| میں جسم فروشی کیوں کرتی ہوں.....؟ |
|
|
|
نپولین
بوناپارٹ کا قول ہے جہاں پھول بھی رسوا ہوں وہاں زندہ رہنا بہت مشکل
ہے.اقتصادی آزادی کے بغیر انسان کو حقیقی آزادی ملنا مشکل ہے.
یہ دونوں فکر انگیز جملے راقم کے عقل و خرد پر اس وقت
کچوکے مارنے لگے.جب میرے سامنے کوٹ ادو شہر سے تعلق رکھنے اور صراط
مستقیم سے اتر کر اندھیری گلیوں کی مسافر بننے والی خوبصورت دوشیزہ اور
نوخیز لڑکی عاصمہ رو روکر ہلکان ہوچکی تھی. گو کے وہ ایک مکروہ دھندہ کرنے
کی پاداش میں پکڑی گئی تھی.لیکن پھر بھی اس کی انکھوں سے احساس ندامت برس
رہاتھا. مجرم ہونے کے باوجود اسکی شخصیت پر وقار لگ رہی تھی. میری ڈانٹ ڈپٹ
پر پہلے تو وہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف معاف کردینے کی اداکاری
کررہی تھی. لیکن میرے کسی ترش سوال کے جواب میں وہ شیرنی کی طرح جھپٹ
پڑی. اس نے اپنی پوری توانائیاں صرف کرتے ہوئے مجھ پر لعنت و ملامت کی
بوچھاڑ ا. حقائق کشی کی بھرمار اور تنقید و تشنع کی برسات کردی.اس چوبیس
سالہ بنت حوا کو شہر کے چند سماجی نوجوانوں نے اس وقت دھر لیا جب وہ تیسری
مرتبہ برائی کے ایک اڈے پر کشاں کشاں در آئی تھی.
میری نگاہیں جونہی کف افسوس کرتی ہوئی عاصمہ پر پڑیں تو درد کی ٹھیسوں نے میری روح کو زخمی کردیا. کیونکہ میں یہ تصور ہی نہیں کرسکتا تھا کہ میرے شہر کی ایک سیاہ نصیب بیٹی جس نے بی ایس سی ایسی اعلی تعلیم کا تاج اپنے سرپر سجا رکھا ہو وہ حوادث زمانہ کی تلخیوں سے تنگ اکر اپنے پاکباز و پاک دامن جسم کو بیچنا شروع کردیا. میرے لئے یہ سوچنا بھی محال تھا کہ انسانیت کا لبادہ اوڑھ کر اپنی بہو بیٹیوں کے جسموں کو بھنبوڑنے اور نوچنے والے انسانی شکل کے بھیڑئیی کس طرح دولت کے بل پر کسی ماں کی نیک چلن بیٹی کی حرمت و عظمت کو تار تار کرنے پر امادہ ہوجاتے ہیں.؟
میری نگاہیں جونہی کف افسوس کرتی ہوئی عاصمہ پر پڑیں تو درد کی ٹھیسوں نے میری روح کو زخمی کردیا. کیونکہ میں یہ تصور ہی نہیں کرسکتا تھا کہ میرے شہر کی ایک سیاہ نصیب بیٹی جس نے بی ایس سی ایسی اعلی تعلیم کا تاج اپنے سرپر سجا رکھا ہو وہ حوادث زمانہ کی تلخیوں سے تنگ اکر اپنے پاکباز و پاک دامن جسم کو بیچنا شروع کردیا. میرے لئے یہ سوچنا بھی محال تھا کہ انسانیت کا لبادہ اوڑھ کر اپنی بہو بیٹیوں کے جسموں کو بھنبوڑنے اور نوچنے والے انسانی شکل کے بھیڑئیی کس طرح دولت کے بل پر کسی ماں کی نیک چلن بیٹی کی حرمت و عظمت کو تار تار کرنے پر امادہ ہوجاتے ہیں.؟
میں نے اصلاح کے لئے عاصمہ کو عورت
کی سیرت سے اگاہ کرنے کی کوشش کی تو وہ پھٹ پڑی. اس کی انسووں کے سمندرمیں
ڈوبی ہوئی داستان الم پر مجھے ایسے معلوم ہوا کہ زمین ابھی پھٹ جائے گی
آسمان ٹوٹ کر ہم سب کو غرق بنا دے گا. لیکن کچھ بھی تو نہ ہوا. کیونکہ فطرت
خود ہی حنا کی لالہ بندی کرتی ہے. ویسے بھی اسلامی تعلیمات کی رو سے رب
بھی ہمیں ہمارے اعمالوں کی رو سے ویسے ہی بسیار خورے حکمران اور افسر عطا
کردیتا ہے.جو ہماری بہتری کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کا پیشہ اپنا
کر ہماری بربادیوں کے گھڑے کھودنا شروع کردیتے ہیں۔۔.جو کسی وحشت ناک عذاب
سے کم نہیں.
تم اعلی تعلیم یافتہ خاتون اورزہین لڑکی ہو. کیا تمھیں شرم
نہیں آتی..؟ تم اپنا جسم کیوں بیچتی ہو..؟ کیا تمھیں معلوم ہے .کہ ہمارا
دین اس رزیل و کمینے پیشے کے متعلق کیا کہتا ہے.فرمان خدا وندی کیا
ہیں.؟علماے کرام اسلامی سزاوں کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں.؟ ہمارا معاشرہ
طوائفوں کے متعلق کس قسم کے جذبات کا اظہار کرتا ہے.؟ تم ایسی لڑکیاں عورت
کے نام پر سیاہ دھبہ ہیں.کے جواب میں عاصمہ یوں چلائی..
میرا والد پانچ سال
قبل کمپرسی کی حالت میں مرگیا.باپ لحد نشین ہوا. تو فریب و ریاکار معاشرے
کے ہر فرد نے ناطہ توڑ دیا.میرے تین بھائی اور دوبہنیں ہیں .ماں گردے کے
مرض میں مبتلا ہے. وہ بھی قریب المرگ ہے. بڑی بہن کے سر میں چاندی اتر چکی
ہے. جہیز کا بندوبست نہ ہوسکا. جس کی پاداش میں اس کی منگنی ٹوٹ چکی
ہے. معصوم بھائی شکوہ کناں ہیں. کہ انہیں سکول سے کیوں اٹھا لیا گیا ہے. بڑی
بہن ٹیوشن پڑھاتی ہے. جس کی امدن سے گھر میں ایک بار کھانا پکتا ہے. میں ا
یک سال پہلے اخبار میں شائع ہونے والی لیڈی ہیلتھ ورکر کی آسامی کیلئے
انٹرویو کے لئے درندہ صفت ڈاکٹر کے روبرو پیش ہوئی تو اس خبیث کی انکھوں
میں جنسی ہوس کی ابلیسیت ہویدا تھی. وہ میری زلف گرہ گیر کا دیوانہ بن گیا.
میں اس رزیل کے نوکری دینے کے جھانسے میں پھنس گئی.لیکن جب وہ بوس و کنار
سے آگے بڑھنے لگا تو میں نے اس کی تمام پیشکشوں کو پائے حقارت سے ٹھکرا
دیا جس کا مجھے ہیبت ناک خمیازہ بھگتناپڑا کہ میرٹ پر پورا اترنے کے
باوجود مجھے استحصال کا نشانہ بنا کر بے نیل و مرام واپس لوٹا دیا
گیا.کیا..تم ..سوچ سکتے ہو.کہ گریجوئیشن کرنے کے لئے میرے گھر والوں کو
کتنے پاپڑ پیلنا پڑے ہونگے. تین اداروں میں نوکری تلاش کرنے گئی.تو وہاں کے
ہرکارے بھی مجھے مناقشات کی نظر سے دیکھنے لگے.غوث اعظم کا قول ہے کہ عورت
کا اصل حسن اسکی سیرت میں پنہاں ہے. اسی جملے نے مجھے کسی کی داشتہ بننے سے
بچائے رکھا. لیکن جب میری ماں گردوں کے مرض میں مبتلا ہوئی .اور ڈاکٹروں نے
مسیحائی کے نام پر رہزنی کا روپ دھارا .تو میری ہمت جواب دے گئی. میں نے
ایک سود خور سے ماں کے علاج کے لئے دس ہزار کی رقم ادھاپر لی. میں دس ہزار
کے بدلے میں چالیس ہزار روپے لوٹا چکی ہوں. لیکن پھر بھی اس کمینے نے اتنی
ہی رقم میرے نام کر رکھی ہے. سود خور ہر ماہ ہمیں ہوشربا اور ننگی گالیاں
نکالتا ہے. ہماری عزت نفس پامال کرتا ہے. لیکن بے حس معاشرے کا کوئی فرد
بھی ہمیں سودخور کے ظلمت کدوں سے بچانے کے لئے بے خطر آتش نمرود میں نہیں
کودتا.میں اپنے سامنے باپ کی طرح ماں جیسی بلند قامت ہستی کو ایڑیاں رگڑ
رگڑ کر مرنے کے لئے چھوڑنا نہیں چاہتی .میں نے مقامی افسران سے لیکر لمبے
لمبے بیوروکریٹوں اور گورنروں سے لیکر صدر پاکستان اور دیگر اصحاب اقتدار
کو اپنے سروں پر دست حنائی رکھنے. قرض حسنہ دینے اور امداد فراہم کرنے کے
لئے سینکڑوں خطوط لکھے.لیکن میںعرضیاں لکھ لکھ کر تنگ اگئی. جب میرے ہاتھ
درخواستیں لکھ لکھ کر چور ہوگئے تب میں نے یہ سلسلہ ترک کرڈالا.کیونکہ
کوئی ایک آدھی امنگ و ترنگ پوری نہ ہوسکی.پچھلے دوسالوں سے میرے گھر میں
دووقت کا کھانا نہیں پکا.غربت.بے روزگاری.اپنوں کے گھاو.غیروں کی چیرہ
دستیوں.ہمسائیوں کی عدم دلچسپی.محرومیوں اور مایوسیوں اور اداسیوں نے
ہماری زندگی نرگ بناڈالی.دوسالوں کی بھاگ دوڑ کے بعد جب کوئی وسیلہ نہ بن
سکا.اور میری جوتیاں یہاں سے وہاں اور ادھر ادھر فریادیں کر کر کے گھس
گئیں.تو پھر میں نے بھی وہی کرنے کی ٹھان لی.جو دنیا کی ہر عورت اطراف و
کنایاف میں شب دیجور دیکھ دیکھ کر تھوڑی سی روشنی کے لئے گناہ کے سمندر
میں غوطہ زن ہونے کے لئے اپناتی ہے.میرے چھوٹے بھائی نے ہمسائیوں کے گھر
سے ردی کا سامان اٹھا لیا.جس کا نتیجہ یہ نکلا.کہ میرے پندرہ سالہ پیارے
بھائی کو جیل خوری کرنی پڑی.قانون کے رکھوالے نے بھائی کی گرفتاری کی آڑ
میں مجھے بالوں سے گھسیٹا.تھانیدار ساری رات میرے جسم کو نوچتا رہا. اور
میں گم سم سب کچھ برداشت کرتی رہی.یوں میں بھائی کو رہا کروانے میں بامراد
ہوئی. ستم در ستم اور استحصال در استحصال نے میرے سینے میں موجزن عورت کے
احساس تفاخر کو ہی مٹا دیا.اور پھر بھائیوں کی روٹی.بہنوں کی شادی اور ماں
کے علاج کے لئے میںچند روپوں کے عوض غیر مردوں کی رکھیل بن گئی.میں تمھیں
یہ بھی بتا دینا چاہتی ہوں.کہ اگر ڈاکٹر کی فیس ادا کرنے کے لئے میرے پاس
دوسو روپے ہوتے.بھائی کو تھانیدار کے ظلمت کدے سے رہا کروانے کے لئے رشوت
کی رقم کے دوہزار روپے کہیں سے مل جاتے.تو میں آج یہاں رسوائی کا سامان
پیدا کرنے کے لئے موجود نہ ہوتی.شہر کے روسا.رشتہ دار.اور سماج کے شریف
زادے اگر ہمیں بائیس سو روپے دے دیتے تو ایک حوا کی بیٹی لٹنے سے بچ
جاتی.اگر ہمارے ملک میں میرٹ کی حکمرانی ہوتی.اور مجھے لیڈی ہیلتھ ورکر کی
سیٹ مل جاتی.تو میں تمھارے سامنے بین نہ کرہی ہوتی.اگر ہمارے ہسپتالوں میں
غریبوں کا مفت علاج ہوتا.تو قائد کی دھرتی کی کئی بہنیں عصمت دری کے گناہ
سے محفوظ ہوتیں. تم....کس سماج کی بات کرتے ہو.کیا ہمارا معاشرہ جمہوری و
اسلامی ہے.جہاں امیروں کے کتے بکروں کا گوشت کھاتے ہیں.جبکہ لاکھوں بیٹیاں
دو وقت کے نان جویں کے لئے اپنا جسم بیچتی ہیں.تم مجھے کس قانون کی رام
کہانیاں سناتے ہو.جو وڈیروں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے.اور قانون
کا تازیانہ صرف کمزوروں پر عصائے موسی بن کر گرتا ہے.کیا تمھیں مختیاراں
مائی والہ سانحہ دلخراش یاد ہے.وہاں نیویارک ٹائمز کے رپورٹر نکولس برنر
نے ہماری سماجی غلاظت کو کچھ یوں بیان کیا تھا.یہ کیسا معاشرہ ہے.جو اپنی
بہو بیٹیوں کو بھیڑیوں کی طرح بھبھوڑتا ہے.اور پھر تھوک کی طرح پھینک دیتا
ہے. گو کے میں ایک فاحشہ بنی ہوں.لیکن میرے سینے میں دھڑکنے والا دل موجود
ہے.جبکہ ستم تو یہ ہے.کہ ہمارے ارد گرد پھیلے ہوئے رئیس زادے.امیر و کبیر
عیاش اور دولت کے انبار رکھنے والے اہل ثروت کروڑوں میں کھیلتے ہیں.اربوں
دنیاوی الائشوں پر اڑا دیتے ہیں.لیکن انکو مگر شرم نہیں آتی.کہ انکے قرب
و جوار میں روزانہ کتنی ماں بیٹیاں.بہنیں اپنے پیاروں کا پیٹ بھرنے کے لئے
نیلام ہوتی ہیں.اگر ان میں حس انسانیت یا شرافت کا حقیقی مادہ موجود ہو تو
یہ لوگ کئی بیٹیوں کے درد کا درماں بن کر عورت کا تزک و احتشام بچا سکتے
ہیں۔۔۔۔۔۔ ..آپ کس ملک یا حکمرانوں کے گن گاتے ہو..کیا بادشاہ یا حکمران
ایسے ہوتے ہیں..؟جیسے ہمارے اوپر خدائی عذاب کی شکل میں مسلط ہیں.؟ نہیں
صاحب جی.بادشاہ اور قوموں کی زمام اقتدار سنبھالنے والے لیڈر ہمارے
بادشاہوں ایسے اوصاف سے مسلح نہیں ہوتے..بادشاہ تو ایوبی جیسا ہونا
چاہیی.جس نے سپین کے صلیبیوں کی افواج قاہرہ کو محض اس لئے اپنے گھو ڑوں
کی ٹاپوں تلے روند ڈالہ؛کہ سپین کی ایک غیر مسلم لڑکی نے اپنے اوپر ڈھائی
جانے والی قیامت صغری کی روداد خط میں لکھ کر ایوبی دربار کو روانہ کی
تھی.حکمران تو حجاج بن یوسف ایسی جرات رندانہ کے شاہکار ہونے چاہیں.جس نے
سندھ کی ایک زخم خوردہ بیٹی کا خط پڑھ کر اسی وقت دنیائے وقت کے عظیم
جرنیل محمد بن قاسم کو سلطنت داہر کو پاش پاش کرنے کے لئے کوچ کا حکم دیا
تھا...کیا تم تاریخ سے آشنا ہو...کہ راجہ داہر کی ناقابل تسخیر سلطنت کو
محمد بن قاسم کی قیادت میں آنے والے مٹھی بھر سرفروشوں نے خش و خاک کی
طرح کیوں فنا کر دیا تھا.میں تمھاری وساطت سے حاکمان وقت اور غریبوں کی
امداد کے نام پر لوٹ مار کرنے والے درجنوں سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے
سرخیلوں اور عورتوں کے حقوق کے لایعنی دعوے کرنے والے بنارسی ٹھگوں سے
اپیل کرتی ہوں.کہ فریب کاریاں.مت کرو.سب سے پہلے حوا کی بیٹیوں کے گھروں
میں مفلسی کی شب ظلمت کو صبح صادق میں بدلو.عورتوں پر ونی.سوارہ.اور دیگر
فرسودہ رسومات کے مظالم کی من سلوی کا خاتمہ کرو.خیبر سے کراچی تک ہر
دوسرے گھر میں شادی کے سپنے سجاسجا کر بوڑھی ہوجانے والے ایک کروڑ تیس
لاکھ خواتین کو جہیز مہیاکرو.غیرت کے نام پر ہونے والی خون آشام قتل
وغارت کو روکو.روشن خیالی کے نام پر عورتوں کو حد سے زیادہ دی جانے والی
آزادی پر قدغن لگاو.اور انہیں مغربی روایات کے گند میں مت دھکیلو.پاکستان
نامی جنگل میں ہر وقت قوم کی بہو بیٹیوں کا پیچھا کرنے والے بھیڑیوں کو
اداب انسانیت سکھاو.عورت پر ڈھائی جانے والی بے انصافیوں کی چاند ماریوں
کو روکو.بازار حسن اور پیٹ کی خاطر جسم فروخت کرنے والی عورتوں کے سروں پر
دوپٹہ پہناو.میری جیسی حرماں نصیب بیٹیوں کے گھروں میں دووقت کی روٹی کا
سامان پہنچاو.تعلیم یافتہ لڑکیوں کی دھلیزوں پر روزگار پہنچاو. تب کہیں
جاکر ملک کی ہر لڑکی جسم فروشی سے تائب ہوسکتی ہے..نپولین نے شائد ہمارے
لئے صدیاں قبل کہا تھا.جہاں پھول بھی مسل دئیی جائیں تو وہاں زندہ رہنا
ناممکن ہے.پوری قوم کو سوچنا ہوگا.کیا عورت نامی پھول ظلم و بربریت سے
لبریز ہمارے اسلام و مشرقی نام کے اس سماج میں بیٹیاں عزت سے گزار ہ کر
سکتی ہیں.؟میرے ایک اور سوال کا جواب بھی تمھیں دینا ہوگا.کہ کیا ہم آزاد
ملک کے آزاد شہری ہیں.جہاں اس دور میں بھی شہریوں کو نان جویں کا مسئلہ
گھیرے ہوئے ہو.جہاں غربت ماوں کو بچوںسمیت خود کشی کی مالا چننے پر مجبور
کرے.جہاں غربت و بے کسی لڑکیوں کو جسم فروشی کی ترغیب دے.بھلا وہاں یہ
سمجھنا کہ ہم آزاد ریاست کے آزاد شہری ہیں نادانی ہوگی.کیا انگریز
دانشور نے محولہ بالہ جملے میں ہمارے سماج کی نشان دہی تو نہیں
کی.کہ اقتصادی خوشحالی کے بغیر آزادی کے خواب دیکھنا محض خام خیالی
ہے....ابھی عاصمہ کی روگردانی جاری تھی.کہ میری آنکھوں سے بھی خون کے
انسو رواں ہوگئے..اسکی سچی باتوں کا سامنا کرنا میرے بس سے باہر تھا.یوں
میں اپنے اپکو اپنے سماج کو کوستا منہ بسور کر وہاں سے چلا آیا.کیونکہ
میرے پاس باعزت پسپائی کے اور کوئی راستہ نہ تھا.ویسے بھی حق سچ کی
ابابیلوں کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں
Users' Comments (3) |
|
![]()
27-08-2008 13:12, , Guest Every prostitute that gets caught comes up with a similar story like this one to make people sympathise with the shameful,un ethical and un islamic acts they have committed for easy money.Financial hardship, father sick,mother sick -Does not give her a right to indulge in dirty buisness of selling he body and corrupting our youngsters and society. She is nothing but a typical whore and should be punished according to law. ![]()
15-07-2008 00:59, , Guest I love this article, please keep writing about social issues etc. Thank you again for writing such informative article ![]()
15-07-2008 00:48, , Guest thanx 4 ur exelent artical,i wil also 4wrd ur this msj 2 my frends.your this artical |
||
|
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 2414