| ہند کا بٹوار ۔۔۔ ’’ اردو ‘‘ کا مجموعی نقصان |
|
|
|
امریکہ و برطانیہ کا یہ پسندیدہ مشغلہ ہے۔ کہ’ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘ اور انہوں نے بڑے بڑے خوشحال ملکوں میں پھوٹ ڈالنے کے طریقہ کار کا بہت خوبصورت انداز میں تراشہ ہے۔اور وہ طریقہ ہے۔ ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ اس طریقہ کار کو اپنا کر وہ کسی بھی ملک کے حصّہ میں حریت نما غلامی کے واویلہ مچاکر اپنے مقصد کوحل کرلیتے ہیں۔اور ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈال کر اس پر ایسا کرارا حملہ کرتے ہیں۔ جس سے روح تڑپ تڑپ کر پرواز کرجاتی ہے۔ مگر اس پر ان کو رحم نہیںآتا۔ دنیا میں اقوام متحدہ کا وجود حق و صداقت پر مبنی نہیں۔وہ انصاف اور مساوات فراہم نہیںکرتا۔بلکہ جب امریکہ و برطانیہ دنیا کے کسی بھی ملک میں حریت کی ڈکیتی ڈالتے ہیں۔یہ اس میں مدد اور اعانت کرتا ہے۔اقوام متحدہ کے نام سے جس ملک میں فوج بھیجی جاتی ہے۔ تو سمجھ لیجئے کہ اس ملک میں ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ پڑچکی ہے۔اور اب اس میں افراتفریح رونما ہونے والی ہے۔اس کیلئے مذکورہ یہ دونوں ملک دوسرے ملکوں کے فوجی دستوں کو استعمال کرتے ہیں۔ اور آخر میں ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ سے لوٹے گئے مال پر قابض ہوکر اور حصّہ دار بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔
۱۹۴۷، کے ہندوستان میں دو قومی نظریہ پیش کرکے ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈال کر ہندوستا ن کے وسیع رقبہ کو باہم تقسیم کیاگیا۔ اور ایک ملک کے دو ٹکڑے کردئے گئے۔اور ان پر حریت نما غلامی کا پرچم آزادی کے نام پر لہرایا گیا۔یہاںہندومسلمانوں کے آزادی کے نام پر بازوکاٹے گئے ۔ مگر افسوس اس پر وہ کہتے ہیں۔کہ ہم آزاد ہیں۔اس وسیع ملک میں ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈال کر برباد کیا گیا۔باہمی نفرتوں کے بیج بوئے گئے۔لاکھوں انسانوں کو باہم ایک فلسفہ و مقصد کے تحت قتل کرایا گیا۔ جس سے اس ملک کے دو حصّوں میں ایک نفرت کی دیوار کھڑی کردی گئی۔جس سے باہم وہ گذشستہ ساٹھ سالوں سے ایک دوسرے کو گالیاں بکتے رہے ۔ اور ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈالنے والون کے ارادوں کو تقویت پہنچاتے رہے۔ مجموعی اس وسیع ملک کی ترقی کی رفتار پر ان ڈکیتوں نے جو ہتھوڑا مارا تھا۔اس کے گھائو ابھی تک ہرے بھرے ہیں۔ہندو پاک کو یکجا اور اس میں دوستی پیدا کرنے و امن وامان لانے کی کوشیش ماضی کے تلخ تجربات کی بنیادپراٹل و نواز میں چلی۔مگر نواز کو اس کی سزا ۔۔۔آٹھ سال جلا وطن رہ بھگتنی پڑی۔پہلے تو نواز شریف صاحب کا اقتدار چھینا گیا ۔پھر ان کا ۔۔ صدام حسین کی طرح عدالتی تحویل میں لاکرقتل کرنے کی کوشیش کی گئی۔مگر خدا کے فضل سے اور ساتھ ہی ہندوستان کی قیادت کی مذاحمت سے ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔ اور ان کو جلاوطن مجبوری میں کیا گیا۔اس طرح وہ موت کے چنگل سے آزاد ہوگئے۔ اس میں مشرف میاں کا کردارمحض ایک کلرک کی حیثیت کا رہا۔وہ صرف کٹھ پتلی کی طرح اقتدار کے مزے اڑانے لئے رقص کرتے رہے۔
بڑے ممالک حریت نما غلامی دلانے کی خاطر وہ خوبصورت طرز کے نعرہ دیتے ہیں۔کہ انسا ن اس میں الجھ کر گمراہ ہوجاتا ہے۔ جیسے ’راج کرے گا خالصہ ‘ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں۔۔حریت ‘ ’تبتی کیا چاہتے ہیں۔۔فریڈم‘ ’تائیوان کیا چاہتا ہے ۔ ریفرینڈم‘
’بلوچی کیا چاہتے ہیں۔آزادی‘ ’ سندھی کیا چاہتے ہیں۔خودمختاری‘ ’تمل ٹائیگر کیا چاہتے ہیں ۔ رائے شماری ‘ ’ پوری دنیامیں شریعت کا نفاذ‘ ‘ نئی اسلامی مملکت کا قیام ایک بنیادی حق‘ وغیرہ وغیرہ۔ اسے نعرے جو دلوں دماغ پر اثر کریں۔جن کوان خوبصورت نعروں کے ساتھ ان کے جذبات گرم کرکے ان لوگوں کو اپنے ہی ملکوں سے باغی بنانے کا یہ کارنامہ انجام دیتے ہیں۔جذبات گرم بے وقوفوں کی یہ
پوری اعانت کرتے ہیں۔ان کی اس تحریک سے جڑنے کے بعد جو ان کی اس تحریک سے باغی ہوتا ہے۔اس کو عبدالغنی لون اور میر واعظ مولوی فاروق صاحب کی طرح قتل کردیاجاتا ہے۔ تاکہ آگے کوئی تحریک سے فرار ہونے جرآت نہ کرسکے۔ان کے ہاتھ میں اقوامی متحدہ کی تسہح تھما دی جاتی ہے۔اور وہ اس کو پڑھتے رہیں۔ اور آزادی صاحل کرنے کے گن گاتے رہیں۔اور عوامی خواہشات کی وکالت کرکے ان جذباتی لوگوں کو گمراہ کرے رہیں۔قرآن کی ایک دو جہادی آیات ان انپڑھ لوگوں کو رٹادی جاتی ہیں اور ایک ہزار رحمتوں کی آیا ت سے ان کو کوسوں دور رکھا جاتا ہے۔اس اقدام سے پتہ چلتا ہے۔ کہ وہ اس خطہ کو کمزور کرنے کیلئے یہاں ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ کی ڈکیتی پڑنے کی راہ ہموار کررہے ہیں۔
ان جذباتی لوگوں کے جذبات کا استحصال کرنے والوں نے مجموعی ہندوستان کے دس کروڑ علمائے دین کی پانچ سو سالہ محنتوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ جنہون نے قرآن حکیم کے ترجمہ کو ’’ اردو طرز تحریر‘‘ میں سمویہ تھا۔بڑی محنت و لگن سے اردو کے دیوان لکھے تھے۔ مذہب اسلام کے اساسے کو اردو میں محفوظ کیا تھا۔آج ان کی محنت کو ضائع کردیا گیا۔۔۔ اسلام کی روشنی ’’ اردو ‘ کے ذریعہ جو پوری دنیا میں پھیل رہی رہی تھی اس اردو کو غلام اور یرغمال بنایا جاچکاہے۔ہندوستان میں اس کو سیاسی موت دی جاچکی ہے۔ حریت نما غلامی میں یقین رکھنے والے درندے ہندوپاک میں اب پھر یہاں ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈلوانے کے فراق میں سرگرم عمل ہیں۔اب کوشیش کی جاری ہے کہ اردو کا جوجنازہ ہندوستان کے بٹوارہ میں تیار ہوا تھا۔اب اردو کی میت ہندوستان کی سڑکوں پر رکھی ہوئی ہے۔ ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈالنے والے لوگ یہ چاہتے ہیں۔کہ جلسے جلوس کے ساتھ اب اردو کی تدفین کردی جائے۔
کشمیر ی علماء حضرات جنہوںنے بڑی محنت و لگن سے ہندوستان میںپھیلے مساجد،مدارس و مکاتب اسلامیہ میں جاکر مذہب اسلام کی فروغ کیلئے ’’ اردو ‘‘ میں احادیث کے ذخیرے کو اکٹھا کیا تھا۔ان میں چند سیاسی علماء و سیاسی لیڈر داخل ہوگئے ۔ جو اردو کے فروغ کے بجائے زکوۃ و خیرات کے پیسے سیاست کرتے ہیں۔جو امریکہ و برطانیہ کے داماد بنے ہوئے ہیں۔ اورغیر مسلموں سے شادیا ں رچاکر علمائے دین کی محنتوں کو ضائع کرتے ہیں۔بلکہ کررہے ہیں۔اگر وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ، مذہب اسلام، انسانیت ، مسلمانوں اور اردو کے وفادار نہیں۔تو پھر پہاڑوں پر جاکر بیٹھ جائیں۔اور بت پرستی کی تبلیغ کریں ۔ کیوں دھوکہ دیتے ہیں۔محبان اردو کو۔۔۔! ہندوستان کے صوبہ پنجاب میں سکھ احباب کو رب کریم اور اردو گہری سے عقیدت ہے۔اردو کا فروغ ہندستان میں وہ لوگ بھی کررہے ہیں۔جو کہ قابل ستائش قدم ہے۔ مگر جو لوگ اردو کے نام پر روٹیاں سیخ رہے ہیں ان کا کیا کیا جائے۔
بہر حال ہندوستان میں اردو کا فروغ ۔۔۔خدمت خدا ہے ۔ یہ مشن اردو بچائو آندولن کی شکل میں ایک دن ضرور نمودارہوگا۔بفصل خدا ۔۔۔ اردو پورے آب وتاب ، وقار و احترام سے رائج العمل ہوگی۔ وسائل کا بار درمیان میں ہونے سے مجبوریاں ہیں۔خادم اردو کی پھیلاوٹ کی کامیاب تحریک رکھتا ہے۔ اب اردو کی پھیلاوٹ سیاسی نقطہ نگاہ سے اس کو پورے بھارت میں رائج العمل کرانا کوئی مشکل مرحلہ نہیں۔جو لوگ اردو کے فروغ کو فریضہ سمجھتے ہیں۔یعنی خدمت انسانیت اور خدمت اردو کیلئے وہ یقینا بیدار ہوں گے۔اور اس مرحلہ کو عبورکرنے کیلئے آگے کی سمت بڑھیں گے۔ ’’ آپ کا ہاتھ ۔۔ اردو کے ساتھ‘‘ کا مخلصانہ ،درد مندادنہ طور پر حصّہ بنیں گے۔
فی الوقت ہندوپاک کے بقیہ حصوں میں ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈالنے والوں سے ہوشیار رہنا ہے۔جنہوں نے ۱۹۴۷ میں ہندوستان کو کمزار کرکے اردو کو کچلا تھا۔اور وہ ہی آج پھر اردو کو کچلنے کی سر توڑ کوشیش کررہے ہیں۔ اور اردو کو نقصان پہنچانے کی نئی مہم مرتب کررہے ہیں۔
بہر کیف پاکستان میں نواز لیگ کے قائد میاں نواز شریف صاحب ہندوستان ی لیڈروں کے ساتھ ملکر ہندوپاک کے خطہ میں امن وامان لانے کی جو مہم چھڑی ہے۔ وہ قابل ستائش ہے ۔ کیونکہ اس سے ماضی کی دو اردو قومیں باہم ایک دوسرے سے ربط پیدا ہوگا۔ جس سے اردو کو فروغ بھی حاصل ہوگا۔
امریکہ و برطانیہ نے مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب بنانے کیلئے تخلیقی القاعدہ و طالبان کی تخلیقی کیسٹوں سے اپنے خلاف دھمکیاں حاصل کرکے اسلام وار مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مہم چھڑی ہوئی ہے اس سے بھی اردو پر ضرب لگی ہے۔لہذا اب وقت آگیا ہے۔ کہ تخلیقی خرافات کو سمجھا جائے اور اس پر روک لگوائی جائے ۔ اس قدم سے بھی امن وامان کی صورت بحال ہوگی۔
اردو میںمذہب اسلام کا مذہبی و ادبی اساسہ موجود ہے۔ اور ہندوستان میں گذشتہ ساٹھ سالوں سے اردو کو اسلئے ہی کچلا جارہا ہے۔اس لئے اب اردو کا تحفظ ،محبان اردو کی اولین زمہ داری ہونی چاہئے۔
ایاز محمود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی دہلی
۱۹۴۷، کے ہندوستان میں دو قومی نظریہ پیش کرکے ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈال کر ہندوستا ن کے وسیع رقبہ کو باہم تقسیم کیاگیا۔ اور ایک ملک کے دو ٹکڑے کردئے گئے۔اور ان پر حریت نما غلامی کا پرچم آزادی کے نام پر لہرایا گیا۔یہاںہندومسلمانوں کے آزادی کے نام پر بازوکاٹے گئے ۔ مگر افسوس اس پر وہ کہتے ہیں۔کہ ہم آزاد ہیں۔اس وسیع ملک میں ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈال کر برباد کیا گیا۔باہمی نفرتوں کے بیج بوئے گئے۔لاکھوں انسانوں کو باہم ایک فلسفہ و مقصد کے تحت قتل کرایا گیا۔ جس سے اس ملک کے دو حصّوں میں ایک نفرت کی دیوار کھڑی کردی گئی۔جس سے باہم وہ گذشستہ ساٹھ سالوں سے ایک دوسرے کو گالیاں بکتے رہے ۔ اور ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈالنے والون کے ارادوں کو تقویت پہنچاتے رہے۔ مجموعی اس وسیع ملک کی ترقی کی رفتار پر ان ڈکیتوں نے جو ہتھوڑا مارا تھا۔اس کے گھائو ابھی تک ہرے بھرے ہیں۔ہندو پاک کو یکجا اور اس میں دوستی پیدا کرنے و امن وامان لانے کی کوشیش ماضی کے تلخ تجربات کی بنیادپراٹل و نواز میں چلی۔مگر نواز کو اس کی سزا ۔۔۔آٹھ سال جلا وطن رہ بھگتنی پڑی۔پہلے تو نواز شریف صاحب کا اقتدار چھینا گیا ۔پھر ان کا ۔۔ صدام حسین کی طرح عدالتی تحویل میں لاکرقتل کرنے کی کوشیش کی گئی۔مگر خدا کے فضل سے اور ساتھ ہی ہندوستان کی قیادت کی مذاحمت سے ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔ اور ان کو جلاوطن مجبوری میں کیا گیا۔اس طرح وہ موت کے چنگل سے آزاد ہوگئے۔ اس میں مشرف میاں کا کردارمحض ایک کلرک کی حیثیت کا رہا۔وہ صرف کٹھ پتلی کی طرح اقتدار کے مزے اڑانے لئے رقص کرتے رہے۔
بڑے ممالک حریت نما غلامی دلانے کی خاطر وہ خوبصورت طرز کے نعرہ دیتے ہیں۔کہ انسا ن اس میں الجھ کر گمراہ ہوجاتا ہے۔ جیسے ’راج کرے گا خالصہ ‘ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں۔۔حریت ‘ ’تبتی کیا چاہتے ہیں۔۔فریڈم‘ ’تائیوان کیا چاہتا ہے ۔ ریفرینڈم‘
’بلوچی کیا چاہتے ہیں۔آزادی‘ ’ سندھی کیا چاہتے ہیں۔خودمختاری‘ ’تمل ٹائیگر کیا چاہتے ہیں ۔ رائے شماری ‘ ’ پوری دنیامیں شریعت کا نفاذ‘ ‘ نئی اسلامی مملکت کا قیام ایک بنیادی حق‘ وغیرہ وغیرہ۔ اسے نعرے جو دلوں دماغ پر اثر کریں۔جن کوان خوبصورت نعروں کے ساتھ ان کے جذبات گرم کرکے ان لوگوں کو اپنے ہی ملکوں سے باغی بنانے کا یہ کارنامہ انجام دیتے ہیں۔جذبات گرم بے وقوفوں کی یہ
پوری اعانت کرتے ہیں۔ان کی اس تحریک سے جڑنے کے بعد جو ان کی اس تحریک سے باغی ہوتا ہے۔اس کو عبدالغنی لون اور میر واعظ مولوی فاروق صاحب کی طرح قتل کردیاجاتا ہے۔ تاکہ آگے کوئی تحریک سے فرار ہونے جرآت نہ کرسکے۔ان کے ہاتھ میں اقوامی متحدہ کی تسہح تھما دی جاتی ہے۔اور وہ اس کو پڑھتے رہیں۔ اور آزادی صاحل کرنے کے گن گاتے رہیں۔اور عوامی خواہشات کی وکالت کرکے ان جذباتی لوگوں کو گمراہ کرے رہیں۔قرآن کی ایک دو جہادی آیات ان انپڑھ لوگوں کو رٹادی جاتی ہیں اور ایک ہزار رحمتوں کی آیا ت سے ان کو کوسوں دور رکھا جاتا ہے۔اس اقدام سے پتہ چلتا ہے۔ کہ وہ اس خطہ کو کمزور کرنے کیلئے یہاں ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ کی ڈکیتی پڑنے کی راہ ہموار کررہے ہیں۔
ان جذباتی لوگوں کے جذبات کا استحصال کرنے والوں نے مجموعی ہندوستان کے دس کروڑ علمائے دین کی پانچ سو سالہ محنتوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ جنہون نے قرآن حکیم کے ترجمہ کو ’’ اردو طرز تحریر‘‘ میں سمویہ تھا۔بڑی محنت و لگن سے اردو کے دیوان لکھے تھے۔ مذہب اسلام کے اساسے کو اردو میں محفوظ کیا تھا۔آج ان کی محنت کو ضائع کردیا گیا۔۔۔ اسلام کی روشنی ’’ اردو ‘ کے ذریعہ جو پوری دنیا میں پھیل رہی رہی تھی اس اردو کو غلام اور یرغمال بنایا جاچکاہے۔ہندوستان میں اس کو سیاسی موت دی جاچکی ہے۔ حریت نما غلامی میں یقین رکھنے والے درندے ہندوپاک میں اب پھر یہاں ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈلوانے کے فراق میں سرگرم عمل ہیں۔اب کوشیش کی جاری ہے کہ اردو کا جوجنازہ ہندوستان کے بٹوارہ میں تیار ہوا تھا۔اب اردو کی میت ہندوستان کی سڑکوں پر رکھی ہوئی ہے۔ ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈالنے والے لوگ یہ چاہتے ہیں۔کہ جلسے جلوس کے ساتھ اب اردو کی تدفین کردی جائے۔
کشمیر ی علماء حضرات جنہوںنے بڑی محنت و لگن سے ہندوستان میںپھیلے مساجد،مدارس و مکاتب اسلامیہ میں جاکر مذہب اسلام کی فروغ کیلئے ’’ اردو ‘‘ میں احادیث کے ذخیرے کو اکٹھا کیا تھا۔ان میں چند سیاسی علماء و سیاسی لیڈر داخل ہوگئے ۔ جو اردو کے فروغ کے بجائے زکوۃ و خیرات کے پیسے سیاست کرتے ہیں۔جو امریکہ و برطانیہ کے داماد بنے ہوئے ہیں۔ اورغیر مسلموں سے شادیا ں رچاکر علمائے دین کی محنتوں کو ضائع کرتے ہیں۔بلکہ کررہے ہیں۔اگر وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ، مذہب اسلام، انسانیت ، مسلمانوں اور اردو کے وفادار نہیں۔تو پھر پہاڑوں پر جاکر بیٹھ جائیں۔اور بت پرستی کی تبلیغ کریں ۔ کیوں دھوکہ دیتے ہیں۔محبان اردو کو۔۔۔! ہندوستان کے صوبہ پنجاب میں سکھ احباب کو رب کریم اور اردو گہری سے عقیدت ہے۔اردو کا فروغ ہندستان میں وہ لوگ بھی کررہے ہیں۔جو کہ قابل ستائش قدم ہے۔ مگر جو لوگ اردو کے نام پر روٹیاں سیخ رہے ہیں ان کا کیا کیا جائے۔
بہر حال ہندوستان میں اردو کا فروغ ۔۔۔خدمت خدا ہے ۔ یہ مشن اردو بچائو آندولن کی شکل میں ایک دن ضرور نمودارہوگا۔بفصل خدا ۔۔۔ اردو پورے آب وتاب ، وقار و احترام سے رائج العمل ہوگی۔ وسائل کا بار درمیان میں ہونے سے مجبوریاں ہیں۔خادم اردو کی پھیلاوٹ کی کامیاب تحریک رکھتا ہے۔ اب اردو کی پھیلاوٹ سیاسی نقطہ نگاہ سے اس کو پورے بھارت میں رائج العمل کرانا کوئی مشکل مرحلہ نہیں۔جو لوگ اردو کے فروغ کو فریضہ سمجھتے ہیں۔یعنی خدمت انسانیت اور خدمت اردو کیلئے وہ یقینا بیدار ہوں گے۔اور اس مرحلہ کو عبورکرنے کیلئے آگے کی سمت بڑھیں گے۔ ’’ آپ کا ہاتھ ۔۔ اردو کے ساتھ‘‘ کا مخلصانہ ،درد مندادنہ طور پر حصّہ بنیں گے۔
فی الوقت ہندوپاک کے بقیہ حصوں میں ’’ حریت کی ڈکیتی ‘‘ ڈالنے والوں سے ہوشیار رہنا ہے۔جنہوں نے ۱۹۴۷ میں ہندوستان کو کمزار کرکے اردو کو کچلا تھا۔اور وہ ہی آج پھر اردو کو کچلنے کی سر توڑ کوشیش کررہے ہیں۔ اور اردو کو نقصان پہنچانے کی نئی مہم مرتب کررہے ہیں۔
بہر کیف پاکستان میں نواز لیگ کے قائد میاں نواز شریف صاحب ہندوستان ی لیڈروں کے ساتھ ملکر ہندوپاک کے خطہ میں امن وامان لانے کی جو مہم چھڑی ہے۔ وہ قابل ستائش ہے ۔ کیونکہ اس سے ماضی کی دو اردو قومیں باہم ایک دوسرے سے ربط پیدا ہوگا۔ جس سے اردو کو فروغ بھی حاصل ہوگا۔
امریکہ و برطانیہ نے مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب بنانے کیلئے تخلیقی القاعدہ و طالبان کی تخلیقی کیسٹوں سے اپنے خلاف دھمکیاں حاصل کرکے اسلام وار مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مہم چھڑی ہوئی ہے اس سے بھی اردو پر ضرب لگی ہے۔لہذا اب وقت آگیا ہے۔ کہ تخلیقی خرافات کو سمجھا جائے اور اس پر روک لگوائی جائے ۔ اس قدم سے بھی امن وامان کی صورت بحال ہوگی۔
اردو میںمذہب اسلام کا مذہبی و ادبی اساسہ موجود ہے۔ اور ہندوستان میں گذشتہ ساٹھ سالوں سے اردو کو اسلئے ہی کچلا جارہا ہے۔اس لئے اب اردو کا تحفظ ،محبان اردو کی اولین زمہ داری ہونی چاہئے۔
ایاز محمود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی دہلی
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|









(0 vote)
Views: 1777