Nov
22
2008
Today

Do you like new look of ATTOCK news website?
Attock
9°C
مشرف کی رخصتی اظہر من التمش PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
بھگوت گیتا نے ایک جملہ کچھ یوں کہا تھا.کہ تمام مخلوق اپنی اپنی فطرت کی راہ پر گامزن ہے.اس کو اسکی فطرت کے الٹ لے جانے کا کیا فائدہ.ایک عالم ادمی بھی اپنی فطرت کے تقاضوں سے مجبور ہے.لیکن خواہشات.پسند ناپسند گھات میں لگی ہوئی ہیں.بھگوت گیتا کا ایک اور جملہ بھی درج زیل کالم سے کافی لگا کھاتا ہے.انہوں نے کہا تھا.اگر تم حق کی خاطر جنگ نہیں کرتے تو سمجھ لو تم نے نیکی کا راستہ ترک کردیا.اور تمھارا دامن بھی گناہ سے الودہ ہوگیا.ڈکٹیٹرشپ کا بظاہر توانا اور تناآور گلستان ایک روز پت جھڑ کا یوں نشانہ بنتا ہے.کہ سرسبز و شاداب دکھائی دینے والے پتے جھڑنے لگتے ہیں.ٹہنیاں سوکھ جاتی ہیں.درختوں کے تنے گل سڑ جاتے ہیں.اور پھر چہار سو ایک ویرانہ ہی نظر آتا ہے.لیکن اس چمن کے باغبان اپنا اجاڑ پن دیکھنے کے باوجود بھی ثمرات کی آس میں لرزاں و ترساں رہتے ہیں.اور پھر ایک روز یہ سارا گلستان بے آب و گیاہ صحراوں کا روپ دھار کر ہمیشہ کے لئے قصہ پارینہ بن جاتا ہے.جنرل مشرف کو ابھی تک اس لاہوتی احساس تفاخر نے گھیر رکھا ہے.کہ وہ عوام کے محبوب رہنما ہیں.اور پاکستان کے جمہوری مستقبل کے لئے ان کا کرسی صدارت پر فائز رہنالازم ہے.حالانکہ سچ تو یہ ہے.کہ ان کا زوال روز روشن کی طرح عیاں ہو کر ساون کے اندھے کو نظر ارہا ہے..تاریخ کی عرق ریزی اس سچائی کو الم نشرح کرتی ہے.کہ ڈکٹیٹرز کی گردنوں میں جب زوال کا طوق ڈالا جاتا ہے.تو وہ نہ صرف عوامی حمایت سے تہی داماں ہوجاتے ہیں.بلکہ ان کے قریبی نورتن اور پیادے بھی ایک ایک کرکے انہیں چھوڑ جاتے ہیں.لیکن آمروں کے محلات کا راوی پھر بھی شانتی کی بانسری بجاتا رہتا ہے.پاکستان کے صدر مشرف کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہونے کو ہے.لیکن پھر بھی انہیں انوکھی قسم کی بیماری نے گھیر رکھا ہے.کہ وہ ابھی تک عوام کے مقبول و پسندیدہ لیڈر اور ملکی سلامتی کے لئے گزیر ہیں.جنرل مشرف کو سربرائے سلطنت بنانے والے تمام ساتھی جرنیل انہیں بے یار و مدگار چھوڑ کر یاتو منظر عام سے ہٹ چکے ہیں یا پھر انکے خلاف زہر اگلنے میں مگن ہیں.بارہ اکتوبر99 کو کراچی ایرپورٹ کو ٹیک اور کرکے ریٹائر چیف کو دوبارہ تخت طاوس پر بٹھانے والے تینوں ساتھی جرنیلوں جنرل عثمانی.جنرل محمود اور جنرل عزیز کا آج دور دور تک کو ئی اتہ پتہ نہیں.کہا جاتا ہے.کہ بارہ اکتوبر کو جب شام کے سائے دراز ہونے لگے.تو مشرف کے دونوں باوفا جرنیل جنرل محمود اور جنرل عزیز راولپنڈی کلب میں گالف سے دل لبھا رہے تھے.کہ انہیں ضیاالدین بٹ کو چیف اف آرمی سٹاف مقرر کرنے کی خبر پہنچائی گئی تو دونوں نے اس فیصلے کو پائے حقارت سے نہ صرف رد کر ڈالا.بلکہ اپنے باس مشرف کو حاکم پاکستان کی مسند پر بٹھانے کے لئے جمہوری سرکار کی گوشمالی کا جگرپاش فیصلہ بھی کرڈالا. .دونوں کی کلیرنس کے بعد ہی جنرل عثمانی نے کراچی کے ہوائی اڈے کو یرغمال بنالیا تھا. جہاں موجودہ صدر کو بادشاہ پاکستان کی شکل میں اتارا گیا.سابق کور کمانڈر پنڈی اور سابق چیرمین سٹیل مل جنرل جمشید گلزار کیانی اور جنرل عبدالقیوم اپنی سروس کے دوران جنرل مشرف کی مدح سرائی کا کوئی چانس مس نہیں کرتے تھے.لیکن آج دونوں ہی سابق باس کے خلاف زہر افشاں ہیں. جنرل قیوم نے قوم کو سٹیل مل سیکنڈل کے حوالے سے کئی سربستہ کہانیوں سے آگاہ کیا ہے.جنرل(ر) کیانی طیارہ سازش کیس کو من گھڑت قرار دے چکے ہیں.جنرل احتشام ضمیر کو ریفرنڈم کا تخلیق کار اور ق لیگ کا انجینیر کہا جاتا ہے.انہوں نے حال ہی میں طلسم ہوشربا قسم کی داستانیں سنا کر مشرف کو کافی رنجیدہ کیا ہے. .جنرل(ر) معین الدین صدر کے پانچ پیاروں میں شامل تھے.وہ وزارت داخلہ کے تخت پر فروکش رہے.انہوں نے بھی صدر کے خلاف گولے برسانے کا محاز خوب گرم کیا ہوا ہے.اس پر مستزاد یہ کہ ریٹائر فوجی افسران اور عسکری ملازمین کی تنظیم ایکس سروس مینز نے تو سب کو مات دے دی.کیونکہ اس تنظیم کے سرخیل نہ صرف صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے لئے زمین و اسمان کے قلابے ملانے میں غلطاں ہیں بلکہ وہ صدر کی صدارت کو ملکی سلامتی کے لئے خطرات کی بارش سے تشبیہہ دے رہے ہیں.مخالفانہ میزائل خوری کے اس ہیجان انگیز دور میں پیروکاران مشرف غائب جبکہ مخالف ایک ہی پرچم تلے اکٹھے ہوکر انکی ایوان صدر سے بے دخلی کے یک نکاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں.قرائن سے صاف نظر ارہا ہے.کہ موجودہ حالات صدر کے لئے کافی بے قراری و مایوسی کا سامان لئے ہوئے ہیں.اقتدار کی نکیل انکے ہاتھوں سے نکل رہی ہے.لیکن وہ زمینی حقائق کا فلسفہ سمجھنے میں ناکام ہوچکے ہیں.وہ یہ سمجھتے ہیں.کہ ملک کی کوئی سیاسی پارٹی انکے اقتدار کے جوف جہنم کا ایندھن بھرنے کا کام کرتی ہے.یا نہیں لیکن وہ اپنے دنیاوی دیوتا امریکہ پر تکیہ کئے ہوئے ہیں ہیں کہ وائٹ ہاوس انکی پشت پر ہے.اور امریکی ہی انکے ڈولتے ڈوبتے جہاز کو تابہ ساحل بنانے کے لئے مددگار ثابت ہونگے.دوسری جانب پی پی پر صدر مشرف کو سپورٹ کرنے کی باز گشت بھی زور شور سے میڈیا کی زیبائش کا اہتمام کررہی ہے.اس ضمن میں پی پی کی عوامی مقبولیت کے گراف کو بھی دھچکا لگا ہے.پی پی اور ن لیگ کا مخلوط اتحاد بھی مشرف کے مستقبل اور معزول ججز کی بحالی کے ضمن میں ڈانوا ںڈول ہے.لیکن سچ تو یہ ہے کہ پی پی مخالف دانشور اس معاملے پر چاہے.کتنے ہی دلائل کا انبار لگا دیں.زرداری کو مرید مشرف ثابت کرنے کے لئے چاہے کتنا ہی زور کیوں نہ لگا لیں.لیکن سچ تو یہ ہے کہ پی پی بھی مشرف کو ایوان صدر سے نکالنے کے لئے مناسب وقت کا انتظار کررہی ہے.کیونکہ پی پی قیادت کے دلوں میں اس امید کا بسیرا ہے کہ کوئی جیالاہی ایوان صدر کی کرسی پر براجمان ہوگا.اس وقت مشرف جن حالات سے دوچار ہیں.وہ انکے اپنے کرتوتوں اور کمالات کا پیش خیمہ ہیں.ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ انکی رخصتی کا موسم شروع ہوچکا ہے..کیونکہ روز بروز زوال کا گھیرا انکے گرد تنگ ہوتاجا رہا ہے.اور ہر انے والا دن انکے لئے مشکلات کی سوغات لا رہا ہے.دانالوگ درست کہتے ہیں.کہ خدا کہ لاٹھی بے آواز ہوتی ہے.فطرت یزداں کے ہاں دیر تو ہوتی ہے.مگر اندھیر نہیں.یہ مذاق نہیں بلکہ حقیقت ہے.کہ جس روز انہوں نے ق لیگ کی شعبدہ بازی دکھائی.اور امریکہ کی خودشنودی کے لئے فاٹا میں اپنے ہم وطنوں کے خون کے دریا بہا دئیی.اور وہ دن جب مشرف کی جنبش ابرو پر لال مسجد کے درو دیوار کو معصوم طلبہ و سوختہ بخت طالبات کے خون نا حق سے رنگین کیا گیا.بلا شبہ انہی دنوں میں انکے زوال کا افتتاح ہوگیا تھا.مشرف پانچ سال ق لیگ کے لاغر ڈھانچے کو کندھا دیتے رہے.لیکن ق لیگ کے پجاری روشن خیالی اور مشرف کے ایجنڈے کے حق میں وسیع عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہوئے.مشرف نے ق کا ہوا کھڑا کرنے سے قبل تاریخ کے اس درس کو فراموش کردیا.کہ ق کوئی جماعت نہیں بلکہ لوٹ کھسوٹ کرنے والے سیاسی ماہرین کا ایک ٹولہ ہے. جو اقتدار پرستی کی دھن میں ق کا پروانہ ٹھہرا تھا. ویسے بھی یاد رکھنا چاہے کہ ریاستی قوت کے بل بوتے.اور ایجنسیوں کی کتربیونیت کے سہارے بنائی جانے والی لیگوں کا انجام ہمیشہ ہی ریپبلکن اور کنونشنل لیگ کی طرح ہوتا ہے.اور وہ دن دور نہیں جب ق لیگ کی باقیات بھی ماضی کے قبرستانوں میں ہمیشہ کے لئے درگور ہوجائیں گی.مشرف کے موجودہ اتحادی اور مشیر عقل و خرد سے عاری نظر اتے ہیں.کیونکہ وہ امریکہ کی حمایت سے مشرف کی حکمرانی کو طوالت دینے کا خواب دیکھ رہے ہیں.امریکہ طوطا چشم ہے.امریکہ تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک میں ڈکٹیٹرشپ کا ڈنکا بجا کر اپنا الو سیدہ کرتا ہے.اور پھر دانا و زہین مجرم کی طرح اپنے سیاہ کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے امریکی فسادی اپنے حلیف ڈکٹیٹروں کو پھائے لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے.امریکہ کے یہودی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ایک دفعہ صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے ایک جملہ کہا تھا جو بعد میں تاریخ کے ماتھے پر پتھرا گیا.america alleys are more dangerous than enemies.امریکہ کے لئے اسکے دوست مخالفین سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں.اس وقت اس امر کی سخت ضروت ہے.کہ مشرف بھگوت گیتا کہ جملے کے تناظر میں فطرت کی راہ میں روڑے بچھانے سے گریز کریں.انکے ہواس باختہ قسم کے بیانات کی چاند ماری سے انکی اقتدار پرستی کی خواہش کا اظہار بھی ہوتا ہے.لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیی.کہ فطرت کے قوانین کے برعکس چلنے والے ہمیشہ منہ کے بل گرتے ہیں. انہیں یاد رکھنا چاہیی.کہ جوں جوں وقت گزر رہا ہے.محفوظ اور باعزت واپسی کی تمام راہیں مسدود ہورہی ہیں.انہیں فوری طور پر مستعفی ہوکر جمہوریت کی خدمت کرنی چاہیی. پاک فوج کے وہ تمام جرنیل اور ریٹائر فوجی جو اس وقت لٹھ لیکر صدر کا تعاقب کررہے ہیں.کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیی.کہ جب تک وہ دعوت شیراز کی بجائے شاہی نعمت خواناں سے لطف اندوز ہوتے رہے.تو انکی زبان پر خاموشی کا پہرہ رہا.پاک فوج کے حاظر سروس کمانڈروں اور بیوروکریسی کے علم برداروں کو بھگوت گیتا کے محولابالہ جملے کے تناظر میں ایک پوائنٹ ضرور یاد رکھنا چاہیی.کہ وہ چاہے.وردی میں ہوں یا وردی کے بغیر مزہ تو تب ہے کہ.وہ اسی وقت جہاد کا علم لہرا دیں.جب برائی کا آغاز ہو.مشر ف مخالف ریٹائر عسکری افسروں کی موجودہ کاوشیں تالیف قلب ہیں.کیونکہ انہوں نے پاک فوج کی سیاست میں دخل اندازی کو ملکی سلامتی کے لئے مضر قرار دیا ہے.جس پر یہ کہنا درست ہے.کہ دیر آید درست آید.لیکن اگر وہ اپنی سروس کے دوران ہی اس مہم کا آغاز کرتے.تو آج انکی موجودہ حشمت کو مذید چار چاند لگ جاتے.اور شائد دور مشرف بھی اختتام پزیر ہوتا.



15-07-2008 16:12 Rauf Amir
This entry was posted on 15-07-2008 16:12. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 1313    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >