| ۔پاکستان کے جج صاحبان بحال ہو ہی گئ |
|
|
|
پاکستان میں ۱۸ فروری کو ہوئے عام انتخاب میں مشرف میاں کی قبضہ گیر پارٹی کی سیاسی شکست کے بعدپاکستان کے جج صاحبان کے جملہ حقوق بحال ہو ہی گئے۔اور ان کو قید بند کی تمام صعوبتوں سے چھٹکارہ حاصل ہوہی گیا۔ عہدوں پر فائز ہونا اتنا اہم نہیں ۔ جتناکہ حقوق کا بحال ہونا ۔اب مشرف میاں کسی جج احباب کو قید میں رکھنے کی جسارت نہیں کرسکیں گے۔اب ان کے تحفظ کی بحالی بھی حاصل ہوگئی ہے۔اور اب وہ مکمل طور پر آزاد ہوگئے ہیں۔۔ پاکستان کے نئے قائد آ عظم میاں نواز شریف کی جماعت نے جج صاحبان کے حقوق کی بحالی کی جو تحریک چلائی تھی۔۔ یہ اسی کا ہی نتیجہ ہے۔اوران کے ہم خیال جماعتوں کے برسراقتدار آتے ہی ان کی وہ تحریک پائے تکمیل کو پہنچی ہے ۔۔ اس کیلئے میاں نواز شریف صاحب اور ان جماعت مبارکباد کی مستحق ہے۔اس اقدام سے دو پڑوسی ملکوں کے درمیاں امن کی راہ بھی اب آسانی سے ہموار ہوجائے گی۔
اب پاکستان میں جمہوری پارٹیوں کے اقتدار پر قابض ہوتے ہی ماضی کا وہ ۹ سالہ جنگل راج دورکا خاتمہ ہوگیا۔جس کی موجودگی میں پاکستان کے قائد آعظم محمدؑ علی جناح کی پسندیدہ جمہوریت عدلیہ پر ایمرجنسی سے حملہ کیاگیا تھا۔ جنرل مشرف صاحب کے اس اقدام سے مرحوم کی جسم کے ساتھ ساتھ ان کی روح بھی زخمی ہوگئی تھی۔ جس سے پورے پاکستان میں ۔۔۔ حتیٰ کہ پوری دنیا میں اضطرابی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔کہ پاکستان کا آخری ستوں جس کا تمام دنیا میں احترام کیا جاتا ہے۔ اس کو پیروں تلے روندا گیا۔جس کی وجہ سے انصاف فراہم کرنے والا ادارہ انصاف کی تلاش میں بھٹکتا رہا ۔ انصاف کے اس ادار ے کا دن دہاڑے قتل کرکے میاںمشرف ۔۔ پاکستان کے صدارتی محل میں جاکر بیٹھ گئے۔اس لئے کہ اب انہوں نے ایمان کے تمام درجون کو مسمار کردیا تھا۔ان کے اس اقدام سے آسمان و زمین تھرتھرانے اور کانپنے لگے تھے۔ مگر پتھردل انسان ۔۔۔ انسانیت سے سے بغاوت کرکے شیطان بن چکا تھا۔ پھر اس جابر شخص نے اپنے اقدام کی درستگی کیلئے جمہوری احتجاج پر آمادہ لوگوں کو یہودی گردانتے ہوئے ایک قطار میں کھڑا کرکے ان کو گولیوں سے بھون ڈالا ۔۔ اس طرح انہوںنے دھشت گردی کی ایک نئی نظیر رقم کردی۔۔۔!
امریکہ و برطانیہ میں بش و بلیئر کی جماعتیں ۔۔ مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کیلئے تخلیقی القاعدہ و طالبان کیسٹوں سے تخلیقی دھمکیاںاپنے ذرائع ابلاغ سے منظر عام پر لاتی ہیں۔اور مذہب اسلام اور مسلمانانِ عالم کووہ اپنے خلاف صف آراء دیکھاتے ہیں۔حالانکہ اس قدم کے پیچھے ان کا سیاسی مقصد کارفرما ہوتا ہے۔ اور اس میں ان کے ملک کا سیاسی مفاد چھپاہوتا ہے۔۔۔وہ اپنی جماعت کیلئے سیاسی ایشو۔ ’’ دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ‘‘ کے عنوان سے پیش کرتے ہیں۔اور اپنے ملک کو گمراہ کرکے ان سے ان کے ووٹ بٹورتے ہیں۔۔۔
لیکن اس بار امریکی عوام ۔۔ امریکن ری پبلیکن پارٹی کی اس چال کو سمجھ گئے۔ انہوں نے اس بات پر غور کیا ۔۔ کہ القاعدہ تخلیقی دھمکیوں کا محور یک طرفہ ہی کیوں ہوتا ہے۔مسٹر بارک اومامہ نے بھی تو القاعدہ کو کچلنے کی بات کہی تھی۔ دنیا میں اس کے ٹھکانے نیست ونابود کرنے کے اعلانات جاری کئے تھے۔ مگر اس کے بوجودالقاعدہ کی دھمکیاں اس کے حصہ میں نہیںآئیں۔کیونکہ دھمکیوں کے بدولت ان کو سیاسی فائدہ حاصل ہوتا۔۔۔َ؟ تخلیقی دھمکیاں تراش نے والے بندھوا مزدور ہیں۔ ان کو احکاما ت پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے تخلیقی دھمکیاں یک طرفہ رکھی جاتی ہیں۔مسٹر حامد کرزائی اور مسٹر پرویز مشرف نے مسٹر بارک اوبامہ کے اس بیان پر کوئی ردّعمل نہیں دیکھایا۔۔۔ جس میں انہوں نے پاکستان میں القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانوں پر بغیر اجازت حملہ کرنے کی بات کہی تھی۔۔اب ایسا لگتا ہے۔کہ مسٹر مشرف میاں کو منع کیاگیا ہے۔۔۔۔؟ کہ وہ مسٹر بارک اوبامہ کے کسی بیان پر ردّعمل کا اظہار نہ کریں ۔۔؟ بلکہ مذہبی مقامات پر حملہ کرکے ان کو دھشت گردی کے مقامات ہونے کی دلیل دیں۔ ۔۔۔؟ اس کے لئے ان کے ہر غیر آئینی اقدام کی اندیکھی کی جائے گی۔اور ان کسی طرح کی سرزنش نہیں کی جائے گی۔بس اس دن کے بعد سے ہی پاکستان میں خون ریزی کا بازار گرم ہوگیا۔۔۔ چنائو بھی خون کی ہولی میں ہی کرائے گئے۔مگر انتخاب میں قبضہ گیر جماعت کی کراری شکست سے مشرف میاں سکتہ میں آگئے۔اور بے حسی ان پر سوار ہوگئی۔ان کے ضمیر میں اتنی حرارت ضرور پیدا ہوئی کہ اب حدود سے تجاوز خود کی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔اس لئے انہوں نے جمہوری لوگوں میں پھسلاہت کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔۔۔؟ جس سے وہ جو ڑتوڑ کرکے صدارتی گدی پر فیوکول بیچھاکر اس پر بیٹھ جائیں۔اور اس سے چپک جائیں۔جس سے دیگر لوگوں کی ان کو ہٹانے کی کوشیش کارگر نہ ہوسکے۔
پاکستان کے نئے قائد آعظم میاںنواز شریف صاحب کی ذراسی غلطی ساری کھیل بگاڑ سکتی ہے۔برق رفتاری گرنے کا سبب بن سکتی ہے۔پاکستان میں جج صاحبان کے جملہ حقوق بحال ہوگئے ہیں۔قید و بند سے ان کی رہائی بھی بحالی کے زمرے میں ہے۔ اب جبکہ پاکستان میں جمہوریت بحال ہو چکی ہے۔۔۔وہان کا اقتدار جمہوری لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔۔ اب پاکستان کے اعلیٰ عہدوں پر فائز جج صاحبان اپنے ساتھی جج احباب کی حمایت میں اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔جس سے پتہ چلے۔کہ وہ مشرف میاں کے حامی ہیں۔یا جمہوریت کے ۔۔۔؟وہ اگر جمہوریت کی حمایت میںمستعفی ہوگئے۔تو ہوسکتا ہے کہ ان ہی کو برقرار رکھا جائے۔
لہذا ۔۔۔ اب پاکستان کی پارلیمنٹ میں عدلیہ پر ایمرجنسی سے حملہ کی مذمتی قرارداد آنی چاہیئے ۔۔ اس پر بحث ہونی چاہیئے۔اور وہ پاس بھی ہونی چاہیئے۔جج احباب کے اپنے عہدوں پر بھی بحال ہونے کیلئے اس کی تیاری ہونی چاہیئے۔اگر موجودہ جج صاحبان جمہوریت کی حمایت آتے ہیں ۔تو ہوسکتا ہے کہ انہی کو بحال رکھا جائے۔۔۔۔۔۔ابھی غیر آئینی طریقہ پر ہٹائے گئے۔ججوں کی اپنے عہدوںپر بحالی کو کچھ وقت اور درکار ہونا چاہیئے۔اس کے لئے حالات سازگار کئے جائیں۔جمہوری ڈھانچہ کو مضبوط تر کیا جائے۔ جب تمام مراحل عبور ہوجائیں۔تو پھر صحیح سمت بڑھا جائے۔
امریکہ میں صدارتی الیکشن سر پر کھڑے ہیں۔جنرل مشرف میاں کو مسٹر بش کی جماعت کیلئے تخلیقی القاعدہ کے اسلامی حلیہ مکھوٹوں کی موجودگی کا مسٹر حامد کرزائی کے ساتھ چنائو پرچار بھی کرنا ہے۔پہلے تو مشرف میاں کے سیاسی آقائوں کو سیاسی شکست دی جائے۔ تخلیقی القاعدہ کی تشہیرکے ذریعہ چنائو پرچار مہم کو روکا جائے۔جب مشرف میاں وہ کام نہیں کریں گے۔جس کی زمہ داری ان کو سونپی گئی ہے۔ تو وہ از خود ہی بہت جلد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور ہوں گے۔
بہرحال مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے والی تحریک تخلیق القاعدہ کی تخلیقی کیسٹوں پر پابندی لگانے کی تحریک پاکستان کی پارلیمنٹ میں اجاگر ہو جائے تو اس سے اسلام کی خدمت بھی ہوگی۔اور تخلیقی دھشت گردی کے ساتھ ساتھ حقیقی دھشت گردی کا بھی خاتمہ ہوگا۔اس لئے کہ امریکہ میں انگریزی زبان میں القاعدہ کی تخلیقی دھمکیاں حاصل کرنے کی غرض سے ہی وہاں الجزیرہ کا انگریزی چینل صرف سیاسی فائدے حاصل کرنے کیلئے ہی قائم کیا گیا ہے۔جب تخلیقی القاعدہ کی دھمکیاں دم توڑ دیں گی۔تو امریکن ری پبلیکن پارٹی سیاسی طور پر خود کشی کرکے صفہ ہستی سے از خود ہی مٹ جائے گی۔عربی اور اردو میڈیا میں تخلیقی القاعدہ کی کیسٹوں کی اشاعت پر پابندی عائد کی جانی چاہیئے۔جس سے ماحول میں دھشت گردی کا رنگ چڑھانے کی مغربی میڈیا کی ہر کوشیش ناکام ہوسکے۔
بہرکیف ججوں کی عہدوں پر بحالی سے قبل مذہب اسلام کی خدمت پہلے ہونی چاہیئے۔اس فریضہ کی انجام دہی کے بعد ہی دیگر امور پر توجہ دی جائے۔پہلے اسلام کی سرپرستی و بالادستی کی بحالی ہو ۔۔۔ یہی وقت کا تقاضہ ہے۔ پہلے مضبوط تر ہونا ہے ۔۔اس کیلئے جہد کرنی ہے ۔۔۔۔کمزور اور ٹوٹ نے سے کیا حاصل ہوگا۔ سوائے نقصان کے۔۔۔ فی الوقت ۔۔ وقت سمبھل نے و سمجھنے کا ہے۔۔۔!
ایاز محمود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی دہلی۔
اب پاکستان میں جمہوری پارٹیوں کے اقتدار پر قابض ہوتے ہی ماضی کا وہ ۹ سالہ جنگل راج دورکا خاتمہ ہوگیا۔جس کی موجودگی میں پاکستان کے قائد آعظم محمدؑ علی جناح کی پسندیدہ جمہوریت عدلیہ پر ایمرجنسی سے حملہ کیاگیا تھا۔ جنرل مشرف صاحب کے اس اقدام سے مرحوم کی جسم کے ساتھ ساتھ ان کی روح بھی زخمی ہوگئی تھی۔ جس سے پورے پاکستان میں ۔۔۔ حتیٰ کہ پوری دنیا میں اضطرابی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔کہ پاکستان کا آخری ستوں جس کا تمام دنیا میں احترام کیا جاتا ہے۔ اس کو پیروں تلے روندا گیا۔جس کی وجہ سے انصاف فراہم کرنے والا ادارہ انصاف کی تلاش میں بھٹکتا رہا ۔ انصاف کے اس ادار ے کا دن دہاڑے قتل کرکے میاںمشرف ۔۔ پاکستان کے صدارتی محل میں جاکر بیٹھ گئے۔اس لئے کہ اب انہوں نے ایمان کے تمام درجون کو مسمار کردیا تھا۔ان کے اس اقدام سے آسمان و زمین تھرتھرانے اور کانپنے لگے تھے۔ مگر پتھردل انسان ۔۔۔ انسانیت سے سے بغاوت کرکے شیطان بن چکا تھا۔ پھر اس جابر شخص نے اپنے اقدام کی درستگی کیلئے جمہوری احتجاج پر آمادہ لوگوں کو یہودی گردانتے ہوئے ایک قطار میں کھڑا کرکے ان کو گولیوں سے بھون ڈالا ۔۔ اس طرح انہوںنے دھشت گردی کی ایک نئی نظیر رقم کردی۔۔۔!
امریکہ و برطانیہ میں بش و بلیئر کی جماعتیں ۔۔ مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کیلئے تخلیقی القاعدہ و طالبان کیسٹوں سے تخلیقی دھمکیاںاپنے ذرائع ابلاغ سے منظر عام پر لاتی ہیں۔اور مذہب اسلام اور مسلمانانِ عالم کووہ اپنے خلاف صف آراء دیکھاتے ہیں۔حالانکہ اس قدم کے پیچھے ان کا سیاسی مقصد کارفرما ہوتا ہے۔ اور اس میں ان کے ملک کا سیاسی مفاد چھپاہوتا ہے۔۔۔وہ اپنی جماعت کیلئے سیاسی ایشو۔ ’’ دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ‘‘ کے عنوان سے پیش کرتے ہیں۔اور اپنے ملک کو گمراہ کرکے ان سے ان کے ووٹ بٹورتے ہیں۔۔۔
لیکن اس بار امریکی عوام ۔۔ امریکن ری پبلیکن پارٹی کی اس چال کو سمجھ گئے۔ انہوں نے اس بات پر غور کیا ۔۔ کہ القاعدہ تخلیقی دھمکیوں کا محور یک طرفہ ہی کیوں ہوتا ہے۔مسٹر بارک اومامہ نے بھی تو القاعدہ کو کچلنے کی بات کہی تھی۔ دنیا میں اس کے ٹھکانے نیست ونابود کرنے کے اعلانات جاری کئے تھے۔ مگر اس کے بوجودالقاعدہ کی دھمکیاں اس کے حصہ میں نہیںآئیں۔کیونکہ دھمکیوں کے بدولت ان کو سیاسی فائدہ حاصل ہوتا۔۔۔َ؟ تخلیقی دھمکیاں تراش نے والے بندھوا مزدور ہیں۔ ان کو احکاما ت پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے تخلیقی دھمکیاں یک طرفہ رکھی جاتی ہیں۔مسٹر حامد کرزائی اور مسٹر پرویز مشرف نے مسٹر بارک اوبامہ کے اس بیان پر کوئی ردّعمل نہیں دیکھایا۔۔۔ جس میں انہوں نے پاکستان میں القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانوں پر بغیر اجازت حملہ کرنے کی بات کہی تھی۔۔اب ایسا لگتا ہے۔کہ مسٹر مشرف میاں کو منع کیاگیا ہے۔۔۔۔؟ کہ وہ مسٹر بارک اوبامہ کے کسی بیان پر ردّعمل کا اظہار نہ کریں ۔۔؟ بلکہ مذہبی مقامات پر حملہ کرکے ان کو دھشت گردی کے مقامات ہونے کی دلیل دیں۔ ۔۔۔؟ اس کے لئے ان کے ہر غیر آئینی اقدام کی اندیکھی کی جائے گی۔اور ان کسی طرح کی سرزنش نہیں کی جائے گی۔بس اس دن کے بعد سے ہی پاکستان میں خون ریزی کا بازار گرم ہوگیا۔۔۔ چنائو بھی خون کی ہولی میں ہی کرائے گئے۔مگر انتخاب میں قبضہ گیر جماعت کی کراری شکست سے مشرف میاں سکتہ میں آگئے۔اور بے حسی ان پر سوار ہوگئی۔ان کے ضمیر میں اتنی حرارت ضرور پیدا ہوئی کہ اب حدود سے تجاوز خود کی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔اس لئے انہوں نے جمہوری لوگوں میں پھسلاہت کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔۔۔؟ جس سے وہ جو ڑتوڑ کرکے صدارتی گدی پر فیوکول بیچھاکر اس پر بیٹھ جائیں۔اور اس سے چپک جائیں۔جس سے دیگر لوگوں کی ان کو ہٹانے کی کوشیش کارگر نہ ہوسکے۔
پاکستان کے نئے قائد آعظم میاںنواز شریف صاحب کی ذراسی غلطی ساری کھیل بگاڑ سکتی ہے۔برق رفتاری گرنے کا سبب بن سکتی ہے۔پاکستان میں جج صاحبان کے جملہ حقوق بحال ہوگئے ہیں۔قید و بند سے ان کی رہائی بھی بحالی کے زمرے میں ہے۔ اب جبکہ پاکستان میں جمہوریت بحال ہو چکی ہے۔۔۔وہان کا اقتدار جمہوری لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔۔ اب پاکستان کے اعلیٰ عہدوں پر فائز جج صاحبان اپنے ساتھی جج احباب کی حمایت میں اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔جس سے پتہ چلے۔کہ وہ مشرف میاں کے حامی ہیں۔یا جمہوریت کے ۔۔۔؟وہ اگر جمہوریت کی حمایت میںمستعفی ہوگئے۔تو ہوسکتا ہے کہ ان ہی کو برقرار رکھا جائے۔
لہذا ۔۔۔ اب پاکستان کی پارلیمنٹ میں عدلیہ پر ایمرجنسی سے حملہ کی مذمتی قرارداد آنی چاہیئے ۔۔ اس پر بحث ہونی چاہیئے۔اور وہ پاس بھی ہونی چاہیئے۔جج احباب کے اپنے عہدوں پر بھی بحال ہونے کیلئے اس کی تیاری ہونی چاہیئے۔اگر موجودہ جج صاحبان جمہوریت کی حمایت آتے ہیں ۔تو ہوسکتا ہے کہ انہی کو بحال رکھا جائے۔۔۔۔۔۔ابھی غیر آئینی طریقہ پر ہٹائے گئے۔ججوں کی اپنے عہدوںپر بحالی کو کچھ وقت اور درکار ہونا چاہیئے۔اس کے لئے حالات سازگار کئے جائیں۔جمہوری ڈھانچہ کو مضبوط تر کیا جائے۔ جب تمام مراحل عبور ہوجائیں۔تو پھر صحیح سمت بڑھا جائے۔
امریکہ میں صدارتی الیکشن سر پر کھڑے ہیں۔جنرل مشرف میاں کو مسٹر بش کی جماعت کیلئے تخلیقی القاعدہ کے اسلامی حلیہ مکھوٹوں کی موجودگی کا مسٹر حامد کرزائی کے ساتھ چنائو پرچار بھی کرنا ہے۔پہلے تو مشرف میاں کے سیاسی آقائوں کو سیاسی شکست دی جائے۔ تخلیقی القاعدہ کی تشہیرکے ذریعہ چنائو پرچار مہم کو روکا جائے۔جب مشرف میاں وہ کام نہیں کریں گے۔جس کی زمہ داری ان کو سونپی گئی ہے۔ تو وہ از خود ہی بہت جلد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور ہوں گے۔
بہرحال مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے والی تحریک تخلیق القاعدہ کی تخلیقی کیسٹوں پر پابندی لگانے کی تحریک پاکستان کی پارلیمنٹ میں اجاگر ہو جائے تو اس سے اسلام کی خدمت بھی ہوگی۔اور تخلیقی دھشت گردی کے ساتھ ساتھ حقیقی دھشت گردی کا بھی خاتمہ ہوگا۔اس لئے کہ امریکہ میں انگریزی زبان میں القاعدہ کی تخلیقی دھمکیاں حاصل کرنے کی غرض سے ہی وہاں الجزیرہ کا انگریزی چینل صرف سیاسی فائدے حاصل کرنے کیلئے ہی قائم کیا گیا ہے۔جب تخلیقی القاعدہ کی دھمکیاں دم توڑ دیں گی۔تو امریکن ری پبلیکن پارٹی سیاسی طور پر خود کشی کرکے صفہ ہستی سے از خود ہی مٹ جائے گی۔عربی اور اردو میڈیا میں تخلیقی القاعدہ کی کیسٹوں کی اشاعت پر پابندی عائد کی جانی چاہیئے۔جس سے ماحول میں دھشت گردی کا رنگ چڑھانے کی مغربی میڈیا کی ہر کوشیش ناکام ہوسکے۔
بہرکیف ججوں کی عہدوں پر بحالی سے قبل مذہب اسلام کی خدمت پہلے ہونی چاہیئے۔اس فریضہ کی انجام دہی کے بعد ہی دیگر امور پر توجہ دی جائے۔پہلے اسلام کی سرپرستی و بالادستی کی بحالی ہو ۔۔۔ یہی وقت کا تقاضہ ہے۔ پہلے مضبوط تر ہونا ہے ۔۔اس کیلئے جہد کرنی ہے ۔۔۔۔کمزور اور ٹوٹ نے سے کیا حاصل ہوگا۔ سوائے نقصان کے۔۔۔ فی الوقت ۔۔ وقت سمبھل نے و سمجھنے کا ہے۔۔۔!
ایاز محمود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی دہلی۔
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 2523