Nov
22
2008
Today

Your Favorite Mobile / Cell phone brand ?
Attock
7°C
اپنی اپنی من مرضی کے نطام کا نفاذ کیا گل کھلائے گا؟ PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
انسانی معاشروں میں اگر قانون اور ضابطے نہ ہوں تو دنیا میں کسی بھی انسان کی کوئی چیز محفوط نہ رہے ہر طرف افرا تفری اور وحشت کا راج ہو اس لئے دنیا میں ہر معاشرے کی بنیاد کسی نہ کسی قانون اورضابطے پر رکھی جاتی ہے اور معاشرتی زندگی کے تمام عوارض اور مسائل ان قوانین اور ضابطوں کی روشنی میں ہی طے کئے جاتے ہیں۔ بغیر قانون اور ضابطے کے معاشرہ ایسا ہی ہے کہ جیسے جنگل کی زندگی‘ ہر چیز مادر پدر آزاد طاقتور کمزور کو نگلنے کے درپے‘ جہاں طاقت ہی اصول کی بنیاد ہوتی ہے۔کچھ دن ہوئے صوبہ سرحد کے سب سے بڑے شہر پشاور میں ایک تدریسی ہسپتال سے مسیحی برادری کے 16 افراد کے اغواء کا واقعہ ہوا‘ جس میں عسکریت پسندوں کے ایک گروہ نے انہیں اغواء کیا‘ بات بین الاقوامی سطح تک پھیل گئی،بین الاقوامی اور قومی پریس نے شور ڈالا تو حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے یہ لوگ اسی دن رہا کرالئے۔لیکن اس کے باوجود اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔بلکہ اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ لوگوں کو اغوا کرنا اور تعاون وصول کرنا ایک کاروبار بنتا جا رہا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا مہذب معاشرے ایسے ہوتے ہیں ؟ یہ کون لوگ ہیں جو لوگوں پر اپنی مرضی ٹھونسنا چاہتے ہیں اور اپنی مرضی کا نظام لانا چاہتے ہیں ۔ سوات میں چند روز پہلے ایک ہی رات میں لڑکیوں کے کچھ سکول آگ لگا کر خاکستر کردیئے جاتے ہیں اور مہمند ایجنسی میں عورتوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ فاٹا کی مختلف ایجنسیوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا بھی خلاف اسلام فعل قرار دے دیا گیا ہے اور بچیوں کا تعلیم حاصل کرنا بھی۔ جرائم پیشہ افراد کو سزا دینے کے لئے قانون اور عدالتیں موجود ہیںاور ہر مہذب معاشرے میں قانون کی عملداری ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ کیونکہ قانون حکومت کی عملداری ہے اور معاشرے میں سدھار کیلئے حکومتیں اسی پر عمل پیرا ہوکر امن و امان بحال کرتی ہیں۔ لیکن یہاں کچھ گروہ اسلام اور شریعت کے علمبردار بن کر خود ہی قانون اور خود ہی عدالت بن کر لوگوں کو سزائیں دینا شروع ہو گئے ہیں ، جس سے لوگ خوف زدہ ہو کر ان علاقون سے نقل مکانی کرنا شروع ہو گئے ہیں ان کی متعین کردہ سزائیںبھی اسلامی قوانین سے متصادم ہیں۔ مثال کے طور پر پچھلے دنوں دو سکھوں کا اغوا ء ہوا جرگے نے سکھوں کو برآمد کرایا اور اغواء کاروں کے گھر مسمار کئے اور انہیں ہزاروں لوگوں کے سامنے سرعام قتل کردیا۔ اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا یہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔ اسی طرح لوگوں کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دے کر قتل کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں،سزا اور جزا کا فیصلہ کرنے کا ملکی عدالتوںکا کام ہے نہ کہ ہر فرد اور گروہ کو اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی عدالت خود لگائے اس طرح اگر اس طرح لوگ خود ہی عدالتیں لگانے لگے تو معا شرے میں انارکی پھیل سکتی ہے ۔

ضلع کوہاٹ میں کیبل ٹی وی کی تمام نشریات یکدم روک دی گئیں اور اسی دن پتراہ بازار میں ٹی وی اور سی ڈی بیچنے والی دکانیں دھماکہ خیز مواد سے اڑا دی گئیں اور اس کے ساتھ ہی مقامی طالبان نے یہ اعلان کیا کہ اتوار کی دوپہر تک اگر کیبل ٹی وی بند نہ کیا گیا تو ان کا انجام بھی وادی پتراہ میں ہونے والی کارروائی کی طرح ہوگا۔ یہ نام نہاد عناصر ہر جگہ اپنی مرضی کا نظام لانے پر تلے ہوئے ہیں۔ وادی پتراہ میں پچھلے چند دنوں سے دو گروہوں کے درمیان یعنی انصار اسلام اور لشکر اسلام کے درمیان ان علاقوں پر اپنی اجارہ داری کرنے کیلئے گھمسان کی جنگ جاری ہے‘ جس کی وجہ سے کئی لوگ اب تک ہلاک ہوچکے ہیں۔ کرم ایجنسی میں بھی اپنی بالادستی کی بے رحم جنگ جاری ہے اور سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔

یہ لوگ اپنے مذموم مقاصد کیلئے دین اسلام کا نام لیتے ہیں۔ یہ طریقہ بھی دراصل لوگوں کو زہنی غلام بنانے کے مترادف ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا ۔ ان لوگوں کا مقصد صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ علاقہ اور زیادہ سے زیادہ عوام پر تسلط قائم کرنا ہے‘ تاکہ یہ لوگ اپنے ظلم پر روا رکھے ہوئے منشور پر عمل کرسکیں اور اپنی کارروائیوں کے ذریعے لوگوں کے دل و دماغ پر خوف طاری کرکے اپنی ہیبت اور دھاک بٹھا سکیں۔ اسی لئے آئے روز غریب حجام‘ ٹی وی کی دکان‘ سی ڈی سنٹر‘ گرلز سکول‘ زنانہ مرکز صحت اور کاروباری ادارے ان کا نشانہ بن رہے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت نے شر پسند عناصر کی سرکوبی کیلئے خیبر ایجنسی میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے آپریشن شروع کیا ہے‘ تاکہ سرکاری عملداری قائم ہوسکے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسلے کا حل مستقل بنیادوں پر کرے تاکہ ملک انارکی پھیلنے سے محفوظ رہ سکے ،اب یہی دیکھ لیجیے کہ وادی سوات کا حسن گہنا چکا ہے اور وہاں کے مکین بھوکوں مر رہے ہیں ، لوگوں کے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں ،انتہا پسندوں کا اگر یہی مقسد ہے کہ لوگ تباہ و برباد اور خستہ حال ہو جائیں تو اس مقسد میں وہ کامیاب ہو چکے ہیں ،ملک کو تباہی سے بچانا اور شہریوں کو امن وسکون مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن باشعور لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تا کہ ان علاقوں کی رونقیں دوبارہ بحال ہو سکیں اور یہ علاقے امن و شانتی کا گہوارہ بن سکیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ میڈیا خصوصاالیکٹرونس میڈیا کو ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے لوگوں کو اصل حقائق سے آگا کرے ۔




03-07-2008 16:07 Zameer Afaqi
This entry was posted on 03-07-2008 16:07. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 7 time. You can leave a comment.
Views: 2059    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >