افغانسیان میں اتحادی فوجوں کی جانب سے گزشتہ چھ سالوں سے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے دوران یو ں تو جب امریکہ نے محسوس کیا اور داچایا اس نے ہمارے قبائلی علاقوں پر میزائل حملوںسے اپنی طاقت کا لوہا منوایا اور ہماری بے بسی کا مزاق اڑایا ۔جسے یاتو ہم نے اپنے کھاتے میں ڈال کر اپنی قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکی یاپھربہت تیر مار لیا ۔اتو احتجاج کے طور پر بیان جاری کردیا ۔ کہ پاکستانی علاقوں میں کاروائی کرنے کاحق صرف پاکستانی فورسسز کوہے ۔کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔لیکن انکل سام ہے کہ اجازت مانگتا ہی نہیں ۔کہ ہمیں بھی اجازت دینے کا شرف ایک بار تو حاصل ہوجاتا۔ہماری اس فرمابرداری کو دیکھتے ہوئے پہلی بارنئی حکومت کی غیرت وحمیت کے ٹیسٹ کے طور پر مہمند ایجنسی میں پہلے افغان فوجوں کو پاکستانی چوکی پرقبضہ کے لیے تھپکی لگا کر بھیجا ان کی ناکامی پر خود ہوائی حملہ کے ساتھ نازل ہوگیا۔جس کے نتیجہ میں ایک میجر سمیت گیارہ فوجی اور نو سولین شہید ہوگئے ۔ اور حملہ پر افسوس کا اظہار بھی اس احسان کے ساتھ کیا کہ یہ جائز تھا تاہم ہمیں افسوس ہوا ۔کہ پاکستانی فوج اس کی زد میں آگئی ۔اور ساتھ ہی ایک انکوائری کمیٹی قائم کرکے بظاہر ہماری حکومت کی اشک شوئی کردی ۔ تاکہ وہ اپنی عوام کو وہ منہ دکھا سکنے کے قابل ہوجائے جو اس کے پاس ساٹھ سالوں سے ہے ہی نہیں۔ جو اس حملہ کی وجوہات تلاش کرے گی ۔جو سوائے پاکستانی حکمرانوں کے سب کومعلوم ہیں ۔ یہی پر بس نہیں پرانے اور آزمائے نسخہ کے طور پر ڈاکٹر قدیر کیس کو مغربی میڈیا نے ایکبر پھر اپنی لسٹ پر رکھ لیا ہے حالاں کے یہ قصہ کب کا قصہء پارینہ بن چکا ہے ۔لیکن ڈاکٹر قدیر کی جزوی رہا ئی خوف زدہ مغرب جو سچ سننے کی تاب نہیں رکھتا ۔ اس موضوع پر تبصرہ کسی اور کالم پر موقوف کرتے ہوئے امریکی حملہ کی جانب آتے ہیں ۔ ۔۔۔۔صاحبو!غیرت اور حمیت کا تقاضہ تو یہ تھا ۔کہ فوری جوابی کاروائی کرکے حساب برابر کردیا جاتا ۔کیونکہ موجودہ صورت حال میں امریکہ اس پوزیشن میں نہیں تھا۔کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دیتا ۔بہت زیادہ اگر ہوتا تویہی ہوتا امریکہ اور پاکستان کے حالات عارضی طور پر کشیدہ ہوجاتے۔لیکن ان حالات کو بھی امریکہ زیادہ دیر تک ایفورڈ نہیں کر سکتا تھا ۔کیونکہ افغا نستان اور عراق میں پے درپے ناکامیوں اور اتحادیوں کی جانب سے مایوسی کے اظہار نے امریکہ کو اضطرابی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے ۔اگر اس میں کسی نئے محاز کے کھولنے کی ہمت ہوتی تو وہ ایران پر کب کا حملہ کر چکا ہوتا ۔دھمکیوں اور پابندیوں پر نہ ٹالتا ۔حالانکہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کنفرم بھی نہیں ہے ۔ جب کہ ہماری حکومت نے زبانی کلامی ردعمل تو دیکھایا ۔لیکن وزیر دفاع احمد مختیار کے اس بیان نے پاکستانی عوام کے تن بدن میں آگ لگادی ۔کہ پاکستان تیس ہزاربلندی پرفضائی حملے کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔اور اسی کمزوری کو بنیاد بنا کر کوہٹہ بلوچستان میں کئی سالوں تک ہمارے ہی ٹکڑوں پر پلنے والے تندورچی حامد کرزئی نے جسے اپنی گلی پر بھی اختیار حاصل نہیں جہاں وہ رہائش پزیر ہے ۔شہیدوں میں نام لکھوانے کے لیے اپنی اوقات سے بڑھ کر بیان دیتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردوں کا پیچھا کرنے کے لیے اپنی فوجیں اتارنے کی پھبکی کس دی ۔یعنی مینڈکی کو بھی زکام ہوگیا ۔اور بقول شاعر۔۔۔’’ہمیں سے سیکھیں ادائیں ہمیں پہ وار کرتے ہیں۔۔۔۔۔ ہمارے تیر ہمیں کو شکار کرتے ہیں‘‘ ۔لیکن امریکہ صدر کی طرف سے برطانیہ میں پریس کانفرنس کے دوران کرزئی کے بیان کی گماپھرا کر حمایت اور تھپکی نے یہ ثابت کردیا کہ مینڈک یونہی نہیں نیل چڑوانے آگئی ۔بلکہ اس کے پیچھے انکل سام کی مکمل آشیرباد موجود ہے۔ اس ساری صورت حال میں پاکستانی عوام کہاں کھڑی ہے امریکہ اور اس کے حواری باخوبی واقف ہیں ۔کہ یہ وہی قوم ہے جس کے حکمران کتنے ہی ناایل اور ہوس زرکے مارے کیوں نہ ہوں ۔جب وقت پڑا تو چھ سو ٹینکوں کو روکنے کی بظاہر صلاحیت نہ رکنے کے باجود سینوں سے بم باندہ کرلیٹ گئے اور لمحوں میں دشمن کو پسپا کر دیکھایا ۔یہ وہی ٹیکنالوجی ہے ۔جس کا استعمال آج کل طالبان کر رہے ہیں ۔کیو نکہ اپنے دشمن کے مقابلے میں ان کے پاس جدید ہتھیاروں کی صلاحیت موجود نہیں ۔اور ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔چہ جائے کہ ایٹمی صلاحیت اور میزائلوں سے لیس قوم پر امریکہ اور اس کے حواری حملہ کی جرء ات کریں ۔مزکورہ حملہ جو حکمرانوں کا ٹیسٹ کیس تھا ۔اور یہ وہی حکمران ہیں جو اپوزیشن میں ہوں تو بڑے بڑے دعوے کرتے تھکتے نہیں ۔لیکن اقتدار میں آکر اپنے مفادات کے کیچڑ میں لتھڑے ہوئے یہ سورما ساری غیرت ڈالروں کے عوض برائے فروخت کا اشتہار نظر آتے ہیں اور ایک دوسرے سے بڑھ کر امریکہ کی وفاداری کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں ۔اس وقت بھی پاکستان اسی صورت حال سے دوچار ہے ۔اقتدار کی کھنچاتانی میں ملکی سلامتی داؤ پر لگائی جارہی ہے ۔ ضروت اس امر کی ہے کہ باہمی چپقلشوں کو کچھ دیر کے لیے موقوف کر کے ۔مغرب کی جانب سے آنے والے طوفان کو روکنے کی سبیل کی جائے ۔ بقول اپنے اس شعر کے ۔۔۔’’یہ آج کس مقام پہ ہم لوگ آگئے ۔۔۔۔رکنے کی ہے سبیل نہ صورت سفر کی ہے‘‘۔۔۔۔ کیونکہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے اب کام نہیں چلے گا ۔جو ں جوں وقت گرتا جارہا ہے ہمارے دشمن ہمارا گھیرا تنگ کرتے چلے جارہے ہیں ۔کہیں ایسا نہ ہو ۔پانی سر سے گزر جائے ۔اور ہاتھ کی گا نٹھیں ہمیں دانتوں سے کھولنی پڑ جائیں ۔ورنہ کرزئی کی یہ مجال کے وہ ہمیںآنکھیں دکھائے یعنی ہماری بلی ہمیں ہی میاؤں ۔اس کی اوقات کسے نہیں معلوم ۔ یہ تو وہی والی بات ہوئی کیا پدی کیا پدی کا شوربہ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یو نس مجاز ۔۔۔۔رائے عامہ روڈ ۔۔۔الحمید پلازہ ۔۔۔ہری پو ر۔۔۔۔فون نمبر 03018125146
This entry was posted on 01-07-2008 15:35. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 7 time. You can leave a comment.
Views: 2026
Views: 2026