Aug
21
2008
Today
 .
videos.gifcartoon.gif  links.gif forum.gif guest-book.gifadverts.gif

Hijri Date


Member Login

Attock Poll

Your Favorite GSM Service ?

Attock Weather

Attock
23°C

Tell a Friend

Like what you see? If you like what you see, please tell a friend or family member about us! It's simple! Just click on the Tell a Friend hotlink below

Syndicate

جنرل مشرف کو سزا ملنی چاہئیے PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 


Musharaf tired worryجنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 12اکتوبر 1999سے لیکر 18فروری2008تک جتنے بھی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کئے ہیں وہ سب قابل تعزیر اور ناقابل معافی ہیں ملکی افواج کاسربراہ انتہائی قابل اعتماد،باصلاحیت اور قوم، ملک اوراسکے آئین کا نگہبان اور پاسبان ہوتا ہے اور کسی صورت اس سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ قوم اور جمہوری حکومت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاکر ملک کے آئین کو اپنے فوجی بوٹوں تلے روند ڈالیں اور ایک منتخب اورجمہوری حکومت کو اقتدار سے ہٹاکر خود مسند اقتدار پر قابض ہوجائے ہمارے پاکستان کا متفقہ آئین جو 1973میں تیار اور منظور کیا گیا تھا اس میں بھی آئین کی خلاف ورزی کرنیوالے کو غدار کہا گیا ہے اور ایسے غاصب اور قانون شکن کیلئے کم از کم دفعہ 6کے تحت موت کی سزا مقررکی گئی ہے میرے خیال میں جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا غیرقانونی اور غیر آئینی طریقے سے خاتمہ کرکے جب اقتدار پر خود قبضہ کیا تو وہ آئین کی دفعہ
چھہ کے تحت اس کم از کم سزا کے مستحق قرار پائے ہیں۔
افواج پاکستان ،بیوروکریسی ،حکومت اور عوام کے درمیان جو چیزیں مشترکہ ہیں وہ سرزمین پاکستان اور اسکو برقرار رکھنے والا ہمارا مقدس آئین ودستور ہے اگر اس مقدس اور مشترکہ عمرانی معاہدہ اور دستور کا بھی لحاظ نہ کیا جائے تو پھر ایسی کونسی چیز ہے جو اس مملکت خدادا د کی مختلف اقوام کو آپس میں جڑے اور یکجا رکھے گی ایک سرکاری ملازم اور پھر فوج کی اعلیٰ قیادت تو اس دستور پر حلف اٹھاکر اقرار کرتی ہے کہ وہ اس دستور کا ہرصورت میں تحفظ اور دفاع کریگی اور اسکی خلاف ورزی نہیں کریگی بس اس میں دو آراء تو ہو نہیں سکتیںکہ جنرل مشرف نے 12اکتوبر1999کو ایک عوامی حکومت کا خاتمہ کرکے اقتدار پر غیر آئینی طریقے سے قبضہ کیا۔
سربراہ مملکت کی یہ شان نہیں کہ وہ اپنی قوم کو اندھیرے میں رکھ کر ملک کی سلامتی کو خطرات سے دوچار کردیں لیکن بقول جنرل جمشید گلزار کیانی جنرل پرویز مشرف نے ملک کے بااختیار وزیراعظم کو لاعلم رکھ کر کارگل جنگ کا آغاز کردیا جس میں پاک فوج کو بہت زیادہ جانی اورمالی نقصان اٹھانا پڑا اور اسی طرح 9/11کے بعد کولن پائول کے ایک ہی فون پر ڈھیر ہوگئے تھے پاکستان آج الحمد للہ ہر لحاظ سے مضبوط اور طاقتور ہے لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ ایران کی حکومت امریکی صدر بش کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جرأت اور قومی حمیت کا مظاہرہ کرسکتی ہے مگرہمارے اس وقت کے فوجی سربراہ اور صدر مملکت پرویز مشرف نے خوف زدہ اور لالچ زدہ ہوکر پاکستان تو کیا افغانستان میں طالبان کی حکومت کو بھی دھڑام سے گرا دیا پاکستان کو دہشتگردی کیخلاف نام نہاد جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی نہیں بننا چاہئیے تھا بلکہ پاکستان کی حکومت کا فرض تھا کہ وہ پوری دنیا میں طالبان کی معصومیت اور بے گناہی کا واویلا مچاتی کہ وہ بھوکے اور پیاسے طالبان9/11کے حادثات میں کسی بھی طور شریک نہیں تھے صدر پاکستان جنرل مشرف نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاکر عالم اسلام میں بھی پاکستان کو تنہا کردیا تھا اور طالبان کی صورت میں جس پودے کو افغانستان میں کاشت کیا تھا اسی کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہمارے سابق جنرل پرویز مشرف نے ہرموقع پر ناعاقبت اندیشی میں یاجان بوجھ کر ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جس سے اس ملک کی جڑیں کمزور ہوگئیں ہیں۔
پرویز مشرف ناقابل اعتماد حکمران رہے ہیں انھوں نے اپنے نوسالہ غیر آئینی اور غیر قانونی دور حکومت میں ہر موقع پر قوم کو دھوکہ دیا ہے اور ہر وعدے کی خلاف ورزی کی ہے کئی بار انھوں نے وردی اتارنے کے وعدے کئے تھے لیکن پھر وعدہ خلافی کرجاتے جنرل مشرف نے ہمیشہ دعوے کئے کہ انکی اچھی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان ہر طرف سے محفوظ اور مضبوط ہوا ہے لیکن حقیقت میں انھوں نے اپنے دور میں اس ملک کی تمام بنیادوں کو ہلا کربے حد کمزور کردیا ہے 12بلین ڈالرز زرمبادلہ کے ذخائز کا ہمارے بینکوں میں آج تک پتہ نہیں چلا غربت میں کمی کی بجائے اس میں روز افزوں اضافہ ہوا مہنگائی اور بے روزگاری کیوجہ سے پورے ملک میں خودکشیوں ،خود سوزیوں اور دوسرے جرائم میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور آج اس ملک کے غریب باشندے زندہ رہنے سے زیادہ موت کو ترجیح دیتے ہیں سٹریٹ کرائمز میں جو اضافہ ہوا ہے اس کااندازہ لگانا مشکل ہے اور یہ سب جنرل مشرف کی غلط اورناکام داخلہ وخارجہ پا لیسیوں کا نتیجہ ہے موجودہ حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ان سے جاکر پوچھے کہ وہ دکھائیں کہاں ہیں وہ بیلین ڈالرز جنکے وہ اور شوکت عزیز دعوے کرتے تھے انھوں نے اپنی اس قوم کیساتھ جتنا جھوٹ بولا ہے وہ شاید دنیا میں کسی اور حکمران نے بولا ہواس ملک کے تمام شہری کراچی سے خیبر تک پرویز مشرف کو غدار اور جھوٹا سمجھتے ہیں اور انکی خواہش ہے کہ موجودہ حکومت پرویز مشرف کو محفوظ راستے دینے کی بجائے انکا ٹرائیل کرکے انکو عبرت کا نشان بنائیں ۔
اس ملک کی گلیوں اور کوچوں میں جتنے بھی بیگناہ مسلمان مرے ہیں ان سب کا مجرم بھی یہی ایک شخص ہے قوم نے ھمیشہ ان سے یہی ایک مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کا ساتھ چھوڑ دیں اور یا پھر اس ملک کے اقتدار سے ہٹ جائیں مختلف سروے جو کئے گئے ہیں ان میں بھی تمام شہری ان سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کر چکے ہیںجنرل پرویز نے امریکی خوشنودی کیلئے قبائیلی علاقوں میں فوج اور قبائل کا جو نقصان کیا ہے اس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا قبائیلی علاقوں میں تو اس ظالم نے ایسی آگ لگا رکھی ہے جو ائندہ کئی سالوں تک جلتی رہیگی اپنی فوج کو اپنے لوگوں کے خلاف لڑانا بھی ایک سازش تھی جنرل پرویز کے ناجائز اور غلط اقدامات کی فہرست بہت طویل ہے اس لئے ان کو محفوظ راستہ دیکر ملک کے اندر مظلوموں اور مجبوروں کے زخموں پر نمک پاشی نہ کی جائے یہی شخص ہے جس نے لال مسجد اور حفصہ کے اندر معصوم بچیوں کو فاسفورس بمبوں سے جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھاصدر کی حیثیت غیر متنازع ہوتی ہے اور وفاق کی علامت ہو تی ہے لیکن پرویز مشرف نے صوبہ سرحد کی اسمبلی سے ووٹ لینا بھی گوارا نہیں کیا اس لئے ایک صوبے نے تو مکمل طور پر ان سے بیزاری کا اظہار کیا تھا اور قومی اسمبلی میں بھی زیادہ تراراکین ان کو ووٹ دینے سے پہلے مستعفی ہو چکے تھے ان کی موجودہ صدارتی حیثیت بھی متنازع ہے وہ تو پہلے بھی غیر آئنی ریفرنڈم سے صدر بنے تھے کراچی میں ایم کیوایم جیسی فاشسٹ جماعت کو فر ی ہینڈ دیکر ان سے نہتے اور بے گناہ لوگو ں کا خون گرا دیا اور پھر دعوی۔ ٰکیا کہ انھوں نے مخالفین کو کراچی میں اپنی طاقت دکھادی ہے ملک کو سیاسی اور معاشی عدم استحکا م سے دوچار کردیا گیا ہے اور ملک کے شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنادی گئیں ہیں پارلیمنٹ کوغیر موئثر اور سپریم کورٹ کے پر کاٹ دیئے گئے ہیں غرض جنرل پرویز نے امریکی خوشنودی ،مال کمانے اور اپنے غیر آئینی اور ناجائز اقتدار سے چمٹ جانے کی خاطر اس ملک کی وحدت اور سلامتی کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے جنرل پرویز مشرف جسے بزدل انسان کیوجہ سے پاکستان کی خود مختاری اور اقتداراعلیٰ کے بھی پر خچے اڑا دئے گئے ہیں۔
27-06-2008 12:42 Sudhir Afridi
This entry was posted on 27-06-2008 12:42. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 10 time. You can leave a comment.
Views: 2489    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >