Like what you see? If you like what you see, please tell a friend or family member about us! It's simple! Just click on the Tell a Friend hotlink below
Syndicate
انتہا پسند بال ٹھاکرے اور بھارت میں دہشتگردی
رمیش ہنو منت گڈکری اور منگیش دینکرنگم نے چھ جون 2008 ء کو تھانے شہر کے آڈیٹوریم کے کار پارکنگ زون میں داخل ہو کر ایک سائیکل پر بم نصب کر دیا جس کے دھماکے سے بہت سے افراد زخمی ہوئے۔ملزمان جس موٹر سائیکل پر بم لے کر آئے تھے وہ موٹر سائیکل ’’پریم گرو کرپا پرتشٹھان‘‘ نامی آتشرم کے نام رجسٹرڈ ہے۔ملزمان کو آڈیٹوریم میں چلنے والے ڈرامے ’’آمہی پاچپوتے‘‘ پر اعتراض تھا۔ملزمان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ فلم ’’جودھا اکبر‘‘ کی نمائش کے دوران بھی دھماکہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بم پھٹ نہ سکا۔ملزم منگیش دینکرنگم کو فروری 2006ء میں رتنا گیری کے چرچ کے باہر دھماکہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ملزمان کا تعلق شدت پسند تنظیموں ’’ہندو جن جاگورتی سمیتی‘‘ اور اسی کی ذیلی شاخ‘‘ سناتن پربھات سے ہے۔ہندوستان کے مغربی صوبے مہاراشٹر کی انتہا پسند جماعت ’’شیو سینا‘‘ کے سربراہ بال ٹھاکرے نے شیوسینا کے ترجمان اخبار’’ سامنا‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہندوئوں کو مسلم شدت پسندی سے نمٹنے اور اپنی قوم کی بقا کے لئے ہندو خودکش دستے تیار کرنے چاہئیں۔اپنے اداریہ میں بال ٹھاکرے نے لکھا ہے کہ یہ پڑھ کر مجھے خوشی ہوئی کہ ہندوئوں نے بم دھماکے کئے لیکن یہ پڑھ کر شرم بھی محسوس ہوئی کہ وہ دھماکے بہت ہلکی نوعیت کے تھے جس سے صرف چند لوگ زخمی ہوئے۔ان دھماکوں کی وجہ سے ہندو زخمی ہوئے جبکہ تنظیم کو بم دھماکے مسلمانوں کے خلاف کرنے چاہئیں تھے۔بال ٹھاکرے کا یہ کوئی پہلا بیان نہیں ہے ان کے اندر مسلم دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ٹھاکرے مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہے اورہندو شدت پسندوں کو مسلمانوں کے خلاف اکساتا رہتا ہے۔اب تک مسلمانوں پر جتنے حملے ہوئے ان کی املاک جلائی گئیں ‘ان کو اغوا کیا گیا تمام واقعات میں شیو سینا ملوث ہے۔مگر آج تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی بلکہ حکومتی معاونت نظر آتی ہے۔ تھانے شہر میں بم دھماکہ کرنے والوں نے آٹھ ستمبر 2006ء کو مالی گائوں میں قبرستان مسجد اور مشاورت چوک میں اسی طرز کے چار بم دھماکے کئے۔اس کے بعد مہاراشٹر‘ حیدر آباد اور بنارس میں بھی ایسے ہی بم دھماکے کئے گئے۔23 نومبر 2007 ء کو جمعہ کے دن ریاست اتر پردیش کے تین شہروں لکھنئو‘ بنارس اور فیض آباد کی عدالتوں کے احاطے میں گیارہ اکتوبر 2007ء کو ریاست راجستھان کے شہر اجمیر شریف کے مشہور بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ میں بم دھماکہ ہوا۔یہ دھماکہ رمضان کے مہینے میں افطاری کے وقت ہوا تھا۔18 مئی 2007ء کو حیدر آباد کی تاریخی مکہ مسجد میں دھماکہ ہوا یہ دھماکہ عین اس وقت ہوا جب لوگ نماز جمعہ ادا کر کے واپس جا رہے تھے جس میں 14افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے بعد میں مظاہرہ کرنے والے مسلمانوں پر پولیس نے گولیاں چلا دیں۔18 مئی 2006 ء کو دلی کی تاریخی جامع مسجد میں دھماکہ ہوا لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔اس کے علاوہ بھی متعدد بم دھماکے ہوئے مگر ہر دھماکے کے بعد صرف اور صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی کی گئی جس سے سینکڑوں بھارتی مسلمان اس وقت جیلوں اور ٹارچر سیلز میں موجود ہیں۔اب جبکہ تھانے شہر میں بم دھماکہ کرنے والے ملزمان رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں اورکئی بم دھماکوں کا اعتراف بھی کر چکے ہیں اس کے باوجود پولیس نے ’’مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ‘‘ کے تحت مقدمہ درج کرنے کی بجائے آتش گیر مادہ رکھنے کا مقدمہ درج کیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ ملزمان کسی منظم دہشت گرد تنظیم کے اراکین نہیں اس لئے ان پر ’’مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ‘‘ کا اطلاق نہیں ہوتا۔جبکہ کسی مسلمان کی جیب سے ماچس بھی برآمد ہو جائے تو اس پر دہشت گردی کی سخت سے سخت دفعہ لگا کر کئی کئی سال جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ بھارتی حکمران جن بم دھماکوں کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہراتے رہے ہیں۔مگر آج تک ثابت نہیں کیا جا سکا کیونکہ ان تمام بم دھماکوں کے ذمہ دار تو ہندو انتہا پسند ہیں جو اب ثابت بھی ہو چکا ہے۔بھارتی حکمران جان بوجھ کر ہندو انتہا پسندوں کو کھلی چھٹی دیتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔فروری 2002ء میں گودھرا ٹرین میں آتشزدگی کے بعد گجرات میں مسلم کش فسادات ہوئے جن میں مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔پولیس نے انتہا پسند ہندوئوں کو موقع فراہم کیا جن کی حکومت کی طرف سے احکامات جاری ہوئے تھے جس میں وزیراعلیٰ براہ راست ملوث تھے۔اگر بھارتی حکومت کسی بھی دہشت گردی میں ملوث دہشت گرد ڈھونڈنا چاہتی ہے تو اسے ہندو انتہا پسند تنظیموں کے خلاف کریک ڈائون کرنا چاہیے جو کھلم کھلا دہشت گردی کر رہے ہیں۔اگر شدت پسندی اور انتہا پسندی کو کنٹرول کرنا ہے تو شیو سینا سمیت تمام ایسی تنظیموں پر فوری پابندی عائد کرے۔ ہر دہشت گردی کا ذمہ دار مسلمانوں کو سمجھنے سے نہ تو دہشت گردی ختم ہو گی نہ انتہا پسندی کم ہو گی۔
This entry was posted on 03-07-2008 15:45. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 5 time. You can leave a comment.
Views: 1556
Views: 1556