کہاں ہے آپ کی آلو سٹیمپ پار لیمنٹ ؟۔بڑے آئے تھے اٹھارہ فروری کے جذباتی انقلاب کے بعد سارے فیصلے پارلیمنٹ کے ذریعے کروانے والے۔۔۔ ،ججز بحال کروالیے ؟با ڑہ آپریشن پارلیمنٹ سے پوچھ کر کیا جا رہا ہے ؟کشمیر پالیسی پر آصف ذرداری کا حالیہ بیان پارلیمنٹ کو پوچھ کر دیا گیا؟ ۔ با بو جی! اس جذباتی قوم کو کیا ہوگیا ہے ۔اس کی سمت کیا ہے یہ کیا کررہی ہے ۔اس کی منزل کہاں ہے ۔یہ کیسی جمہوریت ہے ؟۔سارے فیصلے پارلیمنٹ سے باہر بیٹھے ہوئے۔غیر منتخب لیڈر وں نے ہی کرنے تھے تو الیکشن کے تکلف کی کیا ضرورت تھی ۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے منتخب نمائندے ہمارے خون پسینے کی کمائی سے بھاری بھر کم مراعات کس لیے لے رہے ہیں ۔خزانہ خالی ہورہا ہے نفرت کا سمبل بننے والے مشرف نے جب اقتدار ان کے حوالے کیا ۔تو خزانے میں تیرہ ارب ڈالر سے زاہد ذرمبادلہ کے ذخائر تھے ۔روپیہ ڈالر کے مقابلے میں اکستھ روپے کا تھا اسٹاک ایکسچینج چودہ ہزار پوائنٹ سے اوپر تھی ۔ اور حکومت نے ضروری اشیاء پر سبسٹڈی بھی دے رکھی تھی ۔روٹی کپڑا مکان دینے کا دعویٰ کرنے والوں نے سودن کا پروگرام دیا ۔ با بو جی ! سو دن پورے ہوگئے ہیں ۔ اسٹاک ایکسچینج بیٹھ بلکہ لیٹ گئی ہے ۔ڈالر ستر سے اوپر چلا گیا ہے ۔ذرمبادلہ کے ژخائر دس ارب ڈالر سے نیچے جا رہے ہیں ۔سبسٹڈی واپس لی جا چکیں ہیں آٹا ،گھی ،دالیں،چینی ،چائے اور دیگر اشیاء صرف اب تو یوٹیلٹی سٹوروں پر بھی اکتیس فیصد مہنگی ہو گئی ہیں ۔اس کے علاوہ تیل ڈیزل ،پترول ،گیس مہنگا ہوگیا ہے۔جس سے سیمنٹ سریا ،بجری اور سفر مہنگا ہوگیا ہے ۔اب غریب مکان تو کیا جھونپڑی بھی نہیں بنا سکے گا ۔ٹیکسٹائل ملیں بند ہوگئی ہیں ۔کپڑا مہنگا ہوگیا ہے کیا یہی روٹی ،کپڑا مکان کا وعدہ تھا ۔جو انھوں نے پورا کردیا ہے۔ سو دن میں ۔۔۔اوپر سے جی ایس ٹی سولہ فیصد کردی ۔اور بیس فیصد تخواہوں میں اضافہ پر اترا رہے ہیں ۔بابو جی! یہ طوفان بد تمیزی کہا ں رکے گا ۔ غیر فطری اتحادوں کا یہی حال ہوتا ہے ۔آصف ذرداری ججز کو آئینی پیکیچ کے ذریعے بحال کروانے پر باضد ہیں ۔نواز شریف آئینی پیکچ سے اختلاف کرتے ہوئے ۔پار لیمنٹ کی قرار داد اور ایگزیکٹو آڈر کے ذریعے ججز بحال کروانا چاہتے ہیں ۔آصف ذرداری کی مجبوری این آر او ہے ۔تو میاں صاحب کی انا انھیں لچک پیدا کرنے نہیں دیتی کہ انھوں نے ووٹ ہی اسی نعرے پر لیے تھے ۔الٹا انھوں نے وکلا جیل بھرو تحریک اور لانگ مارچ کی حمایت کا بھی عندیا دے دیا ہے۔یہ کیسا اتحاد ہے ۔میاں صاحب ہو کہ اے این پی مولانا ہوں کہ ایم کیوایم ۔کو ئی بھی تو راضی نہیں ہے۔ اور حکومت کے کسی فیصلے کی حمایت نہیں کررہے ۔باڑہ آپریشن کو ہی لے لیں ۔لال مسجد سے قبائلی علاقوں تک سابق حکومت کی پالیسوں پر سخت تنقید کرنے والے اب کیو ں مزاکرات کے بجائے گولی سے بات کرنے لگے ہیں ۔وہی ہو رہا ہے جو مشرف کر رہا تھا ۔تو پھر قوم کو الیکش کی پسوڑی ڈالنے کی کیا ضرورت تھی ۔ اربوں روپے ضائع کرنے کی کیا تک بنتی ہے ۔اس جذباتی قوم کا کیا ہے ۔کسی اور نعرے سے بہل جاتی جیسے ساٹھ سالوں سے فریب کھا رہی ہے ملکی سلامتی کے نام پر ایک اور دھوکہ کھالیتی ۔این آراو کے تحت مل بیٹھتے ۔یہی کچھ امریکہ بہادر کے کہنے پر کرنا تھا ۔تو کر لیتے ۔۔۔ با بو جی! مشر ف نے تو آج رات بزنس کمیونٹی کی تقریب میں پھر صاف اور کھری کھری کہہ دیں ۔کوئی نہ مانے تو یہ الگ بات ہے ۔لیکن اس نے بھی کہہ دیا ہے ۔میں کہیں نہیں جارہا ۔یہ افوائیں وہ پھیلا رہے ہیں ،جو کل میرے چمچے تھے ۔ملک کو میری ضرورت ہے ۔اگر میرے جانے کی وجہ سے ملک کے سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔تو مجھے جانے میں کو ئی اعتراض نہیں ۔لیکن رہوں گا میں اسی ملک میں ۔کیونکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں کسی اور ملک میں جاکر رہوں ۔فوج میرے ساتھ ہے پیتالیس سال میں نے اس کی کمان کی ہے ۔پھر میں نے کیا کیا ہے ۔ملک کو نقصان پہنچایا ہے ؟ ۔پیسے کھائے ہیں چوری کی ہے ؟۔ کسی کے ساتھ ظلم کیا ہے ؟۔میں نے ملکی سلامتی اور بقاء کے لیے اور مالی استحکام کے لیے جو کچھ کیا ہے۔ اگر یہ جرم ہے تو پھر۔آج بل آخر یہ حکومت بھی وہی کچھ کر رہی ہے ۔اور یہی اس کے حل کا راستہ ہے ۔جو پالیسی ہم نے مرتب کی تھی ملکی سلامتی کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔جس کا ادراک اس حکومت کو بھی ہورہا ہے ۔ ہمارا مسلہ دہشت گردی ،مالی استحکام ، مہنگائی ،توانائی کا بحران ہیں ۔ان سب کا حل مفاہمت کی سیاست ، دہشت گردی کے خاتمے ۔امن ،اور بیرونی سرمایاکاری میں مضمر ہے ۔اگر ان کے پاس اس کے علاہ کوئی حل ہے تو نکال لیں۔ میں ان کے ساتھ ہوں ۔ ۔ لیکن ہمارا مسلہ مخلص قیادت کا فقدان ہے ۔ قوم میں پوٹینشل ہے وسائل سے ہم مالا مال ہیں ۔۔بابو جی! وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ مشرف کی باتیں نفرت کے ترازو میں تولنے کا وقت نہیں ۔ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کا وقت ہے کیا اس نے جھوٹ کہا ہے ۔کہ جو کچھ وہ کر رہا تھا وہی کچھ آج یہ حکمران کررہے ہیں ۔تو پھر مجھے آج ۔۔با بو جی! کہہ دینے جیئے مشرف سے نفرت تو ان حکمرانوں کو اتنی چھوٹ کیوں ۔ کیا یہ وہ وقت نہیں ہے کہ سارے اپنی اپنی انا الگ رکھ کر کچھ دیر کے لیے مل بیٹھیں اور اور قوم سے اپنی اپنی منافقتوں کی مافی مانگ کر وہ فیصلہ کرلیں ۔جو آج ملک کو بچانے کے لیے ضروری ہے۔ قوم ان کو ان کی پگڑیوں کی کلغی کم ہونے کا طعنہ نہیں دے گی ۔وہ تو ملک کی سلامتی کے لیے پریشان ہے ۔اسے اپنے پاپی پیٹ کی بھی اتنی شاہد پرواہ نہ ہو جتنی اس ملک کی ۔اسی لیے تو پیٹ کاٹ کر ایٹم بم بنالیا ۔سینوں سے بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے ۔ ادھر مولانا فضل الرحمٰن نے بھی تو اتحاد سے الگ ہونے کی دھمکی دے دی ہے ۔اے این پی بھی ا س آ ّپریشن پر خوش نہیں ہے ۔میاں صاحب نے بھی کہہ دیا ہے کہ انھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔کیا یہ سارے اچھے کام (بقول حکومت کے) اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر اور پارلیمنٹ کے ذریعے منظوری حاصل کرکے نہیں کیے جا سکتے تھے ۔جہاں حکومت اور ان کے اتحادیوں کی اکثریت ہے ۔تو پھر کیا پرابلم ہے ۔وہی طعنے جو پچھلی حکومت کو دیے جاتے تھے ۔کہ ربڑ سٹیمپ ہے ۔سارے فیصلے فردواحد( مشرف)کرتا تھا ۔ جو آمر تھا ۔اب کون کررہا ہے یہ تو جمہوری حکومت ہے ۔عوام کے ووٹوں اور امنگوں کی امین ۔لیکن آج قوم کو ایک نہیں دودو سولین آمروں کا سامنا ہے ۔جو کبھی لندن میں تو کبھی دوبئی میں بیٹھ کر اس قوم کی زندگی اور موت کے فیصلے کر رہے ہیں ۔اب اس کا ایک حل ہے بابوجی! ۔۔۔۔۔بھولے کی پوری تقریر میں مداخلت کرنے کی مجھ میں ہمت نہ تھی ۔کیوں کہ سچ کی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے ۔لیکن سانس لینے کے اس وقفہ میں مجھے بولنے کا موقع مل گیا ۔تو میں نے فورا٘ کہا کہ وہ کیا حل ہے بھولے! ۔۔۔بابوجی آلو سٹیمپ پارلیمنٹ ؟وہ کیسے ۔میں نے دوسرا سوال داغا ۔۔۔۔بے اختیار ہیں تو واپس آجائیں عوام کے پاس ۔۔بابوجی!۔پھر دیکھیں اس قوم کا کمال ۔ جس نے چیف جسٹس کے ایک انکار کے بعد کتنے چنے ان سیاست دانوں کو چبوائے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یونس مجاز ۔۔۔رائے عامہ روڈ ۔۔۔الحمید پلازہ ۔۔۔۔ہری پور فون نمبر 03018126146
This entry was posted on 07-07-2008 13:49. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 8 time. You can leave a comment.
Views: 2127
Views: 2127