گئی ـ
منگنی اور مہدی کی رسم کو کپڑوں اور جسموں کی نمائش بناکر رکھ دیا گیا هے ـ
ہم نے پهر بهی عورت کی رسپیکٹ کی اور اس کو یه سب کرنے کے لئے پیسے اور آزادی دی اور اب اس سے زیاده آزادی کا مطالبه کیا جانے لگا هے ـ اس سے زیاه آزادی اور کیا هو سکتی هے ؟
یورپ کی عورتوں کی طرح شادی سے پہلے پانچ چھ مردوں کو بستر پر ٹیسٹ کرنے کی آزادی ؟
یا جب چاهے منه کا ذائقه بدلنے کے لئے کوئی جوان مُنڈا چکهنے کی آزادی ؟
جن عقل کے اندهوں کو پاکستان کی عورتیں جبر میں کسی نظر آتی هیں جو یه سمجهتے هیں که هم آپنی عورتوں کو تعلیم سے دور کررہے هیں ـ
کیا ان کو تعلیم اور میڈیکل کے شعبے میں اعلی تعلیم یافته عورتیں نظر نہیں آتی ؟
دیسی عورتوں کے شوقین چوهدری جمّی نے مجهے ایک پتے کی بات بتائی تهی که
پاکستان میں جو بهی لڑکی خراب هوتی هے وه آپنے بچپنے کی وجه سے میٹرک سے پہلے پہلے خراب هو جاتی هے ـ
آگر لڑکی کالج چلي جائے تو تعلیم اور ماحول اس کو بتا دیتے هیں اور اس کو سمجھ بهی آجاتی هے
که
آگر میں آپنی عفّت گنوا بیٹهی تو یه پهر حاصل نہیں هو گی اور ایک ناقابل تلافی نقصان هو جائے گا ـ
میرے خیال میں عورتوں کے شکاری لوگ تعلیم یافته عورتوں میں سے یه نظریه نکال پهینکنا چاهتے هیں که ان کو کهل کهیلنے کا موقع ملے ـ
باقی رهی سیکس کے متعلق جان کاری کی تعلیم تو اس کے لئے ہمارے معاشرے میں پرانے زمانے سے کجھ رسوم چلي آتی تهیں جن میں سے کچھ تو متروک هو چکی هیں اور کچھ ابهی باقی هیں ـ
مثلاَ
پهیری
بارات کے جانے کے بعد لڑکے کی ماں آپنے اردگرد کی عورتوں کے ساتھ مل کر جو کچھ کرتی هے ـ
شادی پر ڈهولک
اور
ترنجن
ایک ختم هو چکی رسم
لو جی بات کچھ اس طرح کهلی هے یا مجهے اس طرح سمجھ لگی هے که ـ پاکستانی عورتوں کو سیکس کی جاچ(طریقه) نہیں هے
بات تو هو سکتا هے که ٹهیک هی هو که بی بی سی کے پڑهے لکهے لوگوں نے لکهی هےـ یه تو حقیقت هے که ایک پڑها لکها شخص معاملات کو بڑی باریکی سے دیکهتا هے اور سمجهتا هے ـ مگر اس بات کا کوئی کیسے پته چلائے که یه ذہین آدمی کسی چالاکی په تو نہیں هے ؟
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|









(0 vote)
Views: 1041