جمہوری حکومت کو اتحادی فوجوں نے دوسری سلامی دیتے ہوئے ۔ جنوبی وزیرستان
کے انگور اڈہ میں واقع سیکورٹی فورسز کی ایک پوسٹ پرحملہ کرکے نو سیکورٹی
اہلکاروں کو شدید زخمی کردیا ہے ۔جس کی تصدیق پاکستانی فورسز نے کرتے ہوئے
کہا ہے۔ کہ جوابی کاروائی کرتے ہوئے اتحادی فوجوں کے اہلکاروں کو بھی نہ
صرف زخمی کیا گیا ہے ۔بلکہ اتحادی فوج سے رابطہ کرکے احتجاج بھی کیا گیا
ہے ۔یہ بات تو ایک عرصہ سے قیاس کی جارہی تھی کہ امریکہ اور اس کے اتحادی
پاکستان کی نئی حکومت کو پہلے ڈالروں کی برسات دکھائے گی۔ اور پھر ڈومور
کی پالیسی اپناتے ہوئے ۔قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی آگ کے شعلوں کو
ہوا دے کر دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی ۔کہ پاکستان کے
قبائلی علاقے ہی اصل دہشت گردوں کا گڑھ ہیں ۔امریکہ کی اس پالیسی کی جہاں
مغربی میڈیا نے مختلف ذرائع سے معاونت کی اپنی پرانی روش جاری رکھی ہوئی
ہے۔ وہاں پاکستانی طالبان میں موجود امریکی ایجنٹوں نے بھی اپنا بھر پور
کردار اداکرتے ہوئے کامیاب امن مزاکرات کو سبوتاژکرنے میں کوئی کسر نہیں
چھوڑی ۔راقم نے قبل ازیں ان کا لموں میں اے این پی اور طالبان کے درمیان
امن مزاکرات کے کامیاب معاہدے کے موقع پر ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کیا
تھا۔کہ امریکہ حسب سابق ان مزاکرات کو ناکام کرنے کے لیے اپنے ایجنٹوں کے
ذریعے نیا کھیل کھیلے گا ۔اس امن معاہدے کے ساتھ ہی جعلی طالبان کی
کاروئیاں جاری رئیں ۔جس سے یہ ثاثر ابھرا کے طالبان امن معاہدے کی آڑ میں
منظم ہونے کی کوشش کررہے ہیں ۔اور یہی امریکہ کی خواہش تھی ۔سو ان
کاروئیوں کے سدے باب کے لیے پاکستانی فورسز کو کاروائی کرنی پڑی ۔جس کے
جواب میں ان ہی جعلی طالبان جو حقیقت میں امریکہ کے ایجنڈے پر گامزن ہیں
۔اسلام آباد میں خود کش حملے جس میں انیس افراد شہید ہوئے کے علاوہ کراچی
میں سا ت دھماکے کرکے اس آگ کو بھڑکانے میں اہم کردار اداکیا ۔ جب کہ
حکومت کی طرف سے خیبر ایجنسی میں ایک نیا معاذ کھولنے کی کاروئی نے اس پر
جلتی کاکام کیا ہے ۔ اور اب دوآبہ اور ہنگومیدان جنگ کی شکل اختیار کرچکے
ہیں ۔جہاں اب تک دو درجن سے زاہد سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوچکے ہیں ۔جب کہ
اے این پی کی صوبائی حکومت ان کاروائیوں پر نالاں دکھائی دیتی ہے ۔چائیے
تو یہ تھا کہ حکومت جعلی طالبان کی چھوٹی موٹی کاروائیوں کو نظر انداز
کرتے ہوئے حقیقی طالبان قیادت کو معاہدے کی روح سے اس بات پر آمادہ کرتی
۔کہ وہ جعلی طالبان کا قلع قمع کرے ۔لیکن مرکزی حکومت نے ڈالروں چمک دیکھ
کر عجلت میںدانستہ یا نادانستہ طور پر امریکی ایجنڈے کا حصہ بننے کی کوشش
کی ۔حالاںکہ یہ بات طے ہے جلد نہیں تو بدیر امریکہ اور اس کے اتحادی
پاکستان کا رخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بقول جنرل (ر) حمید گل امریکہ
پاکستان کے قبائلی علاقوں پر بھر پور حملے کی تیا ری کر چکا ہے۔اور وہ
جولائی میں کسی وقت بھی اپنے مذموم مقاصد کی طرف بڑھ سکتا ہے ۔جب کہ اب تک
امریکہ قبائلی علاقوں میں چالیس حملے کرچکا ہے ۔ جنرل صاحب کی بات میںوزن
ہے۔ لیکن امریکہ اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہے ۔کہ پاکستان کے دشوار گزار
قبائلی علاقوں میں جنگ اتنی آسان نہیں ۔اور اس کی فوج کا قبرستان یہی
سنگلاخ چٹانوں کے سلسلے بن جائیں گے۔ اور پھر یہ افغا نستان اور عراق نہیں
بلکہ یہاں اسے بلکل مختلف صورت حال سے واسطہ پڑے گا۔ کیونکہ پہلے سے
برسرِپیکار عسکریت پسند تو پہلے ہی امریکہ کا ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ جب
کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر حملہ اس کہ سالمیت پر حملہ تصور ہوگا ۔جس
کا جواب یقینا پاکستانی قوم اور فورسز بھر پور انداز سے دے گی۔ تو یہ
مزاحمت دوگناہ ہوجائے گی ۔اس لیے امریکی پالیسی ساز پاکستان پر باقاعدہ
حملہ کرنے سے پہلے کئی بار سوچیں گے ضرور۔۔۔موجودہ دھمکیاں اور سرحد پر
فائرنگ محض پاکستانی حکومت کو دباؤ میں ڈال کر امریکی الیکشن کے موقع پر
عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیاں تیز کرنے تر غیب دینا بھی پہو سکتا ہے
۔لیکن ہمیں اس بات کو اتنا آسان بھی نہیں لینا ہوگا ۔جیساکہ میں نے اوپر
کہا ہے ۔امریکہ جلد یا بدیر پاکستان کا رخ کرے گا ۔کیونکہ یہ بات کسی سے
پوشیدہ نہیں کہ ایٹمی پاکستان امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کسی طرح قبول
نہیں ۔یہ وقت اور حالات کا جبر ہے کہ پاکستان کو قائم اورمستحکم رکھنا نہ
صرف ان کی بلکہ پوری دنیا کی مجبوری ہے ۔ کہ ایٹمی پاکستان بکھرے گا ۔ تو
بہت کچھ بکھر جائے گا ۔جس کی شاہد یہ دنیا متحمل نہ ہوسکے ۔قبائلی علاقوں
پر حملے کی خواہش کو امریکی چھپا کر بھی نہیں رکھ رہے ۔حال ہی میں پاکستان
کا دورہ کرکے جانے والی امریکی کانگریس ٹیم نے جاکر اپنی رپورٹ میں کہا ہے
۔کہ امریکہ کو قبائلی علاقوں میں بھرپور کاروائی کرنا پڑے گی ۔اس سے بھی
زیادہ تشویش ناک بیان امریکی جائنٹ چیف آف سٹاف کے چہرمین جنرل مائیکل
میلن کا ہے ۔کہ پاکسنان کی نئی حکومت اس بات کی اہلیت نہیں رکھتی کہ وہ
دہشت گردوں کی کاروائیوں کو روک سکے ۔یا قبائلی علاقوں میں موجود عسکریت
پسندوں کو ملک سے باہر نکال سکے ۔جب کہ قبل ازیں امریکی صدر بش نے بھی
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئیواضح طور پر کہا ہے ۔کہ امریکہ کے نئے صدر کے
لیے اصل چیلنج افغا نستان اور عراق نہیں بلکہ پاکستان ہے ۔بظاہر امریکی
صدر نے نئے صدر کو ترغیب دینے کی کوشش کرتے ہوئے افغا نستان اور عراق میں
اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی سعی کی ہے تا کہ آنے والے الیکشن میں وہ
امریکی عوام کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالات کا سامنا کرنے کے قابل ہوں
سکیں ۔ان سارے حالات کو دیکھتے ہوئے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی
عوام کو حکمرانوں کی ساٹھ سالہ بد اعمالیوں کی بوئی ہوئی فصل کاٹنے کے لیے
تیار رہنا چائیے ۔لیکن یہا ں بھی اصل مسلئہ حکمرانوں کا ہے ۔جو آج بھی
ملک سے باہر سیرو تفریح کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔جب کہ یہ وہ موقع ہے ۔کہ جہاں
پاکستان کی سویلین اور فوج کی حقیقی قیادت کو ملک کے اندر بیٹھ کر آنے
والے کسی بھی خطرے سے نبٹنے کے لیے متفقہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے ۔اس
لیے تمام اختلافات اور غیر ضروری ایشو ایک سائیڈ پر رکھ دیں۔ قوم کو صحیح
صورت حال سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اے این پی اور جمیعت علماء اسلام
سمیت تمام مزہبی جماعتوں کو چائیے کے وہ قبائلی مشران زعماء،علماء،اور
حیقیقی طالبان قیادت کو ایک بار پھر اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ لایا عمل
اختیار کریں ۔تاکہ قبائلی علاقوں پر ممکنہ جارحیت کو روکا جاسکے ۔ا کیونکہ
یہ ملک ہے تو ہم سب ہیں ۔ور اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی قبائلی بھی
امریکہ کی اس حرکت کو برداشت نہیں کرے گا ۔اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا
نظر آئے گا ۔کیونکہ خدا ناخواستہ اس حملہ کی صورت میں جعلی طالبان کے
لبادے میں چھپے امریکی ایجنٹ کھل کر سامنے آجائیں گے ۔اور پاکستانی عوام
کو اس میں کوئی شبعہ نہیں کہ ملک کے اندر اور قبائلی علاقوں میں بم
دھماکوں سمیت تمام شورش امریکی ایجنٹ پھیلا رہے ہیں ۔اگر سمجھ نہیں آرہی
تو ہمارے حکمران طبقہ کو جنکی آنکھوں کو ڈالروں کی چمک نے خیرہ کیا ہوا
ہے ۔بقول اپنے ۔۔۔۔ یہ آج کس مقام پہ ہم لوگ آگئے ۔۔۔۔رکنے کی ہے سبیل نہ صورت سفر کی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونس مجاز ۔۔۔۔رائے عامہ روڈ ۔۔۔۔الحمید پلازہ ۔۔۔۔۔ہری پور فون 03018126146
This entry was posted on 15-07-2008 15:21. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 821
Views: 821