Aug
21
2008
Today
 .
videos.gifcartoon.gif  links.gif forum.gif guest-book.gifadverts.gif

Hijri Date


Member Login

Attock Poll

Maj. Tahir Sadiq is ....

Attock Weather

Attock
23°C

Tell a Friend

Like what you see? If you like what you see, please tell a friend or family member about us! It's simple! Just click on the Tell a Friend hotlink below

Syndicate

صحافتی برادری کی مشکلات PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 


pakistan_press.jpgاگلے دنوں میرے ایک دوست جو خیبر ایجنسی لنڈی کوتل میں بہت سارے اداروں کے لئے بیک وقت اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں نے اپنے ایک کالم میں قبائلی علاقوں کی صحافتی برادری کی مشکلات کا تذکرہ کیا تھا کہ اِن علاقوں میں ان کو میڈیا (پرنٹ اور الیکٹرونک) کے لئے خبریں اکٹھی کرنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور خود کو کن مشکلات میں ڈال کر خبر کی سچائی اور حقیت جاننا پڑتی ہے ، ان کو گرمی سردی ، دھوپ چھاؤں اور بارش میں دور دراز علاقوں کا سفر کرنا پڑتا ہے، طرح طرح کے لوگوں سے ملنا پڑتا ہے یہی نہیں بلکہ بعض اوقات ان کا ایسے لوگوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جن کے نزدیک ایک صحافی کی
عزت و توقیر کوئی معنی مقصد نہیں رکھتی مگر یہ بہادر اور جفا کش لوگ اِن حالات میں بھی اپنے وطن کے لوگوں کو باخبر رکھنے کے لئے اپنے فرائض پوری ایمانداری اور تندہی سے سرانجام دیتے ہیںاور کوشش کرتے ہیں کہ ان کی خبر سب سے پہلے ان کے ادارے کے توسط سے قارئین تک پہنچے اور اکثر کسی حد تک اپنی کوشش میں کامیاب بھی رہتے ہیں ۔
یہ تو ایک اس قبائلی صحافی دوست اور بھائی کی دکھ اور مشکلات سے بھری ہوئی داستان ہے مگر میرے سامنے تو وہ سارے صحافی ہیںجو اپنے فرائض پوری تند ہی سے سرانجام دیتے چلے آ رہے ہیں اور اپنے اس مشن میں اس قدرمضبوط ہوتے ہیں کہ اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتے، ابھی کل ہی کی بات ہے جب محترمہ بے نظیر بھٹو دوبئی سے کراچی اپنے وطن واپس آئیں تو ان کے پر امن جلوس میں بم دھماکے ہوئے تو اے آر وائی ون ورلڈ کے ایک کیمرہ مین اس میں شہید ہو گئے وہ بھی تو اپنے ٹی وی چینل کے توسط سے ہمارے لئے ہی کوریج کر رہے تھے مگر کیا ہوا، پیپلز پارٹی نے اس کے لواحقین کو پوچھا بھی نہیں، اگر کچھ مدد کی بھی تو اس وقت کی پنجاب کی حکومت نے اس کے والدین اور بہن بھائیوں کی خبر گیری کی۔ اسی طرح قبائل علاقوں میں بھی بہت سے واقعات ہوئے جن میں ایک طرف اگر ٹی وی چینلز کے نمائندے متاثر ہوئے تو دوسری طرف اخبارات کے صحافی بھی بچ نہ سکے اور یہاں بھی کچھ اپنی جان سے گئے اور کچھ اغوا بھی ہوئے، متاثرین میں سے کتنے ہیں جن کی بابت ان کے ٹی وی چینلز یا ان کے اخبارات کے مالکان نے ان کی دلجوئی کی یا ان کی مالی یا اخلاقی مدد کی ہو؟
ایسے ہی متاثرین میں سے میں یہاں فقط دو ایک واقعات کا ذکر کروں گا کہ ایک طرف تو یہ بے چا رے(میں ان کو بے چارے ہی لکھوں گا) اپنے فرائض سے غفلت نہیں برتتے کیونکہ اگر یہ لوگ غفلت سے کام لیں گے تو پھر ان کے کام کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے تو دوسری طرف بعض اخباری اور ریڈیو ٹی وی چینل مالکان (ان میں بعض نام تو بہت ہی معتبر ہیں) نے ان کے حقوق غضب کئے ہوئے ہیں ، ان کو بہت ہی کم معاوضہ دیا جاتا ہے یا پھر کسی نہ کسی بہانے دبا لیا جاتا ہے، اس ضمن میں پہلا واقعہ میرے ایک ایسے دوست سے متعلق ہے جنہوں نے اپنی ساری عمر صحافتی اداروں کی خدمت میں گذار دی ہے اور اس وقت صاحبِ فراش ہیں ان کی قوتِ گویائی متاثر ہو چکی ہے جس کی وجہ سے آپ ٹھیک سے بول بھی نہیں سکتے صرف سن سکتے ہیں اور لکھ سکتے ہیں، کئی مہینوں سے اس موذی بیماری کے نرغے میں ہیں ، ڈاکٹروں کے مسلسل علاج کے باوجود بھی زیادہ افاقہ نہیں مزید یہ کہ ڈاکٹروں کے بقول مکمل شفایابی میں ابھی ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے، اس صحافی دوست نے نے بتایا کہ دو بڑے اخباروں کے مالکان نے ان سے تحریک پاکستان کے حوالہ سے باقاعدہ طے کرکے مضامین لکھوائے جن میں سے ایک کے مالک آج کل کرتے ہوئے اللہ کو ہی پیارے ہوگئے ، یہ اخبار ان کی وفات کے فوراً بعد مسلم لیک (ن) کے ایک رہنما نے خرید لیا ہے جس کی بنا پر جہاں ان صاحب کا معاوضہ بھی ڈوب گیا وہاں بہت سے دوسرے اخباری کارکنان کے ساتھ ساتھ دوسرے دوست کی دو ماہ کی تنخواہ ہی ماری ہی گئی اور ساتھ ہی ان کو اخبار سے بھی الگ ہونا پڑا ، جس پر ان کو ایک اور نامور صحافی کے اخبار میں ملازمت مل گئی اور اب تیسرا مہینہ ہے کہ وہاں سے بھی تنخواہ نہیں مل سکی ۔
دوسرا واقعہ حال ہی میں کھلنے والے ٹی وی چینلز میں سے ایک ٹی وی چینل سے متعلق ہے جنہوں نے میرے ایک ایسے صحافی دوست سے رابطہ کیا جو پہلے سے ہی خیبر ایجنسی میں کام کر رہے تھے۔ اس ٹی وی چینل نے ان کو ایک معقول معاوضے پر خدمات سرانجام دینے کیلئے رکھا مگر افسوس کہ انہوں نے بھی اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی اور اس بچارے غریب صحافی کا معاوضہ دبا لیا۔ اس صحافی کے بارے میں مجھے کسی اور نے نہیں بلکہ خود اس صحافی نے بتایا کہ کسطرح اس کے ساتھ اس ٹی وی چینل کے مالکان نے زیادتی کی۔
اس صحافی نے نہایت دکھی دل سے میرے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ہمارے علاقوں میں آپس کے گروہی اور مسلکی لڑائی جھگڑوں کے ساتھ ساتھ اتحادی طیاروں کی آئے روز کی بمباری کی صورت میں تباہی و بربادی نازل ہو رہی ہے جس کی بنا پر، کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں اکثر اسکول کالجز یا تو بند ہو چکے ہیں یا ان کو گرایا /جلایا یا بارود سے اڑایا جا چکا ہے، عورتوں کے لئے روز مرّہ کے معمولات بجا لانا بھی از حد مشکل ہو چکے ہیں دوسری طرف اسلام کانام لینے والے ان کی زندگی اس صورت میں حرام کر رہے ہیں کہ اسلام کے نام پر طرح طرح کی پابندیا ں لگائی جا رہی ہیںکہ یہ نہ کرو وہ نہ کرو وغیرہ وغیرہ مزید یہ کہ جو لوگ ہم سے اپنے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لئے کام لیتے ہیں وہ کام کے بعد تنخواہ ہی نہیں دیتے الٹا ڈراتے دھمکاتے ہیںغرض مرے ہوؤں کو مارنے پر وہ لوگ بھی تل گئے ہیں جو کام لینے کے بعد معاوضہ دینا بھی پسند نہیںکرتے، میں اس کالم کے توسط سے ان تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز کے معزز مالکان کی خدمت میں ارض کرنا چاہوں گا کہ اپنے سامنے ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ نصیحت رکھیں کہ مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو، اگر آپ ایسا نہیں کر رہے تو پھر یاد رکھیں کہ آپ اللہ کے رسول ہی کے نافرمان نہیں ٹھہریں گے بلکہ اللہ کے نافرمان بھی کہلائیں گے اور کیا آپ خدا اور اس کے رسول کے نافرمان ہونا پسند کریں گے؟
14-07-2008 16:45 M Afzal Qamar
This entry was posted on 14-07-2008 16:45. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 9 time. You can leave a comment.
Views: 953    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >