| پاک فوج کو آپریشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ |
|
|
|
گزشتہ کچھ عرصے سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے بارے میں جو تبصرے اور تجزئیی شائع ہو رہے تھے اور جو رپورٹیں سامنے آئیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ پاکستان پر غیر ملکی افواج کاحملہ کسی وقت بھی متوقع ہے جس کے لئیی تیاریاں تقریباً مکمل بتائی جا رہی تھیں ۔پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کا باضابطہ حصہ ہے اور اس حوالے سے مغربی ذرائع ابلاغ اور غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے سلسلے میں کوئی موثرکاروائی نہیں کر سکا ،پاکستان کے اندر انتہا پسندگروہ دن بدن مظبوط ہوتے جا رہے ہیں ،ان گروہوں کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نہ صرف انتہا پسندوں کے ان گروہوں کی تعداد میں اضافہ ہو تا جارہا ہے بلکہ یہ گروہ نہ ہی اپنے ملک کے کسی قانون اور ضابطے کو مانتے ہیں اور نہ ہی یہ اپنے ملک کے باشندوں کو قتل کرنے سے چوکتے ہیں ،اس لئے ایسے انتہا پسند عناصر سے باہر کی دنیا کے انسانوں کے لئے خیر کی توقع رکھنا ہی عبث ہے ۔ہم ان رپورٹوں اور تجزیوں کوتعصب پر مبنی قرار دے کر اپنے آپ کو تو مطمن کر سکتے ہیں مگر انتہا پسندوں کی اب تک کی کاروائیوں نے یہ عملاًثابت کر دیا ہے کہ دنیا جو کہہ رہی ہے وہ ا تنا بھی غلط نہیں۔ صوبہ سرحد اور اسسے ملحقہ علا قوں میں انتہا پسندوں کی کاروائیوں میں نہ صرف اضافہ ہوتا جا رہا ہے بلکہ ان گروہوں نے گزشتہ دنوں امن کمیٹی کے 24کے قریب ارکان کو اغوا کیا اور بعد میں
انہیں بڑی بے دردی سے قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کے ٹکڑے کر کے بکھیر دیا گیا ظلم وجبر کی اس سے زیادہ گھناونی واردات آپکو دنیا کے کسی اور خطے میں شائد ہی دکھائی دے ،اس کے علاوہ ان ہی عناصر نے لڑکیوں کے سکولوں کو بموں سے اڑانے سے بھی دریغ نہیں کیا اور اس وقت سوات اور اس کے ملحقہ علاقوں میں تقریباً لڑکیوں کے تمام سکول بند ہو چکے ہیں ۔انتہا پسند ان علاقوں میں اپنی من مرضی کا مذہب لوگوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ،ان کی کاروائیاں بڑھتے بڑھتے اب شہروں کے اندر آچکی ہیں اور اس طرح کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ انتہا پسند پشاور پر قبضہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو منظم کررہے تھے ان کی اس طرح کی کار وائیوں سے لوگ خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے وفاقی حکومت سے اس سلسلے میں مدد کی اپیل کی ،فوج چونکہ سیاسی معاملات سے اپنے آپ کو الگ کر چکی تھی اس لئے اس کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ ان حالات میں جب تک حکومت فوج کو کاروائی کرنے کی اجازت نہ دے وہ اپنے طور پر کو ئی کاروائی نہیں کر سکتی جبکہ سول حکومت کے اندر ایسے افراد کی کمی محسوس ہو رہی ہے جو بر وقت فیصلہ کرنے کی قوت رکھتے ہوں ،لیکن معاملات کیونکہ ہاتھ سے نکلتے جا رہے تھے اور انتہا پسندوں کی کاروائیاں بڑھتی جارہی تھیں جو نہ صرف ملک کے لئے نقصان دہ ہیں بلکہ بیرونی حملوں کی راہ ہموار کرنے کی بھی ایک کوشش کہی جا سکتی ہے ،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انتہا پسندوں کو معاشرے کے کچھ افراد کی حمایت کے ساتھ سول و فوجی اداروں کے اندر سے بھی چند لوگوں کی ہمدردیاں اس بنا پر حاصل ہیں کہ وہ انہیںراسخ العقیدہ مسلمان سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ اسلام کی سر بلندی کے لئے کام کر رہے ہیں (اپنے بھائیوں کو قتل کرنا ،لڑکیوں کے سکول بموں سے اڑانا،صرف اپنے نظر ئیی کے
مطابق دوسروں کو زندہ رہنے کاحق دینا نہ جانے یہ کون سا اسلام ہے اس پر ان کے حمایتیوںاور ہمدردوں کو ضرور غور کرنا چاہیی)جبکہ ایک حقیقت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ انتہا پسندوں کے تقریباًٍ تمام گروہ ایک بھاری بجٹ رکھتے ہیں ،ان کے پاس وافر مقدار میں اسلحہ،بارود اور پیسہ ہے ۔یہ کہاں سے آیا ،اور انہیں کون دے رہا ہے ؟ اس بارے میں معاشرے کے عام افراد اور ان کے حمایت یافتہ لوگوں کو علم نہیں ہے ا۔اس معاملے میں حکومت کی غفلت بھی سامنے آتی ہے کہ اس نے عوام کو بر وقت ان کی پر تشدد کاروائیوں کے لئے حاصل کردہ وسائل سے آگاہ نہ کیا کہ ان کے پاس اتنا بھاری بھرکم اسلحہ اور پیسہ کہاں سے آرہا ہے ،جسے یہ لوگ اپنے ہی ملک کے لوگوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں ،حکومت اگر بر وقت لوگوں کو اگاہ کرتی کہ ان کے پاس پیسہ اور اسلحہ کہاں سے آرہاہے اور یہ کن بیرونی قوتوں کے لئے کام کر کے اپنے ہی ملک کو کمزور کر رہے ہیں تو ان کے ہمدردوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہوتا ۔
کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ وافر پیسہ اور اسلحہ ایک گروہ کے پاس دیکھنے کے بعد اس طرح کے اب کئی گروہ پیدا ہو چکے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح پیسہ حاصل کرنا آسان ہے ،اور کیا یہ بھی حقیقت نہیں ہے کہ ان کی اب تک کی کاروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ پاکستان دنیا بھر میں تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے ،سرمایہ کاری رک چکی ہے ،پاکستان میں بیرون ممالک سے لوگوں نے آنا چھوڑ دیا ہے جس سے ملکی ممعشیت کمزور ہو رہی ہے ،یہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ پاکستان کے دشمن جو مقصد جنگوں سے حاصل نہیں کر سکے وہ بڑی آسانی سے ملکی اقتصادی اور معاشی حالت خراب کر کے حاصل کر رہے ہیں ۔ پاکستان کو اس طرح تباہ اور برباد کرنے کے لئے جو کچھ ہمارے اپنے ہی ملک کے لوگوں کے ذریعے کروایا جا رہا ہے اس کے بعد بھی ان لوگوں بارے میں غورو فکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیںکی جا رہی ؟؟
پاکستان کی موجودہ سول حکومت نے ان سارے معاملات کو دیکھتے ہوئے ہی فوج کو انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی کرنے کا اختیار دیا ہے تاکہ ملک مزید کسی بڑے نقصان سے دوچار نہ ہودوسری جانب پاک فوج اس وقت ملک کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے جن لوگوں کی نظریں بین الا قوامی حالات و واقعات اور معاملات پر ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان اس وقت کن مسائل کا شکار اور کس طرح کی مشکلات میں گراہوا ہے اسے نہ صرف اندرونی طور پر خطرات درپیش ہیں بلکہ بیرونی خطرات بھی سر پر منڈلا رہے ہیں ،وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جو یہ کہا ہے کہ پاکستان کے اندر کسی کو اپنی من مرضی کا اسلام نافذ نہیں کرنے دیا جاے گا ،یہ انہی خطرات کو جو پاکستان کی طرف بڑے چلے آرہے ہیں کو دیکھتے ہوئے کہا گیا ہے ،پاک فوج جو اس وقت آپریشن کر رہی ہے یہ ملک کو بچانے کی کوشش ہے کیونکہ پاک فوج اگر یہ نہ کرتی تو پھر کسی اور نے یہ سب کچھ کرنا تھا ،جس کا نتیجہ کیا نکل سکتا تھا اسے سوچ کر ہی روح تھر تھرا ٹھتی ہے ۔
یہاں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور برسر اقتدار قیادتوں کو ملک کو درپیش نازک صورت حال کا ادراک کرتے ہوے ذمہ دارانہ کردارادا کرنا چاہیی ،یہ وقت "کسی" کو "دیوار"سے لگانے کا نہیں ہے بلکہ "سب"کے ساتھ مشاورت کر کے چلنے کا ہے ،پاکستان سلامت رہتا ہے تو سیاست بھی چلتی رہے گی اور دوسرے معاملات بھی،اگر خدا نخواستہ پاکستان پر کوئی آفت آتی ہے تو پھر کچھ بھی نہیں چلے گا ،کیونکہ انتہا پسندوں کے ذریعے وہ آفت شہروں کے اندر تک گھس آئی ہے جن کے پیچھے پیچھے بڑی آفتیں چلی آرہی ہیں ،جنہیں روکنے کے لئے پاک فوج کے جوان سینہ تانے کھڑے ہیں قوم کو پاک فوج کا مورال بلند کرنے کے لئے ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیی اور میڈیا کو بھی سنسنی پھیلانے سے گریز کرنا چاہیی ۔
پاکستان ایک باضابطہ ریاست ہے ،قوانین اور عدالتیں موجود ہیں ،ان کے طریقہ استعمال اور نفاز سے اختلاف ہو سکتا ہے اسے درست کیا جا سکتا ہے مگر اپنی ہی ریاست اور شہریوں کے خلاف بندوق اٹھانا اور
انارکی پھیلانا بہر حال ایک جرم ہے ،خواہ وہ کوئی بھی کرے اس کی حمایت کسی طور مناسب نہیںاور نہ ہی اس کی کسی کو اجازت ہونی چاہیی ،اگراس طرح مختلف گروہ اپنی اپنی مرضی کے نظام کے نفاذ کے لئے سر گرم ہوتے گئے تونہ ہی ملک سلامت رہے گا اور نہ ہی کسی کا جان ومال محفوظ رہے گا ،ریاست کو مظبوط کرنے کے لئے گروہی طاقتوں کو ریاست کے تابع کرنے میں ہی ہم سب کی بقا ہے
zameerafaqi[L: 64]yahoo.com
فون 0300-9439033
مطابق دوسروں کو زندہ رہنے کاحق دینا نہ جانے یہ کون سا اسلام ہے اس پر ان کے حمایتیوںاور ہمدردوں کو ضرور غور کرنا چاہیی)جبکہ ایک حقیقت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ انتہا پسندوں کے تقریباًٍ تمام گروہ ایک بھاری بجٹ رکھتے ہیں ،ان کے پاس وافر مقدار میں اسلحہ،بارود اور پیسہ ہے ۔یہ کہاں سے آیا ،اور انہیں کون دے رہا ہے ؟ اس بارے میں معاشرے کے عام افراد اور ان کے حمایت یافتہ لوگوں کو علم نہیں ہے ا۔اس معاملے میں حکومت کی غفلت بھی سامنے آتی ہے کہ اس نے عوام کو بر وقت ان کی پر تشدد کاروائیوں کے لئے حاصل کردہ وسائل سے آگاہ نہ کیا کہ ان کے پاس اتنا بھاری بھرکم اسلحہ اور پیسہ کہاں سے آرہا ہے ،جسے یہ لوگ اپنے ہی ملک کے لوگوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں ،حکومت اگر بر وقت لوگوں کو اگاہ کرتی کہ ان کے پاس پیسہ اور اسلحہ کہاں سے آرہاہے اور یہ کن بیرونی قوتوں کے لئے کام کر کے اپنے ہی ملک کو کمزور کر رہے ہیں تو ان کے ہمدردوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہوتا ۔
کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ وافر پیسہ اور اسلحہ ایک گروہ کے پاس دیکھنے کے بعد اس طرح کے اب کئی گروہ پیدا ہو چکے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح پیسہ حاصل کرنا آسان ہے ،اور کیا یہ بھی حقیقت نہیں ہے کہ ان کی اب تک کی کاروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ پاکستان دنیا بھر میں تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے ،سرمایہ کاری رک چکی ہے ،پاکستان میں بیرون ممالک سے لوگوں نے آنا چھوڑ دیا ہے جس سے ملکی ممعشیت کمزور ہو رہی ہے ،یہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ پاکستان کے دشمن جو مقصد جنگوں سے حاصل نہیں کر سکے وہ بڑی آسانی سے ملکی اقتصادی اور معاشی حالت خراب کر کے حاصل کر رہے ہیں ۔ پاکستان کو اس طرح تباہ اور برباد کرنے کے لئے جو کچھ ہمارے اپنے ہی ملک کے لوگوں کے ذریعے کروایا جا رہا ہے اس کے بعد بھی ان لوگوں بارے میں غورو فکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیںکی جا رہی ؟؟
پاکستان کی موجودہ سول حکومت نے ان سارے معاملات کو دیکھتے ہوئے ہی فوج کو انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی کرنے کا اختیار دیا ہے تاکہ ملک مزید کسی بڑے نقصان سے دوچار نہ ہودوسری جانب پاک فوج اس وقت ملک کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے جن لوگوں کی نظریں بین الا قوامی حالات و واقعات اور معاملات پر ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان اس وقت کن مسائل کا شکار اور کس طرح کی مشکلات میں گراہوا ہے اسے نہ صرف اندرونی طور پر خطرات درپیش ہیں بلکہ بیرونی خطرات بھی سر پر منڈلا رہے ہیں ،وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جو یہ کہا ہے کہ پاکستان کے اندر کسی کو اپنی من مرضی کا اسلام نافذ نہیں کرنے دیا جاے گا ،یہ انہی خطرات کو جو پاکستان کی طرف بڑے چلے آرہے ہیں کو دیکھتے ہوئے کہا گیا ہے ،پاک فوج جو اس وقت آپریشن کر رہی ہے یہ ملک کو بچانے کی کوشش ہے کیونکہ پاک فوج اگر یہ نہ کرتی تو پھر کسی اور نے یہ سب کچھ کرنا تھا ،جس کا نتیجہ کیا نکل سکتا تھا اسے سوچ کر ہی روح تھر تھرا ٹھتی ہے ۔
یہاں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور برسر اقتدار قیادتوں کو ملک کو درپیش نازک صورت حال کا ادراک کرتے ہوے ذمہ دارانہ کردارادا کرنا چاہیی ،یہ وقت "کسی" کو "دیوار"سے لگانے کا نہیں ہے بلکہ "سب"کے ساتھ مشاورت کر کے چلنے کا ہے ،پاکستان سلامت رہتا ہے تو سیاست بھی چلتی رہے گی اور دوسرے معاملات بھی،اگر خدا نخواستہ پاکستان پر کوئی آفت آتی ہے تو پھر کچھ بھی نہیں چلے گا ،کیونکہ انتہا پسندوں کے ذریعے وہ آفت شہروں کے اندر تک گھس آئی ہے جن کے پیچھے پیچھے بڑی آفتیں چلی آرہی ہیں ،جنہیں روکنے کے لئے پاک فوج کے جوان سینہ تانے کھڑے ہیں قوم کو پاک فوج کا مورال بلند کرنے کے لئے ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیی اور میڈیا کو بھی سنسنی پھیلانے سے گریز کرنا چاہیی ۔
پاکستان ایک باضابطہ ریاست ہے ،قوانین اور عدالتیں موجود ہیں ،ان کے طریقہ استعمال اور نفاز سے اختلاف ہو سکتا ہے اسے درست کیا جا سکتا ہے مگر اپنی ہی ریاست اور شہریوں کے خلاف بندوق اٹھانا اور
انارکی پھیلانا بہر حال ایک جرم ہے ،خواہ وہ کوئی بھی کرے اس کی حمایت کسی طور مناسب نہیںاور نہ ہی اس کی کسی کو اجازت ہونی چاہیی ،اگراس طرح مختلف گروہ اپنی اپنی مرضی کے نظام کے نفاذ کے لئے سر گرم ہوتے گئے تونہ ہی ملک سلامت رہے گا اور نہ ہی کسی کا جان ومال محفوظ رہے گا ،ریاست کو مظبوط کرنے کے لئے گروہی طاقتوں کو ریاست کے تابع کرنے میں ہی ہم سب کی بقا ہے
zameerafaqi[L: 64]yahoo.com
فون 0300-9439033
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 1406