| ہم عوام،اور ہمارے حکمران |
|
|
|
ہم
عوام حاکموں کے پالتو جانوروں سے بھی بدتر ہیں اسے ہماری بد قسمتی ہی کہا
جا سکتا ہے کہ ہمارے حکمران اور ریا ستی ادارے ہمیں پالتو جانوروں سے بھی
کم حثیت کی کی کوئی مخلوق سمجھتے ہیں ورنہ ہمارے ساتھ کم سے کم پالتو
جانوروں جیسا سلوک تو کیا جاتا یہ لوگ تو ہمیں اپنے پالتو جانوروں سا درجہ
بھی دینے کے لئے بھی تیار نہیں ،حا لانکہ ہم ان کے پالتو جانوروں سے بھی
زیادہ ان کی خدمت کرتے اور ضرورتیں پوری کرتے ہیں ،یہاں تک کہ اکثر اوقات
ان کی آئی ہم مر جاتے ہیں ،خود کش بمباروں کا ٹارگٹ یہ ہوتے ہیں لیکن
کیسا اتفاق ہے کہ یہ ہر مرتبہ بچ جاتے ہیں اور مر ہم جاتے ہیں ،ہم صبح سے
لے کر شام تک اور شام سے لے کر رات تک دن رات مشقت کر کے ان کا بھی اور ان
کے بچوں کا بھی بلکہ ان کے جو لوگ باہر کے ممالک میں داد عیش اڑا رہے ہیں
ہم ان کے لئے بھی کمائی کرتے ہیں کہیں ہم ریڑھیاں لگا کر ،کہیں ہم مزدوری
کر کے ،کہیں ہم دفتروں میں کام کرکے کہیں ہم فیکٹریوں میں دن رات کام کر
کے اور کہیں ہم رکشہ ٹیکسی چلا کر اور کہیں مختلف النوع کام کر کے ہم ان
کے عیش و آرام کا خیال رکھتے ہیں ،ہم ان کے گھروں کی حفاظت کی خاطر اپنی
نیندیں قربان کرتے ہیں ۔
ہمارے یہاں سامراج کو طعنے اور کوسنے دینے میں ہمارئے دانشوروں سمیت ہر طبقہ سبقت لے جانے میں فخر محسوس کرتا ہے ،لیکن سامراج ہمارئے حاکموں سے اس لحاظ سے بہتر ہے کہ وہ کم سے کم اپنی عوام کو نہ صرف زندہ رہنے کے حقوق فراہم کرتا ہے بلکہ اپنی عوام کو کمائی کرنے کے وافر مواقع بھی فراہم کرتا ہے ،سامراج جانتاہے کہ عوام کمائی کریں گے تو نطام حکومت چلے گا اور جو اسائشیں اور راحتیں انہیں میسر ہیں وہ برقرار رہیں گی اور اگر عوام کمانے کے قابل ہی نہ رہے تو وہ بھی عوام کا ہی حصہ بن جائیںگے جو سامراج کو کسی طور بھی منظور نہیں ،ہم دیکھتے ہیں کہ تمام سامراجی ممالک میں ریاستی ادارے ،حکمران اور صنعتکار وغیرہ عوام اور لیبرکے معاشی اور دیگر حقوق کا خیال رکھتے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے زیادہ سے زیادہ کمائی کرنے کے قابل ہو سکیں ۔جبکہ ہمارے حکمران ،ریاستی اداروں کے افراد اور صنعت کار جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جوکئی کئی حج اور عمروں کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ پنج وقتہ نمازی بھی ہیں کی حالت یہ ہے کہ نہ تو یہ عوام کو ان کے انسانی حقوق دینے کو تیار ہیں اور نہ ہی انہیں فکر معاش سے آزاد کرتے ہیں ۔
پوری دنیا میں پاکستانی قوم اتنی محنتی اور جفا کش ہے کہ اس کا مقابلہ کوئی دوسری قوم کر ہی نہیں سکتی حالنکہ گزشتہ ساٹھ سالوں میں مندرجہ بالا طبقوں نے اسے مارنے اور توڑنے کی بہت کوشش کی مگر نہ یہ مرتی ہے اور نہ ہی ٹوٹتی ہے اور اس جیسی شیریف اور مسکین بھی کوئی اور قوم نہیں اتنے زیادہ ظلم وستم سہنے کے باوجود یہ ظلم وستم کرنے والوں کے خلاف نہ ہی احتجاج کرتی ہے اور نہ ہی انہیں کچھ اور کہتی ہے جبکہ سامراجی ملکوں کے عوام بہت زیادہ سہولتیں حاصل کرنے کے باوجود ان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حق حکومت سلب کرنے کی کوشش کرے تو عوام اس حکومت کا جینا محال کر دیتے ہیں اور اس وقت تک اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتے جب تک اپنا سلب کیا ہوا حق نہیں لے لیتے ،جبلہ اپنے یہاں کی عوام اللہ میاں کی سیدھی سادھی گائے ہے ،ہماری عوام کا پیدا ہونے والا بچہ بھی حکومت کو ٹیکس دیتا ہے اور جو پیدا ہوچکے ہیں وہ قبر میں جانے کے آخری وقت تک ٹیکس ادا کرتے ہیں ،اس کے باوجود آفرین ہے اس عو ام کے صبر اورحوصلے پر کہ اس نے آج تک اپنے حاکموں سے یہ نہیں پوچھا کہ ہم جو اپنا پیٹ کاٹ کر تمہیں ٹیکس ادا کرتے ہیں اور جس پیسے سے تم اور تمہاری اولادیں عیش وعشرت کی زندگی گزارتے ہو اس میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے ؟
اب یہی دیکھ لیں کہ واپڈا نامی ادارے اور اس کے سر پرستوں نے جو عذاب عظیم عوام پر پچھلے کافی عرصے سے نازل کر رکھا ہے ،جس عذاب میں ہر روز نت نئے طریقوں سے اضافہ کیا جارہا ہے ،عوام چڑ چڑی ہونے ،اپنے جیسے عوام کے ساتھ لڑنے جھگڑنے اور خود کشی کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر رہی اسکا اپنے حاکموں سے محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ یہ بھی نہیں پوچھتی کہ" حضور"واپڈا والے بجلی تو ہمیں دے ہی نہیں رہے بلکہ جس طرح دیتے ہیں ان کے اس طریقہ کار سے ہماری محنت کی کمائی سے خریدی ہوئی چیزیں تک جل جاتی ہیں ، ہم اور ہماری خواتین بچے اور بوڑھے راتوں کو نہ سو سکتے ہیں اور نہ ہی دن کو کوئی کام ڈھنگ سے کر پا رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ جن جہگوںپر ہم کام کرتے ہیں وہ ہمیں کام سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ اس کے باوجود واپڈا والے ہم سے بل کی مد میں جو بھاری جگا ٹیکس وصول کر رہے ہیں وہ ہماری کس" خدمت "کے عوض وصول کر رہے ہیں ،دنیا بھر میں یہ ایک متفقہ اصول ہے کہ کوئی بھی پراڈکٹ فروخت کرنے والی کمپنی اپنے گاہکوں کا سب سے پہلے خیال رکھتی ہے جبکہ پاکستان میں حکومتی کمپنیاں ہو یاپرائویٹ ،گاہکوں سے پیسے تو پورے وصول کرتی ہیں مگر فراہم کردہ چیز کی نہ ہی کوالٹی کی گارنٹی ہوتی ہے اور نہ ہی بعد از فروخت کسی شکائیت کو خاطر میں لایا جاتا ہے ،سنا ہے یہاں ایک ایسا ادرہ بنا یاگیا ہے جو صارفین کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرتا ہے ،کیا وہ واپڈا کی "مہربانیوں "سے جو نقصان عوام کو روزانہ ہو رہا ہے اس کا بھی کوئی حل اپنے پاس رکھتا ہے ؟
یا عوام یوں ہی حاکم اور رعایا کے رشتے میںبندھے رہیں گے جس میں سب کے سب حقوق صرف حاکموں اور ان کی آل اولادوں کو ہی میسر رہیں گے اور عوام پا لتوجانوروں سے بھی کم حیثیت میں جیتے رہیں گے ۔
zameerafaqi[L: 64]yahoo.com
cell[L: 35] 0300-9439033
ہمارے یہاں سامراج کو طعنے اور کوسنے دینے میں ہمارئے دانشوروں سمیت ہر طبقہ سبقت لے جانے میں فخر محسوس کرتا ہے ،لیکن سامراج ہمارئے حاکموں سے اس لحاظ سے بہتر ہے کہ وہ کم سے کم اپنی عوام کو نہ صرف زندہ رہنے کے حقوق فراہم کرتا ہے بلکہ اپنی عوام کو کمائی کرنے کے وافر مواقع بھی فراہم کرتا ہے ،سامراج جانتاہے کہ عوام کمائی کریں گے تو نطام حکومت چلے گا اور جو اسائشیں اور راحتیں انہیں میسر ہیں وہ برقرار رہیں گی اور اگر عوام کمانے کے قابل ہی نہ رہے تو وہ بھی عوام کا ہی حصہ بن جائیںگے جو سامراج کو کسی طور بھی منظور نہیں ،ہم دیکھتے ہیں کہ تمام سامراجی ممالک میں ریاستی ادارے ،حکمران اور صنعتکار وغیرہ عوام اور لیبرکے معاشی اور دیگر حقوق کا خیال رکھتے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے زیادہ سے زیادہ کمائی کرنے کے قابل ہو سکیں ۔جبکہ ہمارے حکمران ،ریاستی اداروں کے افراد اور صنعت کار جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جوکئی کئی حج اور عمروں کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ پنج وقتہ نمازی بھی ہیں کی حالت یہ ہے کہ نہ تو یہ عوام کو ان کے انسانی حقوق دینے کو تیار ہیں اور نہ ہی انہیں فکر معاش سے آزاد کرتے ہیں ۔
پوری دنیا میں پاکستانی قوم اتنی محنتی اور جفا کش ہے کہ اس کا مقابلہ کوئی دوسری قوم کر ہی نہیں سکتی حالنکہ گزشتہ ساٹھ سالوں میں مندرجہ بالا طبقوں نے اسے مارنے اور توڑنے کی بہت کوشش کی مگر نہ یہ مرتی ہے اور نہ ہی ٹوٹتی ہے اور اس جیسی شیریف اور مسکین بھی کوئی اور قوم نہیں اتنے زیادہ ظلم وستم سہنے کے باوجود یہ ظلم وستم کرنے والوں کے خلاف نہ ہی احتجاج کرتی ہے اور نہ ہی انہیں کچھ اور کہتی ہے جبکہ سامراجی ملکوں کے عوام بہت زیادہ سہولتیں حاصل کرنے کے باوجود ان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حق حکومت سلب کرنے کی کوشش کرے تو عوام اس حکومت کا جینا محال کر دیتے ہیں اور اس وقت تک اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتے جب تک اپنا سلب کیا ہوا حق نہیں لے لیتے ،جبلہ اپنے یہاں کی عوام اللہ میاں کی سیدھی سادھی گائے ہے ،ہماری عوام کا پیدا ہونے والا بچہ بھی حکومت کو ٹیکس دیتا ہے اور جو پیدا ہوچکے ہیں وہ قبر میں جانے کے آخری وقت تک ٹیکس ادا کرتے ہیں ،اس کے باوجود آفرین ہے اس عو ام کے صبر اورحوصلے پر کہ اس نے آج تک اپنے حاکموں سے یہ نہیں پوچھا کہ ہم جو اپنا پیٹ کاٹ کر تمہیں ٹیکس ادا کرتے ہیں اور جس پیسے سے تم اور تمہاری اولادیں عیش وعشرت کی زندگی گزارتے ہو اس میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے ؟
اب یہی دیکھ لیں کہ واپڈا نامی ادارے اور اس کے سر پرستوں نے جو عذاب عظیم عوام پر پچھلے کافی عرصے سے نازل کر رکھا ہے ،جس عذاب میں ہر روز نت نئے طریقوں سے اضافہ کیا جارہا ہے ،عوام چڑ چڑی ہونے ،اپنے جیسے عوام کے ساتھ لڑنے جھگڑنے اور خود کشی کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر رہی اسکا اپنے حاکموں سے محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ یہ بھی نہیں پوچھتی کہ" حضور"واپڈا والے بجلی تو ہمیں دے ہی نہیں رہے بلکہ جس طرح دیتے ہیں ان کے اس طریقہ کار سے ہماری محنت کی کمائی سے خریدی ہوئی چیزیں تک جل جاتی ہیں ، ہم اور ہماری خواتین بچے اور بوڑھے راتوں کو نہ سو سکتے ہیں اور نہ ہی دن کو کوئی کام ڈھنگ سے کر پا رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ جن جہگوںپر ہم کام کرتے ہیں وہ ہمیں کام سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ اس کے باوجود واپڈا والے ہم سے بل کی مد میں جو بھاری جگا ٹیکس وصول کر رہے ہیں وہ ہماری کس" خدمت "کے عوض وصول کر رہے ہیں ،دنیا بھر میں یہ ایک متفقہ اصول ہے کہ کوئی بھی پراڈکٹ فروخت کرنے والی کمپنی اپنے گاہکوں کا سب سے پہلے خیال رکھتی ہے جبکہ پاکستان میں حکومتی کمپنیاں ہو یاپرائویٹ ،گاہکوں سے پیسے تو پورے وصول کرتی ہیں مگر فراہم کردہ چیز کی نہ ہی کوالٹی کی گارنٹی ہوتی ہے اور نہ ہی بعد از فروخت کسی شکائیت کو خاطر میں لایا جاتا ہے ،سنا ہے یہاں ایک ایسا ادرہ بنا یاگیا ہے جو صارفین کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرتا ہے ،کیا وہ واپڈا کی "مہربانیوں "سے جو نقصان عوام کو روزانہ ہو رہا ہے اس کا بھی کوئی حل اپنے پاس رکھتا ہے ؟
یا عوام یوں ہی حاکم اور رعایا کے رشتے میںبندھے رہیں گے جس میں سب کے سب حقوق صرف حاکموں اور ان کی آل اولادوں کو ہی میسر رہیں گے اور عوام پا لتوجانوروں سے بھی کم حیثیت میں جیتے رہیں گے ۔
zameerafaqi[L: 64]yahoo.com
cell[L: 35] 0300-9439033
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 934