| ناچ میری بلبل کہ پیسہ ملے گا ؟ |
|
|
|
با بو جی!کبھی بندر کا تماشا دیکھا ہے۔جو مداری گاؤں گاؤں ،قریہ قریہ ایک کتے اور ایک بندر کو لیے دکھا تا پھرتا ہے ۔کبھی کتے کے ساتھ تو کبھی کے بغیرکتے کے یہ بندر ڈگ ڈگی پر ناچتا ہے اور مالک کہتا ہے ۔’’ناچ میری بلبل کہ پیسہ ملے گا ‘‘۔پیسہ تو اس کو آج تک ملا نہیں ۔لیکن مالک کی ہوس زر اور اپنے پاپی پیٹ کی خاطر بند رآج تک ناچ رہا ہے ۔بین ہی ساٹھ سالوں سے سیاست دانوں کی ڈگ ڈگی پر نا چنے والی اس بھولی قوم کو لانگ مارچ کے نام پر پھر نچایا گیا ۔بڑے وثوق سے ججز کو بحال کرانے کے لیے پوری پاکستان سے ڈھول کی تھاپ پر ناچتے گاتے جانے والے لاکھوں جیالے ،متوالے اور کالے کوٹوں والے ابھی بیٹھنے بھی نہ پائے تھے ۔کہ یہ کہ کر واپس بھیج دیے گئے کہ ہم نے تو دھرنے کا کوئی پروگرام نہیں دیا تھا ۔چند جو شیلے نوجوانوں نے جب اسے تحریک سے غداری کا نام دیتے ہوئے ۔واپس جانے سے انکار اور قائد تحریک کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے ۔سودے بازی کا الزام لگایا ۔تو چور کی داڑھی میں تنکا کے مترادف جواب آیا ۔کہ ہم نے تو کوئی سودے بازی نہیں کی ۔بس صرف آپ کا ٹیمو چیک کرنے کے لئے ایک ٹیسٹ لیا ہے ۔جو یقینااب جاگھ کی طرح بیٹھ گیا ہوگا ۔با قی کی کسرٹرین مارچ میں نکال لیں گے۔با بو جی ! اس قوم کو اب تک سمجھ نہیں آئی ۔ کہ بقول عمران خان حکمران اس قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔لیکن ہمیشہ کسی کو بھی دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ۔پر ی پلانگ لانگ مارچ کا ٹائم تو دیکھیں ۔کس خو بصورتی سے بجٹ کے بیچوبیچ لانگ مارچ نکال لیا ۔قوم ناچ رہی تھی سڑکوں پر ۔یہ ٹھنڈے کمروں میں اجلاسوں پہ اجلاس کیے جارہے تھے۔کہ اب اس طوفان کو کیسے ٹالا جائے ۔کئی ایک موقع پر حکمرانوں اور ان کے ہم نوالوں کے سانس اکھڑنے لگ جاتے ۔تو لانگ مارچ کی ناکامی اور تعداد کی کمی کی ڈفلی بجانی شروع کر دیتے ۔زرداری صاحب کی طرف سے ولیمہ بھی دیا گیا ۔ تھنڈے پانی کی بے نظیر سبیلیں بھی لگائی گئیں ۔کتنا اہتمام کیا تھا۔ ان حکمرانوں نے اس قوم کو نچانے کے بعد ٹھنڈا کرنے کے لیے ۔شوناکام ہوتا تو کہا جاتا ۔دیکھا ہم نہ کہتے تھے ۔کہ عوام کو ججز سے کیا لینا دینا ۔انھوں نے تو ہمیں روٹی کپڑا کے نام پر ووٹ دیئے ہیں ۔جو ہم نے نہ صرف گندم اور تیل پر سبسڈڈی کم کرکے بلکہ سیلز ٹیکس میں ا ضافہ کرکے ان کا احسان چکا دیا ہے ۔بلکہ ان کی آنے والی نسلیں بھی اس احسان کو یاد رکھیں گی ۔تاکہ ان کا اپناتیل اتنا ضرورنکلتا رہے ۔ کہ امریکہ کی خیرات آنے تک ہماری گاڑیاں چلتی رہیں ۔ویسے بھی خیرات کی اب چندہ ضرورت نہیں رہے گی۔جلد یا بدیر انکل سام خود آنے کی تیاری کر رہا ہے ۔جس میں اب شک شبے کی گنجائش باقی نہیں ۔جملہ کڑوا سہی مگر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کب تک ۔اقتدار کی کھینچا تانی میں لگے حکمرانوں کی چال ڈال تو یہی بتا رہی ہے ۔ کیو نکہ ڈمہ ڈولی پر امریکہ نے حملہ کرکے جب ہمارے ایک میجر اور گیارہ سپائیوں سمیت چالیس افراد کوشہید کیا تواحمد مختیار نے بتا دیا ہے ۔