| صوبائی حکومتیں کیا کر رہی ہیں۔۔۔؟ |
|
|
|
پہلے ایک شعر سنیںوطن کی ریت مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا
جب سے یہ شعر پڑھا ایک عجیب سی خود اعتمادی ہمارے اندر سرائیت کر گئی،ہمیں یہ یقین کامل ہو گیا کہ ایک دن ہماری تقدیر ضرور بدلے گی،بس تھوڑے اور صبر کی ضرورت ہے،اور جہد مسلسل کی بھی۔ہم ہمیشہ ہر کسی کو یہ شعر تبرک کے طور پر سنایا کرتے تھے۔اتوارکے اخبارات اور کراچی اور اسلام آباد میں خود کش اور بم دھماکوں نے اس برسوں کے اعتماد کا خاتمہ کر دیا۔ہم جو ہمیشہ سے اس بات کی تلقین کرتے آئے ہیں کہ اس مٹی میں نم بھی ہے اور یہ ذرخیز بھی ہے، ان لوگوں کی بات ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اس ملک میں عام آدمی کا بھلا ممکن نہیں۔پنجاب کے سابق وزیر اعٰلی ممتاز دانشور جناب حنیف رامے نے جب وزارت اعلٰی چھوڑی تو انہوں نے پنجاب اسمبلی میں قائد اعٰظم کی تصویر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا
’’اے قائد اعٰظم! تو نے ی ملک جاگیر داروں ،وڈیروں ،سرمایہ داروں اور مراعت یافتہ طبقوں کے لئے بنایا ہے،اگر آج تم بھی ہوتے تو یہ
طبقے تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ کرتے جو انہوں نے میرے ساتھ
کیا ہے۔‘‘
اور اب اس بات کی صداقت میں رتی بھر شک کی گنجائش باقی نہیں رہی کہ یہ ملک ان حکمران طبقوں کے لئے بنایا گیا ہے ،یہ پاکستان عام آدمی کے لئے نہیں بنا۔یہاں سیاست دانوں اور حکمرانوں کی حفاظت پر اربوں خرچ کئے جاتے ہیں،حفاظتی دستے انہیں گھیرے میں لے کر چلتے ہیں۔ان کی رہائش گاہوںپر حفاظتی پہرے لگائے جاتے ہیں۔انہیں بلٹ پروف گاڑیاں مہیا کی جاتی ہیں مگر نہ تو عوام کی جان و مال کی حفاظت کی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔عام آدمی نہ تو گھر میں ہی محفوظ ہے اور نہ ہی گھر سے باہر، نہ ہی اس کی چادر اور چار دیواری محفوظ ے اور نہ ہی اس کا کاروبار۔ڈکیتیوں،راہزنیوں میں دن بدن بتدریج اضافہ ہوتاجارہا ہے مگر صوبائی حکومتوں کے کانوں پر جوں تک نہہیں رینگتی۔اتوار کے اخبارات میں ایک خبر کے مطابق لاہور کے پوش علاقے گارڈن ٹاؤن میں برکت مارکیٹ میں ڈاکو دن دیہاڑے ایک منی چینجر کی دوکان سے سوا کروڑ کی خطیر رقم لوٹ کر فرار ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق فرخ زمان نے برکت مارکیٹ میں منی چینجر کا دفتر بنایا تھا۔ہفتہ کے روز دن دیہاڑے موٹر سائیکلوں پر سوار چھ ڈاکو فرخ زمان کے آفس آئے اس وقت آفس میں چھ سے آٹھ افراد موجود تھے۔ڈاکوؤں نے بندوق کی نوک پر سیکورٹی گارڈ اکرم کو قابو کر کے اسلحہ چھینا،چار ڈاکو دفتر میں داخل ہوئے اور سوا کروڑ کی رقم جس میں غیر ملکی کرنسی بھی شامل تھی لوٹ کر فرار ہو گئے۔اس واقع کی اطلاع ملنے پر مالک فرخ زمان بھی موقع پر پہنچے مگر اس واردات کے صدمے سے سنبھل نہ سکے اور ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔جس کے نتیجے میں انہیں ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔اخباری اطلاعات کے مطابق تشویش کن امر یہ ہے کہ پولیس بر وقت اطلاع کے باوجود جان بوجھ کر خاصی تاخیر سے پہنچی اورنہ ہی انہوں نے پولیس موبائل کو وائر لیس پر ڈاکؤں کے فرار کا پیغام ہی نشر کیا ۔
اگر دیکھا جائے تو اس سارے المیہ میں غور طلب مسئلہ قانون نافذ کرنے اور عوام الناس کو تحفظ فراہم کرنے والے اداروںکی بے حسی اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں مجرمانہ غفلت ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ ایسا ہوا ہو۔پاکستان کی تاریخ ایسے ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے۔ڈاکو اور قاتل پولیس کی موجودگی میں واردات کرکے فرار ہو جاتے ہیں اور پولیس تب تک حرکت میں نہیں آتی جب تک مجرم اپنا حدف حاصل نہیں کر لیتے۔ریکارڈ پر ایسے واقعات بھی موجود ہیں کہ پولیس ان ڈکیتیوں میں براہ راست ملوث ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں پنجاب میں آئی جے آئی کی حکومت تھی اور پنجاب کے وزیر اعلٰی میاں نواز شریف تھے ، انہیںکی حکومت میں ساہیوال سے لاہور کے لئے روانہ ہوئی ایک ویگن اوکاڑہ چھاؤنی کے قریب لوٹ لی گئی۔ابھی یہ ویگن اوکاڑہ نہیں پہنچی تھی کہ ڈاکو ؤں نے اس ویگن کو واپس آ گھیرا اور لوٹی ہوئی رقم واپس کر دی اور سواریوں کو درخواست کی کہ وہ اس ڈکیتی کی رپورٹ مت درج کروائیں۔سواریوں کے استفسار پر ڈاکوؤں نے انہیں بتایا کہ پولیس نے انہیں تین لاکھ کا ٹارگیٹ دیا تھا اور بتایا تھا کہ آپ لوگوں سے ہمیں تین لاکھ ملیں گے مگر آپ لوگوں سے ہمیں صرف دو لاکھ ملے ہیں۔اب ایک لاکھ وہ اپنی جیب سے بھرنے سے تو رہے۔کیونکہ پولیس تو ان سے تین لاکھ کا حساب مانگے گی۔
اسی نوعیت کا واقع فاروق آباد شیخوپورہ میں بھی ہوا تھا۔جب ڈاکوؤں نے ایک گھر میں گھس کر نہ صرف لوٹ مار کی بلکہ عورتوں کی عزت بھی لوٹی۔جب اگلے دن متاثرہ خاندان اہل محلہ کے ہمراہ تھانے پہنچا تو ایک لڑکی نے یونیفارم میں کھڑے ایک سپاہی کو پہچان لیا جو ڈاکوؤں کا ساتھی تھا اور جس نے اس لڑکی کے ہاتھ سے چوڑیاں اتاری تھیں۔جس پر لوگوں کا ہجوم بپھر گیا اور انہوں نے تھانے کو آگ لگا دی۔کیونکہ ایس ایچ او یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ پولیس اہلکار اس میں ملوث ہے۔اسی واقع سے ملتے جلتے واقعات لاہور مغل پورہ کے تھانے اور سنت نگر میں بھی ہوئے تھے۔
گو کہ ایسی وارداتوں کے تسلسل میں ایک مسلسل اضافہ تو گزشتہ حکومتی دورسے ہی ہوتاچلا آرہا ہے،مگر اب اس میں ایک گونا گوں تیزی آ گئی ہے،آئے دن ااایسی وارداتیں ہو ری ہیں اور کرائم میں اس ہوشرباء اضافے کے حوالے سے پنجاب اور سندھ سر فہرست ہیں۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں کیا کر رہی ہیں۔کیونکہ صوبائی حکومتوں کا اصل کام تو عوام کو تحفظ فرام کرنا ہے کیونکہ صوبائی پولیس براہ راست ان کے زیر تصرف ہے۔بقول نون لیگ کے سربراہان کے دعووئں کے اس صوبے یعنی پنجاب میں ’’وی آئی پی کلچر‘‘ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اب نہ تو وی آئی پی روٹ لگتے ہیں اور نہ ہی پولیس وی آئی پی ڈیوٹیاں کرتی ہے۔ایسے میں صوبائی پولیس کی ذمہ داری صرف اور صرف عوام کو ان ڈاکوؤںاور مجرموں سے بچانا ر ہ جاتا ہے۔اگر اب بھی پولیس عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کے دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ پولیس خود ان وارداتوں میں ملوث ہے۔اور دوسری بات یہ کہ اب بھی صوبائی حکومتیں تھانے بیچتی ہیں۔
مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں کب اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں گی اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنائیں گی۔کیونک ایک بات بڑی واضح ہے کہ عام آدمی کی زندگی کے 99 فی صد معاملات صوبائی حکومت سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ہمیں یاد ہے کہ جب جنرل ضیاء الحق نے وفاقی محتسب کا ادارہ بنایا اور جناب جسٹس شفیع الرحمٰن کو وفاقی محتسب مقرر کیا تو انہوںنے ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے لئے ایک انٹرویو میں ہمارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ’’ ان کی تقرری سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ صوبائی حکومتوں کے خلاف کوئی اپیل نہیں سن سکتے،جبکہ عام آدمی کے زندگی کے معاملات صوبائی حکومتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔‘‘
یقیناصوبائی حکومت کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہو گا اور اب دعوؤں کی بجائے عملی اقدام اٹھانا ہونگے۔اور ایسا کرنا خود حکومتی حق میں ہی بہتر ہو گا۔کیونکہ بہتر امن و امن کی صورتحال سرمای کاری کو فروغ دے گی عوام کا اعتماد حکومت پر بڑھے گا۔اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہماری طرح اب ہر کوئی ملک چھوڑ کر بھاگنے کی سوچے گا،اور پھر حکمرانوں کو حکومت کرنے کے لئے انسان درآمد کرنے پڑیں گے کیونکہ حکومت عوام پر کی جاتی ہے زمین کے ٹکڑوں پر نہیں۔
اور اب اس بات کی صداقت میں رتی بھر شک کی گنجائش باقی نہیں رہی کہ یہ ملک ان حکمران طبقوں کے لئے بنایا گیا ہے ،یہ پاکستان عام آدمی کے لئے نہیں بنا۔یہاں سیاست دانوں اور حکمرانوں کی حفاظت پر اربوں خرچ کئے جاتے ہیں،حفاظتی دستے انہیں گھیرے میں لے کر چلتے ہیں۔ان کی رہائش گاہوںپر حفاظتی پہرے لگائے جاتے ہیں۔انہیں بلٹ پروف گاڑیاں مہیا کی جاتی ہیں مگر نہ تو عوام کی جان و مال کی حفاظت کی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔عام آدمی نہ تو گھر میں ہی محفوظ ہے اور نہ ہی گھر سے باہر، نہ ہی اس کی چادر اور چار دیواری محفوظ ے اور نہ ہی اس کا کاروبار۔ڈکیتیوں،راہزنیوں میں دن بدن بتدریج اضافہ ہوتاجارہا ہے مگر صوبائی حکومتوں کے کانوں پر جوں تک نہہیں رینگتی۔اتوار کے اخبارات میں ایک خبر کے مطابق لاہور کے پوش علاقے گارڈن ٹاؤن میں برکت مارکیٹ میں ڈاکو دن دیہاڑے ایک منی چینجر کی دوکان سے سوا کروڑ کی خطیر رقم لوٹ کر فرار ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق فرخ زمان نے برکت مارکیٹ میں منی چینجر کا دفتر بنایا تھا۔ہفتہ کے روز دن دیہاڑے موٹر سائیکلوں پر سوار چھ ڈاکو فرخ زمان کے آفس آئے اس وقت آفس میں چھ سے آٹھ افراد موجود تھے۔ڈاکوؤں نے بندوق کی نوک پر سیکورٹی گارڈ اکرم کو قابو کر کے اسلحہ چھینا،چار ڈاکو دفتر میں داخل ہوئے اور سوا کروڑ کی رقم جس میں غیر ملکی کرنسی بھی شامل تھی لوٹ کر فرار ہو گئے۔اس واقع کی اطلاع ملنے پر مالک فرخ زمان بھی موقع پر پہنچے مگر اس واردات کے صدمے سے سنبھل نہ سکے اور ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔جس کے نتیجے میں انہیں ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔اخباری اطلاعات کے مطابق تشویش کن امر یہ ہے کہ پولیس بر وقت اطلاع کے باوجود جان بوجھ کر خاصی تاخیر سے پہنچی اورنہ ہی انہوں نے پولیس موبائل کو وائر لیس پر ڈاکؤں کے فرار کا پیغام ہی نشر کیا ۔
اگر دیکھا جائے تو اس سارے المیہ میں غور طلب مسئلہ قانون نافذ کرنے اور عوام الناس کو تحفظ فراہم کرنے والے اداروںکی بے حسی اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں مجرمانہ غفلت ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ ایسا ہوا ہو۔پاکستان کی تاریخ ایسے ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے۔ڈاکو اور قاتل پولیس کی موجودگی میں واردات کرکے فرار ہو جاتے ہیں اور پولیس تب تک حرکت میں نہیں آتی جب تک مجرم اپنا حدف حاصل نہیں کر لیتے۔ریکارڈ پر ایسے واقعات بھی موجود ہیں کہ پولیس ان ڈکیتیوں میں براہ راست ملوث ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں پنجاب میں آئی جے آئی کی حکومت تھی اور پنجاب کے وزیر اعلٰی میاں نواز شریف تھے ، انہیںکی حکومت میں ساہیوال سے لاہور کے لئے روانہ ہوئی ایک ویگن اوکاڑہ چھاؤنی کے قریب لوٹ لی گئی۔ابھی یہ ویگن اوکاڑہ نہیں پہنچی تھی کہ ڈاکو ؤں نے اس ویگن کو واپس آ گھیرا اور لوٹی ہوئی رقم واپس کر دی اور سواریوں کو درخواست کی کہ وہ اس ڈکیتی کی رپورٹ مت درج کروائیں۔سواریوں کے استفسار پر ڈاکوؤں نے انہیں بتایا کہ پولیس نے انہیں تین لاکھ کا ٹارگیٹ دیا تھا اور بتایا تھا کہ آپ لوگوں سے ہمیں تین لاکھ ملیں گے مگر آپ لوگوں سے ہمیں صرف دو لاکھ ملے ہیں۔اب ایک لاکھ وہ اپنی جیب سے بھرنے سے تو رہے۔کیونکہ پولیس تو ان سے تین لاکھ کا حساب مانگے گی۔
اسی نوعیت کا واقع فاروق آباد شیخوپورہ میں بھی ہوا تھا۔جب ڈاکوؤں نے ایک گھر میں گھس کر نہ صرف لوٹ مار کی بلکہ عورتوں کی عزت بھی لوٹی۔جب اگلے دن متاثرہ خاندان اہل محلہ کے ہمراہ تھانے پہنچا تو ایک لڑکی نے یونیفارم میں کھڑے ایک سپاہی کو پہچان لیا جو ڈاکوؤں کا ساتھی تھا اور جس نے اس لڑکی کے ہاتھ سے چوڑیاں اتاری تھیں۔جس پر لوگوں کا ہجوم بپھر گیا اور انہوں نے تھانے کو آگ لگا دی۔کیونکہ ایس ایچ او یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ پولیس اہلکار اس میں ملوث ہے۔اسی واقع سے ملتے جلتے واقعات لاہور مغل پورہ کے تھانے اور سنت نگر میں بھی ہوئے تھے۔
گو کہ ایسی وارداتوں کے تسلسل میں ایک مسلسل اضافہ تو گزشتہ حکومتی دورسے ہی ہوتاچلا آرہا ہے،مگر اب اس میں ایک گونا گوں تیزی آ گئی ہے،آئے دن ااایسی وارداتیں ہو ری ہیں اور کرائم میں اس ہوشرباء اضافے کے حوالے سے پنجاب اور سندھ سر فہرست ہیں۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں کیا کر رہی ہیں۔کیونکہ صوبائی حکومتوں کا اصل کام تو عوام کو تحفظ فرام کرنا ہے کیونکہ صوبائی پولیس براہ راست ان کے زیر تصرف ہے۔بقول نون لیگ کے سربراہان کے دعووئں کے اس صوبے یعنی پنجاب میں ’’وی آئی پی کلچر‘‘ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اب نہ تو وی آئی پی روٹ لگتے ہیں اور نہ ہی پولیس وی آئی پی ڈیوٹیاں کرتی ہے۔ایسے میں صوبائی پولیس کی ذمہ داری صرف اور صرف عوام کو ان ڈاکوؤںاور مجرموں سے بچانا ر ہ جاتا ہے۔اگر اب بھی پولیس عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کے دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ پولیس خود ان وارداتوں میں ملوث ہے۔اور دوسری بات یہ کہ اب بھی صوبائی حکومتیں تھانے بیچتی ہیں۔
مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں کب اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں گی اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنائیں گی۔کیونک ایک بات بڑی واضح ہے کہ عام آدمی کی زندگی کے 99 فی صد معاملات صوبائی حکومت سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ہمیں یاد ہے کہ جب جنرل ضیاء الحق نے وفاقی محتسب کا ادارہ بنایا اور جناب جسٹس شفیع الرحمٰن کو وفاقی محتسب مقرر کیا تو انہوںنے ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے لئے ایک انٹرویو میں ہمارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ’’ ان کی تقرری سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ صوبائی حکومتوں کے خلاف کوئی اپیل نہیں سن سکتے،جبکہ عام آدمی کے زندگی کے معاملات صوبائی حکومتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔‘‘
یقیناصوبائی حکومت کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہو گا اور اب دعوؤں کی بجائے عملی اقدام اٹھانا ہونگے۔اور ایسا کرنا خود حکومتی حق میں ہی بہتر ہو گا۔کیونکہ بہتر امن و امن کی صورتحال سرمای کاری کو فروغ دے گی عوام کا اعتماد حکومت پر بڑھے گا۔اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہماری طرح اب ہر کوئی ملک چھوڑ کر بھاگنے کی سوچے گا،اور پھر حکمرانوں کو حکومت کرنے کے لئے انسان درآمد کرنے پڑیں گے کیونکہ حکومت عوام پر کی جاتی ہے زمین کے ٹکڑوں پر نہیں۔
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 1169