| امریکہ کو پاکستان نواز اور گیلانی کا انکار |
|
|
|
امریکہ میں برسراقتدار جماعت امریکن ری پبلیکن پارٹی ۔ جو پاکستان کے
قبائیلی علاقوں کے نمازیوں پر حملہ کرنے کیلئے نواز شریف اور پاکستان کی
جمہوری حکومت سے گفت و شننید کرکے اجازت مانگ رہی ہے۔ وہ نا صرف افسوس ناک
ہے بلکہ شرمناک ہے۔ ان کو اس کی اجازت دینا ۔۔ گو یا مذہب اسلام پر سنگین
حملہ کرنا ہے۔ مذکورہ جماعت کے سیاست کار امریکہ، برطانیہ اور یورپیین
ممالک میں اسلام کی بڑھتی مقبولیت پر روک لگا نے ۔ مذہب اسلام کو ایک دھشت
گرد مذہب دیکھانے کی خاطرافغانستان کے پہاڑی علاقوں اور پاکستان کے
قبائیلی علاقوں میں آباد نمازیوں پر حملہ کرکے وہ مسلمانوں اور اسلام پر
دھشت گرد ی کی مہر لگاکر امریکہ ، برطانیہ ، و یورپیین ممالک میں مذہب
اسلام کی تبلیغ کررہی تبلیغی جماعت کے تبلیغی لوگوں کو گرفت میںلیکر ان کو
سنگین نوعیت کی اذیتّںپہنچاکر مذہب اسلام کی تبلیغ پر پوری دنیا میں مکمل
طور پر پابندی لگانا چاہتے ہیں۔ اس لئے وہ پاک و افغا ن کے علاقوں پر حملہ
کیلئے بضد ہیں۔
افغانستان میں ہندوستان کے سفارت خانہ پر حملہ کیلئے مسٹر حامد کرزائی نے بڑی چا لا کی سے پاکستان کے نمازیوں پر اور وہاں کی ایجنسیوںپر پاکستان کا نام لئے بغیر الزام لگایا ۔ مگر چونکہ امریکہ کو پاکستان کے مجوزہ علاقوں پر حملہ کی اجازت چاہیئے تو ان کے ذمہ داروں نے پاک حکومت کی صفائی میں بیان داغ دیا۔ مگر سید یوسف علی شاہ گیلانی کی قیادت میں چلنے والی پاکستان حکومت مذکورہ جماعت کی چاپلوسیوں کو خوب اچھی طرھ سمجھ رہی ہے۔ کہ وہ پاک حکومت کی کمر تھپ تھپا کر اس کو نمازیوں پر حملہ کی اجازت مانگ نے کی حکمت ہے۔ مسٹر یوسف رضا گیلانی خود بھی سمجھ دار شخصیت ہیں۔ اور مذید ان پر پاکستان کے نئے قائد آعظم میاں نواز شریف کا شدید دبائوبھی ہے۔ اب نمازیوں پر حملہ کی اجازت کی خاطر پاکستانی وزیرآعظم صاحب کو خصوصی طور پر وائٹ ہائوس میں حاضرہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ جس کیلئے تاریخوں کا تعین کیا جارہا ہے ۔
امریکہ کی موجودہ قیادت یہ سمجھتی ہے۔ کہ وہ پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں نمازیوں پر سیاسی حملہ کرکے امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار مسٹر بارک اوبامہ کو شکست دے سکتی ہے۔ ان کو شکست دینے کیلئے یہ حملہ ضروری سمجھا جارہا ہے ۔ کہ امریکہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈال کر امریکی عوام کے توجہ اوران کا دھیان پاکستان کی طرف موڑ نے پر مجبور کیا جاسکے ۔جس سے کہ وہ بارک اوبامہ کی طرف مائل نہ ہوسکیں۔ اور اس طرح ان کے ووٹ کو بارک اوبامہ کی پارٹی میں جانے سے روکا جائے ۔۔۔اس لئے پاکستان میں حملہ کی کوشیش کی جارہی ہے ۔۔۔۔امریکہ کی تازہ سیاست کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے۔ کہ وہاں کی عوام مسٹر بارک اوبامہ کو کامیاب کرنے کا قبل از وقت ذہنی طور پر فیصلہ کرچکے ہیں۔ صدارت کی کرسی اب ان ہی کا حصّہ بن چکی ہے۔اس لئے پوری دنیاامریکی عوام کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتی ہے۔اور مسٹر بارک اوبامہ کو قبل از وقت ہی مبارک باد یتی ہے۔۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی عوام، اب مسٹربش کی جماعت کی مکارانہ حرکتوں سے تنگ آچکے ہیں۔ اور وہ ان کیلئے کراری شکست کا من بنا چکے ہیں۔ان حالات کے مدنظر مسٹر بش کی پارٹی کو امید ہے۔ کہ پاکستان کے قبائیلی و پہاڑی علاقوں پر حملہ ہی ان کو بارک اوبامہ کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست سے بچاسکتا ہے۔ ایسی لئے وہ پاکستان کے وزیر آعظم کی وائٹ ہاوس آمد پران کو اس کے لئے آمادہ کرنے کی ہر ممکن کوشیش کریں گے۔حملہ کی اجازت کی شرط پر مشرف میاں کے صدارتی عہدے سے بے دخلی کو بھی ہو منظوری دیں گے۔ مسٹر بش کی پارٹی کے سامنے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بارک اوبامہ کو شکست دینے کا ہے۔مذکورہ پارٹی نے سید یوسف علی شاہ گیلانی کو امریکہ کے دورہ کی دعوت تو دے دی ہے۔ لیکن خطرہ یہ بھی ہے۔ کہ کہیں وہ مسٹر بارک اوبامہ سے ملاقات کرکے ان کو پاکستانی عوام کی جانب سے پاکستان کے دورہ کی دعوت نہ دے دیں۔ اور ان کو عہدہ صدارت پر کامیابب ہونے کی قبل از وقت پاکستانی عام کی مبارکباد نہ دے ڈالیں۔یہ با ت اظہرمن الشمش ہے کہ امریکی فوج کا پاکستان میں سیاسی استعمال صرف امریکن ری پبلیکن پارٹی کے چناوی فائدے کیلئے ہورہا ہے۔اس کو امریکہ اور پاکستان کی خوشحالی سے کوئی تعلق نہیں۔جس پر مسٹر بارک اوبامہ دکھی ہیں۔اور وہ جمہوریت پسند لوگوں سے ہاتھ ملانے کو ہی فوقیت دیتے ہیں۔ اور ان سے تعلق داری مضبوط رکھنا چاہتے ہیں۔
فی الوقت پاکستانی وزیرآعظم کشمکش میں مبتلہ ہیں۔ کہ امریکہ کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی باہمی الجھن سے وہ اپنے آپ کو کیسے نیکالیں۔ لیکن اس کا بہتر طریقہ یہ ہی ہے۔ کہ وہ امریکہ کے صدارتی الیکشن کے مکمل ہونے کا انتظار کریں۔ فی الحال اپنا دورہ دسمبر تک ملتوی کردیں۔ اور حملہ کی اجازت کا فیصلہ بھی الیکشن کے بعد ہی لیا جائے۔ کہ آیا اس کی ضرورت ہے کہ نہیں۔ کیونکہ اب یہ حملہ صر ف اور صرف مسٹر بارک اوبامہ کو ہرانے کی غرض سے ہی مرتب دینے کی تیاری چل رہی ہے۔
بہرحال مسٹر بارک اوبامہ کی یقینی کامیابی ۔نمازیوں پر حملہ کی اجازت کر اور ان پر حملہ کرکے بھی نہ رکی تو برائی کا سہرا پاکستان کی جمہوری حکومت اور اس کے وزیرآعظم کے سرپر ہی بندھے گا۔جو پاکستان کیلئے زیادہ نقصان دہ ہوگا۔لہذا حکومت پاکستان نمازیوں پر حملہ کی اجازت دینے سے باز رہے۔ اگر اس نے اس کی اجازت دی تو اس کو اسلام دشمنی کے القاب سے نوازہ جائے گا۔۔ جس سے پاکستانی عوام میں اس کا وقار مجروح ہوگا۔ہندوستان کے مذہبی عوام ہمیشہ سے ہی نمازیوں پر حملے کے خلاف رہے ہیں۔ اس لئے ان کو اسلام اور نمازیوں کا احترام کرنا چاہیئے ۔
بہرکیف نواز شریف کی ثابت قدمی اور ان کا حکومت پر دبائو کو دیکھتے ہوئے۔یہ امید کی جارہی ہے۔ کہ پاکستان میں مخصوص امریکی حملہ کیلئے تیار کردہ علاقوں میں امریکن ری پبلیکن پارٹی کو سیاست کاری کیلئے ان علاقوں کے نمازیوں پر حملہ کی اجازت نہ دی جائے تو یہ ایک بہتر قدم ہوگا۔اگر پاکستان نے وہاں حملہ کی اجازت دی تو مذکورہ پارٹی یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ کہ وہاں دھشت گرد چھپے تھے اس لئے ان کو پاکستان کی طرف سے حملہ کرنے کی اجازت ملی ہے۔لیکن جب وہاں سب کے سب نمازی ہیں ۔ تو پھر وہاں حملہ کیسا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ایاز محمود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی دہلی
افغانستان میں ہندوستان کے سفارت خانہ پر حملہ کیلئے مسٹر حامد کرزائی نے بڑی چا لا کی سے پاکستان کے نمازیوں پر اور وہاں کی ایجنسیوںپر پاکستان کا نام لئے بغیر الزام لگایا ۔ مگر چونکہ امریکہ کو پاکستان کے مجوزہ علاقوں پر حملہ کی اجازت چاہیئے تو ان کے ذمہ داروں نے پاک حکومت کی صفائی میں بیان داغ دیا۔ مگر سید یوسف علی شاہ گیلانی کی قیادت میں چلنے والی پاکستان حکومت مذکورہ جماعت کی چاپلوسیوں کو خوب اچھی طرھ سمجھ رہی ہے۔ کہ وہ پاک حکومت کی کمر تھپ تھپا کر اس کو نمازیوں پر حملہ کی اجازت مانگ نے کی حکمت ہے۔ مسٹر یوسف رضا گیلانی خود بھی سمجھ دار شخصیت ہیں۔ اور مذید ان پر پاکستان کے نئے قائد آعظم میاں نواز شریف کا شدید دبائوبھی ہے۔ اب نمازیوں پر حملہ کی اجازت کی خاطر پاکستانی وزیرآعظم صاحب کو خصوصی طور پر وائٹ ہائوس میں حاضرہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ جس کیلئے تاریخوں کا تعین کیا جارہا ہے ۔
امریکہ کی موجودہ قیادت یہ سمجھتی ہے۔ کہ وہ پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں نمازیوں پر سیاسی حملہ کرکے امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار مسٹر بارک اوبامہ کو شکست دے سکتی ہے۔ ان کو شکست دینے کیلئے یہ حملہ ضروری سمجھا جارہا ہے ۔ کہ امریکہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈال کر امریکی عوام کے توجہ اوران کا دھیان پاکستان کی طرف موڑ نے پر مجبور کیا جاسکے ۔جس سے کہ وہ بارک اوبامہ کی طرف مائل نہ ہوسکیں۔ اور اس طرح ان کے ووٹ کو بارک اوبامہ کی پارٹی میں جانے سے روکا جائے ۔۔۔اس لئے پاکستان میں حملہ کی کوشیش کی جارہی ہے ۔۔۔۔امریکہ کی تازہ سیاست کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے۔ کہ وہاں کی عوام مسٹر بارک اوبامہ کو کامیاب کرنے کا قبل از وقت ذہنی طور پر فیصلہ کرچکے ہیں۔ صدارت کی کرسی اب ان ہی کا حصّہ بن چکی ہے۔اس لئے پوری دنیاامریکی عوام کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتی ہے۔اور مسٹر بارک اوبامہ کو قبل از وقت ہی مبارک باد یتی ہے۔۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی عوام، اب مسٹربش کی جماعت کی مکارانہ حرکتوں سے تنگ آچکے ہیں۔ اور وہ ان کیلئے کراری شکست کا من بنا چکے ہیں۔ان حالات کے مدنظر مسٹر بش کی پارٹی کو امید ہے۔ کہ پاکستان کے قبائیلی و پہاڑی علاقوں پر حملہ ہی ان کو بارک اوبامہ کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست سے بچاسکتا ہے۔ ایسی لئے وہ پاکستان کے وزیر آعظم کی وائٹ ہاوس آمد پران کو اس کے لئے آمادہ کرنے کی ہر ممکن کوشیش کریں گے۔حملہ کی اجازت کی شرط پر مشرف میاں کے صدارتی عہدے سے بے دخلی کو بھی ہو منظوری دیں گے۔ مسٹر بش کی پارٹی کے سامنے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بارک اوبامہ کو شکست دینے کا ہے۔مذکورہ پارٹی نے سید یوسف علی شاہ گیلانی کو امریکہ کے دورہ کی دعوت تو دے دی ہے۔ لیکن خطرہ یہ بھی ہے۔ کہ کہیں وہ مسٹر بارک اوبامہ سے ملاقات کرکے ان کو پاکستانی عوام کی جانب سے پاکستان کے دورہ کی دعوت نہ دے دیں۔ اور ان کو عہدہ صدارت پر کامیابب ہونے کی قبل از وقت پاکستانی عام کی مبارکباد نہ دے ڈالیں۔یہ با ت اظہرمن الشمش ہے کہ امریکی فوج کا پاکستان میں سیاسی استعمال صرف امریکن ری پبلیکن پارٹی کے چناوی فائدے کیلئے ہورہا ہے۔اس کو امریکہ اور پاکستان کی خوشحالی سے کوئی تعلق نہیں۔جس پر مسٹر بارک اوبامہ دکھی ہیں۔اور وہ جمہوریت پسند لوگوں سے ہاتھ ملانے کو ہی فوقیت دیتے ہیں۔ اور ان سے تعلق داری مضبوط رکھنا چاہتے ہیں۔
فی الوقت پاکستانی وزیرآعظم کشمکش میں مبتلہ ہیں۔ کہ امریکہ کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی باہمی الجھن سے وہ اپنے آپ کو کیسے نیکالیں۔ لیکن اس کا بہتر طریقہ یہ ہی ہے۔ کہ وہ امریکہ کے صدارتی الیکشن کے مکمل ہونے کا انتظار کریں۔ فی الحال اپنا دورہ دسمبر تک ملتوی کردیں۔ اور حملہ کی اجازت کا فیصلہ بھی الیکشن کے بعد ہی لیا جائے۔ کہ آیا اس کی ضرورت ہے کہ نہیں۔ کیونکہ اب یہ حملہ صر ف اور صرف مسٹر بارک اوبامہ کو ہرانے کی غرض سے ہی مرتب دینے کی تیاری چل رہی ہے۔
بہرحال مسٹر بارک اوبامہ کی یقینی کامیابی ۔نمازیوں پر حملہ کی اجازت کر اور ان پر حملہ کرکے بھی نہ رکی تو برائی کا سہرا پاکستان کی جمہوری حکومت اور اس کے وزیرآعظم کے سرپر ہی بندھے گا۔جو پاکستان کیلئے زیادہ نقصان دہ ہوگا۔لہذا حکومت پاکستان نمازیوں پر حملہ کی اجازت دینے سے باز رہے۔ اگر اس نے اس کی اجازت دی تو اس کو اسلام دشمنی کے القاب سے نوازہ جائے گا۔۔ جس سے پاکستانی عوام میں اس کا وقار مجروح ہوگا۔ہندوستان کے مذہبی عوام ہمیشہ سے ہی نمازیوں پر حملے کے خلاف رہے ہیں۔ اس لئے ان کو اسلام اور نمازیوں کا احترام کرنا چاہیئے ۔
بہرکیف نواز شریف کی ثابت قدمی اور ان کا حکومت پر دبائو کو دیکھتے ہوئے۔یہ امید کی جارہی ہے۔ کہ پاکستان میں مخصوص امریکی حملہ کیلئے تیار کردہ علاقوں میں امریکن ری پبلیکن پارٹی کو سیاست کاری کیلئے ان علاقوں کے نمازیوں پر حملہ کی اجازت نہ دی جائے تو یہ ایک بہتر قدم ہوگا۔اگر پاکستان نے وہاں حملہ کی اجازت دی تو مذکورہ پارٹی یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ کہ وہاں دھشت گرد چھپے تھے اس لئے ان کو پاکستان کی طرف سے حملہ کرنے کی اجازت ملی ہے۔لیکن جب وہاں سب کے سب نمازی ہیں ۔ تو پھر وہاں حملہ کیسا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ایاز محمود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی دہلی
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 1313