کہ تیس ہزار فٹ کہ بلندی پر ہوائی جہازوں کے حملہ کو روکنے کی صلاحیت ہم میں نہیں ۔اس لیے جب بھی چا ہوآجاؤ۔اگر گستاخی نہ ہو تو آنے کے بھی کیا ضرورت ہے ۔ہم ہیں نا جدی پشتی تمہارے خدمت گار ۔ہر حکم بجا لانے والے ۔وہ تو ہم نے تھوڑا نخرا کیا تھا ۔نئی نویلی دلہن کی طرح تاکہ منہ دکھائی میں اضافہ ہوسکے ۔بس مشرف کو ہمارے سر سے ہٹا دو ۔پھر دیکھو ہماری پھرتیاں ۔۔۔۔لیکن با بو جی!اب جب کے لانگ مارچ نے حکمرانوں کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔تو کہتے پھر رہے ہیں ۔یہ ہمارا اپنا شو تھا ۔اس کا آغاز تو ہم نے خود کیا تھا ۔ہم نے قربا نیا ں دی ہیں لاشوں اور پکی پکائی دیگوں پر نا نا جی کی فاتحہ خوانی ہمارا پرانا وطیرہ ہے ۔جب کہ میاں صاحب کی تو ججز بحالی تحریک میں پہلے دن سے ہی پانچوں انگلیاں ہی نہیں پورا سر بھی گھی میں ہے ۔ایک طرف اقتدار کے مزے اور دوسری طرف اپوزیشن کی اٹھکیلیاں ان کو ہوا میں اڑا رہی ہیں ۔ اور آصف زرداری بقول شاعر یہ کہنے پر مجبور ہیں ۔۔۔الہی آبرو رکھنا بڑا نازک زمانہ ہے ۔۔۔دلوں میں کفر رکھتے ہیں بظاہر دوستانہ ہے۔۔۔با بوجی ! مشرف آج راستے سے ہٹ جائے دونوں اتحادیوں کی بلیاں تھیلے سے باہر آجائیں گی ۔یہ ساری مسکراہٹیں اور خیرسگالی کے جزبات ہوا میں تحلیل ہوجائیں گے ۔لیکن لگتا ہے مشرف خود تو ننگے ہو چکے ہیں ۔ان کو بھی ننگا کر کے جائیں گے ۔کتنی دیر تک مشرف کی عوامی نفرت کی آڑ میں عوام کو دھوکہ دیں گے ۔تین مہینوں میں مہنگائی دوگنی ہو گئی ۔اسٹاک ایکسجینج مندی کا شکار ہو گئی ۔پیسہ ڈی ویلیو ہو تا جارہا ہے۔ ان کی جلسے جلوسوں اور الزامات کی سیاست کی وجہ سے سرمایہ ملک سے جا رہا ہے ۔یہ کیسی حکومت ہے ۔خود جلسے جلوس نکال رہی ہے ۔ایک لانگ مارچ سے ایک بلین کا ریوینو کا خسارہ ملک کو ہواہے ۔پارلیمنٹ کو زبانی کلامی سپریم کہنے والے سارے کے سارے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں ۔تو پھر فیصلے سڑکوں پر کیوں یا تو ان کے سر سے ابھی تک آٹھ سالہ اپوزیشن کا نشہ نہیں اترا ۔ یا پھر ان کویہ یقین ہی نہیں آرہا کہ وہ حکومت میں بیٹھے ہیں ۔ان کے پاس دو تہائی اکثریت اسمبلی میں موجود ہے ۔ تمام اتحادی ججز کی بحا لی چاہتے ہیں ۔مشرف کا مواخذہ جرات ہو تو کر سکتے ہیں ۔حالانکہ مشرف نے با بانگ دھل کہہ دیا ہے ۔کہ پارلیمنٹ میں ان کی اکثریت ہے مواخذہ کریں ۔ ججز کو بحال کریں ۔ ویلکم کروں گا ۔۔۔۔با بو جی! یہ حکومت کرنے میں سنجیدہ ہی نہیں کوئی معاشی پالیسی نہیں ، کوئی دفاہی پالیسی نہیں ،مہنگاہی کو روکنے کی فکر نہیں ،بس اگر فکر ہے تو این آر او کی جسے حکمران ایفورڈ نہیں کر سکتے ۔اسی لیے تو بابوجی ! میں نے آپ سے پہلے بھی کئی بار کہا ہے۔کہ ججز بحال نہیں ہوں گے ۔ جس مشرف کا نام لے کر عوام کو ڈرا رہے ہیں۔ اس بچارے کا یہ حال ہے ۔کہ شیری رحمان کے ترلے کر رہا ہے ۔ٹی وی کوریج کے لیے ۔اور پھر اعتزاز نے ایک سچ لانگ مارچ کے نشے میں بول دیا تھا ۔کہ ججز کی بحالی میں صدر نہیں جو بے ضرر ہوچکے ہیں ۔