| عالمی دہشت گردی میں امریکا کا کردار۔۔۔۔؟ |
|
|
|
پاکستان
کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی امریکی ہم منصب کونڈا لیزا رائس کو
ایک ملاقات میں واضح کر دیا ہے کہ کسی غیر ملکی فوج کو پاکستان کی سر زمین
استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور یہ کی امریکا کو پاکستان کی
خود مختاری کا احترام کرنا چاہئے۔گو کہ یہ مؤقف بڑا واضح اور دو ٹوک ہے
مگر لگتا نہیں کہ اس کا امریکی پالیسی ساز اداروں پر کوئی اثر پڑے گا ،اور
یہ کہ امریکی انتظامیہ اس پیغام کا مطلب سمجھے گی۔کیونکہ امریکا نے تو وہ
ہی کرنا ہے جو اس کے مذموم مفادات میں ہے۔اور امریکی مفاد اس بات میں مضمر
ہیں کہ وہ کسی بھی ملک کی خود مختاری کو خاطر میں نہ لائے۔جب کہ صورتحال
یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ اس وقت پاکستان کے اندر لڑی جا رہی
ہے۔اس جنگ کی شدت میں کمی آنے کی بجائے دن بدن تیزی آتی جاتی ہے۔ امریکا
اس جنگ پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہا ہے،اور اب وہ اس کی ذمہ داری
پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے۔ایک طرف تو نیٹو کے سربراہان اور کنیڈین وزیر
اعٰظم پاکستان کو’’ مسائل کی وجہ‘‘کی بجائے ’’مسائل کا حل‘‘ قرار دے رہے
تھے جبکہ دوسری جانب امریکی صدر جارج بش نے یہ بیان دے کر ایک بار پھر
خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی کہ اگر امریکا پر گیارہ ستمبر جیسا حملہ دوبارہ
ہوا تو اس کی ممکنہ منصوبہ بندی پاکستان کے علاقوں میں موجود دہشت گردوں
کی جانب سے کی جائے گی۔امریکا کے اے بی سی نیوز چینل کے ساتھ انٹرویو میں
امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں امریکا پر حملے کی منصوبہ
بندی کی جا رہی ہے۔اگر یہ منصوبہ بندی افغانستان میں کی جا رہی ہوتی تو ہم
منصوبہ بنانے والوں کا قلع قمع کر دیتے۔
صدر بش کا متذکرہ بیان نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ صرف اور صرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنے حملوں اور فوجی کاروائیوں کے تسلسل کے لئے جواز فراہم کرناتھا۔اور اس بات کی غمازی بھی کرتا ہے کہ امریکی پالیسی ساز اداروں ’’پینٹا گون ،نیشنل سکیورٹی کونسل اور سی آئی اے‘‘ نے پاکستان کے بارے میں اپنی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی،امریکن سینیٹرز کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد امریکی پریس کو بریفنگ کے دوران ان سینیٹرز نے الزام لگایا کہ’’ القاعدہ‘‘پاکستان میں ایک بار پھر منظم ہو رہی ہے بلکہ طاقتور ہو گئی ہے ۔اگر دیکھا جائے توپاکستان کے بارے میں یہ صدر بش کے سابقہ بیان کا ہی تسلسل ہے،جبکہ صدر بش سے پیشتر سی آئی اے کے سربراہ مائیکل ہیڈن بھی پاکستان کے قبائیلی علاقوں میںامریکی عسکری کاروائیوں کو امریکی مفاد قرار دے چکے ہیں۔جو کہ عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اب پاکستان اور عالمی ضمیر کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ امریکی مفادات دہشت گردی کو طول دینے اور میڈل ایسٹ کے ساتھ ساتھ اس خطے میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔
اگر حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھا جائے تو اس دہشت گردی کی بنیاد خود امریکا نے ہی رکھی ہے تاریخ شاہد ہے کہ امریکا دنیا میں اپنی عسکری دہشت کو قائم رکھنے کے لئے کئی مرتبہ بے گناہ انسانوں کا خون بہا چکا ہے۔صرف پانامہ میں ایک رات میں پچیس ہزار بے گناہ انسانوں کو امریکی افواج نے لقمہء اجل بنایا۔اب تو یہ بات بھی متنازعہ ہے کہ آیا نائن الیون کو ورلڈٹریڈ سنٹر پر حملہ القاعدہ نے کیا تھا یا خود صدر جاج بش کی حکومت نے۔کیونکہ امریکی تحقی٘قی اداروں کی جانب سے سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق تو یہ سب کچھ ’’اندر ‘‘سے ہو۔اور ایسا کر کے امریکی انتطامیہ نے در اصل اسلامی ریاستوں کو اسکی عراق اور سعودیہ میں موجودگی کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنا تھا۔اس مقصد کے حصول کے لئے اس نے اب تک مسلمان ممالک میں جس بربریت کا مظاہرہ کیا ہے یہ یقینا اسی کا ردعمل ہے جو ’’اسلامی انتہا پسند گروپ‘‘ پاکستان میں خود کش حملوں ،عسکری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کی صورت میں کر رہے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو نائن الیون کے بعد نہ تو امریکا میں ہی اور نہ ہی یورپ میں کوئی ایسی بڑی دہشت گردی ہوئی ہے جتنی پاکستان میںہوئی ہیں۔ اور امریکا یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جس بربریت کا مظاہر ہ کویت، فلسطین اور افغانستان میں جاری رکھے ہوئے ہیں، اس سے ان کے خلاف اسلامی ممالک میں شدید نفرت جڑپکڑ چکی ہے۔ یہ لہر دراصل برطانوی اور امریکی گٹھ جوڑ کے خلاف علمِ بغاوت ہے۔ جس میں بے گناہ انسان لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اسے شروع کرنے اور ہوا دینے والوں کی تاریخ اور مقاصدکیا ہیں، اوران کے مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ بھی لیا جائے۔ یہ بات میں پہلے ہی اپنے مضامین اور کالموں کی وساطت سے عرض کر چکا ہوں کہ یہ دور ’’مذہبی رشتے‘‘ استوار کرنے کا دو ر نہیں بلکہ ’’معاشی رشتے داریوں ‘‘ کا دور ہے۔ دوسروں کے ’’قدرتی وسائل اور افرادی قوت‘‘ کو قابو کرنے کا دور ہے۔اور اینگلو امریکن اتحادصرف اور صرف ان کے حصول کے لئے ہی سب کچھ کر رہا ہے۔ اس سارے عمل سے متعلق حقائق جاننے کے لئے ماضی میں جھانکنا ضروری ہے۔
11ستمبر 2001ء سے لے کر اب تک جتنے بھی دہشت گرد گرفتار ہوئے ہیں وہ تقریباً سعودی، مصری یا بالعموم عرب ہیں۔پہلی عالمی جنگ کے بعدامریکہ اور برطانیہ ہی دو ایسی طاقتیں رہی ہیں جو اس خطے میں اپنی مرضی کے مطابق سیاسی ا ور ریاستی جوڑ توڑ کرتی رہی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے تک برطانیہ اور فرانس کا عمل دخل اس خطے میں رہا ہے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور برطانیہ کا گٹھ جوڑ عمل میں آیا، جس میں امریکہ کو ایک بڑے حصے دار کا درجہ دیا گیا تھا۔ تاریخ دوسری عالمی جنگ سے پہلے کے معاملات کی تفصیلات بھی پیش کرتی ہے۔ جنہیں امریکہ اور مغربی ممالک کے دانشور زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ لیکن تیسری دنیا کے عوام انہیں اب بھی بھلانے کے لیے تیار نہیں ۔ برطانیہ نے پہلی عالمی جنگ کے لگ بھگ عراق پر تصرف حاصل کر لیا تھا۔ جب خلافت عثمانیہ کا شیرازہ بکھرا تھا، تو یہ وہ زمانے تھا جب برطانوی ریاست بہت بہت وسیع سمجھی جاتی تھی اور برطانیہ کے لئے فوجی طاقت سے اپنی اس وسیع سلطنت پر کنٹرول رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔ پہلی عالمی جنگ نے برطانیہ کو فوجی طور پر کمزر بھی کر دیا تھا چنانچہ انہوں نے وہی کچھ کیا جو زوال پذیر ریاستیں کیا کرتی ہیں۔ یعنی تشدد اور دہشت گردی کی لاتعداد مثالیں تاریخ کے اوراق پر نظر آتی ہیں۔برصغیر کی تاریخ میں جلیا نوالہ باغ، لاہور اور پشاور میں اجتماعی جلوسوں اور جلسوں پر گولی چلانے اور قتل عام کے حوالوں سے بھری پڑی ہے۔ برطانیہ کے ان تاریخی کارناموں کی دستاویزاب عام مطالعہ کے لئے دستیاب ہیں۔ انہی دستاویزات کے مطالعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب عراق پر برطانیہ کے تسلط کی مزاحمت شروع ہوئی تو برطانیہ کے حاکموں نے فوجی کمی کے پیش نظر فیصلہ کیا تھا کہ عراق پر دستی بم برسائے جائیں اور اس کی شہری آبادی کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جائے تاکہ یہ اپنے نو آبادیاتی حکمرانوں کے خلاف سر نہ اٹھا سکیں۔ عراقی شیعوں کی 1920ء میں برطانوی حکمرانوں کے خلاف بغاوت کے دوران برطانوی فضائی کمانڈ نے اپنے لندن کے وار آفس سے باغیوں کے خلای کیمیکل اسلحہ یا زہریلی گیس کے بم استعمال کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ اس دور میں کیمیکل بم ہی مہلک ترین تصور کئے جاتے تھے۔ مشرقی وسطیٰ کی برطانوی فضائی کمانڈ نے عراقی عوام کے خلاف ان بموں کو تجرباتی نتائج کی ضرورت کے تحت استعمال کرنے کا جواز پیش کیا تھا۔ وار آفس لندن کے افسر مجاز نے لکھا ہے کہ ’’اس نے ان کمزور دلوں کی مخالفت کو مسترد کر دیا تھا جنہوں نے غیر مہذب عربوں کے خلاف زہریلی گیس کے بمبوں کے استعمال کی مخالفت کی تھی۔ اس نے اپنے نوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’ عربوں کے خلاف زہریلی گیس کے بم استعمال کر کے ہم دراصل ماڈرن سائنس کو جنگی مقاصد سے متعارف کروائیں گے۔ ہم اپنے آپ کو کسی ایسے اسلحے سے محروم نہیں رکھ سکتے جو ہمیں ہماری سرحدوں پہ ہونے والے شورشوں کو دبانے اور کچلنے میں مدد دے سکتا ہے‘‘ ۔ لندن کے وار آفس کا یہ افسرِ خاص سر ونسٹن چرچل تھا۔ امریکا اور برطانیہ کے آج کے نام نہاد با اصول سیاسی مد برا اگرچہ بھول چکے ہیں مگر تیسری دنیا کے عوم اسے نہیں بھول سکتے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا اور برطانیہ نے اس خطے میں پروٹیکٹریٹ یا زیر حفاظت خطے کی اس حکمت عملی کو اپنایا تھا جس کی بنیاد لارڈ کرزن نے رکھی تھی۔ لارڈ کرزن نے 1920ء میں یہ اصول وضع کیا تھا کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کے لئے ممکن نہ رہا تھا کہ وہ اپنی نو آبادیوں کو براہ راست کنٹرول کر سکیں۔ لارڈ کرزن نے یہ فارمولا ایجاد کیا تھا کہ محکوم قوموں کو معمولی اختیارات دے دئیے جائیں اور خود پس پشت رہ کر ان پر حکومت کی جائے۔ یہ جدید نو آبادیاتی نظام کی تھیوری تھی جو دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی قیادت اور برطانوی معاونت کے ساتھ تیسری دنیا کے ممالک پر مسلط کی گئی تھی۔ مشرق واسطیٰ میں انہوں نے چند عرب چہروں کو جاہ و جلال اور تخت و تاج دے کر خود ان کی وساطت سے ان کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا۔ امریکی دفتر خارجہ تیل کے ان بے اندازہ ذخائر کو انسانی تاریخ کا سب سے اہم انعام قرار دیتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اس خطے کی لوٹ کھسوٹ کے سلسلے میں اختلافات بھی پیدا ہوتے رہے ہیں لیکن جیت ہمیشہ امریکہ کی ہوئی ہے۔
1958ء میںاینگلو امریکن مفادات کو پہلی زد اس وقت پڑی جبعراق میں قوم پرست افسروں کے ایک گروہ نے سامراجی طاقتوں کے مقرر کردہ ایجنٹوں کا تختہ الٹ دیا۔ امریکہ اور برطانیہ کی پریشانی ایک فطری بات تھی۔ امریکا کا پہلا ردعمل یہ تھا کہ اس سے پہلے کہ عراق کویت میں داخل ہو امریکی میرین فوجی کو لبنان پہنچا دیا جائے۔ امریکا کے اس وقت کے صدر آئزن ہاور نے ہدایت جاری کی تھی کہ عراقی فوجوں کو کویت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے کسی بھی نوعیت کا اسلحہ اگر استعمال کرنا پڑے تو ضرور استعمال کیا جائے۔ آئزن ہاور کے ان الفاظ کا اس وقت یہی مطلب لیا گیا کہ عراق کے خلاف ایٹمی اسلحہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس زمانے کے بات ہے جب مصر کے جمال عبدالناصر کو ہٹلر کا بھو ت تصور کیا جاتا تھا اور عرب قوم پرستی کے تصور کو سنگین غلطی سمجھا جاتا تھا۔ کویت اس وقت ایک آزاد اور خود مختار ریاست نہ تھا۔ یہ برطانیہ کے زیر حفاظت ایک نو آبادی تھا اور برطانیہ کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ کہیں عراق کی تقلید میں کویت میں بھی قوم پرست بغاوت نہ کر دیں۔ برطانوی دستاویزات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ برطانوی وزیر خارجہ اس بحران کے دوران بغیر کسی تاخیر کے واشنگٹن پہنچا تھا تاکہ کویت کو بچانے کے لئے امریکی حکمرانوں کے ساتھ مشورہ کر سکے۔ چنانچہ واشنگٹن میں صلاح مشورے کے بعد لارڈ کرزن کے فارمولے کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ کویت کو نام نہاد قسم کی خود مختاری دے دی جائے تاکہ انقلاب کا راستہ روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور امریکہ نے اپنے لئے یہ حقوق محفوظ رکھے کہ کسی بھی ناپسندیدہ صورتحال میں وہ کویت میں اپنے مفادات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی مداخلت کر سکیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان یہ بھی معاہدہ ہوا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے علاقوں کو انہوں نے قابو میں رکھنا ہے اور یہ کہ اگر تیل کے اس خطے کو کوئی بھی خطرہ لاحق ہو جائے تو برطانیہ کے تعاون سے امریکہ کو اس خطے میں فوجی مداخلت کاحق حاصل ہو گا۔
اب جہاں تک عراق اور کویت کے تنازعہ کا تعلق ہے تو یہ تاریخی بے انصافی کے پس منظر کے ساتھ پہلے سے موجود چلا آرہا ہے۔ 1920 ء میں برطانوی سامراج نے اس علاقے کی بندر بانٹ کے ذریعے جو نقشہ بنایا تھا اس کے مطابق عراق کو آبی راستوں سے کاٹ دیا گیا تھا۔ دو غیر آباد جزیرے جو عراق کو خلیج میں رسائی فراہم کر سکتے تھے، کویت کو دے دیئے گئے جو اس وقت برطانوی تحفظ میں تھے۔ تنازعہ کی دوسری وجہ رومیلا کے تیل کے ذخائر کاعلاقہ ہے جو 89[L: 37] عراقی سرحدوں میں واقع ہے اور دومیل کا علاقہ کویت کی سرحد کے اندر ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سرحد بھی متنازعہ ہے۔ ڈپلومیسی کے ذریعے اس سے زیادہ سنگین تنازعات حل کئے جا چکے ہیں اور یقینا اگر امریکہ چاہتا تو عراق اورکویت کا یہ تنازعہ بھی ایک بھیانک قتل عام کے بغیر ہی حل ہو سکتا تھا اور عراق اس تنازعہ کے حل کے لئے آمادہ بھی تھا۔ سینٹر نوام شومسکی (امریکی دنشور) کا کہنا ہے کہ عراق نے اس تنازعے کے حل کے لئے ایک سے زیادہ تجاویز پیش کی تھیں لیکن امریکی حکمرانوں نے اس کی کسی بھی تجویز کو درخوراعتناء نہ سمجھا ۔ امریکی دفتر خارجہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھا کہ عراق اور کویت کے درمیان تنازعہ کی ایک ٹھوس بنیاد موجود ہے اور ڈپلو میسی کے ذریعے اس کو حل بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کا خیال تھا کہ اگر انہوں نے اس تنازعہ کو حل کرنے کی سعی کی تو مشرقِ وسطیٰ میںان کی بچھائی ہوئی بساط چوپٹ ہو جائے گی اور ان کو وہ مقاصد حاصل نہ ہو سکیں گے جو اس تنازعہ کے حوالے سے وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ نوام شومسکی کے مطابق عراق اس شرط پر کویت سے نکل جانے پر آمادہ تھا کہ دو غیر آباد جزیروں پر اس کے برائے نام کنٹرول کو تسلیم کیا جائے یا یہ دونوں جزیرے اس کو 99سال کے لئے پٹے پر دیئے جائیں۔ اس کی دوسری شرط یہ تھی کہ رومیلہ پر عراق کا حق ملکیت تسلیم کیا جائے۔
عراق کے اس مصالحتی رویے کی رپو رٹ نیور یارک ٹائمز نے خاص وجوہات کی بنا ء پر دبا لی تھی، جس کا بعد میں اس نے اعتراف بھی کیا تھا۔ عراق کی ان مصالحتی تجاویز کی کہانی کے درست اور مستند ہونے کا ثبوت یہ بھی تھا کہ عراق کی یہ پیشکش سنجیدہ بھی تھی اور قابل غور بھی۔ یہ رپورٹ ۲ جنوری۱۹۹۱ء کو امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بھی ہوئی جبکہ ایک مقامی علاقائی قسم کے اخبار نیوز ڈے میں شائع ہوئی مگر نیو یارک ٹائمز نے یہ رپورٹ پھر بھی شائع نہ کی۔ اس رپورٹ کے مطابق عراق نے اس بات کی ضمانت طلب کی تھی کہ کویت سے عراقی فوجو ں کے انخلاء کے دوران ان پرحملہ نہ کیا جائے۔ عراق نے عرب اسرائیل تنازعہ کی طرف بھی امریکی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی تھی اور یہ چاہا تھا کہ کویت سے عراقی فوجوں کے انخلاء کے مسئلے کے حوالے سے عرب علاقوں سے اسرائیل فوجوں کے انخلاء کے ضمن میں بھی سلامتی کونسل یقین دہانی کرائے۔
امریکی دفتر خارجہ کے اپنے تبصر ے اور اپنے اخذ کردہ نتائج کے حوالے سے عراق نے جو پوزیشن حاصل کر لی تھی اس میں یہ بات نمایاں تھی کہ عراق کویت پر اپنے ملکیتی دعوے سے دستبردار ہو گیا تھا۔ امریکی دفتر خارجہ کے مبصر کے مطابق کسی قسم کے مذاکرات سے پہلے عراق نے جوپوزیشن حاصل کر لی تھی وہ خاصی دلچسپ اور سنجیدہ تھی۔ اگر ایسا ہی تھا تو پھر امریکی اور برطانیہ نے اس صورتحال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا اور مشرقِ وسطیٰ کی تباہی سے گریز کیوں نہ کیا؟
سلامتی کونسل اور امریکی دانشور آج کھل کر امریکی صدر جارج بش کوتنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ نو مبر میںہونے والے امریکی انتخابات میں ری پبلیکنز کو فتح دلانے کے لئے اور امریکی عوام کی توجہ اندرونی کرپشن ، لوٹ کھسوٹ، قتل وغارت اور بتدریج گرتی ہوئی اقتصادیات سے ہٹانے کے لئے صدر جارج بش عراق کے نہتے شہریوں اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب عراق کے پڑوسی ممالک مصر، شام ،اردن اور سعودیہ یہ کہتے رہے ہیں کہ عراق تباہ کن اسلحہ نہیں رکھتا اور نہ ہی بنا رہاہے تو امریکا کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے ؟ صرف حرکت کرتے ہوئے ٹرکوں کی سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل کی ہوئی تصاویر؟
بات دراصل یہ ہے کہ اگر امریکی صدر اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ میں تباہی اور ہلاکت پھیلاتے ہیں تو وہ کوئی نیا کام نہیں کر رہے۔ سابقہ امریکی صدر جارج بش جو کہ حالیہ صدر کے والد بھی ہیں، نے اپنی داخلہ پالیسیوں کی ناکامی اور اپنے بیٹے نیل کے ایک بہت بڑے غبن میں ملوث ہونے کی پریشانی سے گھبرا کر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھیڑدی تھی۔ صدر رونالڈریگن نے بھی امریکی اقتصادیات پر پردہ ڈالنے کے لئے سٹاروار کا شوشہ چھوڑا تھا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے تیسری دنیا اور دوسرے خطوں میں صرف اپنے مفادات کو ہی سامنے رکھا ہے اور ہمیشہ ڈپلومیسی کی بجائے فوج کشی کو ترجیح دی ہے۔ امریکا کی مختصر تاریخ میں امریکی صدور نے ایک سو تیس سے زائد مرتبہ بیرونی جنگوں میں شرکت کے لئے اپنے فوجی روانہ کئے۔ ’’ٹائمز‘‘ ۱۵ اکتوبر۱۹۹۰ء کے شمارے میں بار برا رالخ نے لکھا ہے ’’امریکی ثقافت جنگجو ثقافت ہے‘‘۔ امریکی تاریخ میں ریڈانڈینوں کے قتل عام ، ہند چینی، لبنان، ڈومینکن ری پبلک، گریناڈا، وسطی امریکہ اور خلیج فارس میں جنگی مداخلت جیسے جرائم موجود ہیں‘‘۔
صرف پانامہ میں فوجی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف ایک رات میں ۲۰ ہزار شہری قتل کئے گئے اور اس فتح کے بعد پانامہ میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی گئی جو پانامہ میں8[L: 37]یورپی اقلیت ہے۔ جس نے امریکہ کو ضمانت دی تھی کہ پانامہ کنال کا معاہدہ امریکی مفاد کے مطابق قابل تجدید تصور کیا جائے گا۔ امریکہ نے اپنی اس فتح کو جمہوریت قرار دیا ہے۔ اسی طرح انڈونیشیا کے جزیرے مشرقی تیمور میں سوہارتو کی فوجی کاروائیوں کی مثال بھی اک بھیانک مثال ہے۔ جس میں امریکہ کے منفی رویے کے نتیجے میں یا امریکی سر پرستی کے بنا پر کئی لاکھ افراد قتل کئے گئے تھے اور اقوام متحدہ کے ہاتھ اور پاؤں بندھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مغربی دانشوروں کا کہنا ہے کہ نازی جرمنی میں یہودیوں کے قتل عام یا نسل کشی کے واقع کے بعد انڈونیشیا کی فوجوں کے ہاتھوں قتل عام کو تاریخ کی دوسری بدترین مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ امریکہ نے صدر سوہار تو کے اس قتل عام کی زبردست حمایت کی تھی اور امریکہ اور برطانیہ، انڈونیشیا کو اسلحہ فراہم کر نے والوں میں سر فہرست تھے۔
سابق امریکی صدر جمی کارٹر جس کا دعویٰ تھا کہ انساتی حقوق اس کی خارجہ پالیسی کی روح ہو نگے، انڈونیشیا کے معاملے میں اپنے دعوے کے خلاف کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔جب اس نے مشرقی تیمور اور جاوا کے علاقوں میں قتل عام کی مہم میں سوہارتو کی مدد کی تھی اور بہت ہی برق رفتاری کے ساتھ اسلحے کے تازہ ذخائر فراہم کئے تھے تاکہ انڈونیشی عوام کے قتل عام میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اقوام متحدہ میں اس و قت کے امریکی سفیر سینٹر مونیہان اس قتل عام کے بارے میں امریکی کردار کی یو ں وضاحت کرتے ہیں:
’’امریکا انڈونیشیا کی صورتحال کے وہی نتائج حاصل کرنا چاہتا تھا جو نیتجتاً حاصل ہوئے ۔ میرے ذمے یہ کام ڈالا گیا تھا کہ میں اقو ام متحدہ کو کوئی ایسا کردار ادا نہ کرنے دوں جو مطلوبہ نتائج کے منافی ہو۔ میں نے یہ فرض غیر معمولی کامیابی کے ساتھ ادا کیا، ایک اندازے کے مطابق اس مہم میں ساٹھ ہزار لوگ مارے گئے ہیں،تقریباً اتنے ہی یہودی نازیوں کے ہاتھوں مشرقی یورپ میں مارے گئے تھے‘‘۔
امریکی سینٹر نے اس قتل عام کے بارے میں نہایت ہی انکساری سے کام لیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ قتل کئے گئے تھے۔ اسرائیل نے ۱۹۸۲ء میں لبنان پر حملہ کیا جس کا کوئی جواز نہ تھا اور جو کسی بھی اشتعال انگیزی کے بغیر عمل میں آیا تھا اور جس کے نتیجے میں ۲۰ ہزار لبنانی قتل ہوئے۔ لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کے خلاف کوئی پابندی نافذ کرنے کا اعلان نہ کیا(جبکہ عراق کے خلاف فوراً یہ کام کیا گیا) محض ایک بیان جاری کیا گیا کہ اسرائیل لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلائے۔ امریکہ نے اس سیدھے سادھے اور بے ضرر مطالبے کو بھی ویٹو کر دیا اور اس کی بہت ہی سادہ وجہ یہ تھی کہ اسرائیل کی جارحیت امریکہ کی مرضی کے مطابق تھی۔ جبکہ اسرائیل جارحیت عراق کی کویت کے خلاف جارحیت سے بہت بدتر تھی۔
پروفیسر سٹیفن ای۔ ایمبروزکے بقول:
’’امریکہ نے کیو با پر حملے کی تائید کی اور دنیا بھر کی حلیف حکومتوں میں اسلحہ کے انبار تقسیم کئے۔ کوریا اور ویتنام میں جنگی مہموںپرخطیر رقوم صرف کیں۔ پانامہ اور عراق میں مسلح مداخلت کی۔ لیبیا پر حملہ کیا، نگارا گوا کے باغیوں کی خفیہ امداد کی، ایران میں خفیہ سرگرمیوں کی سر پرستی کی اور چِلی میں مجرمانہ کردار ادا کیا‘‘۔
سابقہ صدر بش نے اپنے خونوشت سوانح حیات میں لکھا ہے کہ ’’ صدر ہینری ٹرومین کا ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے کا فیصلہ جرأت مندانہ ہی نہیں، دانشمندانہ بھی تھا‘‘۔
۱۹۸۸ء کو پانامہ کے آمرمینوئل نوریگا کو پکڑ نے کے لئے سابقہ صدر بش نے ۸۲ء ویں ہوائی ڈویژن کے ۲۴ ہزار فوجی پانامہ روانہ کئے تھے۔ اس مہم سے دو سے چار ہزار شہری ہلاک ہوئے اور پانامہ کی ایک نواحی بستی دھواں دیتے ملبے اور جلے انسانی اعضاء کا ڈھیر بن کر رہ گئی۔گیری اوسلیون نے امریکی رسالے ’’ہیو مینسٹ‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’معصوم بچوں پر امریکی ہوائی جہازوں سے گولیاں برسائی گئیں‘‘۔
افغانستان میں اسامہ بن لادن کی تباہی کیلئے جو بمبار ی ہو رہی ہے گزشتہ دنوں ایک پورا گاؤں جو شادی کی تقریب میں شامل تھا لقمہ اجل بن گیا۔ اسرائیل کو فلسطین میں قتل عام کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ ان حالات میں تیسری دنیا کے ممالک میں امریکہ اور برطانیہ کے خلاف ایک لاشعوری نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ بیشک امریکی تھنک ٹینک اور دانشور اب اسے ’’تہذیبوں کا ٹکر اؤ ‘‘ سے تعبیر کریں یا دہشتگردی کا نام دیں مگر حقیقت میں یہ سب ان کے ظلم و جبر اور بربریت کے خلاف علمِ بغاوت ہے۔ امریکی صدر نے 11ستمبر کے واقعہ کے فوراً بعد ’’صلیبی جنگ‘‘ کا الفاظ استعمال کیا تھاایسا کرکے انہوں نے اسامہ بن لادن کو مذہبی نمائندہ قرار دے کر افغانستان میں مداخلت اور اپنی موجودگی کا جواز پیدا کیا تھا۔ اسی اسامہ بن لادن کے خلاف جو اسکا اپنا بنایا ہوا ہے جسے وہ سوویت یونین کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے۔ مگر صدر بش یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ’’صلیبی جنگ‘‘ کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں بسنے والے مسیحیوں کوعدم تحفظ کا شکار کر دے گا اور ایسا ہوا بھی۔
مگر تشویشناک امر یہ ہے کہ نہ تو برطانیہ اور نہ ہی امریکا نے تاریخ اور بدلتی تیسری دنیا سے کوئی سبق سیکھا ہے۔ وہ اپنی عسکری دھونس اور بربریت کو نہ صرف جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں بلکہ مستقبل میں بھی اس
سے ہاتھ کھینچنے کا ان کا کوئی ارادہ نظرنہیں آتا۔ مگر وطن عزیز میں ہم امریکا اور برطانیہ کے خلاف ردعمل کے طور پر معصوم اور بے گناہ مسلمان پاکستانیوںکو خود کش حملوںاور دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیںایسا کر کے ہم در اصل امریکی مفادات کو ہی تقویت پہنچا رہے ہیں۔ہمارے مذہبی گروہوں کو سوچنا چاہئے کہ کیا وہ معصوم اور بیگناہ پاکستانی جو ان کے خود کش حملوں یا دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں ان کا امریکا سے کیا ناطہ ہے۔۔۔؟مگر جس دہشت گردی کی لہر نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے وہ تب تک ختم نہیں ہو سکتی، جب تک برطانیہ اور امریکاتیسری دنیا کو مکمل آزادی نہیں دے دیتے اور دست کش ہو کر اپنے کردار پر نظر ثانی نہیں کرتے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ اگر پوری تیسری دنیا اس اینگلوامریکن گٹھ جوڑ کے خلاف یکجا ہو کر علمِ بغاوت بلند کر دیتے ہیں تو کیا ہو گا؟
صدر بش کا متذکرہ بیان نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ صرف اور صرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنے حملوں اور فوجی کاروائیوں کے تسلسل کے لئے جواز فراہم کرناتھا۔اور اس بات کی غمازی بھی کرتا ہے کہ امریکی پالیسی ساز اداروں ’’پینٹا گون ،نیشنل سکیورٹی کونسل اور سی آئی اے‘‘ نے پاکستان کے بارے میں اپنی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی،امریکن سینیٹرز کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد امریکی پریس کو بریفنگ کے دوران ان سینیٹرز نے الزام لگایا کہ’’ القاعدہ‘‘پاکستان میں ایک بار پھر منظم ہو رہی ہے بلکہ طاقتور ہو گئی ہے ۔اگر دیکھا جائے توپاکستان کے بارے میں یہ صدر بش کے سابقہ بیان کا ہی تسلسل ہے،جبکہ صدر بش سے پیشتر سی آئی اے کے سربراہ مائیکل ہیڈن بھی پاکستان کے قبائیلی علاقوں میںامریکی عسکری کاروائیوں کو امریکی مفاد قرار دے چکے ہیں۔جو کہ عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اب پاکستان اور عالمی ضمیر کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ امریکی مفادات دہشت گردی کو طول دینے اور میڈل ایسٹ کے ساتھ ساتھ اس خطے میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔
اگر حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھا جائے تو اس دہشت گردی کی بنیاد خود امریکا نے ہی رکھی ہے تاریخ شاہد ہے کہ امریکا دنیا میں اپنی عسکری دہشت کو قائم رکھنے کے لئے کئی مرتبہ بے گناہ انسانوں کا خون بہا چکا ہے۔صرف پانامہ میں ایک رات میں پچیس ہزار بے گناہ انسانوں کو امریکی افواج نے لقمہء اجل بنایا۔اب تو یہ بات بھی متنازعہ ہے کہ آیا نائن الیون کو ورلڈٹریڈ سنٹر پر حملہ القاعدہ نے کیا تھا یا خود صدر جاج بش کی حکومت نے۔کیونکہ امریکی تحقی٘قی اداروں کی جانب سے سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق تو یہ سب کچھ ’’اندر ‘‘سے ہو۔اور ایسا کر کے امریکی انتطامیہ نے در اصل اسلامی ریاستوں کو اسکی عراق اور سعودیہ میں موجودگی کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنا تھا۔اس مقصد کے حصول کے لئے اس نے اب تک مسلمان ممالک میں جس بربریت کا مظاہرہ کیا ہے یہ یقینا اسی کا ردعمل ہے جو ’’اسلامی انتہا پسند گروپ‘‘ پاکستان میں خود کش حملوں ،عسکری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کی صورت میں کر رہے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو نائن الیون کے بعد نہ تو امریکا میں ہی اور نہ ہی یورپ میں کوئی ایسی بڑی دہشت گردی ہوئی ہے جتنی پاکستان میںہوئی ہیں۔ اور امریکا یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جس بربریت کا مظاہر ہ کویت، فلسطین اور افغانستان میں جاری رکھے ہوئے ہیں، اس سے ان کے خلاف اسلامی ممالک میں شدید نفرت جڑپکڑ چکی ہے۔ یہ لہر دراصل برطانوی اور امریکی گٹھ جوڑ کے خلاف علمِ بغاوت ہے۔ جس میں بے گناہ انسان لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اسے شروع کرنے اور ہوا دینے والوں کی تاریخ اور مقاصدکیا ہیں، اوران کے مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ بھی لیا جائے۔ یہ بات میں پہلے ہی اپنے مضامین اور کالموں کی وساطت سے عرض کر چکا ہوں کہ یہ دور ’’مذہبی رشتے‘‘ استوار کرنے کا دو ر نہیں بلکہ ’’معاشی رشتے داریوں ‘‘ کا دور ہے۔ دوسروں کے ’’قدرتی وسائل اور افرادی قوت‘‘ کو قابو کرنے کا دور ہے۔اور اینگلو امریکن اتحادصرف اور صرف ان کے حصول کے لئے ہی سب کچھ کر رہا ہے۔ اس سارے عمل سے متعلق حقائق جاننے کے لئے ماضی میں جھانکنا ضروری ہے۔
11ستمبر 2001ء سے لے کر اب تک جتنے بھی دہشت گرد گرفتار ہوئے ہیں وہ تقریباً سعودی، مصری یا بالعموم عرب ہیں۔پہلی عالمی جنگ کے بعدامریکہ اور برطانیہ ہی دو ایسی طاقتیں رہی ہیں جو اس خطے میں اپنی مرضی کے مطابق سیاسی ا ور ریاستی جوڑ توڑ کرتی رہی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے تک برطانیہ اور فرانس کا عمل دخل اس خطے میں رہا ہے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور برطانیہ کا گٹھ جوڑ عمل میں آیا، جس میں امریکہ کو ایک بڑے حصے دار کا درجہ دیا گیا تھا۔ تاریخ دوسری عالمی جنگ سے پہلے کے معاملات کی تفصیلات بھی پیش کرتی ہے۔ جنہیں امریکہ اور مغربی ممالک کے دانشور زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ لیکن تیسری دنیا کے عوام انہیں اب بھی بھلانے کے لیے تیار نہیں ۔ برطانیہ نے پہلی عالمی جنگ کے لگ بھگ عراق پر تصرف حاصل کر لیا تھا۔ جب خلافت عثمانیہ کا شیرازہ بکھرا تھا، تو یہ وہ زمانے تھا جب برطانوی ریاست بہت بہت وسیع سمجھی جاتی تھی اور برطانیہ کے لئے فوجی طاقت سے اپنی اس وسیع سلطنت پر کنٹرول رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔ پہلی عالمی جنگ نے برطانیہ کو فوجی طور پر کمزر بھی کر دیا تھا چنانچہ انہوں نے وہی کچھ کیا جو زوال پذیر ریاستیں کیا کرتی ہیں۔ یعنی تشدد اور دہشت گردی کی لاتعداد مثالیں تاریخ کے اوراق پر نظر آتی ہیں۔برصغیر کی تاریخ میں جلیا نوالہ باغ، لاہور اور پشاور میں اجتماعی جلوسوں اور جلسوں پر گولی چلانے اور قتل عام کے حوالوں سے بھری پڑی ہے۔ برطانیہ کے ان تاریخی کارناموں کی دستاویزاب عام مطالعہ کے لئے دستیاب ہیں۔ انہی دستاویزات کے مطالعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب عراق پر برطانیہ کے تسلط کی مزاحمت شروع ہوئی تو برطانیہ کے حاکموں نے فوجی کمی کے پیش نظر فیصلہ کیا تھا کہ عراق پر دستی بم برسائے جائیں اور اس کی شہری آبادی کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جائے تاکہ یہ اپنے نو آبادیاتی حکمرانوں کے خلاف سر نہ اٹھا سکیں۔ عراقی شیعوں کی 1920ء میں برطانوی حکمرانوں کے خلاف بغاوت کے دوران برطانوی فضائی کمانڈ نے اپنے لندن کے وار آفس سے باغیوں کے خلای کیمیکل اسلحہ یا زہریلی گیس کے بم استعمال کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ اس دور میں کیمیکل بم ہی مہلک ترین تصور کئے جاتے تھے۔ مشرقی وسطیٰ کی برطانوی فضائی کمانڈ نے عراقی عوام کے خلاف ان بموں کو تجرباتی نتائج کی ضرورت کے تحت استعمال کرنے کا جواز پیش کیا تھا۔ وار آفس لندن کے افسر مجاز نے لکھا ہے کہ ’’اس نے ان کمزور دلوں کی مخالفت کو مسترد کر دیا تھا جنہوں نے غیر مہذب عربوں کے خلاف زہریلی گیس کے بمبوں کے استعمال کی مخالفت کی تھی۔ اس نے اپنے نوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’ عربوں کے خلاف زہریلی گیس کے بم استعمال کر کے ہم دراصل ماڈرن سائنس کو جنگی مقاصد سے متعارف کروائیں گے۔ ہم اپنے آپ کو کسی ایسے اسلحے سے محروم نہیں رکھ سکتے جو ہمیں ہماری سرحدوں پہ ہونے والے شورشوں کو دبانے اور کچلنے میں مدد دے سکتا ہے‘‘ ۔ لندن کے وار آفس کا یہ افسرِ خاص سر ونسٹن چرچل تھا۔ امریکا اور برطانیہ کے آج کے نام نہاد با اصول سیاسی مد برا اگرچہ بھول چکے ہیں مگر تیسری دنیا کے عوم اسے نہیں بھول سکتے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا اور برطانیہ نے اس خطے میں پروٹیکٹریٹ یا زیر حفاظت خطے کی اس حکمت عملی کو اپنایا تھا جس کی بنیاد لارڈ کرزن نے رکھی تھی۔ لارڈ کرزن نے 1920ء میں یہ اصول وضع کیا تھا کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کے لئے ممکن نہ رہا تھا کہ وہ اپنی نو آبادیوں کو براہ راست کنٹرول کر سکیں۔ لارڈ کرزن نے یہ فارمولا ایجاد کیا تھا کہ محکوم قوموں کو معمولی اختیارات دے دئیے جائیں اور خود پس پشت رہ کر ان پر حکومت کی جائے۔ یہ جدید نو آبادیاتی نظام کی تھیوری تھی جو دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی قیادت اور برطانوی معاونت کے ساتھ تیسری دنیا کے ممالک پر مسلط کی گئی تھی۔ مشرق واسطیٰ میں انہوں نے چند عرب چہروں کو جاہ و جلال اور تخت و تاج دے کر خود ان کی وساطت سے ان کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا۔ امریکی دفتر خارجہ تیل کے ان بے اندازہ ذخائر کو انسانی تاریخ کا سب سے اہم انعام قرار دیتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اس خطے کی لوٹ کھسوٹ کے سلسلے میں اختلافات بھی پیدا ہوتے رہے ہیں لیکن جیت ہمیشہ امریکہ کی ہوئی ہے۔
1958ء میںاینگلو امریکن مفادات کو پہلی زد اس وقت پڑی جبعراق میں قوم پرست افسروں کے ایک گروہ نے سامراجی طاقتوں کے مقرر کردہ ایجنٹوں کا تختہ الٹ دیا۔ امریکہ اور برطانیہ کی پریشانی ایک فطری بات تھی۔ امریکا کا پہلا ردعمل یہ تھا کہ اس سے پہلے کہ عراق کویت میں داخل ہو امریکی میرین فوجی کو لبنان پہنچا دیا جائے۔ امریکا کے اس وقت کے صدر آئزن ہاور نے ہدایت جاری کی تھی کہ عراقی فوجوں کو کویت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے کسی بھی نوعیت کا اسلحہ اگر استعمال کرنا پڑے تو ضرور استعمال کیا جائے۔ آئزن ہاور کے ان الفاظ کا اس وقت یہی مطلب لیا گیا کہ عراق کے خلاف ایٹمی اسلحہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس زمانے کے بات ہے جب مصر کے جمال عبدالناصر کو ہٹلر کا بھو ت تصور کیا جاتا تھا اور عرب قوم پرستی کے تصور کو سنگین غلطی سمجھا جاتا تھا۔ کویت اس وقت ایک آزاد اور خود مختار ریاست نہ تھا۔ یہ برطانیہ کے زیر حفاظت ایک نو آبادی تھا اور برطانیہ کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ کہیں عراق کی تقلید میں کویت میں بھی قوم پرست بغاوت نہ کر دیں۔ برطانوی دستاویزات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ برطانوی وزیر خارجہ اس بحران کے دوران بغیر کسی تاخیر کے واشنگٹن پہنچا تھا تاکہ کویت کو بچانے کے لئے امریکی حکمرانوں کے ساتھ مشورہ کر سکے۔ چنانچہ واشنگٹن میں صلاح مشورے کے بعد لارڈ کرزن کے فارمولے کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ کویت کو نام نہاد قسم کی خود مختاری دے دی جائے تاکہ انقلاب کا راستہ روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور امریکہ نے اپنے لئے یہ حقوق محفوظ رکھے کہ کسی بھی ناپسندیدہ صورتحال میں وہ کویت میں اپنے مفادات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی مداخلت کر سکیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان یہ بھی معاہدہ ہوا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے علاقوں کو انہوں نے قابو میں رکھنا ہے اور یہ کہ اگر تیل کے اس خطے کو کوئی بھی خطرہ لاحق ہو جائے تو برطانیہ کے تعاون سے امریکہ کو اس خطے میں فوجی مداخلت کاحق حاصل ہو گا۔
اب جہاں تک عراق اور کویت کے تنازعہ کا تعلق ہے تو یہ تاریخی بے انصافی کے پس منظر کے ساتھ پہلے سے موجود چلا آرہا ہے۔ 1920 ء میں برطانوی سامراج نے اس علاقے کی بندر بانٹ کے ذریعے جو نقشہ بنایا تھا اس کے مطابق عراق کو آبی راستوں سے کاٹ دیا گیا تھا۔ دو غیر آباد جزیرے جو عراق کو خلیج میں رسائی فراہم کر سکتے تھے، کویت کو دے دیئے گئے جو اس وقت برطانوی تحفظ میں تھے۔ تنازعہ کی دوسری وجہ رومیلا کے تیل کے ذخائر کاعلاقہ ہے جو 89[L: 37] عراقی سرحدوں میں واقع ہے اور دومیل کا علاقہ کویت کی سرحد کے اندر ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سرحد بھی متنازعہ ہے۔ ڈپلومیسی کے ذریعے اس سے زیادہ سنگین تنازعات حل کئے جا چکے ہیں اور یقینا اگر امریکہ چاہتا تو عراق اورکویت کا یہ تنازعہ بھی ایک بھیانک قتل عام کے بغیر ہی حل ہو سکتا تھا اور عراق اس تنازعہ کے حل کے لئے آمادہ بھی تھا۔ سینٹر نوام شومسکی (امریکی دنشور) کا کہنا ہے کہ عراق نے اس تنازعے کے حل کے لئے ایک سے زیادہ تجاویز پیش کی تھیں لیکن امریکی حکمرانوں نے اس کی کسی بھی تجویز کو درخوراعتناء نہ سمجھا ۔ امریکی دفتر خارجہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھا کہ عراق اور کویت کے درمیان تنازعہ کی ایک ٹھوس بنیاد موجود ہے اور ڈپلو میسی کے ذریعے اس کو حل بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کا خیال تھا کہ اگر انہوں نے اس تنازعہ کو حل کرنے کی سعی کی تو مشرقِ وسطیٰ میںان کی بچھائی ہوئی بساط چوپٹ ہو جائے گی اور ان کو وہ مقاصد حاصل نہ ہو سکیں گے جو اس تنازعہ کے حوالے سے وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ نوام شومسکی کے مطابق عراق اس شرط پر کویت سے نکل جانے پر آمادہ تھا کہ دو غیر آباد جزیروں پر اس کے برائے نام کنٹرول کو تسلیم کیا جائے یا یہ دونوں جزیرے اس کو 99سال کے لئے پٹے پر دیئے جائیں۔ اس کی دوسری شرط یہ تھی کہ رومیلہ پر عراق کا حق ملکیت تسلیم کیا جائے۔
عراق کے اس مصالحتی رویے کی رپو رٹ نیور یارک ٹائمز نے خاص وجوہات کی بنا ء پر دبا لی تھی، جس کا بعد میں اس نے اعتراف بھی کیا تھا۔ عراق کی ان مصالحتی تجاویز کی کہانی کے درست اور مستند ہونے کا ثبوت یہ بھی تھا کہ عراق کی یہ پیشکش سنجیدہ بھی تھی اور قابل غور بھی۔ یہ رپورٹ ۲ جنوری۱۹۹۱ء کو امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بھی ہوئی جبکہ ایک مقامی علاقائی قسم کے اخبار نیوز ڈے میں شائع ہوئی مگر نیو یارک ٹائمز نے یہ رپورٹ پھر بھی شائع نہ کی۔ اس رپورٹ کے مطابق عراق نے اس بات کی ضمانت طلب کی تھی کہ کویت سے عراقی فوجو ں کے انخلاء کے دوران ان پرحملہ نہ کیا جائے۔ عراق نے عرب اسرائیل تنازعہ کی طرف بھی امریکی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی تھی اور یہ چاہا تھا کہ کویت سے عراقی فوجوں کے انخلاء کے مسئلے کے حوالے سے عرب علاقوں سے اسرائیل فوجوں کے انخلاء کے ضمن میں بھی سلامتی کونسل یقین دہانی کرائے۔
امریکی دفتر خارجہ کے اپنے تبصر ے اور اپنے اخذ کردہ نتائج کے حوالے سے عراق نے جو پوزیشن حاصل کر لی تھی اس میں یہ بات نمایاں تھی کہ عراق کویت پر اپنے ملکیتی دعوے سے دستبردار ہو گیا تھا۔ امریکی دفتر خارجہ کے مبصر کے مطابق کسی قسم کے مذاکرات سے پہلے عراق نے جوپوزیشن حاصل کر لی تھی وہ خاصی دلچسپ اور سنجیدہ تھی۔ اگر ایسا ہی تھا تو پھر امریکی اور برطانیہ نے اس صورتحال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا اور مشرقِ وسطیٰ کی تباہی سے گریز کیوں نہ کیا؟
سلامتی کونسل اور امریکی دانشور آج کھل کر امریکی صدر جارج بش کوتنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ نو مبر میںہونے والے امریکی انتخابات میں ری پبلیکنز کو فتح دلانے کے لئے اور امریکی عوام کی توجہ اندرونی کرپشن ، لوٹ کھسوٹ، قتل وغارت اور بتدریج گرتی ہوئی اقتصادیات سے ہٹانے کے لئے صدر جارج بش عراق کے نہتے شہریوں اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب عراق کے پڑوسی ممالک مصر، شام ،اردن اور سعودیہ یہ کہتے رہے ہیں کہ عراق تباہ کن اسلحہ نہیں رکھتا اور نہ ہی بنا رہاہے تو امریکا کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے ؟ صرف حرکت کرتے ہوئے ٹرکوں کی سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل کی ہوئی تصاویر؟
بات دراصل یہ ہے کہ اگر امریکی صدر اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ میں تباہی اور ہلاکت پھیلاتے ہیں تو وہ کوئی نیا کام نہیں کر رہے۔ سابقہ امریکی صدر جارج بش جو کہ حالیہ صدر کے والد بھی ہیں، نے اپنی داخلہ پالیسیوں کی ناکامی اور اپنے بیٹے نیل کے ایک بہت بڑے غبن میں ملوث ہونے کی پریشانی سے گھبرا کر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھیڑدی تھی۔ صدر رونالڈریگن نے بھی امریکی اقتصادیات پر پردہ ڈالنے کے لئے سٹاروار کا شوشہ چھوڑا تھا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے تیسری دنیا اور دوسرے خطوں میں صرف اپنے مفادات کو ہی سامنے رکھا ہے اور ہمیشہ ڈپلومیسی کی بجائے فوج کشی کو ترجیح دی ہے۔ امریکا کی مختصر تاریخ میں امریکی صدور نے ایک سو تیس سے زائد مرتبہ بیرونی جنگوں میں شرکت کے لئے اپنے فوجی روانہ کئے۔ ’’ٹائمز‘‘ ۱۵ اکتوبر۱۹۹۰ء کے شمارے میں بار برا رالخ نے لکھا ہے ’’امریکی ثقافت جنگجو ثقافت ہے‘‘۔ امریکی تاریخ میں ریڈانڈینوں کے قتل عام ، ہند چینی، لبنان، ڈومینکن ری پبلک، گریناڈا، وسطی امریکہ اور خلیج فارس میں جنگی مداخلت جیسے جرائم موجود ہیں‘‘۔
صرف پانامہ میں فوجی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف ایک رات میں ۲۰ ہزار شہری قتل کئے گئے اور اس فتح کے بعد پانامہ میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی گئی جو پانامہ میں8[L: 37]یورپی اقلیت ہے۔ جس نے امریکہ کو ضمانت دی تھی کہ پانامہ کنال کا معاہدہ امریکی مفاد کے مطابق قابل تجدید تصور کیا جائے گا۔ امریکہ نے اپنی اس فتح کو جمہوریت قرار دیا ہے۔ اسی طرح انڈونیشیا کے جزیرے مشرقی تیمور میں سوہارتو کی فوجی کاروائیوں کی مثال بھی اک بھیانک مثال ہے۔ جس میں امریکہ کے منفی رویے کے نتیجے میں یا امریکی سر پرستی کے بنا پر کئی لاکھ افراد قتل کئے گئے تھے اور اقوام متحدہ کے ہاتھ اور پاؤں بندھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مغربی دانشوروں کا کہنا ہے کہ نازی جرمنی میں یہودیوں کے قتل عام یا نسل کشی کے واقع کے بعد انڈونیشیا کی فوجوں کے ہاتھوں قتل عام کو تاریخ کی دوسری بدترین مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ امریکہ نے صدر سوہار تو کے اس قتل عام کی زبردست حمایت کی تھی اور امریکہ اور برطانیہ، انڈونیشیا کو اسلحہ فراہم کر نے والوں میں سر فہرست تھے۔
سابق امریکی صدر جمی کارٹر جس کا دعویٰ تھا کہ انساتی حقوق اس کی خارجہ پالیسی کی روح ہو نگے، انڈونیشیا کے معاملے میں اپنے دعوے کے خلاف کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔جب اس نے مشرقی تیمور اور جاوا کے علاقوں میں قتل عام کی مہم میں سوہارتو کی مدد کی تھی اور بہت ہی برق رفتاری کے ساتھ اسلحے کے تازہ ذخائر فراہم کئے تھے تاکہ انڈونیشی عوام کے قتل عام میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اقوام متحدہ میں اس و قت کے امریکی سفیر سینٹر مونیہان اس قتل عام کے بارے میں امریکی کردار کی یو ں وضاحت کرتے ہیں:
’’امریکا انڈونیشیا کی صورتحال کے وہی نتائج حاصل کرنا چاہتا تھا جو نیتجتاً حاصل ہوئے ۔ میرے ذمے یہ کام ڈالا گیا تھا کہ میں اقو ام متحدہ کو کوئی ایسا کردار ادا نہ کرنے دوں جو مطلوبہ نتائج کے منافی ہو۔ میں نے یہ فرض غیر معمولی کامیابی کے ساتھ ادا کیا، ایک اندازے کے مطابق اس مہم میں ساٹھ ہزار لوگ مارے گئے ہیں،تقریباً اتنے ہی یہودی نازیوں کے ہاتھوں مشرقی یورپ میں مارے گئے تھے‘‘۔
امریکی سینٹر نے اس قتل عام کے بارے میں نہایت ہی انکساری سے کام لیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ قتل کئے گئے تھے۔ اسرائیل نے ۱۹۸۲ء میں لبنان پر حملہ کیا جس کا کوئی جواز نہ تھا اور جو کسی بھی اشتعال انگیزی کے بغیر عمل میں آیا تھا اور جس کے نتیجے میں ۲۰ ہزار لبنانی قتل ہوئے۔ لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کے خلاف کوئی پابندی نافذ کرنے کا اعلان نہ کیا(جبکہ عراق کے خلاف فوراً یہ کام کیا گیا) محض ایک بیان جاری کیا گیا کہ اسرائیل لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلائے۔ امریکہ نے اس سیدھے سادھے اور بے ضرر مطالبے کو بھی ویٹو کر دیا اور اس کی بہت ہی سادہ وجہ یہ تھی کہ اسرائیل کی جارحیت امریکہ کی مرضی کے مطابق تھی۔ جبکہ اسرائیل جارحیت عراق کی کویت کے خلاف جارحیت سے بہت بدتر تھی۔
پروفیسر سٹیفن ای۔ ایمبروزکے بقول:
’’امریکہ نے کیو با پر حملے کی تائید کی اور دنیا بھر کی حلیف حکومتوں میں اسلحہ کے انبار تقسیم کئے۔ کوریا اور ویتنام میں جنگی مہموںپرخطیر رقوم صرف کیں۔ پانامہ اور عراق میں مسلح مداخلت کی۔ لیبیا پر حملہ کیا، نگارا گوا کے باغیوں کی خفیہ امداد کی، ایران میں خفیہ سرگرمیوں کی سر پرستی کی اور چِلی میں مجرمانہ کردار ادا کیا‘‘۔
سابقہ صدر بش نے اپنے خونوشت سوانح حیات میں لکھا ہے کہ ’’ صدر ہینری ٹرومین کا ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے کا فیصلہ جرأت مندانہ ہی نہیں، دانشمندانہ بھی تھا‘‘۔
۱۹۸۸ء کو پانامہ کے آمرمینوئل نوریگا کو پکڑ نے کے لئے سابقہ صدر بش نے ۸۲ء ویں ہوائی ڈویژن کے ۲۴ ہزار فوجی پانامہ روانہ کئے تھے۔ اس مہم سے دو سے چار ہزار شہری ہلاک ہوئے اور پانامہ کی ایک نواحی بستی دھواں دیتے ملبے اور جلے انسانی اعضاء کا ڈھیر بن کر رہ گئی۔گیری اوسلیون نے امریکی رسالے ’’ہیو مینسٹ‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’معصوم بچوں پر امریکی ہوائی جہازوں سے گولیاں برسائی گئیں‘‘۔
افغانستان میں اسامہ بن لادن کی تباہی کیلئے جو بمبار ی ہو رہی ہے گزشتہ دنوں ایک پورا گاؤں جو شادی کی تقریب میں شامل تھا لقمہ اجل بن گیا۔ اسرائیل کو فلسطین میں قتل عام کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ ان حالات میں تیسری دنیا کے ممالک میں امریکہ اور برطانیہ کے خلاف ایک لاشعوری نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ بیشک امریکی تھنک ٹینک اور دانشور اب اسے ’’تہذیبوں کا ٹکر اؤ ‘‘ سے تعبیر کریں یا دہشتگردی کا نام دیں مگر حقیقت میں یہ سب ان کے ظلم و جبر اور بربریت کے خلاف علمِ بغاوت ہے۔ امریکی صدر نے 11ستمبر کے واقعہ کے فوراً بعد ’’صلیبی جنگ‘‘ کا الفاظ استعمال کیا تھاایسا کرکے انہوں نے اسامہ بن لادن کو مذہبی نمائندہ قرار دے کر افغانستان میں مداخلت اور اپنی موجودگی کا جواز پیدا کیا تھا۔ اسی اسامہ بن لادن کے خلاف جو اسکا اپنا بنایا ہوا ہے جسے وہ سوویت یونین کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے۔ مگر صدر بش یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ’’صلیبی جنگ‘‘ کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں بسنے والے مسیحیوں کوعدم تحفظ کا شکار کر دے گا اور ایسا ہوا بھی۔
مگر تشویشناک امر یہ ہے کہ نہ تو برطانیہ اور نہ ہی امریکا نے تاریخ اور بدلتی تیسری دنیا سے کوئی سبق سیکھا ہے۔ وہ اپنی عسکری دھونس اور بربریت کو نہ صرف جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں بلکہ مستقبل میں بھی اس
سے ہاتھ کھینچنے کا ان کا کوئی ارادہ نظرنہیں آتا۔ مگر وطن عزیز میں ہم امریکا اور برطانیہ کے خلاف ردعمل کے طور پر معصوم اور بے گناہ مسلمان پاکستانیوںکو خود کش حملوںاور دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیںایسا کر کے ہم در اصل امریکی مفادات کو ہی تقویت پہنچا رہے ہیں۔ہمارے مذہبی گروہوں کو سوچنا چاہئے کہ کیا وہ معصوم اور بیگناہ پاکستانی جو ان کے خود کش حملوں یا دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں ان کا امریکا سے کیا ناطہ ہے۔۔۔؟مگر جس دہشت گردی کی لہر نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے وہ تب تک ختم نہیں ہو سکتی، جب تک برطانیہ اور امریکاتیسری دنیا کو مکمل آزادی نہیں دے دیتے اور دست کش ہو کر اپنے کردار پر نظر ثانی نہیں کرتے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ اگر پوری تیسری دنیا اس اینگلوامریکن گٹھ جوڑ کے خلاف یکجا ہو کر علمِ بغاوت بلند کر دیتے ہیں تو کیا ہو گا؟
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 1337