Aug
28
2008
Today
 .
videos.gifcartoon.gif  links.gif forum.gif guest-book.gifadverts.gif

Hijri Date


Member Login

Attock Poll

Your Favorite Mobile / Cell phone brand ?

Attock Weather

Attock
25°C

Tell a Friend

Like what you see? If you like what you see, please tell a friend or family member about us! It's simple! Just click on the Tell a Friend hotlink below

Syndicate

بش کوایران سے دھمکیوں کی تلاش۔۔۔! ا PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 


بش کو۔۔ ایران سے دھمکیوں کی تلاش۔۔۔!
امریکن ری پبلیکن پارٹی اپنے سیاسی مدعے ۔۔’’ دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ‘‘کے تحت سیاست کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔ جو ملکوں کو مشتعل کرکے ان سے دھمکیاں حاصل کرنے کی جستجو میں لگی رہتی ہے۔اسی طر ز نے مذکورہ پارٹی کو فوقیت دی ہے۔ اب بھی وہ اس سے پیچھے ہٹنے کو تیا ر نہیں ۔ مذکورہ پارٹی کی قیادت مسٹر جارج بش صاحب نے دنیا کو یہ خبر فراہم کی ہے کہ ’’ اگر ہم نے ایران کو نیو کلیائی اسلحہ حاصل کرنے سے نہیں روکا تو یہ مستقبل کی نسلوں کے تئیں ہماری ناقابل معافی غلطی ہوگی‘‘ ان کا یہ بیان ۔۔ ان کی پارٹی کے ذاتی فائدے کیلئے ہے۔ان کے اس بیان پر ایران شدت سے مشتعل ہوگا۔اور ان کو دھمکی آمیز بیان جاری کرے گا۔ مسٹر جارج بش ایران کی قیاد ت کو اس حد تک مجبور کردینا چاہتے ہیں۔ کہ وہ تنگ آکر کسی طرح یہ بیان جاری کردے کہ وہ نیوکلیائی مادہ صاحل کرنے کے بعد نیوکلیائی بم بھی بنا سکتے ہیں۔ان کو فقط ایران سے مشتعل آمیز دھمکی چاہئے ۔ اگر ایران ۔۔ ان کے مشتعل کرنے کے جھانسہ میں آکر ایسا بیان دے دیتا ہے۔تو وہ ان کے دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے مدعے کو تقویت پہنچانے کے کام میں آئیں گی۔ دھمکیوں کے بدلے جوابی دھمکیاں ان کی سیاست کا حصّہ ہیں۔۔ جس سے ان کو سیاسی فائدہ ہوتا ہے۔ اگر ایران امریکن ری پبلیکن پارٹی کے تحت دھمکیاں دینے شروع کردے ۔تو امریکہ ایران پر حملہ کرنے کی مہم شروع کردے گا۔ اس پر حملہ آور بن کر ایران کے تیل کو اپنے قبضہ میں لینا ہے۔ جیسا کہ عراق کے تعلق سے ہوا ہے۔مسٹر صدام حسین کی جارج بش کیلئے دھمکیاں ان کی جماعت کو امریکہ میں تقویت پہنچاتی رہیں۔جارج بش عراق پر مسلسل الزامات کی بارش کرتے رہے۔اور ان کے الزامات کا موثر جواب و دھمکی آمیز جواب ان کو ملتا رہا ۔ جس سے مذکورہ پارٹی کی مہم کامیابی کے مراحل عبور کرتی رہی۔
مسٹر بش کے الزامات کی بارش کسی بھی ملکی سربراہ کو پاگل بنا دیتی ہے۔ اور وہ بھی الزامات کے مسلسل دبائو میں پاگل پن کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور جوشیلے انداز میں بیان جاری کرنے پر مجبور ہوجاتاہے۔کہ وہ اپنے بیان کو دھشت زدہ ہوکراور دھشت گرد بن کر بیان دے۔ دبائو تحت بیان تخریب تک پہنچتے ہی۔وہ ان کے جال میں پھنس جاتا ہے۔پھر ہوتی ہے۔ اس کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی مہم اور پھروہ اس کو کچل کر ہی دم لیتی ہے
مسٹر جارج بش کی نگرانی میں دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے اس سیاسی مدعے کو تقویت پہنچانے کی خا طر امریکہ میں گیارہ ستمبر کا حادثہ رونما ہوا۔ حالانکہ وہاں تجارتی مرکز پر حملہ نہیں بلکہ اسلام پر حملہ ہوا تھا۔۔ حملہ مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب بناکر پیش کرنا تھا ۔ تاکہ امریکہ عوام میں اسلام کے تئیں بیزاری کا جذبہ اجاگر ہوسکے۔وہاں کے جو لوگ مذہب اسلام میں تحقیق کے ساتھ داخل ہورے ہیں۔وہ حملہ کا مشاہدہ دیکھ کرمذہب اسلام میں داخل ہونے کے فیصلہ کو ترک کردیں۔اس لئے کہ حملہ کے فوری بعد تخلیقی القاعدہ دھمکیاں مختلف عربی چینلوں سے منظر عام پر آئیں۔جس سے یہ تصدیق کرائی گئی۔کہ گیارہ ستمبر کا یہ حملہ مسلمانوں کی عیسائیوں کے خلاف ایک دانستہ ایک شرارت ہے۔جس سے مسٹر جارج بش دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے مدعے کو وہ مضبوط تر کرنے میں کامیاب ہوگے۔حملہ کو ایک نظیر بنا کر پیش کیا گیا۔اور اس کو عنوان بناکر عراق و افغانستان کوکچلاگیا۔
ابھی حال ہی میں مسٹر جارج بش کی جانب سے امریکہ میں گیارہ ستمبر جیسا حملہ ہونے کا بیان جاری کیا گیا۔اگراس طرح کا ایک اور حملہ ترتیب دیا گیا۔تو اب اس کا الزام ایران پر عاید کیا جائے گا۔ اور مجرم شیعہ فرقہ کے لوگ ٹہرائے جائیں گے۔اس کے لئے تخلیقی شیعہ فرقہ کی کیسٹوں میں دھشت گرد تنظیمیں۔وجود میں لائی جائیں گی۔چونکہ بش کی القاعدہ حکمت دنیا میںاپنے مقاصد کے حصول کیلئے ہے۔ اس لئے وہ اس میں کوئی رکاوٹ ڈالنا نہیں چاہتی ہے۔ القاعدہ ۔۔ سنّی لوگوں اور حزب اللہ شیعہ احباب کی تباہ کاری کیلئے تیار کی گئی ہے۔دھشت گردی میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ پیدا کرنے کا مطلب سیاسی نقصان ہے۔
بہرحال ایران کی قیادت اب مسٹر احمدی نژاد کے سپرد ہے۔ اس لئے ان کو ری پبلیکن پارٹی کی تمام مکاریوں پر نظر رکھنی چاہیئے۔ بش کو اپنی پارٹی کے سیاسی فائدے حاصل کرنے کیلئے ایران سے خون ریز دھمکیوں کی تلاش میں در بہ در بھٹک رہے ہیں۔اب وہ اسرائیل جاکر وہاں کی قیادت سے کہیں گے۔بلکہ کہ دیا ہے۔کہ وہ ایران کے نیوکلیائی اسلحہ حاصل کرنے کی مخالفت میں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔جس سے ایران ۔۔۔۔۔ امریکہ کے خلاف کھل دھمکیاں دینے کی جسارت کر پائے۔
بہر کیف مسٹر جارج بش کو دھمکیاں حاصل کرنے کی جستجو نے ان کے دماغ کو بگاڑ دیا ہے۔ اور وہ دماغی مریض بن چکے ہیں۔کیوں کہ وہ اب یہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔کہ پورے امریکہ میں بارک اوبامہ کی مقبولیت ہے ان کو شکست دینا ۔ ان کی اولین کوشیش ہوگی۔ان کی جماعت کو اگر ایران سے دھمکیاں حاصل نہیں ہوپائیں۔تو ان کا سارا کھیل بگڑ جائے گا۔اور ان کی جماعت شکست سے دو چار ہوگی۔
فی الوقت ایران کی قیاد ت کو چاہیے کہ وہ مسٹر جارج بش صاحب کے دماغ کے علاج کیلئے ان کو ایران آنے کی دعوت دیں۔اور ان کے دماغ کی بہتر سے بہتر سے جانچ کرائیں ۔۔ اگر ایران کی حکومت نے ان کا علاج نہ کرایا ۔ تو خدشہ ہے کہ وہ اپنی جماعت کے شکست کی پیش نظر ۔ اپنے دماغی توازن کو برقرار نہ رکھ پائیں۔اور ایران ہی نہیں کسی اور ملک پر حملہ نہ کر بیٹھیں۔اس لئے ایرانی حکمرانوں کو مسٹر جارج بش سے بہتر حسن سلوک، ان کی بہترین خدمت ، اور ان سے دوستانہ رویہ اپنانا چاہئے۔تاکہ ان کا ایران میں خوش گوار ماحول میں اچھا علاج ہوسکنے میں پوری دنیا ایران کے حسن سلوک کی ستائش ہوسکے۔
لہذا ۔ اب ایران پر لازم ہے۔ کہ وہ امریکہ کیلئے دھشت گردی کے حصول کا ذریعہ نہ بنے۔کیوںکہ بش صاحب کو ایران سے دھمکیوں کی زبردشت تلاش ہے۔۔۔۔۔!لیکن اگر وہ ان کے دماغ کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔ تو دنیا میںراحت کاری کی ایک نئی راہ ہموار ہوگی۔
ایاز محمود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی دہلی۔

26-06-2008 18:42 Ayaz Mehmood
This entry was posted on 26-06-2008 18:42. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 3 time. You can leave a comment.
Views: 1590    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >