قبائلی علاقے قیام پاکستان سے پہلے جس حالت میں تھے الحمداللّہ آج بھی اسی حا لت میں ہیں قبائلی علاقوں میں کوئی قابل ذکر ترقی نہیں ہوئی ہے سماجی ،سیاسی اور معاشی لحاظ سے پاکستان کے قبائلی علاقے انتہائی پسماندہ اور ترقی سے محروم رہے ہیں ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہر گزرتے دن کیساتھ بہتر پوزیشن میںہوں اور ہر انسان ترقی کے تمام تر فوائد سمیٹنا بھی چاہتا ہے قبائلی عوام اگر تعلیم سے محروم رکھے گئے ہیں تو اس کایہ مطلب نہیں کہ وہ بالکل نا سمجھ ہیں اور جدید دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتے قبائلی عوام نے مجموعی طور پر انگریز کے دور میں ترقیاتی منصوبوں کے سامنے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی تھی بلکہ قبائلی عوام نے انگریز کے دور میں شروع کئے گئے تمام ترقیاتی منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیکر ساتھ دیا تھا محض مورچے بنانے کی مخالفت کی گئی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بھی قبائلی عوام اپنے علاقوں کو پرامن رکھنا چاہتے تھے قبائلی علاقوں میں جو سڑکوں اور ریلوے کے جال بچھادئیے گئے ہیں اورجو پہاڑوں کو چیر پھاڑ کر ان میںسرنگ بنادئیے گئے ہیں تو یہ سب کچھ انگریز کے دور حکومت میں ہوا ہے۔ مندرجہ بالا منصوبوں کا ذکر کرنے سے مراد یہ ہے کہ قبائلی عوام نے کبھی بھی اپنے علاقوں میںترقیاتی منصوبوں کی راہ میںرکاوٹ نہیںڈالی ہے اگر کہیں کوئی مزاحمت ہوئی ہے تو وہ بھی پولیٹیکل انتظامیہ کی شرارت پر ہوئی ہوگی بحثیت مجموعی قبائلی عوام امن پسند اور ترقی پسندہیں 1947 سے لیکر ابتک ہر حکومت نے قبائلی علاقوں کو ایک بوجھ سمجھ کر نظر انداز کیا ہے اور ہمیشہ قبائلی عوام کو ناکر دہ جرائم میںمورد الزام ٹھرا یا گیا ہے اس میں شک نہیں کہ امن کے بغیر ترقی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن قبائلی علاقوں میں امن موجود ہے وہاں کیوں ترقیاتی منصوبے شروع نہیں کئے جاتے ایک ممتاز قبائیلی ملک کے بقول قبائیلی علاقے بیوروکرسی کیلئے ایک باغ اور گلستان کی حیثیت رکھتے ہیں اور قبائلی علاقوں کی پسماندگی اور یہاںبے چینی سے بیوروکرسی کو خاطر خواہ فائدہ ہوتا ہے قبائلی عوام اپنے علاقوں میں غربت ،جہالت اورپسماندگی کی زندگی گزارتے ہیں جبکہ یہاں کام کرنے والے افسرانہ ہر مہینے لاکھوں اور کروڑوں روپے کماتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں اگر میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع نہیں کئے جاتے تو اس کی ایک وجہ یہاں موجود ایف سی آر کا ظالمانہ نظام ہے اور دوسری وجہ یہاں پولیٹیکل انتظامیہ کی کرپشن ہے پولیٹیکل انتظامیہ سمیت جتنے بھی اداروںکے لوگ ہیں وہ بہت بڑی رشوت دیکر اپنے تبادلے قبائلی علاقوں میں کرواتے ہیں تاکہ وہ یہاں لوٹ کھسوٹ کا باز ارگرم کر سکے افسران جب یہاں کرپشن کرتے ہیں تو وہ کسی اعلیٰ عدالت یا حکومت کے دوسرے اداروں سے خوف زدہ نہیں ہوتے ہیں وہ یہاں ایف سی آر کی موجودگی میںاعلیٰ عدالتو ںکے دائرہ اختیار سے باہر ہوتے ہیں کبھی کوئی افسر قبائلی علاقوں میں اس نیت پر نہیں گیا ہے کہ وہ مجبور اور پسے ہوئے قبائلی عوام کی خدمت کرینگے اور ان کے علاقوں میںامن کے قیام اور ترقیاتی منصوبوں کو شروع کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرینگے لنڈی کوتل کے ایک سابق اے پی اے نے چارسو دنوں میں بارہ کروڑ سے زیادہ کمائے ہیں اور ان کیساتھ ایک کلاس فور نے بھی حیات آباد میں بنگلہ خریدا ہے اور ستم ظریفی تو یہ ہے کہ انھوں نے سو دن بھی اپنے آفس میںبیٹھ کر لوگوں کا کوئی مسئلہ حل نہیںکیا ایک کلرک جب کسی قبائلی علاقے میں پوسٹنگ کرواتا ہے تو اس کیلئے وہ کم از کم دس لاکھ روپے رشوت بخوشی دینے کیلئے تیارہوتا ہے باخبر ذرائع کے مطابق فاٹا سیکٹریٹ کے اہم افیشلز بھی پوسٹنگ اورٹرنسفرز کروانے میں اپنا بھر پور حصّہ مانگتے ہیں اور راقم کو خود طورخم کے ایک سابق تحصیلدار نے بتایا تھا کہ وہ طورخم بارڈر پر اپنی آمدنی کا آدھا حصہّ حکام بالا کو دیتے ہیں ان چند مثالوں سے بھی یہ نتیجہ اخذ کیاجا سکتا ہے کہ بیورو کرسی قبائلی عوام کی خدمت اور ان کے علاقے کو ترقی دینے میں قطعًا سنجیدہ نہیں اگر قبائلی عوام سیاسی طور پر بیدار اور متحرک ہوتے تو مجال ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر کوئی قبائلی عوام کا استحصال کرتاموجودہ ناقص امن و امان کی صورتحال میں بھی بیورو کریسی قبائلی علاقوں میں خوش اور مطمئن ہے قبائلی علاقوں میں تھوڑا بہت جو امن وامان قائم ہے وہ بھی طالبان کی مرہون منت ہے پولیٹیکل انتظامیہ اور دوسرے اداروں کے افسران تو اس ناگفتہ بہ صورتحال میں بھی اپنی کریشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کے تمام تر فنڈ زان کے ذاتی اکاونٹس میں جمع ہوتے ہیں جہاں امن وامان خراب ہوتو افسران وہاں سے بھاگ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہاں قبائلی علاقوں اور با لخصوص خیبر ایجنسی سے کوئی افسر جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور بس اس ایک ہی ایجنسی کے اندر ادھر ا٘دھر ہوجاتے ہیں انکی ہم سے کوئی محبت اور ہمدردی نہیں محض مال کمانے اور ہمارے استحصال کیلئے انھوں نے یہاں ڈھیرے ڈال دیئے ہیں ہوناتویہ چاہئیے کہ ایک مخصوص مدت گزارنے کے بعد کسی افسر کو اس متعلقہ ایجنسی میں دوبارہ نہ بھیجا جائے۔ قبائلی عوام ترقی مانگتے ہیں اور امن کے خواہاں ہیں لیکن انکی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اس خطرناک خطے کے باسی ہیں جہاں شاید ہمیشہ دوسروں کی خاطر انکا خون بہایا گیا ہے ہماری ترقی میں بیوروکریسی کا زوال پنہاں ہیں شاید اسلئے بھی ہمیں چین اور سکون سے نہیں بیٹھنے دیتے ہیں قبائلی عوام کو غربت اور افلاس نے انتہاپسند بنادیا ہے اگر انکی معاشی،سماجی اور سیاسی ترقی پر توجہ دی گئی اور انکی احساس محرومی کا آزالہ کیا گیا تو یہ قبائلی علاقے جنت کا سماں اور منظر پیش کرینگے اور پھر یہاں خوشی ہی خوشی ہوگی قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور ان کے لئے بڑے بڑے فنڈز مختص کرنے کے بلند وبانگ دعوئوں سے محض اس غریب خطے کے باسیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی سعی ہورہی ہے زمینی حقائق اور قبائلی عوام کو روزمرہ کے درپیش مشکلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس خطے میں کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا ہے گزشتہ 60سالوں کے دوران قبائلی عوام نے محض بجلی اور صاف پانی کی فراہمی کے مطالبے کئے ہیں اور جان بوجھ کر انکے یہ دو بنیادی مسئلے بھی حل نہیں کئے جاتے تاکہ وہ آگے بڑھ کر روڈ کی تعمیر،صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی کے مطالبے نہ کریں قبائلی علاقوں کو پسماندہ اور ترقی سے محروم رکھ کر ہی بیوروکریسی اپنے بینک بیلنس میں اضافے کو یقینی بناسکتی ہے گدھے کی موت پر ہی کتے کی عید ہوتی ہے بیرون ملک سے جو امداد قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے ملتی ہے بدقسمتی سے وہ بھی خورد برد ہوتی ہے۔
This entry was posted on 26-06-2008 13:49. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 4 time. You can leave a comment.
Views: 2576
Views: 2576