| سبق آموز |
|
|
|
چارلس
بکوسکی کے حالات زندگی اور اس کا آخری افسانہ پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے
پر پہنچا کہ اگرہر حکمران اس کا یہ آخری افسانہ فریم کروا کر اپنے محل کی
دیواروں پر لٹکالے اور ہر صبح اُٹھ کر اسے پڑھے تواُسے کبھی رسوائی کے
دروازے سے اقتدار چھوڑ کر نہ نکالنا پڑے ۔
میرے لیے چارلس کی حالات زندگی اور اس کا سبق آموز افسانہ پڑھنے کا محرک اس کا ایک جملہ بنا ۔
مجھے ایسا لگا کہ چارلس نے یہ جملہ ہمارے یہاں کہ ۱۸ فروری کے انتخابات بعد کے حا لات کا بھر پور تجزیہ کرنے کے بعد لکھے ہیں لیکن کتاب کے کونے میں تاریخ اشاعت دیکھ کر میرے یہ غلط فہمی دور ہوئی کہ یہ کتاب پندرہ سال پرانی تھی ۔
میں اس کتاب کو کئی بار پڑھ چکا ہوں یہ بنیادی طور پر عظیم ترین دانشوروں کے اقوال اور حکایات پر مبنی ایک کتاب ہے ۔
اس کتاب کا نام ہے’’ دی گریٹ ورڈز‘‘ ۔
اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں عظیم فلسفیوں او ر دانشوروں کے اقوال ایک ایسے آئینے کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں جس میں آپ اپنی معاشرتی خرابیوں کا تمام تر بھدا پن بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔
آپکو اس کتاب میںاعلی ترین لباس میں ملبوس وہ وحشی بھی دکھائی دینگے جنکی خوش لباسی انسان کی کھال سے تیار کردہ دھاگوں کے مرہون منت ہے ۔ اور اس کتاب میں آپکو وہ ذخیرہ اندوز بھی نظر آئیں گے جن کے رزق کی برکت قلتوں ، بحرانوں اور قحطوں سے ہوتی ہے۔
آپکو اس کتاب میں جھوٹ کی ڈگڈگی بجاتے ہوئے اور اس ڈگڈگی کے لے میں احمق عوام بندر کی طرح ناچتے ہوئے بھی نظر آئیںگے۔
غرض اس کتاب کا ایک ایک جملہ ہماری کہانی بیان کرتا ہے ۔ چارلس بکوسکی کا یہ جملہ بھی ہماری ایک تازہ کہانی ہے ۔
چارلسس بکوسکی کا کہنا ہے کہ ۔’’ جمہوریت اور آمریت میں بس اتنا فرق ہے کہ جمہوریت میں حکمران پہلے ووٹ لیتے ہیں بعد میں حکم دیتے ہیں اور آمریت میں آپ ووٹ ڈالنے کی زحمت اور اس میں وقت ضایع کرنے سے بچ جاتے ہیں‘‘۔
آپ چارلس کے اس جملے کو ۱۸ فروری سے قبل کی حکومت اور اس کے بعد کی جمہوریت پر پرکھ کر دیکھ لیں ۔ آپ خود اس جملے کی صحت کے قائل ہوجائیں گے ۔ اور آپکو موجودہ اور سابقہ حکومت بس اتنا فرق نظر آئے گا کہ سابقہ حکومت مشرف صاحب کی اپنی ایجاد تھی اور موجودہ حکومت کو عوام نے اپنے ووٹوں سے منتخب کیا ہے ۔
