Aug
28
2008
Today
 .
videos.gifcartoon.gif  links.gif forum.gif guest-book.gifadverts.gif

Hijri Date


Member Login

Attock Poll

Your Favorite Mobile / Cell phone brand ?

Attock Weather

Attock
25°C

Tell a Friend

Like what you see? If you like what you see, please tell a friend or family member about us! It's simple! Just click on the Tell a Friend hotlink below

Syndicate

انسانی سمگلنگ کا بڑا مرکز PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 


انسانی سمگلنگ کے حوالے سے امریکی وزارت خارجہ کی ایک رپورٹ میں پاکستان کو انسانی سمگلنگ کا ایک بڑا مرکز اوراہم گزرگاہ قرار دیا گیا ہے۔ ’ٹریفکنگ ان پرسنز رپورٹ 2008 ء ‘میں کہا گیا ہے کہ جبری مشقت اور جنسی استحصال کے لئے سمگل کئے جانے والے مرد، عورتیں اور بچے بڑی تعداد میں پاکستان کے راستے مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ممالک تک جاتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو داخلی سطح پر بھی اس حوالے سے خاصے مسا ئل درپیش ہے جہاں ہزاروں عورتیں اور بچے قرض کی ادائیگی یا خاندانی دشمنیوں میں صلح کی شرط کے طور پر دوسروں کے حوالے کئے جانے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے اندر جبری مشقت کا مسئلہ نہایت گھمبیر صورت اختیار کر چکا ہے ، جہاں اطلاعات کے مطابق جبری مشقت کے شکارمردوں،عورتوںاوربچوںکی تعداد دسیوں لاکھ ہے۔
 پاکستان کے مردوں اور عورتوں کی ایک بڑی تعداد گھریلو ملازمت یا تعمیراتی کاموں میں مزدوری کے لئے اپنی رضا مندی سے خلیج کے ممالک، ایرن، ترکی اور یورپی ممالک کا رخ کرتے ہیں ،جہاں پہنچ کر اکثر لوگوں کو مشکل ترین حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس طرح ان تارکین وطن کوجبری مشقت، قرض کے عوض بیگار ،جنسی اور جسمانی تشدد اور گھومنے پھرنے جیسی پابندیوںکابھی نشانہ بننا پڑتا ہے۔
 غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے سے اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستانی لڑکیاں جنسی کاروبارکے لئے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سمگل کی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش، ہندوستان، برما، افغانستان، سری لنکا، نیپال اور وسط ایشیائی ریاستوں کے مرد اور عورتیں جبری مشقت اور جنسی استحصال کے لئے بیرون ملک جانے کے لئے پاکستان کو ایک اہم گزرگاہ کے طورپر استعمال کرتے ہیںجبکہ برما، نیپال، سری لنکا اوربنگلہ دیش کی عورتیں پاکستان کے راستے خلیج کے ممالک کو سمگل کی جاتی ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کی اس رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ ا نسانی سمگلنگ کی بیخ کنی کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے اقدامات اس ضمن میں مقرر کم سے کم معیار پر بھی پورے نہیں اترتے ،تاہم یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لئے پاکستان سنجیدہ کوششیںکر رہا ہے۔ گذشتہ ایک سال میں انسانی سمگلنگ سے نمٹنے کے لئے قانون کے نفاذ کی محدود کوششوں کی وجہ سے اس رپورٹ میں پاکستان کا شمار دوسرے درجے کی ریاستوں میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک سال میں پاکستان نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے انسانی سمگلروں کے خلاف انسدادی کارروائیاں جاری رکھی ہیں، تاہم اس عرصے میں حکومت نے ملک کے اندر جبری مشقت کے مسئلے ،لوگوں کو اعلیٰ نوکریوں کا جھانسہ دے کر بیرون ملک سمگل کرنے اور اندرون ملک بچوں کی مشقت جیسے سنجیدہ مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی ہیں۔پاکستان میں انسانی سمگلروں کو دی جانے والی سزا ؤں کو بھی نرم قرار دیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک برس میں حکومت پاکستان نے انسانی سمگلنگ سے نمٹنے کے لئے ناکافی قانونی کارروائیاں کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مزدوروں کی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے بڑے پیمانے پر کوششیں نہیں کی گئیں۔ جبری مشقت کا مسئلہ اگرچہ پاکستان کے اندر بھی خاصا اہم ہے اور اندازے کے مطابق لاکھوں لوگ اس کاشکار ہیں تاہم حکومت اس کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کررہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جبری مشقت کے جرم میں ملوث لوگوں کی گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اس طرح نوکری کا جھانسہ دے کر لوگوں کو بیرون ملک سمگل کرنے اور جبری مشقت کے جرائم میں ملوث لوگوں کی گرفتاری اور ان کی صحیح تعداد کی بھی حکومت کی طرف سے تصدیق نہیں کی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ چند مہینوں میں جنسی استحصال کے لیے سمگلنگ کے الزام پر2افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی ہے تاہم ان جرائم میں ملوث لوگوں کو جو سزائیں دی گئیں وہ معمولی جرمانہ یا دوسال تک کی قید ہے، جبکہ صرف ایک سمگلر کو دوسال کی سزا سنائی گئی ہے۔اس رپورٹ میں سرکاری اداروں کے ملازمین کے انسانی سمگلنگ میں ملوث پائے جانے کی صورت میں حکومت کی سخت پالیسی کی تعریف کی گئی ہے تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے کی جانے والی یہ کارروائیاں انسانی سمگلنگ کے حوالے سے تحقیق اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے منظم کوششوں کی مثال پیش نہیں کرتیں۔
’ٹریفکنگ ان پرسنز رپورٹ 2008 ء ‘ کے مطابق گذشتہ ایک برس میں انسانی سمگلنگ کا شکار ہونے والے لوگوں کے تحفظ کے لیے حکومت کی طرف سے ناکافی کوششیں کی گئی ہیں۔اس طرح پاکستان میں جبری مشقت جو کہ پاکستان میںانسانی سمگلنگ کاسب سے بڑا جزو ہے، کے خلاف بھی حکومت کی طرف سے ٹھوس منصوبے شروع نہیں کئے گئے، جبکہ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے لوگوں کے تحفظ کے لیے بھی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی ۔ بڑے پیمانے پر جنسی استحصال کاشکار ہونے والی عورتوں کو بھی حکومت کی طرف سے انتہائی کم امداد ملتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی سمگلنگ کا شکار غیر ملکی شہریوں کو پاکستان میں محدود پیمانے پر امداد مہیا کی گئی ہے اوران لوگوں کو مہاجرین کو امداد فراہم کرنے والے بین الاقوامی ادارے (آئی او ایم) کے تعاون سے چلنے والے’ شیلٹر ہومز‘ میں پناہ دی گئی۔  رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک سال میں جنسی استحصال کا شکار ہونے والی 22عورتوں کو’آئی او ایم شیلٹر ہوم‘ میں پناہ دی گئی ،اس دوران حکومت کی طرف سے ان لوگوں کو انسانی سمگلروں کے خلاف قائم کئے گئے مقدمات کی پیروی اور مقدمات کی سماعت کے عرصے میں ملک میں کام کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات کی اشتہاری مہمیں بھی شامل ہیں جن کے ذریعے عوام کو اونٹ ریس میں استعمال ہونے والے بچوں کے مصائب سے آگاہ کیا جانا مقصود تھا۔ اس طرح آئی او ایم نے وزارت داخلہ اور انسانی بہبود اور سپیشل ایجوکیشن کے محکمے کے تعاون سے مخصوص علاقوں میں عوامی آگاہی مہمیں بھی چلا ئی ہیں۔تاہم رپورٹ میں  واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی سمگلنگ کے حوالے سے پروٹوکول 2000ء کی توثیق نہیں کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی حالیہ برس جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک برس میں ترقی یافتہ ممالک میں پناہ حاصل کرنے کی خواہشمند قومیتوں میں پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک سال میں 43 یورپی اور غیر یورپی ترقی یافتہ ممالک میں 14,300 پاکستانیوں نے پناہ حاصل کرنے کے لئے درخواستیں دی ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں پناہ کی درخواست دینے والے ممالک میں عراق سر فہرست رہا ہے جہاں کے باشندوں نے 2007 ء میں گذشتہ برسوں کی نسبت 98 فیصد زیادہ درخواستیں دیں جبکہ پاکستانی باشندوں نے 2006 ء کی نسبت 2007ء میں 87فیصد زیادہ درخواستیں دی ہیں۔پناہ گزینوں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے پاکستان کی رینکنگ میں تبدیلی ہوئی ہے ، واضح رہے کہ   2004 ء میں اس فہرست میں پاکستان آٹھویں نمبر پر تھا، 2005ء میں دسویں نمبر پر،006ء میںنویں نمبر پر جبکہ 2007ء میں بیرون ملک پناہ حاصل کرنے مالی قومیتوں میں پاکستان پانچویں نمبر پر رہا  ہے۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق گذشتہ ایک سال میں پاکستانیوں نے پناہ کے لئے صرف یونان میں 9144 درخواستیں دی ہیں۔
یورپی ممالک میں پناہ کے خواہشمند پاکستانی باشندوں کی تعداد میں بڑے اضافے کی ایک وجہ یونان سمیت بہت سے یورپی ممالک میں پناہ حاصل کرنے کے قواعد و ضوابط میں نرمی بتائی جاتی ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ یونان تک پہنچنے والے پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعدادغیر قانونی طریقے سے ترکی کی سرحد عبور کر کے یونان میں داخل ہوتی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق پاکستان سے انسانی سمگلنگ کے لئے جو زمینی راستے استعمال کئے جاتے ہیں ان میں کوئٹہ، چمن، نوشکی، نوکنڈی اور تفتان یا کوئٹہ، قلات، پنجگور اور مانڈ کے راستے شامل ہیں ،اس کے علاوہ ایران۔ پاکستان بارڈر عبور کرنے کے لئے کئی غیر معروف راستے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ انسانی سمگلنگ کے لئے استعمال ہونے والے سمندری راستوں میں کراچی، گوادر اور جیوانی کی بندرگاہیں شامل ہیںجو کہ مشرقی وسطیٰ کے ممالک میں داخل ہونے کے لئے عام طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق بچوں کو متحدہ عرب امارات سمگل کرنے والے لوگ زیادہ تر اسی راستے کو استعمال کرتے ہیں۔
A    انسانی سمگلنگ کے حوالے سے امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں انسانی سمگلنگ سے نمٹنے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے لحاظ سے ممالک کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔تاہم کیوبا، سعودی عرب، کویت، عمان اور قطر سمیت اس رپورٹ کے مطابق تیسرے درجے میں شمار کی جانے والی کئی ریاستوں نے اس رپورٹ پر شدید اعتراضات کئے ہیں۔ خلیجی ممالک نے اس رپورٹ کو غیر حقیقی قراردیا ہے۔ گلف کو آپریشن کونسل (جی سی سی) ممالک کے وزرائے خارجہ نے سعودی عرب میں اپنے ایک مشترکہ بیان میں اس رپورٹ میں دی گئی معلومات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے رپورٹ میں دی گئی معلومات کو ان ممالک پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش سے تعبیر کیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق گلف کو آپریشن کونسل نے امریکی وزارت خارجہ کو جی سی سی ممالک کے حوالے سے اپنی غیر دوستانہ پالیسیوں پر نظر ثانی کا کہا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق تیسرے درجے کی ریاستوں میں شامل کیوبا کے وزیر خارجہ نے ایک خط کے ذریعے  امریکی وزارت خارجہ کواپنے احتجاج سے آگاہ کیا ہے۔ کیوبا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے جاری کی جانے والی اس رپورٹ کو قابل قدر نہیں سمجھتے اور امریکی انتظامیہ کو خود اپنے ملک میں جنسی استحصال، جبری مشقت اور انسانی سمگلنگ کے حوالے سے کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
انسانی سمگلنگ کے حوالے سے دنیا بھر کی ریاستوں کی اس تجزیاتی رپورٹ میں خودامریکہ کو شامل نہیں کیا گیا، اس طرح امریکہ میں اس حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے متعلق آگاہی اور جبری مشقت، جنسی استحصال اور انسانی سمگلنگ کے حوالے سے دوسرے حقائق ایک سوالیہ نشان بن جاتے ہیں ۔’دی اکانومسٹ ‘ نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ ذاتی تجزیہ اگرچہ ایک مشکل کام ہے تاہم امریکہ نے اگر اس رپورٹ میں اپنے اوپر بھی روشنی ڈالی ہوتی تو یہ رپورٹ زیادہ مؤثر ثابت ہوتی۔  

26-06-2008 17:58 Aown Ali
This entry was posted on 26-06-2008 17:58. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 4 time. You can leave a comment.
Views: 1630    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >