| نواز شریف کی نااہلی۔۔۔۔؟ |
|
|
|
بلآخر لاہور ہائی کورٹ نے کل شام پانچ بجے شریف برادران کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ سنا دیا،اور نون لیگ کے رہنما میاں نواز شریف کو ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جناب عبدالشکور پراچہ،مسٹر جسٹس ایم بلال خان اور مسٹر جسٹس سید شبر رضا رضوی پر مشتمل فل بنچ نے نواز شریف کی نا اہلی کیلئے دائر اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے انہیں ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کیلئے نا اہل قرار دے دیا۔جبکہ وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف کو مشروط طور پر بطور وزیر اعلٰی کام کرنے کی اجازت دیتے ہوئے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیاہے اور الیکشن کمشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک نیا الیکشن ٹربیونل تشکیل دے کرکیس کی سماعت نئے سرے سے شروع کرے۔عدالت عالیہ نے یہ فیصلہ میاں نواز شریف کے خلاف این اے 123 سے نور الٰہی اور این اے 52 راولپنڈی سے شاہد اورکزئی جبکہ میاں شہباز شریف کے خلاف پی پی 48 بھکر سے سید خرم شاہ کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کے بعدجاری کیا۔
ان اپیلوں میں درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیاتھا کہ میاں نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں بطور وزیر اعٰظم اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کیا جسکی بنا پر ان کے خلاف بعض مقدمات بھی درج ہوئے،اور نیب ریفرنس نمبر دو میں انہیں سیکشن 10 کے تحت سزا بھی ہوئی۔انہیں اس کیس میں 14 سال قید ،دو کروڑ روپے جرمانہ اور اکیس سال کے لئے نا اہلی کی سزا سنائی گئی تھی،جبکہ اس سزا کے خلاف 2000 ء سے لے کر آج تک کوئی اپیل بھی نہیں دائر کی گئی،بعد ازاں اس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے ان سزاؤں کو معاف کر دیا تھا لیکن ان کی نااہلی برقرار رہی تھی۔چنانچہ انہیں ان حقائق کی بنا پر نا اہل قرار دیا جائے۔
میاں نواز شریف کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کوئی اتنا حیران کن بھی نہیں،اور نہ ہی اتنا غیر متوقع۔یہ بات شریف برادران اور ان کے ساتھیوں کے بھی علم میں تھی کہ اگر وہ کورٹ میں جاتے ہیں یا کوئی بھی فریق ان کے خلاف کورٹ میںچلا جاتا ہے تو وہ نااہلی سے نہیں بچ سکتے،اور یہ مباحث ان کی وطن واپسی کے اعلان کے ساتھ ہی شروع ہو گئے تھے۔یہ بات الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کہی جاتی رہی ہے اور ریکارڈ پر موجود ہے کہ ان خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ میاں نواز شریف سزا یافتہ ہیں اور نیب کی جانب سے اکیس سال تک سیاست میںحصہ لینے کے لئے نا اہل بھی۔لہذا اگر وہ وطن واپس لوٹتے بھی ہیں تو وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے،دوسری اہم بات ان کی سعودی فرمانرواؤں کو دی گئی وہ انڈر ٹیکنگ تھی جس میں انہوں نے ایک محدود دائرہ کار کے اندر رہ کر سیاست کرنے کا وعدہ کر کے اپنی وطن واپسی کو یقینی بنایا تھا۔یہی وجہ تھی کہ جب فروری 2008 کے انتخابات میں دونوں بھائیوں کو نا اہل قرار دیاگیاتو وہ اسکے خلاف اپیل میںنہیں گئے تھے۔اب بھی انہوں نے اس کے خلاف اپیل میں نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بات تو ایک عام آدمی بھی جانتا ہے کہ عدالتیں اپنا فیصلہ گزشتہ مقدمات کے ٖفیصلوں کو بنیاد بنا کر کرتی ہیں۔اور یہ بھی کہ اگر کوئی متاثرہ فریق اپنے خلاف دئے گئے فیصلے کے خلاف اپیل میں نہیں جاتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس فیصلے کو مان لیا ہے۔اسے شریف برادران کا ’’بھولا پن‘‘ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ نہ تو سزاؤںکے خلاف ہی اپیلوںمیں گئے اور نہ ہی جنرل انتخابات میں نااہل قرار دئے جانے پر ہی اس کے خلاف اپیل میں گئے۔دوسرے آسان لفطوں میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس بات کی توقع ہی نہیں کر رہے تھے کہ معاملہ یہاں تک جائے گا۔وہ تو ’’عدلیہ کو بحال‘‘ کروا کر اپنا کام نکلوانا چاہتے تھے۔یا وہ سمجھ رہے تھے کہ عدلیہ ان کے دباؤ میں آ کر انہیں نا اہل قرار نہیں دے گی ،یا پھر ان کی حلیف جماعت پی پی پی عدلیہ کو ان کے خلاف جانے نہیں دے گی ،غالباً اسی لئے وہ مشروط طور پر پی سی او ججوں کی بحالی پر آمادہ بھی ہو گئی تھی ،اسے آپ آئینی سقم کہیں یا قانون کی بے بسی،کہ عدلیہ کی جانب سے دئے گئے فیصلے نہ صرف قانون بن جاتے ہیں بلکہ وہ مستقبل میں عدلیہ کی کاروائی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔مولوی تمیزالدین کیس سے لے کر آج تک عدلیہ نے ایسے بے شمار فیصلے کئے ہیں جو کہ انصاف کے تقاضوں کے بالکل منافی تھے۔ہو سکتا ہے جن مقدمات میں میاں نواز شریف کو چودہ سال قید،دو کروڑ روپے جرمانہ اور اکیس سال کی نااہلی کی سزا سنائی گئی وہ انصاف پر مبنی نہ ہو۔مگر اسے ہم نا انصافی تب ہی کہہ سکتے تھے اگر میاں صاحب ان فیصلوں کے خلاف اپیل میں جاتے۔مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ فیصلہ یقینا ملک کی سیاسی فضاء میں تناؤ اور ٹکراؤ کو جنم دے گا۔نون لیگ کے سعد رفیق نے کہا ہے کہ جو عدالتیں نواز شریف اور شہباز شریف کو انصاف نہیں دے سکتیں وہ ان عدالتوں کو نہیں مانتے اور یہ کہ اب پی پی پی اور نون لیگ کے راستے الگ ہیں۔گویا ان کے نزدیک انصاف سے مراد شریف برادران کی مرضی کا انصاف ہے۔ لیکن انہیں شاید اس بات کا احساس نہیں کہ اگر تمام معزول ججزز بحال بھی ہو جاتے تووہ ان حقائق کی موجودگی میں شاید یہی فیصلہ دیتے جو پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں نے دیا ہے۔
اس فیصلے کے خلاف فوری رد عمل کے خلاف میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ فیصلہ کہیں اور سے آیا ہے،ججوں نے اسے صرف پڑھا ہے۔انہوں نے کھل کر کہا کہ یہ سب کچھ ایوان صدر کے اشاروں پر ہو رہا ہے۔ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل میں بھی نہیں جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کہ اگر کل کلاں الیکشن کمیشن انہیں بھی نا اہل قرار دے دیتا ہے تو بھی وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی عدالت میں نہیں جائیں گے بے شک انہیں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑیں۔
دوسری جانب پی پی پی کے شریک چئیرمین آصف زرداری نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور پی پی پی کے ترجمان سینیٹر ظہیراللہ بابر نے رات گئے ایک نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی اوراس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتی الحاق کی دونوں بڑی جماعتوں کو مل کر اس کے خلاف مشترکہ اقدام اٹھانے ہونگے۔جبکہ نون لیگ کے رہنما احسن لیگ نے کہا ہے کہ پی پی پی کو اس ضمن میں واضح اور دو ٹوک مؤقف اپنانا ہو گا دوسرے لفظوں میں انہوں نے پی پی پی کی قیادت سے پوچھا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں یا کہ پی سی او ججز کے ساتھ۔جبکہ وفاقی شزیر قانون نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کر دیا ہے ۔یقینا اس فیصلے سے ہر جمہوری سوچ رکھنے والے کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور اس سے ’’قومی مفاہمتی فضائ‘‘ کے خراب ہونے کا بھی اندیشہ ہے اور اس ضمن میں خرابی پیدا کرنے والوں نے فوراً کاروائیاں بھی شروع کر دی ہیںمثلاً گزشتہ شب جیئو پر جنگ گروپ کے ایڈیٹران اکرام اس فیصلے کو زبردستی پی پی پی کے کھاتے میں ڈال رہے تھے اور حکومتی حلیف پارٹیوں میں پھوٹ ڈلوانے کی کوشش کر رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی کے شریک چئیرمین آصف زرداری کی جانب سے اس ضمن میں اب تک واضح مؤقف کا نہ آنا شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے اور یہ کہنا سراسر زیادتی ہے کہ یہ سب کچھ صدر کی ایماء پر ہوا ہے کیونکہ صدر کو تو کارنر کر دیا گیا ہے۔چونکہ حکومت پی پی پی کی ہے اس لئے اس فیصلے کی تمام کی تمام ذمہ داری پی پی پی کے کھاتے میں جاتی ہے۔یقینا ایسی باتیں کر کے ہم نہ تو لوگوں کے علم میں کوئی اضافہ کرتے ہیں اور نہ ہی ملک و ملت کی کوئی خدمت کرتے ہیں۔بلکہ اس سے عوام کے دلوں میں میڈیا اپنے بارے میں نفرت ہی پیدا کرتا ہے۔
جو بھی ہوا ہے درست نہیں ہوا مگر یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ میاں نواز شریف کو کرپشن کے جن کیسوں میں سزائیں ہوئیں تھیں و ہ سب سراسر جھوٹے تھے۔ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ صدر اسحٰق خان نے محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف جتنے جھوٹے مقدمے بنائے،خود میاں صاحب نے بھی بی بی اور آصف زرداری کے خلاف جتنے مقدمے بنائے کسی ایک میں بھی ان کو سزا نہیں ہوئی۔جھوٹے مقدمے جھوٹے ہی ہوتے ہیں جن کا ثابت کرنا خاصا دشوار ہوتا ہے۔لہذا شریف برادران کو سابقہ فیصلوں کے خلاف اپیل میں نہ جانے کی کچھ نہ کچھ تو قیمت ادا کرنی پڑے گی۔وہ پنجابی میں کہتے ہیں نہ کہ
’’جناں کھادیاں گاجراں ڈھڈ انہاں دے پیڑ‘‘
ان اپیلوں میں درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیاتھا کہ میاں نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں بطور وزیر اعٰظم اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کیا جسکی بنا پر ان کے خلاف بعض مقدمات بھی درج ہوئے،اور نیب ریفرنس نمبر دو میں انہیں سیکشن 10 کے تحت سزا بھی ہوئی۔انہیں اس کیس میں 14 سال قید ،دو کروڑ روپے جرمانہ اور اکیس سال کے لئے نا اہلی کی سزا سنائی گئی تھی،جبکہ اس سزا کے خلاف 2000 ء سے لے کر آج تک کوئی اپیل بھی نہیں دائر کی گئی،بعد ازاں اس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے ان سزاؤں کو معاف کر دیا تھا لیکن ان کی نااہلی برقرار رہی تھی۔چنانچہ انہیں ان حقائق کی بنا پر نا اہل قرار دیا جائے۔
میاں نواز شریف کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کوئی اتنا حیران کن بھی نہیں،اور نہ ہی اتنا غیر متوقع۔یہ بات شریف برادران اور ان کے ساتھیوں کے بھی علم میں تھی کہ اگر وہ کورٹ میں جاتے ہیں یا کوئی بھی فریق ان کے خلاف کورٹ میںچلا جاتا ہے تو وہ نااہلی سے نہیں بچ سکتے،اور یہ مباحث ان کی وطن واپسی کے اعلان کے ساتھ ہی شروع ہو گئے تھے۔یہ بات الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کہی جاتی رہی ہے اور ریکارڈ پر موجود ہے کہ ان خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ میاں نواز شریف سزا یافتہ ہیں اور نیب کی جانب سے اکیس سال تک سیاست میںحصہ لینے کے لئے نا اہل بھی۔لہذا اگر وہ وطن واپس لوٹتے بھی ہیں تو وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے،دوسری اہم بات ان کی سعودی فرمانرواؤں کو دی گئی وہ انڈر ٹیکنگ تھی جس میں انہوں نے ایک محدود دائرہ کار کے اندر رہ کر سیاست کرنے کا وعدہ کر کے اپنی وطن واپسی کو یقینی بنایا تھا۔یہی وجہ تھی کہ جب فروری 2008 کے انتخابات میں دونوں بھائیوں کو نا اہل قرار دیاگیاتو وہ اسکے خلاف اپیل میںنہیں گئے تھے۔اب بھی انہوں نے اس کے خلاف اپیل میں نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بات تو ایک عام آدمی بھی جانتا ہے کہ عدالتیں اپنا فیصلہ گزشتہ مقدمات کے ٖفیصلوں کو بنیاد بنا کر کرتی ہیں۔اور یہ بھی کہ اگر کوئی متاثرہ فریق اپنے خلاف دئے گئے فیصلے کے خلاف اپیل میں نہیں جاتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس فیصلے کو مان لیا ہے۔اسے شریف برادران کا ’’بھولا پن‘‘ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ نہ تو سزاؤںکے خلاف ہی اپیلوںمیں گئے اور نہ ہی جنرل انتخابات میں نااہل قرار دئے جانے پر ہی اس کے خلاف اپیل میں گئے۔دوسرے آسان لفطوں میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس بات کی توقع ہی نہیں کر رہے تھے کہ معاملہ یہاں تک جائے گا۔وہ تو ’’عدلیہ کو بحال‘‘ کروا کر اپنا کام نکلوانا چاہتے تھے۔یا وہ سمجھ رہے تھے کہ عدلیہ ان کے دباؤ میں آ کر انہیں نا اہل قرار نہیں دے گی ،یا پھر ان کی حلیف جماعت پی پی پی عدلیہ کو ان کے خلاف جانے نہیں دے گی ،غالباً اسی لئے وہ مشروط طور پر پی سی او ججوں کی بحالی پر آمادہ بھی ہو گئی تھی ،اسے آپ آئینی سقم کہیں یا قانون کی بے بسی،کہ عدلیہ کی جانب سے دئے گئے فیصلے نہ صرف قانون بن جاتے ہیں بلکہ وہ مستقبل میں عدلیہ کی کاروائی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔مولوی تمیزالدین کیس سے لے کر آج تک عدلیہ نے ایسے بے شمار فیصلے کئے ہیں جو کہ انصاف کے تقاضوں کے بالکل منافی تھے۔ہو سکتا ہے جن مقدمات میں میاں نواز شریف کو چودہ سال قید،دو کروڑ روپے جرمانہ اور اکیس سال کی نااہلی کی سزا سنائی گئی وہ انصاف پر مبنی نہ ہو۔مگر اسے ہم نا انصافی تب ہی کہہ سکتے تھے اگر میاں صاحب ان فیصلوں کے خلاف اپیل میں جاتے۔مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ فیصلہ یقینا ملک کی سیاسی فضاء میں تناؤ اور ٹکراؤ کو جنم دے گا۔نون لیگ کے سعد رفیق نے کہا ہے کہ جو عدالتیں نواز شریف اور شہباز شریف کو انصاف نہیں دے سکتیں وہ ان عدالتوں کو نہیں مانتے اور یہ کہ اب پی پی پی اور نون لیگ کے راستے الگ ہیں۔گویا ان کے نزدیک انصاف سے مراد شریف برادران کی مرضی کا انصاف ہے۔ لیکن انہیں شاید اس بات کا احساس نہیں کہ اگر تمام معزول ججزز بحال بھی ہو جاتے تووہ ان حقائق کی موجودگی میں شاید یہی فیصلہ دیتے جو پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں نے دیا ہے۔
اس فیصلے کے خلاف فوری رد عمل کے خلاف میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ فیصلہ کہیں اور سے آیا ہے،ججوں نے اسے صرف پڑھا ہے۔انہوں نے کھل کر کہا کہ یہ سب کچھ ایوان صدر کے اشاروں پر ہو رہا ہے۔ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل میں بھی نہیں جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کہ اگر کل کلاں الیکشن کمیشن انہیں بھی نا اہل قرار دے دیتا ہے تو بھی وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی عدالت میں نہیں جائیں گے بے شک انہیں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑیں۔
دوسری جانب پی پی پی کے شریک چئیرمین آصف زرداری نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور پی پی پی کے ترجمان سینیٹر ظہیراللہ بابر نے رات گئے ایک نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی اوراس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتی الحاق کی دونوں بڑی جماعتوں کو مل کر اس کے خلاف مشترکہ اقدام اٹھانے ہونگے۔جبکہ نون لیگ کے رہنما احسن لیگ نے کہا ہے کہ پی پی پی کو اس ضمن میں واضح اور دو ٹوک مؤقف اپنانا ہو گا دوسرے لفظوں میں انہوں نے پی پی پی کی قیادت سے پوچھا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں یا کہ پی سی او ججز کے ساتھ۔جبکہ وفاقی شزیر قانون نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کر دیا ہے ۔یقینا اس فیصلے سے ہر جمہوری سوچ رکھنے والے کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور اس سے ’’قومی مفاہمتی فضائ‘‘ کے خراب ہونے کا بھی اندیشہ ہے اور اس ضمن میں خرابی پیدا کرنے والوں نے فوراً کاروائیاں بھی شروع کر دی ہیںمثلاً گزشتہ شب جیئو پر جنگ گروپ کے ایڈیٹران اکرام اس فیصلے کو زبردستی پی پی پی کے کھاتے میں ڈال رہے تھے اور حکومتی حلیف پارٹیوں میں پھوٹ ڈلوانے کی کوشش کر رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی کے شریک چئیرمین آصف زرداری کی جانب سے اس ضمن میں اب تک واضح مؤقف کا نہ آنا شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے اور یہ کہنا سراسر زیادتی ہے کہ یہ سب کچھ صدر کی ایماء پر ہوا ہے کیونکہ صدر کو تو کارنر کر دیا گیا ہے۔چونکہ حکومت پی پی پی کی ہے اس لئے اس فیصلے کی تمام کی تمام ذمہ داری پی پی پی کے کھاتے میں جاتی ہے۔یقینا ایسی باتیں کر کے ہم نہ تو لوگوں کے علم میں کوئی اضافہ کرتے ہیں اور نہ ہی ملک و ملت کی کوئی خدمت کرتے ہیں۔بلکہ اس سے عوام کے دلوں میں میڈیا اپنے بارے میں نفرت ہی پیدا کرتا ہے۔
جو بھی ہوا ہے درست نہیں ہوا مگر یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ میاں نواز شریف کو کرپشن کے جن کیسوں میں سزائیں ہوئیں تھیں و ہ سب سراسر جھوٹے تھے۔ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ صدر اسحٰق خان نے محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف جتنے جھوٹے مقدمے بنائے،خود میاں صاحب نے بھی بی بی اور آصف زرداری کے خلاف جتنے مقدمے بنائے کسی ایک میں بھی ان کو سزا نہیں ہوئی۔جھوٹے مقدمے جھوٹے ہی ہوتے ہیں جن کا ثابت کرنا خاصا دشوار ہوتا ہے۔لہذا شریف برادران کو سابقہ فیصلوں کے خلاف اپیل میں نہ جانے کی کچھ نہ کچھ تو قیمت ادا کرنی پڑے گی۔وہ پنجابی میں کہتے ہیں نہ کہ
’’جناں کھادیاں گاجراں ڈھڈ انہاں دے پیڑ‘‘
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 4324