Nov
22
2008
Today

Who is Better Politician...
Attock
10°C
پاکستان کی علاقائی زبانوں کی ترقی۔۔۔۔۔۔؟ PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
native languages in pakistanمیرے لئے یہ اطلاع کہ نشتر ہال پشاور میں صوبہ سرحد کی 30 زبانوں اور ثقافتوں کی ترقی اور ترویج کے لئے فرنٹئیر لینگویجز کلچرل نیشنل کانفرنس کا انعقاد ہو رہا ہے اتنی ہی فرحت افزا تھی۔ جتنی کسی کو اس کا حق مل جانے پر ہوتی ہے۔ہوا یوں کہ میں اپنے برادر خورد عزیزی فرخ رشید کو ملنے کے لئے 6 جون کو پشاور پہنچا۔7 کی صبح کوئی دس بجے مجھے محترم سلیم آفاقی صاحب کا فون آیا اور انہوں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے مجھے بتایا کہ انہیں ضمیر آفاقی نے بتایا ہے کہ میں پشاور میں ہوں لہذا وہ پشاور میں میری موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھے اس کانفرنس میں مدعو کرنا چاہتے ہیں ۔میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی ویمن ونگ (صوبہ سرحد) کی پریزیڈنٹ اور رکن قومی اسمبلی محترمہ مہرالنساء آفریدی سے ملاقات کے لئے انکی رہائش گاہ کی طرف رواں دواں تھا،جیسے ہی مجھے یہ اطلاع اور دعوت دی گئی میں نے عزیزی فرخ کو راستہ بدلنے کے لئے کہا،کیونکہ مادری زبانوں میں پڑھنے، لکھنے اور بولنے کا حق استعمال کرنے کا عمل ہمارا پہلا عشق ہے۔ ہم نے تو اپنی ساری زندگی اسی تگ و دو میںگزار دی۔اس لڑائی کے لئے ہم غدار بھی کہلوائے،ملازمتوںسے نکالے گئے۔مگر آج تک ہمیں یہ حق نہیں ملا۔ ہم آج بھی اپنی ماں بولی پنجابی میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے،اسے مدرسے،میڈیا اور عدالتی زبان بنانے کے لئے تگ و دو میں مصروف عمل ہیں۔مگر آج تک اس میں کامیاب نہیں ہو پائے۔لہذا اپنی زبان میں تعلیم حاصل نہ کرنے اور اس کو استعمال نہ کرنے کا دکھ ہم سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔لہذا ہم نے محترمہ مہرالنساء آفریدی سے دو گھنٹے کی تاخیر کی فون پر اجازت لی جو انہوںنے کمال مہربانی سے ہمیںمرحمت فرما دی،جس کیلئے ہم ان کے ہمیشہ ممنون رہیں گے،لہذا ہم نے رستہ بدلا اور پہلے سیدھے نشتر ہال پشاور پہنچے۔جہاں یہ کانفرس شروع ہو چکی تھی۔
اس کانفرنس کا اہتمام گندھارا ہندکو بورڈ نے کیا تھا۔ یہ ادارہ 1993 سے ہندکو زبان کے علاوہ صوبہ سرحد کی تمام زبانوں اور ثقافتوں کی ترقی اور ترویج کے لئے کام کر رہا ہے۔کانفرنس میں صوبہ سرحد کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے مندوبین اورسکالرز نے شمولیت کی اور اپنی اپنی زبان اور کلچر سے حاضرین کو متعارف کروایا۔ کانفرنس کے دوسرے دن یعنی اتوار 8جون کو ہمیں بھی اپنی گزارشات پیش کرنے کے لئے کہا گیا۔ہم نے اس قلیل وقت میں جو ہمیں ملا میں منتظمین کو اس کار خیر کے لئے مبارک دی اور انہیں بتایا کہ یہی وہ بنیادی کام ہے جو صوبائی حکومتون کو ساٹھ سال پہلے شروع کر دینا چاہئے تھا۔ہم خوامخواہ ایک درآمدی کلچر کو پاکستان کا کلچر بنانے کی کشتی لڑتے آ رہے ہیں۔پاکستان اپنی ساخت اور آرچی ٹیکٹ کے حوالے سے ایک کنفڈریشن ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم چاروںصوبوں کی ثقافتوں کو پنپنے کا موقع دیتے،اور اپنی کلچرل پالیسیوںمیں علاقائی اور صوبائی زبانوں اور ثقافتوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا اعادہ کرتے۔مگر ہم نے گزشتہ ساٹھ سالوں میں ایک درآمدی کلچر اور زبان کو زبردستی پاکستانی کلچر اور قومی زبان بنانے میںگنوا دئے۔جس کی وجہ سے معاشرہ افراتفری کا شکار ہو گیا۔معاشرتی اکائی بکھر گئی۔اگر ہم علاقائی زبانوں اور ثقافتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیتے تو معاشرہ باہم مربوط ہوتا، کیونکہ ثقافت اور سیاسی عمل ہی معاشرے کو باہم مربوط رکھ سکتے ہیں اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ معاشرے کو باہم مربوط رکھنے کی اصل طاقت کلچر اور سیاسی عمل ہے۔کیونکہ یہی دو قوتیں ہیں جو اجتماعیت پیدا کرتی ہیں، مذاہب اور عقیدوں کی بنیاد اور نسلی بنیادوں کو ختم کرتی ہے۔