رہ گئی بات پالیسیوں کی تو پالیسیاں ساری سابقہ ہی ہیں۔ بس فیصلوں کا مقام بدل گیا ہے ۔ پہلے فیصلے آرمی ہاوٗس میں ہوتے تھے اب زرداری ہا وس میں ہوتے ہیںاو رپہلے کی طرح ہماری پارلیمنٹ آج بھی یک شخصی محور پر طواف کر رہی ہے اور ان تمام وعدوں پرفراموشی کی اوس پڑ چکی ہے جو انتخاب سے قبل عوام سے کیے گئے تھے ۔ اور اب حال یہ ہے کہ عوام مسائل کا فوری حل چاہتے ہیں اور حکومت اپنے وعدے ایفا کرنے سے قاصر ہے ۔ اس حال میں موجودہ حکومت کے لیے چارلس کے افسانے میں ایک بہت بڑا سبق ہے لیکن اس افسانے کو بیان کرنے سے پہلے میں چاہوں گا کی آپ چارلس کے بارے میں کچھ جان لیں۔
چارلس کا پورا نام ہینری چارلس بکوسکی تھا ۔ یہ ۱۶ اگست ۱۹۲۰میں جرمنی میں پیدا ہوا لیکن ۱۹۲۳میںپہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں جرمن معیشت کے انہدام کے بعد اسکے خاندان نے امریکہ کی ریاست میری لینڈ میں بود با ش اختیار کرلی اُس وقت چارلس کی عمر صرف تین سال تھی لیکن اُسکی زہانت قابل تعجب تھی اس لیے اُسکے والدین نے جلد ہی اُسے ریاست میری لینڈ کے ایک سرکاری اسکول داخل کروادیا یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں لگے اپنے گھاوٗ چاٹ رہی تھی ایک دن اسکول کے آرٹ کے ٹیچر نے بچوں سے پوچھا کے دنیا کے حسن کے ان گولے بارود اور آگ سے کیسے بچایا جائے ۔ بچوں نے مختلف جواب دیے جیسے بچوں کے جواب ہوتے ہیں ۔
لیکن چارلس کا جواب ایک بچے کا جواب نہ تھا ۔ اس کے جواب نے آرٹ ٹیچر کو چونکنے پر مجبور کر دیا ۔ چارلس نے کہا
’’نظام انصاف سے ! ! !‘‘
ٹیچر نے حیرت سے پوچھا ۔ کیا ۔ ؟؟؟۔
چارلس نے معصومیت سے اپنے جواب کو دہرایا ۔ سر دنیا کے حسن کو غارت کرنا ایک جرم ہے اور جرم کو عدل ہی سے روکا جاسکتا ہے دنیا میں جب تک آزاد عدالت نہیں ہوگی تب تک امن نہیں ہوگا ۔ چار سالہ چارلس کے اس جواب نے اُسکے ٹیچر کی پیشانی پر حیرت کے بل ڈال دیے اور اُس نے بے ساختہ چارلس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئی کہا ۔ تم ایک دن عظیم دانشور بنو گے ۔ چارلس کے ٹیچر کی یہ پیشن گوئی بعد میں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی ۔ صرف ۱۰ سال کی عمر میں وہ اپنے اسکول کے بچوں کے میگزین میں افسانے لکھنے لگا اسکے بعد قلم اُسکی اُنگلیوں سے ایسے چپکا کہ پھر کبھی الگ نہ ہوسکا اور لاس ا ینجلس ہائی اسکول سے گریجویٹ کرنے تک وہ ایک کہنہ مشک شاعر اور ناول نگار بن چکا تھا لیکن اُسکی الگ تھلگ رہنے اور شہرت سے دور رہنے کی عادت نے کافی عرصے تک اُسکے نام اور کام پر گمنامی کا پردہ ڈالے رکھا اُسکے دوستوں کے مطابق وہ ایک شرمیلا نوجوان تھا اور شہرت سے نفرت کرتا تھا ۔ چارلس قلم کو پیشہ نہیں بنانا چاہتا تھا اس لیے اس نے لاس اینجلس کے ایک معمولی سے پوسٹ آفس میں کلرک کی نوکری شروع کردی اس دوران وہ مسلسل نظمیں اور افسانے بھی لکھتا رہا لیکن وہ جتنا لکھتا ذیادہ تر اُسکی ذاتی ڈائری تک ہی محدود رہتا لیکن ایک دن چارلس کے جگری دورست الینگور نے اسکی وہ ڈائری چرالی اور اسکی چند نظمیں ’’آوٹ سائڈر ‘‘ نامی ایک ادبی میگزین میں بھیج دیں ۔ میگزین نے فورا ّ وہ تمام نظمیں شایع کردیں اور یوں چارلس کا نام طشت ازبام ہوگیا اور اس کے بعد کئی پبلیشرز نے چارلس سے رابطہ کرکے اُسے لکھنے کی فرمائیش شروع کردی یوں چارلس کا بطور شاعر اور افسانہ نویس کیرئیرشروع ہوگیا ۔ اور اُسکا قلم سونا اُگلنے لگا اور اس نے ہزاروں نظمیں لکھ ڈالیں اور اس کی سکیڑوں مختصر کہانیاں زبان زد عام ہوگئیں ۷۰ کے عشرے کے آخر تک اُسکے چھ ناول تخلیق کی منزل طے کرچکے تھے اور تقریبا ایک سو دس کتابیں زیر طباعت تھیں اور ۸۰ کے عشرے تک امریکہ کے صف اول کے افسانہ نگاروں اور شاعروں میں اُسکا شمار کیا جانے لگا ۔ یوں تو چارلس کے قلم نے کئی شاہکار تخلیق کیے تھے لیکن اُسکا آخری افسانہ اُسکی تما م تخلیقات پر بھاری ہے ۔ چارلس نے یہ افسانہ ۹ مارچ ۱۹۹۴ کو لکھا اور اسی شام وہ انتقال کرگیا ۔
یہ افسانہ اُ س نے اپنی زاتی ڈائری میں لکھا تھا ۔ اور ساتھ یہ یہ نوٹ لکھا تھا کہ میرے مرنے کے بعد اسے شایع نہ کیا جائے ۔ کیونکہ موت کے بعد اب کوئی شہرت میرے کس کام کی ؟؟
اس کے بعد وہ اپنا افسانہ شروع کرتا ہے ۔ اس افسانے کا نام ہے ۔ ’’میجک اسٹک ‘‘ یعنی
’’جادو کی چھڑی ‘‘ اس افسانے کا مرکزی کردار یونان کے ایک شعبدہ باز نوجوان ’’میکس ‘‘کے گرد گھومتا ہے جو یونان کی عوام کو اپنی پھلددار (نوکیلی)جادوئی چھڑی سے چھوٹے موٹے کرتب دکھا کر یہ باور کراتا ہے کہ اگر اسے اقتدار ملا تو وہ اپنی جادو کی چھڑی سے یونان کی عوام کے ہر مسئلہ حل کردے گا ۔ یوناں کی احمق عوام اُسکے جھانسے میں آجاتی ہے اور ایک دن وہ اپنے بادشاہ کے خلاف بغاوت کرکے اس کا تختہ اُلٹ دیتی ہے ۔ اور یوں اقتدار میکس کے پاس آجاتا ہے ۔ یہاں سے میکس کی بد قسمتی شروع ہوتی ہے کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ اپنی ذہانت اور انتظامی صلاحیت سے یونان کے تمام مسائل حل کردے گا لیکن عوام اُسکی جادوئی چھڑی کی وجہ سے اُس سے عجیب عجیب فرمائیشیں کرنے لگے کبھی وہ اُس سے سمندر کو سونا بنانے کا کہتے تو کبھی پہاڑوں کو چاندی میں بدلنے کی فرمائیش کرتے ۔ چھوٹے موٹے کرتب دکھانے والی جادو کی چھڑی یہ تمام کام کرنے سے عاجز تھی ۔ نیتجتاّ عوام نے جب یہ دیکھا کہ بادشاہ اُن کے کسی کام کا نہیں اور اُس نے ان سے جھوٹ بولا ہے تو ایک دن میکس کے خلاف بھی بغاوت ہوئی اور ایک دن کسی نے اُس کی جادوئی چھڑی اُس کے پیٹ میں گھونپ کر اُسکا کام تمام کر دیا اور یونان کے عوام بادشاہ سے نجات پا کر خوشیاں منانے لگے ۔
افسانے کے آخر میں چارلس لکھتا ہے کہ ہر حکمران کو ایسی جادو کی چھڑی سے گریز کرنا چاہیے جو بعد میں اُس کے پیٹ کو چاک کرنے کا سبب بن جائے ۔
یہ جادو کی چھڑی وہ وعدے اور داعوے ہوتے ہیں جو انسان اقتدار حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے ۔ لیکن جب وہ ان وعدوں کی تکمیل سے قاصر ہوجاتا ہے تو پھر یہی وعدے پھلددار چھڑی بن کر اُس کا کام تمام کر دیتے ہیں۔
چارلس بکوسکی کا یہ مختصر افسانہ پڑھنے کے بعد اُسکی جادو کی وہ پھلدار چھڑی میرے دماغ میں پیوست ہوکر رہ گئی ہے اور مجھے موجودہ حکومت اور میکس کی حکومت میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ یونان کے میکس کی طرح موجودہ حکمرانوں نے بھی ۱۸ فروری سے قبل زخم خوردہ عوام کو اپنے نعروں ، منشوروں اور وعدوں کی جادوئی چھڑی سے یہ باور کروایا تھا کہ اگر انہیں اقتدار ملا تو وہ ان کے تمام مسائل حل کردیں گے ۔ وہ انہیں روٹی کپڑا اور مکان دیں گے ۔ وہ آٹے ، بجلی کے بحران کو ختم کر دیں گے اور زخیرہ اندوزوں کو اُلٹا لٹکا دیں گے ۔ وہ تین نومبر کے اقدامات کو مسترد کر کے عدلیہ کو بحال کر دیں گے ۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد میکس کی طرح موجودہ حکومت بھی وہ تمام کام کرنے سے عاجز نظر آتی ہے جس کا اس نے وعدہ کیا تھا ۔
اور آج مہنگائی ،لوڈ شیڈنگ ، آٹے کا بحران ۔پیٹرول کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ سمیت عوام کے تمام مسائل جوں کہ توں موجود ہیں بلکہ ان میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ، آزاد عدلیہ سے مرکزی حکمران جماعت کو الرجی ہے اس لیے اس کی بحالی ناممکنات میں سے ہے جبکہ زخیرہ اندوزی کا عالم یہ ہے کہ رمضان سے پہلے چینی کے مصنوعی بحران کا خدشہ ایک دفعہ پھر پیدا ہوگیا ہے ۔
دو دن پہلے بجلی پانی کے وزیر راجہ پرویز اشرف یہ نوید سنا چکے ہیں کہ عوام بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار رہے ۔ جبکہ اس سے پہلے وزریر خارجہ شاہ محمود قریشی یہ دلچسپ لطیفہ سنا چکے ہیں کہ گیس کی قیمتوں کے بڑھنے سے ۹۱ فیصد عوام متاثر نہیں ہونگے ۔ اس طرح کے لطیفوں اور نویدوں سے عوام عاجز آگئے ہیں۔ اور حکمرانوں پر سے اُن کا بھروسہ اُٹھ چکا ہے ۔ اور میکس کی رعایا کی طرح عوام یہ بات سمجھ چکے ہیںکے موجودہ حکمران اُن کے کسی کام کے نہیں۔
اس لیے موجودہ حکران اتحاد کو چاہیے کہ جلد از جلد عوام کے مسائل کو حل کرنے کی جانب توجہ کرے اور اپنے وعدے پورے کرے ۔ اگر موجودہ حکومت نے اپنا عملی اور فکری جمود نہیں توڑا تو پھر وہ وقت دور نہیں کہ پھر کوئی موقع شناس ان کے وعدوں ، نعروںاور منشور کی پھلدار چھڑیاں ان کے اقتدار میں سینے میں اُتار کر ان کا کام تمام کردے اور انہیں زندان میں ڈال دے یا جال وطن کردے اور دوسری جانب عوام ایک دفعہ پھر مٹھائیاںبانٹتے ہوئے نظر آئیں۔
میرا خیال میں موجودہ حکومت کے لیے یہ افسانہ بڑا سبق آموز ہے ۔
میرے لیے چارلس کی حالات زندگی اور اس کا سبق آموز افسانہ پڑھنے کا محرک اس کا ایک جملہ بنا ۔
مجھے ایسا لگا کہ چارلس نے یہ جملہ ہمارے یہاں کہ ۱۸ فروری کے انتخابات بعد کے حا لات کا بھر پور تجزیہ کرنے کے بعد لکھے ہیں لیکن کتاب کے کونے میں تاریخ اشاعت دیکھ کر میرے یہ غلط فہمی دور ہوئی کہ یہ کتاب پندرہ سال پرانی تھی ۔
میں اس کتاب کو کئی بار پڑھ چکا ہوں یہ بنیادی طور پر عظیم ترین دانشوروں کے اقوال اور حکایات پر مبنی ایک کتاب ہے ۔
اس کتاب کا نام ہے’’ دی گریٹ ورڈز‘‘ ۔
اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں عظیم فلسفیوں او ر دانشوروں کے اقوال ایک ایسے آئینے کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں جس میں آپ اپنی معاشرتی خرابیوں کا تمام تر بھدا پن بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔
آپکو اس کتاب میںاعلی ترین لباس میں ملبوس وہ وحشی بھی دکھائی دینگے جنکی خوش لباسی انسان کی کھال سے تیار کردہ دھاگوں کے مرہون منت ہے ۔ اور اس کتاب میں آپکو وہ ذخیرہ اندوز بھی نظر آئیں گے جن کے رزق کی برکت قلتوں ، بحرانوں اور قحطوں سے ہوتی ہے۔
آپکو اس کتاب میں جھوٹ کی ڈگڈگی بجاتے ہوئے اور اس ڈگڈگی کے لے میں احمق عوام بندر کی طرح ناچتے ہوئے بھی نظر آئیںگے۔
غرض اس کتاب کا ایک ایک جملہ ہماری کہانی بیان کرتا ہے ۔ چارلس بکوسکی کا یہ جملہ بھی ہماری ایک تازہ کہانی ہے ۔
چارلسس بکوسکی کا کہنا ہے کہ ۔’’ جمہوریت اور آمریت میں بس اتنا فرق ہے کہ جمہوریت میں حکمران پہلے ووٹ لیتے ہیں بعد میں حکم دیتے ہیں اور آمریت میں آپ ووٹ ڈالنے کی زحمت اور اس میں وقت ضایع کرنے سے بچ جاتے ہیں‘‘۔
آپ چارلس کے اس جملے کو ۱۸ فروری سے قبل کی حکومت اور اس کے بعد کی جمہوریت پر پرکھ کر دیکھ لیں ۔ آپ خود اس جملے کی صحت کے قائل ہوجائیں گے ۔ اور آپکو موجودہ اور سابقہ حکومت بس اتنا فرق نظر آئے گا کہ سابقہ حکومت مشرف صاحب کی اپنی ایجاد تھی اور موجودہ حکومت کو عوام نے اپنے ووٹوں سے منتخب کیا ہے ۔
رہ گئی بات پالیسیوں کی تو پالیسیاں ساری سابقہ ہی ہیں۔ بس فیصلوں کا مقام بدل گیا ہے ۔ پہلے فیصلے آرمی ہاوٗس میں ہوتے تھے اب زرداری ہا وس میں ہوتے ہیںاو رپہلے کی طرح ہماری پارلیمنٹ آج بھی یک شخصی محور پر طواف کر رہی ہے اور ان تمام وعدوں پرفراموشی کی اوس پڑ چکی ہے جو انتخاب سے قبل عوام سے کیے گئے تھے ۔ اور اب حال یہ ہے کہ عوام مسائل کا فوری حل چاہتے ہیں اور حکومت اپنے وعدے ایفا کرنے سے قاصر ہے ۔ اس حال میں موجودہ حکومت کے لیے چارلس کے افسانے میں ایک بہت بڑا سبق ہے لیکن اس افسانے کو بیان کرنے سے پہلے میں چاہوں گا کی آپ چارلس کے بارے میں کچھ جان لیں۔
چارلس کا پورا نام ہینری چارلس بکوسکی تھا ۔ یہ ۱۶ اگست ۱۹۲۰میں جرمنی میں پیدا ہوا لیکن ۱۹۲۳میںپہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں جرمن معیشت کے انہدام کے بعد اسکے خاندان نے امریکہ کی ریاست میری لینڈ میں بود با ش اختیار کرلی اُس وقت چارلس کی عمر صرف تین سال تھی لیکن اُسکی زہانت قابل تعجب تھی اس لیے اُسکے والدین نے جلد ہی اُسے ریاست میری لینڈ کے ایک سرکاری اسکول داخل کروادیا یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں لگے اپنے گھاوٗ چاٹ رہی تھی ایک دن اسکول کے آرٹ کے ٹیچر نے بچوں سے پوچھا کے دنیا کے حسن کے ان گولے بارود اور آگ سے کیسے بچایا جائے ۔ بچوں نے مختلف جواب دیے جیسے بچوں کے جواب ہوتے ہیں ۔
لیکن چارلس کا جواب ایک بچے کا جواب نہ تھا ۔ اس کے جواب نے آرٹ ٹیچر کو چونکنے پر مجبور کر دیا ۔ چارلس نے کہا
’’نظام انصاف سے ! ! !‘‘
ٹیچر نے حیرت سے پوچھا ۔ کیا ۔ ؟؟؟۔
چارلس نے معصومیت سے اپنے جواب کو دہرایا ۔ سر دنیا کے حسن کو غارت کرنا ایک جرم ہے اور جرم کو عدل ہی سے روکا جاسکتا ہے دنیا میں جب تک آزاد عدالت نہیں ہوگی تب تک امن نہیں ہوگا ۔ چار سالہ چارلس کے اس جواب نے اُسکے ٹیچر کی پیشانی پر حیرت کے بل ڈال دیے اور اُس نے بے ساختہ چارلس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئی کہا ۔ تم ایک دن عظیم دانشور بنو گے ۔ چارلس کے ٹیچر کی یہ پیشن گوئی بعد میں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی ۔ صرف ۱۰ سال کی عمر میں وہ اپنے اسکول کے بچوں کے میگزین میں افسانے لکھنے لگا اسکے بعد قلم اُسکی اُنگلیوں سے ایسے چپکا کہ پھر کبھی الگ نہ ہوسکا اور لاس ا ینجلس ہائی اسکول سے گریجویٹ کرنے تک وہ ایک کہنہ مشک شاعر اور ناول نگار بن چکا تھا لیکن اُسکی الگ تھلگ رہنے اور شہرت سے دور رہنے کی عادت نے کافی عرصے تک اُسکے نام اور کام پر گمنامی کا پردہ ڈالے رکھا اُسکے دوستوں کے مطابق وہ ایک شرمیلا نوجوان تھا اور شہرت سے نفرت کرتا تھا ۔ چارلس قلم کو پیشہ نہیں بنانا چاہتا تھا اس لیے اس نے لاس اینجلس کے ایک معمولی سے پوسٹ آفس میں کلرک کی نوکری شروع کردی اس دوران وہ مسلسل نظمیں اور افسانے بھی لکھتا رہا لیکن وہ جتنا لکھتا ذیادہ تر اُسکی ذاتی ڈائری تک ہی محدود رہتا لیکن ایک دن چارلس کے جگری دورست الینگور نے اسکی وہ ڈائری چرالی اور اسکی چند نظمیں ’’آوٹ سائڈر ‘‘ نامی ایک ادبی میگزین میں بھیج دیں ۔ میگزین نے فورا ّ وہ تمام نظمیں شایع کردیں اور یوں چارلس کا نام طشت ازبام ہوگیا اور اس کے بعد کئی پبلیشرز نے چارلس سے رابطہ کرکے اُسے لکھنے کی فرمائیش شروع کردی یوں چارلس کا بطور شاعر اور افسانہ نویس کیرئیرشروع ہوگیا ۔ اور اُسکا قلم سونا اُگلنے لگا اور اس نے ہزاروں نظمیں لکھ ڈالیں اور اس کی سکیڑوں مختصر کہانیاں زبان زد عام ہوگئیں ۷۰ کے عشرے کے آخر تک اُسکے چھ ناول تخلیق کی منزل طے کرچکے تھے اور تقریبا ایک سو دس کتابیں زیر طباعت تھیں اور ۸۰ کے عشرے تک امریکہ کے صف اول کے افسانہ نگاروں اور شاعروں میں اُسکا شمار کیا جانے لگا ۔ یوں تو چارلس کے قلم نے کئی شاہکار تخلیق کیے تھے لیکن اُسکا آخری افسانہ اُسکی تما م تخلیقات پر بھاری ہے ۔ چارلس نے یہ افسانہ ۹ مارچ ۱۹۹۴ کو لکھا اور اسی شام وہ انتقال کرگیا ۔
یہ افسانہ اُ س نے اپنی زاتی ڈائری میں لکھا تھا ۔ اور ساتھ یہ یہ نوٹ لکھا تھا کہ میرے مرنے کے بعد اسے شایع نہ کیا جائے ۔ کیونکہ موت کے بعد اب کوئی شہرت میرے کس کام کی ؟؟
اس کے بعد وہ اپنا افسانہ شروع کرتا ہے ۔ اس افسانے کا نام ہے ۔ ’’میجک اسٹک ‘‘ یعنی
’’جادو کی چھڑی ‘‘ اس افسانے کا مرکزی کردار یونان کے ایک شعبدہ باز نوجوان ’’میکس ‘‘کے گرد گھومتا ہے جو یونان کی عوام کو اپنی پھلددار (نوکیلی)جادوئی چھڑی سے چھوٹے موٹے کرتب دکھا کر یہ باور کراتا ہے کہ اگر اسے اقتدار ملا تو وہ اپنی جادو کی چھڑی سے یونان کی عوام کے ہر مسئلہ حل کردے گا ۔ یوناں کی احمق عوام اُسکے جھانسے میں آجاتی ہے اور ایک دن وہ اپنے بادشاہ کے خلاف بغاوت کرکے اس کا تختہ اُلٹ دیتی ہے ۔ اور یوں اقتدار میکس کے پاس آجاتا ہے ۔ یہاں سے میکس کی بد قسمتی شروع ہوتی ہے کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ اپنی ذہانت اور انتظامی صلاحیت سے یونان کے تمام مسائل حل کردے گا لیکن عوام اُسکی جادوئی چھڑی کی وجہ سے اُس سے عجیب عجیب فرمائیشیں کرنے لگے کبھی وہ اُس سے سمندر کو سونا بنانے کا کہتے تو کبھی پہاڑوں کو چاندی میں بدلنے کی فرمائیش کرتے ۔ چھوٹے موٹے کرتب دکھانے والی جادو کی چھڑی یہ تمام کام کرنے سے عاجز تھی ۔ نیتجتاّ عوام نے جب یہ دیکھا کہ بادشاہ اُن کے کسی کام کا نہیں اور اُس نے ان سے جھوٹ بولا ہے تو ایک دن میکس کے خلاف بھی بغاوت ہوئی اور ایک دن کسی نے اُس کی جادوئی چھڑی اُس کے پیٹ میں گھونپ کر اُسکا کام تمام کر دیا اور یونان کے عوام بادشاہ سے نجات پا کر خوشیاں منانے لگے ۔
افسانے کے آخر میں چارلس لکھتا ہے کہ ہر حکمران کو ایسی جادو کی چھڑی سے گریز کرنا چاہیے جو بعد میں اُس کے پیٹ کو چاک کرنے کا سبب بن جائے ۔
یہ جادو کی چھڑی وہ وعدے اور داعوے ہوتے ہیں جو انسان اقتدار حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے ۔ لیکن جب وہ ان وعدوں کی تکمیل سے قاصر ہوجاتا ہے تو پھر یہی وعدے پھلددار چھڑی بن کر اُس کا کام تمام کر دیتے ہیں۔
چارلس بکوسکی کا یہ مختصر افسانہ پڑھنے کے بعد اُسکی جادو کی وہ پھلدار چھڑی میرے دماغ میں پیوست ہوکر رہ گئی ہے اور مجھے موجودہ حکومت اور میکس کی حکومت میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ یونان کے میکس کی طرح موجودہ حکمرانوں نے بھی ۱۸ فروری سے قبل زخم خوردہ عوام کو اپنے نعروں ، منشوروں اور وعدوں کی جادوئی چھڑی سے یہ باور کروایا تھا کہ اگر انہیں اقتدار ملا تو وہ ان کے تمام مسائل حل کردیں گے ۔ وہ انہیں روٹی کپڑا اور مکان دیں گے ۔ وہ آٹے ، بجلی کے بحران کو ختم کر دیں گے اور زخیرہ اندوزوں کو اُلٹا لٹکا دیں گے ۔ وہ تین نومبر کے اقدامات کو مسترد کر کے عدلیہ کو بحال کر دیں گے ۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد میکس کی طرح موجودہ حکومت بھی وہ تمام کام کرنے سے عاجز نظر آتی ہے جس کا اس نے وعدہ کیا تھا ۔
اور آج مہنگائی ،لوڈ شیڈنگ ، آٹے کا بحران ۔پیٹرول کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ سمیت عوام کے تمام مسائل جوں کہ توں موجود ہیں بلکہ ان میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ، آزاد عدلیہ سے مرکزی حکمران جماعت کو الرجی ہے اس لیے اس کی بحالی ناممکنات میں سے ہے جبکہ زخیرہ اندوزی کا عالم یہ ہے کہ رمضان سے پہلے چینی کے مصنوعی بحران کا خدشہ ایک دفعہ پھر پیدا ہوگیا ہے ۔
دو دن پہلے بجلی پانی کے وزیر راجہ پرویز اشرف یہ نوید سنا چکے ہیں کہ عوام بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار رہے ۔ جبکہ اس سے پہلے وزریر خارجہ شاہ محمود قریشی یہ دلچسپ لطیفہ سنا چکے ہیں کہ گیس کی قیمتوں کے بڑھنے سے ۹۱ فیصد عوام متاثر نہیں ہونگے ۔ اس طرح کے لطیفوں اور نویدوں سے عوام عاجز آگئے ہیں۔ اور حکمرانوں پر سے اُن کا بھروسہ اُٹھ چکا ہے ۔ اور میکس کی رعایا کی طرح عوام یہ بات سمجھ چکے ہیںکے موجودہ حکمران اُن کے کسی کام کے نہیں۔
اس لیے موجودہ حکران اتحاد کو چاہیے کہ جلد از جلد عوام کے مسائل کو حل کرنے کی جانب توجہ کرے اور اپنے وعدے پورے کرے ۔ اگر موجودہ حکومت نے اپنا عملی اور فکری جمود نہیں توڑا تو پھر وہ وقت دور نہیں کہ پھر کوئی موقع شناس ان کے وعدوں ، نعروںاور منشور کی پھلدار چھڑیاں ان کے اقتدار میں سینے میں اُتار کر ان کا کام تمام کردے اور انہیں زندان میں ڈال دے یا جال وطن کردے اور دوسری جانب عوام ایک دفعہ پھر مٹھائیاںبانٹتے ہوئے نظر آئیں۔
میرا خیال میں موجودہ حکومت کے لیے یہ افسانہ بڑا سبق آموز ہے ۔
Users' Comments (1) |
|
![]()
21-07-2008 04:05, , Guest Hi, Nice to see u here. but I am not agree with u we will let the Government some time and not to be disoppointed too early any way nice column |
||
|
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 860