پاکستان اور افغانستان کے قبائیلی اور پہاڑی علاقے فی الوقت امریکی چنائو میں امریکن ری پبلیکن پارٹی کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ان علاقوں میں بش پارٹی کوسیاسی فائدہ پہچانے کیلئے کسی بھی وقت یہ علاقے سخت ترین بمباری کا شکار ہوسکتے ہیں۔مذکورہ پارٹی نے ان ہی علاقو ںکو تخلیقی القاعدہ و طالبان کے اسلامی حلیہ مکھوٹوں کا گڑھ بناکر یہیں سے انہوں نے اپنی جماعت کو کامیاب کرانے کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ امریکی ناجائز بمباری یہاں دھشت گردوں کو ختم کرنے کے عنوان سے کی جائے گی۔لیکن اس سے قبل الجزیرہ کے عربی و انگریزی چینلوں سے فلمائی گئی کیسٹوں سے اسلامی حلیہ مکھوٹوں کو خبر دی جائے گی۔جس کو وہ پڑھ کر سنائیں گے۔کہ وہ ان علاقوں میں موجود ہیں۔پھر ان کے وہاں ہونے کی تصدیق ۔۔ مسٹر مشرف میاں، حامد کرزائی میاں اور امریکہ میں پاکستان کے سفارت کار مسٹرحسین حقانی صاحب سے کرائی جائے گی۔اس کے بعد وہاں بمباری کا حکم نامہ امریکہ کا صدارتی الیکشن حکمراں جماعت کے جیتنے کیلئے جاری ہوگا۔جس میں بے قصور لاتعداد غریب عوام مارے جائیںگے۔اور ان غریبوں پر الزام لگایا جائے گا کہ وہ القاعدہ کے دھشت گرد تھے۔ گویا وہاں حملہ کرکے دنیا کو دھشت گردی سے پاک کردیا گیا۔اب دنیا امن کی جانب ہے۔اس سخت گیر کاروائی پر امریکی عوام کو گمراہ کرکے ان کے ووٹ بٹورے جائیں گے۔اس لئے ان علاقوں میںمصنوعی مکانات و اسلامی حلیہ مکھوٹے تیار کرکے وہا ں رکھے جائیں۔کچی عمارتیںتیار کی جائیں گی۔ ان پر عربی زبان میں امریکہ کیلئے اس کے خلاف دھمکیاں لکھی جائیںگی۔ ڈھاڈھے باندھے لوگوں کو ٹرینگ کرتے ہوئے دیکھا یا جائے گا۔گویا اس طرح امریکن ری پبلیکن پارٹی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ماحول پر دھشت گرد ی کا رنگ چڑھا کر دھشت زدہ حالا ت سجائے جارہے ہیں۔ اسی لئے ہی پاکستان و افغانستان کے قبائیلی و پہاڑی علاقوں کو امریکی سیاست کاری کا تختہ مشق بنایا جارہا ہے۔پاکستان کے تیرہ فوجی جام شہادت پی کر امریکی مکاریوں کا پردہ فاش کرچکے ہیں۔۔۔۔؟ لیکن مشرف میاں۔۔۔ پاکستان کو امریکہ کے ہاتھوں سے عراق اور افغانستان بنوانا چاہتے ہیں۔اگر پاکستان حکومت نے امریکن ری پبلیکن پارٹی کو قبائیلی و پہاڑی علاقوں میں آپریشن کرنے کی اجازت دے دی۔تو اس سے یہ ثابت ہوگا۔کہ وہ بھی مذکورہ سیاسی پارٹی کے چنائو پرچار میں شریک ہوگئی ہے۔اور اس کو پاکستانی عوام کی کوئی فکر نہیں ہے۔ گذشتہ آٹھ سالوں میں مشرف میاں امریکہ کیلئے تخلیق کار اسامہ کی دنیا میں موجودگی کاکافی بہتر طور پر پروپیگنڈہ کرچکے ہیں۔چار سال قبل تو انہوں نے تورا بورہ کی پہاڑیوں میں تخلیق کار اسامہ کے ہونے کی وکالت اپنے آقائو کے اشارے پر کی تھی۔ان کے بیان کو بنیاد بناکر اسامہ کو مارنے کیلئے اسلامی حلیہ مکھوٹوں کے خلاف کاروائی کی گئی۔حالانکہ اس کاروئی کا مقصد صرف امریکہ میں چنائو ی فائیدہ ہی حاصل کرنا تھا۔جب امریکی فوج نے توڑا بورا میں کاروائی کی تو کہا گیا۔ کہ اسامہ امریکی بمباری میں مارا گیا۔ مشرف میاں نے بھی اس کی تصدیق کردی۔ کہ اسامہ مارا گیا۔ اس طرح کی کوشیشیں امریکی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ان کے ووٹ بٹورنے کیلئے تھیں ۔ جس میں وہ کامیاب ہوگئے؟ اب پھر نئی کوشیش کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس کے لئے امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ بائوچر ان علاقوں پر حملہ کی تیاری کے مدنظر پاکستان میں ہیں۔اور پاکستان کے لیڈروں سے گفت وشنید میں مشغول ہیں۔کیونکہ اگر یہاں حملہ نہیں ہوا۔ تو مسٹر بش کی پارٹی امریکہ میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں یکسر ناکام ہوجائے گی۔حملہ ہی ان کو سیاسی طور پر مدد پہنچاسکتا ہے۔اب پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ مشرف میاں کو استعمال کرے ۔ اور ان سے اعلان کرائے کہ پاکستان سیاسی و حقیقی دھشت گردی سے پاک ہے۔اگر مشرف میاں القاعدہ کا پروپیگنڈہ نہیں کریں گے۔ تو وہ امریکہ کے کئے بے کار ثابت ہوگے۔بش کی پارٹی کے سیاسی فائدے کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کے نئے قائد آعظم میاں نواز شریف صاحب بن گئے۔ بہر حال جب امریکن ری پبلیکن پارٹی اپنی ڈرامہ باز سیاست کاری کیلئے اور امریکہ میں انتخاب جیتے کیلئے دھشت گردی کی تخلیق کو زندہ کر تی ہے۔اس کی اپنے ذرائع ابلاغ سے اور اپنی سرکاری مشنری سے اس کی تبلیغ کرتی ہے۔ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول میں وہ نقصان بھی برداشت کرتے ہیں ۔ پاکستان و افغانستان کی مدداپنے سیاسی بڑے فائدے کے خاطر کی جاتی ہے۔ اسلامی حلیہ مکھوٹے ، القاعدہ و طالبان جو تخلیقی کیسٹوں سے دھمکیاں باہر نیکالتے ہیں۔وہ تو صر ف بہانہ ہے۔ اصل کام تو ان کی اپنی سیاست کاری ہے۔اور دوسروں کی تباہ کاری ہے۔ فی الوقت ۔۔ بش پارٹی کو قبائیلی و پہاڑی علاقوں پر حملہ سے باز رکھنا ہی مکاری ومکاروں کو شکست دینا ہوگی۔یہ کام وہاں کے جمہوری حکمراں ہی کرسکتے ہیں۔ہندوپاکستا ن میں دائمی خوش حالی کیلئے ضروری ہے کہ تخلیقی و حقیقی دھشت گردی کا فروغ مذکورہ علاقوں پر حملہ کی شکل کے ساتھ جو دو مسلم ملکوں میں شروع کیا جارہا ہے ۔ اس پر فوری طور پر پابندی عاید ہو۔امریکہ کے صدارتی الیکشن تک وہاں کسی طرح کی سرگرمی عمل میں نہ آئے۔ حملہ آور بیرونی فوج کو پاکستان سرکار وہاں سے واپس جانے کی ہدایات جاری کرے ۔ پاکستان کے نئے قائد آعظم میاں نواز شریف کو پاکستان کے وزیرآعظم کو ایسی صلاح دینی چاہیئے۔ جس سے کہ پاکستان بد امنی پھیلانے کی تمام راہیں ۔ خود بہ خود ختم ہوجائیں۔ ایاز محمود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی دہلی
This entry was posted on 07-07-2008 14:07. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 6 time. You can leave a comment.
Views: 2375
Views: 2375