ہم نے عرض کی کہ اقوام متحدہ نے 1953میں اپنے ایک چارٹر میں قرار دیا تھا کہ ہر انسان کو اس کی مادری زبان بولنے، اس میں تعلیم حاصل کرنے اور اسے پروان چڑھانے کی مکمل آزادی حاصل ہونی چاہئے۔حکومتوں پر یہ فرض عائد کیا گیا کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ ہر شہری اس حق کو آزادی سے استعمال کر سکے۔مگر پاکستان میںجس امر سے اغماض برتا گیا وہ یہی عمل ہے۔بالخصوص پنجاب کو اس کا نشانہ بنایا گیا۔باقی چاروں صوبوں میںاس امر کو یقینی بنایا گیا کہ وہاں کی زبانیں پڑھائی جائیں اور ان کی ترقی اور ترویج کی کوششیں بھی کی گئیں۔مگر پنجاب میں جس نے پنجابی کی بات کی اسے ’’دہریا،کافر اور غدار‘‘ کے القابات سے نوازا جاتا رہا ہے۔ 1958 تک تو یہاں پنجابی کا نام لینا اور کسی صوفی کا ذکر کرنا بھی جرم اور گناہ ہوتا تھا۔پاکستان بننے کے بعد پہلی دفعہ گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خاں میں جون 1958 میں خواجہ فرید ڈے منایا گیا جب پروفیسر جیلانی کامران اس کے پرنسپل بنے، اور خواجہ فرید کو بطور شاعر لوگوں سے متعارف کروایا گیا ،اس کے بعد،مجلس شاہ حسین،پنجابی مجلس اور پنجابی ادبی سنگت نے پنجابی زبان،کلچر اور ادب کی ترقی اور اس کی بقاء کی جنگ لڑی۔بعد میں کئی اور تنظیمیں بھی معرض وجود میں آئیں مگر پنجابی زبان کے المیہ کو اقتدار کے ایوانوں میںپہنچانے،اور عوام میں ایک ’’جاگرتی‘‘پیدا کرنے میں ان تنظیموں نے ایک کلیدی رول ادا کیا۔ہم نے حاضرین سے عرض کی کہ ہم آج بھی حکومتوں سے اپنے اس بنیادی حق کی مانگ کر رہے ہیں۔لہذا ہماری آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ آپ لوگ ہمارے اس حق کے لئے بھی آواز اٹھائیں۔
لیکن جو بات ہم وقت کی تنگی کی وجہ سے وہاں نہیں کر پائے وہ اس کالم کے ذریعے ان تک پہنچانا چاہتے ہیں،اور وہ یہ ہے کہ سامراج کی جانب سے معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرنے کاعمل اب تک جاری ہے۔لہذا اب پنجابی زبان کو بھی اس کے لہجوں کی بنیاد پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔پہلے سرائیکی کا شوشہ چھوڑا گیا۔آجکل پوٹھواری اور ہندکو کو علیحدہ زبان کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم لہجوں کی بنیاد پر زبانوں کو تقسیم کر سکتے ہیں۔۔۔؟کیا بولیاں زبانوں کا درجہ لے سکتی ہیں۔۔۔۔؟ کیونکہ زبان کے لئے ایک قوم،ایک جغرافیائی ثقافتی اور تہذیبی سر زمین کا ہونا بنیادی بات ہے۔جیسے پنجابی زبان کے لئے پنجاب ،سندھی کے لئے سندھ ،اوربلوچی کے لئے بلوچستان۔ اب ہندکو تو پشاور،کوہاٹ،ایبٹ آباد،مانسہرہ اور ہزارہ ڈویژنوں میں بولی جاتی ہے۔اب پشاور،کوہاٹ کا ہزارہ،مانسہرہ اور ایبٹ آباد سے تہذیبی اور ثقافتی حوالے سے خاصا فرق ہے۔پھر ہم اس سارے علاقے کو ’’ہندکولینڈ ‘‘کیسے قرار دیں گے۔اگر اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں ہندوستان کا نقشہ دیکھا جائے تو پنجاب پشاور سے لے کر دلی تک پھیلا ہوا تھا۔اور ظاہر ہے کہ صوبہ پنجاب میں پنجابی بولی جاتی تھی۔یہ ایک قدرتی تقسیم ہے کہ ہر دریا کے بعد زبانوں کا لہجہ بدل جاتا ہے۔اب اگر ہم لہجوں کی بنیاد پر زبانون کو تقسیم کرنا شروع کر دیں تو شاید ہم ’’ایک قوم بننے کا ہدف حاصل نہ کر پائیں۔کل کو میانوالی،سرگودھا، جھنگ،ساہیوال اور گجرات کے لوگ بھی اپنے لہجوں کی بنیاد پر علیحدہ قوم اور زبان ہونے کا دعوٰی کریں گے اور اپنی زبان کو علیحدہ زبان کا درجہ دلوانے کی بات کریں گے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نئی تقسیم پیدا کرنے کی بجائے بنیادی حق کے لئے لڑیں۔اس امر سے کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا کہ کسی بھی علاقائی زبان کی ترقی ،اس علاقے کے لوگوں کو اس زبان کے بولنے ،اس میںتعلیم حاصل کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہئے۔لہذا جب حکومتی سطح پر اس بات کو آگے بڑھایا جائے تو اطمینان ہوتا ہے کہ اب ہم ایک قوم بننے کی طرف گامزن ہونے والے ہیں۔یقینا اس کانفرس کی انتظامیہ اور سرحد حکومت اس کام کے لئے مبارک باد کے مستحق ہیں۔امید کی جا سکتی ہے کہ پنجاب حکومت بھی سرحد حکومت سے سبق حاصل کرتے ہوئے پنجابی زبان کی ترقی و ترویج کے کام کی بنیاد ڈالے گی۔





30-06-2008 14:47 Haroon Adeem
This entry was posted on 30-06-2008 14:47. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 8 time. You can leave a comment.
Views: 4044    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >