Aug
21
2008
Today
 .
videos.gifcartoon.gif  links.gif forum.gif guest-book.gifadverts.gif

Hijri Date


Member Login

Attock Poll

Maj. Tahir Sadiq is ....

Attock Weather

Attock
23°C

Tell a Friend

Like what you see? If you like what you see, please tell a friend or family member about us! It's simple! Just click on the Tell a Friend hotlink below

Syndicate

تخلیقی پہلوانوں سے دھمکیوں کے تیل کی مالش۔! PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 


امریکن ری پبلیکن پارٹی کاایک اہم چناوی مدعا ہے۔ ’’دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ۔۔‘‘ اور اس جنگ کو لڑنے کیلئے پہلوانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب دونوں پہلوان میدان میں ہوں گے۔ تو ان میں باہم مقابلہ ہوتا ہے۔ ایک پہلوان دوسرے پہلوان کو شکست دیکر مقابلہ کا ہیرو بنتا ہے۔ مذکورہ جماعت کی طرف سے پہلوانی مسٹر جارج بش کررہے تھے۔ انہوں نے اپنے اس مقابلہ میں شرکت کیلئے دنیا میں ناجائز حکمراں پیدا کئے۔ اور ان کو اپنے ساتھ شریک کیا۔ ان میں خاص ہیں۔ پاکستان کے فوجی مسٹر پرویز مشرف صاحب ۔۔۔! ان ہی دونوں نے دھشت گردی سے مقابلہ کرنے اعلان کیا۔ اور یہ دھشت گردی سے لڑنے کا گمراہ کن اور دھوکہ باز مقابلہ کا سلسلہ صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے ہوتا رہا ۔ اور مسلسل منظرعام پر آتا رہا۔
دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ تو مسٹر جارج بش کا سیاسی مدعا تھا۔ اور ابھی بھی ہے۔جو ۔۔ اب ان کے جانشیں مسٹر جان میکن کو وراثت کے طور پر تحفہ میں ملا ہے۔اس مدعے کے مد نظر انہوںنے اپنے اتنے حماعتی امریکہ میں پیدا کرنے ہیں۔ جس سے کہ وہ صدارتی الیکشن جیت جائیں۔حالانکہ اس میں ان کی مدد مسٹر جارج بش ،مشرف میاں ، حامدکرزائی صاحب کریں گے۔مگر اصل محنت تو مسٹر جان میکن نے ہی کرنی ہے۔ اس مدعے کو سامنے رکھ کر انہوں نے پہلوانی شروع کردی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ مدمقابل پہلوان کی کہ وہ ان کو کس طرح اور کہاں سے لائیں۔اورکہاں پید ا کریں۔کیونکہ بغیر مدمقابل کے جنگ بیکار ہے۔ الیکشن جیتنے کیلئے جنگ ضروری ہے۔ کیونکہ اس سے ہی اپنے سیاسی حریف کو شکست دینی ہوتی ہے۔ اس کیلئے ایک ماحول تیار کرنا ہوتا ہے۔ امریکی اقتدار پر قبضہ جمانے کی جنگ میں سب کچھ جائز ہوجاتا ہے۔
دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا مدعاسامنے رکھ کر امریکن ری پبلیکن پارٹی کا صدارتی امیدوار پہلوان بن کر سامنے اترتا ہے تو اس کی مدد کیلئے تخلیقی پہلوان تخلیقی کیسٹوں سے پیدا کئے جاتے ہیں۔ وہ مخصوص صدارتی امیدوارکی دھمکیوں سے مالش کرتے ہیں۔دھمکیوں کا یہ تخلیقی تیل پہلے الجزیرہ کے عربی چینل سے نیکلوایا جاتا ہے۔پھراس کے بعد دنیا کے تمام چینل اس کی تشہیر کرتے ہیں۔تخلیقی تیل سے مالش کرنے کیلئے تخلیقی پہلوان ۔القاعدہ ، طالبان، حزب اللہ ، فتح اور حماس دھمکیوں کے تیل کی مالش اتنی تیز کرتے ہیں۔ اس سے ان کو اتنا طاقتور بنا دیتے ہیں۔ کہ بے چارہ امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کا صدارتی امیدوار رعب میں آکر شکست کھانے پر مجبورہوجاتا ہے۔
امریکن ری پبلیکن پارٹی کی قیادت کی نگرانی میں جو فنڈ جن جن ملکوں کو دیا جاتا ہے۔ وہاں اس فنڈ سے دھشت گرد ماحول سجائے جاتے ہیں۔ وہاں کوئی دھشت گر د حادثہ ہو ۔ اس کی یہ مذکورہ قیادت اپنے دھمکیوں کے تیل سے مالش کرنے والے ان تخلیقی پہلوانوں سے جوڑ دیتی ہے۔ اور تخلیقی پہلوان ۔۔ان تخلیقی کیسٹوں سے اس کی ذمہ داری بھی قبول کرلیتے ہیں۔ یہ سلسلہ بہت مستعدی سے پوری دنیا میں پھیلتا ہے۔اور پھیلایا جاتا ہے۔ جو گمراہ کن اور شرارت آمیز ہوتا ہے۔ یہ خرافاتی تحریک مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرکے اس کو بدنام کرنے کیلئے بھی ہوتی ہے۔ اب جن ملکوں میں دھشت گردانہ حملے ہورہے ہیں۔ یا جن ملکوں کے سفارت خانوں کو دھشت گرد حملوں کا نشانہ بنایاجارہا ہے۔اگر ان حملوں کو امریکی قیادت القاعدہ ، طالبان ، حزب اللہ ،فتح و حماس سے جوڑتی ہے۔ تو ان کو اس دھشت گردی کا پہلوان بنایا جاتا ہے۔ جو آگے۔ چل کر دھمکیوں کے تیل سے مذکورہ قیادت کی مالش کرکے وہ ان کو ایسا طاقت ور پہلوان بنادیتے ہیں۔ کہ وہ جس سے اپنے سیاسی حریف ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کو با آسانی شکست دیں سکیں۔
بہرحال افغانستان کے صوبے کابل میں ہندوستانی سفارت خانہ پر حملہ ۔ اس پر حامد کرزائی صاحب کی بیان بازی اور امریکہ کی پاکستان کے متعلق صفائی بیان دیں۔ لیکن یہ دھشت گردی کی پھیلاوٹ ہے۔دھمکیوں کے تیل کی مالش کرنے والے تخلیقی پہلوان بہت جلد اس کی ذمہ داری قبول کریں گے۔اس کے بعد ان اسلامی حلیہ مکھوٹوں کو افغانستان کے پہاڑی علاقوں یا پھر پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں روپوش دیکھایا جائے گا۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں امریکہ کی برسرقتدار جماعت کی لیڈرشپ نے اپنے سیاسی فائدے کیلئے حملہ کرنا چاہارہی ہے۔ وہاں حملہ کرتے وقت اس کو ہندوستان کی بھی اجازت دستیاب ہوجائے گی۔
فی الوقت تخلیقی پہلوانوں سے دھمکیوں کے تیل کے مالش اب مسٹر جان میکن صاحب کی کرانے کی تیاریاں کیجارہی ہیں۔ جس سے دھشت گردی کے خلاف چھیڑی ہوئی عالمی جنگ کے ذریعہ وہ امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار مسٹر بارک اوبامہ کو باآسانی شکست دے سکیں۔اسامہ بن لادن نے دھمکیوں کے تیل کی مالش کرکے مسٹر جارج بش صاحب کو دوبار کامیابی سے ہمکنار کرایا تھا۔ اس بار ایسا لگتا ہے۔ کہ ان کی جماعت ۔۔ مسٹر جان میکن کی صرف طالبان کی دھمکیوں کے تیل سے مالش کرانا چاہتی ہیں۔
بہر کیف ۔ پاک ۔افغان کے قبائیلی و پہاڑی علاقوں میں دھمکیوں کی مالش کرنے والے تخلیقی پہلوانوںکو دیکھایا جائے گا۔ ان کو امریکی بمباری کی زد میں لایا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ دھشت گردوں کو شکست دینے والی جنگ امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کو امریکہ میں شکست دے کر کامیاب ہوگی۔ بظاہر یہ حملہ اسلامی حلیہ مکھوٹے طالبان پر ہوگا۔ مگراس سیا سی حملہ کی اصل زد پر مسٹر بارک اوبامہ ہی ہونگے۔جن کواس طرح شکست دینے کی ہرممکن کوشیش کی جائے گی۔ لہذا ۔ مشرف میاں اور کرزائی میاں ۔۔تو مسٹر جارج بش کے تابع ہی ہوں گے۔ وہ یہ ہی چاہیں گے۔ کہ پہاڑی و قبائیلی علاقوں پر حملے ہوں۔ اور جس سے پاکستان وافغانستان کا اور وہاں کے عوام کا جانی و مالی نقصان بھی ہوجائے تو انہیں کوئی پروا نہیں۔مگر دونوں ملکوں (پاک وافغان)کی فکرمند قیادت کو چاہیئے۔ کہ وہ اپنے اپنے ملک اور وہا ں کے عوام کے بچائو کیلئے ابھی سے کوئی تحریک چلائے۔ ورنہ دونوں ملکوں میں امریکہ کے صدارتی الیکشن تک دھشت گردی کی سجاوٹ کی مشق سلسلہ وار طور پر چلتی رہے گی۔ جس میں بے قصور لوگ لقمہء اجل بنتے ہی رہیں گے۔
پاکستان کے وزیر آعظم اور ان کی حکومت کی یہ اخلاقی زمہ داری ہے ۔ کہ وہ سیاسی نوعیت کے ان حالات کو سمجھے۔ان سے موثر طور پر نمٹے ۔ جس سے کہ ہندوپاک اور افغانستان میں خوشحالی ایک نیا دور بحال ہوسکے۔اس خطہ میں پھیلائی دانستہ دھشت گردی کا بھی پرامن خاتمہ ہوجائے۔۔۔یہ کام پاکستان کی جمہوری قیادتوں کو ملکر کرنا چاہیئے۔ یہ ہی وقت کا تقاضہ ہے۔ نہیں تو یہ بڑی طاقتیں اس پورے خطہ کو عراق اور افغانستان مین تبدیل کرکے ہی دم لیں گی۔اس وقت مسٹر جارج بش پر پاکستان کے نئے قائد آعظم میاں نواز شریف اور پاکستان نئے قائد انقلاب میں آصف علی زرداری کا صحیح دبائو کام کر رہا ہے۔پاک اور افغان میں دھشت گرد ماحول سجانے کی و کسی بھی مقام پر حملہ کرنے کی کسی بھی طرح کی اجازت وہا ں کی حکومتوں کی طرف سے امریکن ری پبلیکن پارٹی کو نہیں ملی چاہیئے۔

ایاز محمود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی دہلی


15-07-2008 15:17 Ayaz Mehmood
This entry was posted on 15-07-2008 15:17. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 394    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >