حضرت
غوث اعظم کا جملہ ہے.کہ بڑا بدنصیب ہے.وہ شخص جس کے دل میں رب العالمین نے
جانداروں سے محبت کرنے کی عادت نہیں ڈالی.دنیا کی واحد سپرپاور امریکہ کے
صدر بش بھی اس کائنات کے سب سے بڑے بد بخت و بدنصیب شخص ہیں.کیونکہ انہوں
نے وحشیانہ اور ہیبت ناک جنگی قوت کا سہارا لیکر عراق اور افغانستان میں
لاکھوں انسانوں کو فنا کے گھاٹ اتار کر خدائے بزرگ و برتر کے احکامات کو
مسخ کرڈالا.یوں انکا شمار بھی افلاکی کونسل کے قوانین کی رو سے
فرعونوں.ڈکٹیٹروں.چنگیز خانوں کی اس فہرست میں ہوچکا ہے.جو ہمیشہ ہی خدائی
قہر کا نشانہ بنتے ہیں.اور انکا انجام بھی اسی طرح نوشتہ دیوار ہے.جس طرح
دور موسی کے فرعون کا ہوا تھا.کہ وہ غرق سمندر ہوا.اور اسکا نام رہتی دنیا
تک کے لئے تازیانہ عبرت بن گیا. بش کی تعریف یوں کی جائے تو غلط نہ
ہوگا.بش اکیسویں صدی کا وہ فرعون اور درندرہ ہے.جس نے مسلمانوں کے معدنی
وسائل کو ہڑپ کرنے اور انسانوں کا خون نچوڑنے والے نظام imperialism کی
بقا کے لئے لاکھوں انسانوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا. بش اینڈ کمپنی نے
عراق و افغانستان میں وحشت و بربریت کے وہ ریکارڈ قائم کئے کہ حیوانیت اور
ابلیسیت بھی شرما گئی.یوں دہشت گردی کے نام پر خون ریز جنگیں برپا کرنے
والا بش خود قاتل اعظم ہے.جبکہ اس کی پیروکاری کرنے والے مسلم بادشاہ و
حکمران بھی دشمنان انسانیت اور مجرم خدا ہیں.یوں تو نائن الیون کے بعد سے
ہی حق پرست مغربی دانشوروں نے پشین گوئی کردی تھی.کہ بش سرکار دہشت گردی
کا ہوا کھڑا کرکے مڈل ایسٹ کے سونا اگلتے معدنی وسائل کو اپنے تصرف میں
لانے اور اسرائیل کو مشرق وسطی کی سپرپاور بنانے کے لئے عراق پر عسکری
چڑھائی کردے گا.یوں یہ پشین گوئیاں درست ثابت ہوئیں.امریکی فورسز نے عراق
کو اپنا تابع فرمان بنانے کے لئے صدام حسین ایسے نڈر جانباز لیڈر کو دنیا
کے امن کے لئے خطرہ اور خطے میں دہشت گردی کے پھیلاو کا ماہر قرار دیکر
راندہ درگاہ بنایا.امریکی جنگ کے لاہوتی اسباب میں سے صدام حسین کا
القاعدہ سے تعلق.مشرق وسطی میں جمہوریت کا فروغ اور صدام حسین کے کیمیائی
ہتھیاروں کے غیر سروپاالزامات بھی شامل تھے.حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ عراق
ایسے اہم ترین ملک کو کھنڈرات میں بدلنے اور لاکھوں انسانوں کے چیتھڑے
اڑانے والی امریکی فوجیں آج تک نہ تو صدام حسین کے کیمیائی ہتھیاروں کا
پتہ چلا سکیں اور نہ ہی عراق میں جمہوریت کا فروغ اور امن و امان کا قیام
ممکن بنایا جاسکا.امریکی فورسز نے عراق میں اپنے درجنوں فوجی اڈے قائم
کرلئے.تاکہ بش کے دو حیوانی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا
جاسکے.اول..عراق کا تیل کوڑیوں کے بھاو امریکہ کو ملتا رہے.دوم ..عراق کے
امریکی فوجی اڈوںکو استعمال کرکے ایران و شام کے خلاف فوجی شب خون مارا
جائے.عراق دنیا میں تیل پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے.اور عراق میں سے
تیل نکالنے کے لئے امریکی کمپنیوں کو زیادہ اخراجات نہیں کرنے پڑتے کیونکہ
خلیج کے دیگر ممالک کے مقابلے میں عراقی تیل نکالنے کے لئے زمین کی زیادہ
کھودائی نہیں کرنی پڑتی.حال ہی میں عراقی کی امریکن نواز حکومت اور امریکہ
کی تیل سے منسلک چار کمپنیوںexon'shell''total''mobil کے درمیان تیل کی
فروخت کے لئے مزاکرات جاری ہیں.امریکہ کے باضمیر دانشور نوم چومسکی نے حال
ہی میں خلیج ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک ارٹیکل میں بش کے گماشتوں کی
عراقی تیل کی سستے بھاو خرید کرنے کی خواہشات کو طشت ازم کیا ہے.نوم
چومسکی لکھتے ہیں کہ امریکہ کی تیل کمپنیوں اور نور المالکی کے درمیان
ہونے والے مذاکرات سے یہ سچائی آموختہ ہوگئی ہے.کہ امریکہ نے عراق کی تیل
کی دولت ہتھیانے کے لئے صدام حسین کو تختہ مشق بنایا.چومسکی کے بقول
امریکہ اپنی کمپنیوں کو عراق میں وہی رعایات دلانا چاہتا ہے.جو صدام حسین
نے تیل کی صنعت کو قومیانے کے بعد ختم کردیں تھیں.شکسپیر نے کہا تھا کہ ہر
شخص کو دل میں خوف خدا اور اپنے ملک کی بھلائی کا جزبہ رکھنا چاہے.لیکن
عراق کے وزیراعظم نورالمالکی نے عراق کی دولت اور خودمختیاری کو وائٹ ہاوس
میں گروی رکھتے ہوئے پچھلے نومبر میں عراقی عوام کی خواہشات کو روند کر بش
کے ساتھdeclaration of princples نامی معاہدے پر دستخط کئے تھے.اس بنارسی
ٹھگ نامی معاہدے کی رو سے عراق میں طویل عرصہ تک امریکی فوجوں کی موجودگی
اور بغداد میں امریکی و یورپی سفارتخانوں کی تعمیر شامل تھی.امریکہ کا
بغداد میں تعمیر کیا جانے والا سفارت خانہ شہر کے اندر شہر کی شکل رکھتا
ہے.دنیا کے کسی ملک میں ایسے سفارت خانے کی کوئی مثال نہیں ملتی.امریکی یہ
سب کچھ عراق کو چھوڑنے کے نہیں کررہے.اس معاہدے میں عراقی وسائل کی بندر
بانٹ کا اعلامیہ بھی شامل ہے.جسکی رو سے عراقی وسائل کو امریکی سرمایہ
کاری کے لئے کھول دیا جائے گا.حق پرست یورپی تجزیہ نگار اور صحافتی
افلاطون یوں تبصرہ کرتے ہیں کہ ان معاہدوں سے ظاہر ہوگیا ہے.کہ امریکہ نے
عراق پر حملہ ہی یہاں کی دولت کو ہتھیانے کے لئے کیا تھا.اس معاہدے کا
سنجیدہ ترین پہلو اس وقت سامنے ایا جب اسی سال کے شروع میں بش نے امریکی
کانگرس کو دھمکی آمیز پیغام دیا.کہ وہ کانگرس کے ہر اس بل کو ویٹو کردیں
گے.جس میں عراق میں تعمیر کئے جانے والے فوجی اڈوں کو فنڈز فراہم نہ کرنے
اور عراقی تیل سے لاتعلق ہوجانے والا مطالبہ شامل ہوگا.امریکہ میں آجکل
یہ پراپگنڈہ کیا جارہا ہے.کہ عراق میں جارح فوجوں کی مشکلات کا اصل سبب
ایران ہے.امریکی کی کالی ماتا وزیر خارجہ(کنڈولیزا رائس) نے میںعراقی
استحکام کے متعلق اپنے خیالات فاسدہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے.کہ عراق سے
تمام غیر ملکی اسلحہ باہر جانا چاہے.اور عراق میں امن کے لئے ضروری ہے. کہ
بیرونی عناصر بھی واپس چلے جائیں.لیکن کالی ماتا نے امریکی فوجوں کی واپسی
کے متعلق نہ تو کسی شیڈول کا اعلان کیا ہے .اور نہ ہی وہ امریکہ کو جارح
فوج تسلیم کرتی ہیں.امریکہ عراق میں ایرانی عناصر کو تو غیر ملکی اور
انتہاپسندوں کا درجہ دیتا ہے.لیکن وہ خود یہ ماننے پر تیار نہیں کہ امریکہ
ہی دنیا اور مڈل ایسٹ کے دگرگوں حالات کا زمہ دار ہے. بلکہ سچائی تو یہ ہے
.کہ اس وقت امریکہ ہی دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد اور فسادی ہے.بش
انتظامیہ ایک طرف ایران کے جوہری پروگرام کے بارے ہرژہ سرائیاں کرکے حملے
کی دھمکیاں دے رہی ہے.تو دوسری طرف وائٹ ہاوس کے ہرکارے ایران میں حکومتی
تبدیلی کے لئے گوشاں ہیں..امریکی قوم ایران کے متعلق بش سرکار کی جنگی
پالیسیوں کی مخالف اور سفارت کاری سے تمام معاملات کے حل کی متمنی ہے.عراق
میں فوجی مداخلت جنگی جرم ہے.جس پر نوم چومسکی کے بقول انتخابی مہم میں
بھی تزکرہ جرم کے مترادف ہے.انسانی حقوق کی بے محابا ہاہاکار مچانے والے
مغربی ممالک.مسلم دنیا کے حکمرانوں اور اس جہان رنگ و بو کے ہر انسانیت
نواز شخص کو یہ سوچنا چاہیی.امریکی فوجیں کیوں اور کب تک عراق میں موجود
رہیں گی.؟عراق کو نیست و نابود کرنے کے بدلے عام عراقیوں کو کیا مل رہا
ہے.؟خود امریکی عوام عراق و افغانستان سے امریکی فورسز کا جلد از جلد
انخلا چاہتی ہے.لیکن قرائن سے صاف دکھائی دے رہا ہے.کہ وائٹ ہاوس مستقبل
قریب میں عراق کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا.ان حالات میں مسلم امہ
کے بادشاہوں.ڈکٹیٹروں اور حکمرانوں کو خوف خدا کرنا چاہیی.مسلم امہ عراق و
افغانستان سے قابض امریکی فوجوں کی واپسی کے لئے متفقہ لائحہ عمل اختیار
کرنا چاہیی.ہمیں یہ سوچنا چاہیی.کہ ہم کب تک امریکہ کی غلامی اور تابعداری
کرتے رہیں گے.مسلم حکمران اپنے گریبان میں جھانک کر حضرت غوث اعظم کے
محولہ بالہ جملے کی روشنی میں اپنا احتساب تو کریں.کہ کیا وہ بھی تو ان بد
نصیب انسانوں میں تو شامل نہیں جن کے دل کو خدا نے جانداروں کی محبت سے
عاری کررکھا ہے.بش اور اسکے مرغان دست آموز کا کردار ادا کرنے والے مسلم
بادشاہوں کو یاد رکھنا ہوگا.کہ اگر انہوں نے اپنے لچھن درست نہ کئے تو
انکا انجام بھی زلت و خواری میں پوشیدہ ہے.دنیاوی خدا چاہے وہ فرعون ہوں
یا چنگیز خان کے پیروکار.وہ عہد رفتہ کے گورے چٹے بش ہوں یا بلئیر.وہ روشن
خیال ہوں.یا نیٹو کی شکل کے مہذب یافتہ دکھائی دینے والے خوش باش انسان.ان
سب کے مقدر میں عذاب ہی عذاب ہے.یہ دنیا اور آخرت دونوں میں خوار
ہونگے.یہی تاریخ کا درس اور مزاج فطرت یذداں
ہے.email''''raufamir.kotaddu[L: 64]gmail.com
This entry was posted on 15-07-2008 15:35. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 2 time. You can leave a comment.
Views: 700
Views: 700