وہ پارلیمنٹ ہے ۔جو خود کو سپریم کہہ رہی ہے۔ اس لیے گہراؤاس کا ہوگا ۔لیکن سب نے دیکھا پارلیمنٹ کا گہراؤ کرنے کا اعلان کرنے والے ۔یہ صفائیاں کرتے پھر رہیں ہیں ۔کہ کو ئی سودا بازی نہیں ہوئی ۔لیکن اس بے وقوف عوام کو کون سمجھائے ۔اعتزاز کے ساتھ ٹکٹ کے وقت ہاتھ ہوا تھا ۔جس کا بدلہ انھوں نے لانگ مارچ والوں سے لے کر حساب برابر کیا ہے ۔اور ٹکٹ نہ دینے والوں کو بھی بتا دیا ہے ۔میری آواز سنو ۔۔۔۔بھولے میں نے تیری آواز ہی نہیں پوری تقریر سن لی ہے ۔ تمہاری پیشن گوئیاں تواب تک ساری درست ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہیں ۔لیکن اب کیا ہوگا ۔بابو جی بجٹ پاس کروالیںیہ حکمران ۔مشرف بھی چلاہی جائے گا ۔لیکن ان کو ننگا کر کے ۔۔۔۔پھر!۔۔۔پھر میاں صاحب اور زرداری سینگ پھنسا لیں گے ۔کیو نکہ لگتا ہے۔ ان دونوں نے مشرف کی محبت میں جو ادھار کھایا ہے ۔اس کے چکانے کا وقت قریب آرہا ہے ۔صبر کا پیمانہ اب لبا لب بھرا پڑا ہے ۔زرداری کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی زہراور میاں صاحب کے لہجے کی کھنک مستقبل کا پتہ صاف بتا رہی ہے ۔کہ اس قوم کی بد قسمتی کے دن ختم ہونے کے بجائے اور طویل ہونے والے ہیں ۔ جب کہ لانگ مارچ سے لوٹنے والے وکلاء کے تیور کچھ اور ہی کہانی بتا رہے ہیں ۔ کیونکہ قوم اور پارلیمنٹ ایک آمر کے شکنجے سے نکل کر کئی آمروں کے شکنجے میں جکڑی جا چکی ہے ۔جو تب بھی ربڑ سٹیمپ تھی سو اب بھی ہے ۔۔۔۔۔خدا نہ کرے بھولے ان حا لات میں ہم کسی ایڈونچر کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔۔۔تو پھر بابوجی!ناچ میری بلبل کہ پیسہ ملے گا ؟۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یو نس مجاز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رائے عامہ روڈ۔۔۔ الحمیدپلازہ۔۔۔ ہری پور
فون نمبر03018126146
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یو نس مجاز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رائے عامہ روڈ۔۔۔ الحمیدپلازہ۔۔۔ ہری پور
فون نمبر03018126146
Users' Comments (1) |
|
|
02-07-2008 08:09, , Registered Mr Younus Majaz saheb, Its really a good effort and apprec iatable article and enough to open our eyes, as well as eyes of rules Asif Zardari and Nawaz sharif or at least their party members, whosoever happens to read it. Because Nawaz sharif and Zardari is not freen to read these articles.They both are engaged in ntheir "bunder baant", what the maximum they can get in minimum passage of time. Qoomi khazana is bleeding and went short of 7 billion US.Dollar (seven Thousand million us.dolar) in these four months. Why its dropping so fast and where our hard money is going. I appreciate you once again on your brave effort and I am confident you will continue writing in future too. Pakistan zinda bad |
||
|
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 1348