| پاکستانی عوام کے ہاتھوں ۔۔ مشرف میاں سیاسی طور پر قتل |
|
|
|
پاکستان میں تخلیقی القاعدہ و طالبان کی تخلیقی کیسٹوں سے امریکہ کی مخصوص سیاسی جماعت کے قائدین کیلئے ڈرامہ باز دھمکیوں نے اس حقیقیت کو آشکارہ کردیا ہے۔کہ یہ سب سیاسی کھیل تھا۔ اور سیاسی کھیل ہے۔ اور آئندہ یہ تخلیقی مکھوٹے ۔ اپنی اصلیت پر سے نقاب از خود ہی اتاردیں گے۔۔ پاکستان میں دھشت گرد ماحول گرم کرنے کی جو حکمت عملی تیار ہورہی ہے۔ اورجو مشرف میاں پر ناکام حملہ کی سازش بار بار انجام دے رہیں۔اس اقدام سے پتہ چلتا ہے۔ کہ مشرف میاں اور ان کے مشیروں نے دھشت گردی ماحول گرم کرنے میں کوئی کسر نہیں باقی چھوڑی ہے۔اب پاکستان کے خودساختہ صدر مسٹر پرویز مشرف پر حملہ کرکے کسی کو کیا ملے گا۔ وہ تو اب ایوان صدر میں ایک زندہ لاش کے مانند ہیں ۔ اس لئے کہ وہ پاکستان کے الیکشن میں پاکستان عوام کے ہاتھوں سیاسی طور پر قتل کئے جاچکے ہیں۔۔۔؟ مشرف میاں دھشت گردی ، دھشت گردوں سے مقابلہ آرائی کی کیا بات کرتے ہیں۔مگر انہوں نے از خود جمہوری حکومت کو جس طرز پر بغاوت کرکے کچلا تھا۔ وہ تازہ دھشت گردی سے سنگیں دھشت گردی تھی۔اور یہ دھشت گردی امریکن ری پبلیکن پارٹی کے مفاد کا حصّہ تھی۔ اگر پاکستانی عوام مے مشرف میاں کا سیاسی طور پر قتل نہ کیا ہوتا ۔ تو آج مسٹر بارک اوبامہ امریکہ کے صدارتی الیکشن کی نامزد گی کی دوڑ میں کامیاب نہ ہوئے ہوتے۔ اب مسٹر بارک اوبامہ ۔۔ نے مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے والی تحریک القاعدہ ۔ و ۔ طالبان ۔ جن کے بیانات کا مطالعہ کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے۔کہ یہ اسلام دشمن تحریک ہے۔ مذہب اسلام کے پیشوا کہتے ہیں کہ خودکشی مذہب اسلام کی روح سے حرام ہے۔مگر ان تخلیقی کیسٹوں سے پیدااسلامی حلیہ مکھوٹے کہتے ہیں۔ بلکہ اعلان کرتے ہیں۔
کہ خود کش حملے ہمارے اٹم بم ہیں۔ان کا صرف یہ اعلان ہی مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کیلئے کافی ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ جس اسلام دشمن تحریک کو مسلمانوں نے بے نقاب کرنا تھا۔مگر وہ اب مسٹر بارک اوبامہ کی امیدواری سے مکمل طور پر بے نقاب ہوگئے ہیں
اس اسلام دشمن (القاعدہ و طالبان ) تحریک کی بے نقابی ۔۔۔۔۔ نواز لیگ کی پاکستان کے عام چنائو میں شمولیت کی وجہ سے اجاگر ہوئی ہے۔ اگر پاکستان کے نئے قائد آعظم میاں نواز شریف صاحب مخلص دوستوں کے مشوروں پر عمل کرنے سے گریز کرتے اور وہ چنائو کے بائیکاٹ پر آمادہ رہتے ۔تو مشرف میاں مذہب اسلام کی جڑوں کو بہت تیزی سے کھوکھلا کردیتے ۔ دھشت گرد واقعات جو تیزی پاکستان اور باقی دنیا میں پھیلتے و بڑھتے جارہے تھے۔ اور قاتل واردات کرکے القاعدہ و طالبان کے نام سے فلمائی کیسٹوں میں پناہ لے رہے تھے۔ ان پر قد غن لگانا بڑا مشکل تھا۔حادثہ رونما ہوا ۔پاکستان میں ایک بیرونی سفارت خانہ پر حملہ ہوا ۔ اس کے بعد قاتلوں نے تخلیقی کیسٹوں کے ذریعہ سے جرم کو قبول کرلیا۔یہ حملے ان کی شراتیںتھی ۔القاعدہ و طالبان فی الوقت کیسی کے سیاسی مفاد کی خاطر اپنے سیاسی عتاب کا شکار مصر کے حسنی مبارک کو بنائے ہوئے ہیں۔عرب ممالک کے بیشتر رہنما و حکمراں ان کو اسلام کے دشمن نظر آتے ہیں۔مسٹر جارج بش کے بیان کا تجزیہ کریں۔کہ ’’ پاکستان امریکی مفاد ات کے تحفظ کے خاطر دھشت گردی کا شکار ہورہا ہے۔ اس انتہا پسندی کو شکست دینے کیلئے آزاد و خودمختار عدلیہ و میڈیا اور جمہوری حکومتی نظام کی ضرورت ہے‘‘ مگر جب مسٹر پرویز مشرف صاحب جمہوریت اور عدلیہ پر حملہ کرتے ہیںتو ایسے ناجائز حکمرانوں کی پیٹھ تھپتھپائی جاتی ہے۔ اس تضاد نے مسٹر جارج بش صاحب کو پوری دنیا بے اعتباری سے دیکھ رہی ہے۔کہ سپر پاور ملک کا حکمراں کس سمت جارہا ہے۔۔۔؟
مسٹر بارک اوبامہ نے سیاسی حکمت عملی کے تحت اسرائیل کی راجدھانی یوروشلم کو قرارد ے کر القاعدہ و طالبان کے چہروں پر امریکن ری پبلیکن پارٹی کی حمایت کی پڑی نقاب کو کھینچنے کی کوشیش کی ہے۔کہ وہ ان کے اس اعلان کے بعد وہ ان کو (مسٹر بارک اوبامہ ) کو دھمکیاں دیتی ہے یا نہیں۔جس طرح انہوں نے مسٹر حسنی مبارک و عرب حکمرانوں کو اپنے غصہ کا شکار بنایا ہے اسی طرح اوبامہ کو بھی وہ نشانہ بنائیں گے۔اگر انہوں نے بارک اوبامہ کیلئے دھمکیاں جاری نہیں کیں۔تو اس سے یہ ثابت ہوگا۔ کہ تخلیقی القاعدہ و طالبان جن کو تخلیقی کیسٹون میں دھمکیاں دینے کیلئے فلمایا گیا ہے۔ وہ امریکن ری پبلیکن پارٹی کی سیاست کا بہترین حصہ ہے۔ وہ اسلامی حلیہ مجاہدین۔۔۔ مسٹر جارج بش کے دشمن نما دوست ہیں۔جو مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کیلئے تیار کئے گئے ہیں۔
عرب ممالک نے مسٹربارک اوبامہ کے مذکورہ سیاسی بیان پر سخت تنقیدی مذمت کی ۔ کہ وہ کیوں بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی بنا رہے ہیں۔و تسلیم کرہے ہیں۔اس پر القاعدہ و طالبان کی خاموشی ۔۔۔۔مسٹرجان میکن سے کسی مفاہمت کا نتیجہ ہے ۔۔۔ حالانکہ مسٹر اوبامہ کے سیاسی بیان پر اس اسلام دشمن تحریک کا نظریہ بھی آنا چاہیئے۔جو اپنے آپ کو اسلام کا وفادار کہتی ہے۔پوری دنیا میں گذشتہ چودہ سو سالوں اور فی الوقت بھی اسلام کی خلافت و شریعت قائم ہے۔اور ہر شخص اس سے استفادہ حاصل کررہا ہے۔مگر وہ اس خلافت و شریعت کی تجدیدکرنا چاہتے ہیں۔ یعنی مذہب اسلام کو دھشت گرد اسلامی مذہب میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
بہر حال مسٹر بارک اوبامہ کے اس سیاسی بیان سے ایک اسلام دشمن تحریک پوری طرح بے نقاب ہ چکی ہے۔ کہ جو اسلامی حلیہ مکھوٹے مشرف میاں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیںوہ مسٹر جان میکن کی تازہ سیاست کا حصہ بنتے جار ہے ہیں۔۔۔؟
بہر کیف جنرل مشرف میاں پاکستان میں امریکن ری پبلیکن پارٹی کیلئے دھشت گرد ماحول سجانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے۔ چاہے اس کیلئے ان کو کچھ بھی کرنا پڑے اور کوئی بھی قد آور سیاسی رہنما ان جماعت کی کامیابی کیلئے پاکستان میں دھشت گردی کی زد پر آسکتا ہے۔ ۔ لہذا اب مشرف میاں کو ایوان صدر کے محل میں امریکہ کے صدارتی الیکشن تک نظر بند ہی رکھا جائے۔اور ان کو کسی بھی طرح کے بیانات جاری کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
فی الوقت جنرل مشرف اب جبکہ پاکستانی عوام کے ہاتھوں سیاسی طور پر قتل کئے جاچکے ہیں۔اور وہ اب زندہ لاشہ ہیں۔ان کو ہٹانے سے مذہب اسلام کی خدمت ہی گی۔اس لئے ان کا پر امن انخلاء ہی اب ہندوپاک کے عوام کے مفاد میں ہے۔لیکن سیاسی انتقام سے گریز کیا جانا چاہئے۔اور نواز شریف صاحب ، شہباز شریف صاحب اور آصف زرداری کو صبر تحمل کا ہی مظاہر ہ کرنا چاہئے۔ یہ بھی ایک اسلام کی خدمت ہوگی۔
ایاز محمود۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی دہلی۔
اس اسلام دشمن (القاعدہ و طالبان ) تحریک کی بے نقابی ۔۔۔۔۔ نواز لیگ کی پاکستان کے عام چنائو میں شمولیت کی وجہ سے اجاگر ہوئی ہے۔ اگر پاکستان کے نئے قائد آعظم میاں نواز شریف صاحب مخلص دوستوں کے مشوروں پر عمل کرنے سے گریز کرتے اور وہ چنائو کے بائیکاٹ پر آمادہ رہتے ۔تو مشرف میاں مذہب اسلام کی جڑوں کو بہت تیزی سے کھوکھلا کردیتے ۔ دھشت گرد واقعات جو تیزی پاکستان اور باقی دنیا میں پھیلتے و بڑھتے جارہے تھے۔ اور قاتل واردات کرکے القاعدہ و طالبان کے نام سے فلمائی کیسٹوں میں پناہ لے رہے تھے۔ ان پر قد غن لگانا بڑا مشکل تھا۔حادثہ رونما ہوا ۔پاکستان میں ایک بیرونی سفارت خانہ پر حملہ ہوا ۔ اس کے بعد قاتلوں نے تخلیقی کیسٹوں کے ذریعہ سے جرم کو قبول کرلیا۔یہ حملے ان کی شراتیںتھی ۔القاعدہ و طالبان فی الوقت کیسی کے سیاسی مفاد کی خاطر اپنے سیاسی عتاب کا شکار مصر کے حسنی مبارک کو بنائے ہوئے ہیں۔عرب ممالک کے بیشتر رہنما و حکمراں ان کو اسلام کے دشمن نظر آتے ہیں۔مسٹر جارج بش کے بیان کا تجزیہ کریں۔کہ ’’ پاکستان امریکی مفاد ات کے تحفظ کے خاطر دھشت گردی کا شکار ہورہا ہے۔ اس انتہا پسندی کو شکست دینے کیلئے آزاد و خودمختار عدلیہ و میڈیا اور جمہوری حکومتی نظام کی ضرورت ہے‘‘ مگر جب مسٹر پرویز مشرف صاحب جمہوریت اور عدلیہ پر حملہ کرتے ہیںتو ایسے ناجائز حکمرانوں کی پیٹھ تھپتھپائی جاتی ہے۔ اس تضاد نے مسٹر جارج بش صاحب کو پوری دنیا بے اعتباری سے دیکھ رہی ہے۔کہ سپر پاور ملک کا حکمراں کس سمت جارہا ہے۔۔۔؟
مسٹر بارک اوبامہ نے سیاسی حکمت عملی کے تحت اسرائیل کی راجدھانی یوروشلم کو قرارد ے کر القاعدہ و طالبان کے چہروں پر امریکن ری پبلیکن پارٹی کی حمایت کی پڑی نقاب کو کھینچنے کی کوشیش کی ہے۔کہ وہ ان کے اس اعلان کے بعد وہ ان کو (مسٹر بارک اوبامہ ) کو دھمکیاں دیتی ہے یا نہیں۔جس طرح انہوں نے مسٹر حسنی مبارک و عرب حکمرانوں کو اپنے غصہ کا شکار بنایا ہے اسی طرح اوبامہ کو بھی وہ نشانہ بنائیں گے۔اگر انہوں نے بارک اوبامہ کیلئے دھمکیاں جاری نہیں کیں۔تو اس سے یہ ثابت ہوگا۔ کہ تخلیقی القاعدہ و طالبان جن کو تخلیقی کیسٹون میں دھمکیاں دینے کیلئے فلمایا گیا ہے۔ وہ امریکن ری پبلیکن پارٹی کی سیاست کا بہترین حصہ ہے۔ وہ اسلامی حلیہ مجاہدین۔۔۔ مسٹر جارج بش کے دشمن نما دوست ہیں۔جو مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کیلئے تیار کئے گئے ہیں۔
عرب ممالک نے مسٹربارک اوبامہ کے مذکورہ سیاسی بیان پر سخت تنقیدی مذمت کی ۔ کہ وہ کیوں بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی بنا رہے ہیں۔و تسلیم کرہے ہیں۔اس پر القاعدہ و طالبان کی خاموشی ۔۔۔۔مسٹرجان میکن سے کسی مفاہمت کا نتیجہ ہے ۔۔۔ حالانکہ مسٹر اوبامہ کے سیاسی بیان پر اس اسلام دشمن تحریک کا نظریہ بھی آنا چاہیئے۔جو اپنے آپ کو اسلام کا وفادار کہتی ہے۔پوری دنیا میں گذشتہ چودہ سو سالوں اور فی الوقت بھی اسلام کی خلافت و شریعت قائم ہے۔اور ہر شخص اس سے استفادہ حاصل کررہا ہے۔مگر وہ اس خلافت و شریعت کی تجدیدکرنا چاہتے ہیں۔ یعنی مذہب اسلام کو دھشت گرد اسلامی مذہب میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
بہر حال مسٹر بارک اوبامہ کے اس سیاسی بیان سے ایک اسلام دشمن تحریک پوری طرح بے نقاب ہ چکی ہے۔ کہ جو اسلامی حلیہ مکھوٹے مشرف میاں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیںوہ مسٹر جان میکن کی تازہ سیاست کا حصہ بنتے جار ہے ہیں۔۔۔؟
بہر کیف جنرل مشرف میاں پاکستان میں امریکن ری پبلیکن پارٹی کیلئے دھشت گرد ماحول سجانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے۔ چاہے اس کیلئے ان کو کچھ بھی کرنا پڑے اور کوئی بھی قد آور سیاسی رہنما ان جماعت کی کامیابی کیلئے پاکستان میں دھشت گردی کی زد پر آسکتا ہے۔ ۔ لہذا اب مشرف میاں کو ایوان صدر کے محل میں امریکہ کے صدارتی الیکشن تک نظر بند ہی رکھا جائے۔اور ان کو کسی بھی طرح کے بیانات جاری کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
فی الوقت جنرل مشرف اب جبکہ پاکستانی عوام کے ہاتھوں سیاسی طور پر قتل کئے جاچکے ہیں۔اور وہ اب زندہ لاشہ ہیں۔ان کو ہٹانے سے مذہب اسلام کی خدمت ہی گی۔اس لئے ان کا پر امن انخلاء ہی اب ہندوپاک کے عوام کے مفاد میں ہے۔لیکن سیاسی انتقام سے گریز کیا جانا چاہئے۔اور نواز شریف صاحب ، شہباز شریف صاحب اور آصف زرداری کو صبر تحمل کا ہی مظاہر ہ کرنا چاہئے۔ یہ بھی ایک اسلام کی خدمت ہوگی۔
ایاز محمود۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی دہلی۔
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 3090