| حامد کزرئی کی گیدڑبھبکیاں |
|
|
|
افغانستان کے کٹھ پتلی صدر حامد کرزئی نے اپنے صدارتی محل میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان کا پیچھا کرنے کی واضح دھمکی دی ہے اور واضح کیاہے کہ افغان فوج قبائلی علاقوں کے جنگجو رہنمائوں بیت اللہ محسود ،مولوی عمر اور مولانا فضل اللہ کو اپنے گھروں کے اندر قتل کردیگی اور اسکو حامد کرزئی نے اس بنیاد پر درست قرار دیا ہے کہ چونکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے افغانستان کے اندر دراندازی ہوتی ر ہی ہے اسلئے افغان فوج کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ پاکستانی جنگجوئوں کا پیچھا کرکے انکو قبائلی علاقوں میں قتل کرڈالیں افغانستان کے دارلحکومت کابل تک محدود حکمرانی پر افغان صدر حامد کرزئی کو فخر نہیں کرنا چاہئیے ساری دنیا اور تمام افغان بخوبی جانتے ہیں کہ حامد کرزئی کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں اس وقت افغانستان پر عملاً امریکہ اور یورپی یونین کا تسلط قائم ہے اور افغانستان کے معاملات درحقیقت امریکی اور نیٹو کمانڈروں کے ہاتھوں میں ہیں حامد کرزئی اس کو برا نہ مانے کہ وہ محض ایک شو پس ہے جسکو افغان ملت کو دھوکہ دینے کیلئے صدارتی محل کے اندر رکھا گیا ہے نام نہاد افغان صدر تو خود اپنے محل کے اندر محفوظ نہیں بھلا وہ امریکی،نیٹو اور افغان فوج کو کسطرح تحفظ دے سکتے ہیں ۔
حامد کرزئی ایک پختون قائد ضرور ہے لیکن میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ انکے خون سے احمد شاہ بابا کی ایمانی غیرت کیسے نکل گئی ہے افغانستان پر حکمرانی کرنے والے تمام پختون کمانڈروں نے ہمیشہ ماضی میں افغانستان کی سرزمین سے نکل کر ہندوستان کے اندرمظلوم اور محکوم مسلمانوں کو ہندئوں کی اذیتوں سے نجات دلائی ہے لیکن حامد کرزئی نے غیرت ایمانی سے سرشار اور پختون روایات کے پاسبان طالبان کی جائز حکومت کے خاتمے کے فوری بعد امریکی احکامات کے مطابق تخت کابل پر براجمان ہوئے اور اسطرح تمام پختون اور افغان ملت کے جذبہ ایمانی کو سخت ٹھیس پہنچائی ہے ڈاکٹر نجیب اللہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حامد کرزئی کو خارجی افواج کو سرزمین افغانستان سے نکال دینا چاہئیے تھا تاکہ افغان ملت اپنی روایات کی روشنی میں ازسر نو ایک آزاد اورخود مختار افغانستان کی بنیاد رکھتے لیکن انھوں نے ایسا بھی نہیں کیا۔
افغان صدر حامد کرزئی خوب جانتے ہیں کہ امریکی اور نیٹو افواج کی سر زمین ا فغانستان پر موجودگی سے اس پورے خطے کے مفادات اور اسلامتی کو سنگین خطرات در پیش ہیں امریکہ اوریورپ نے دراصل اپنی آئندہ کی نسلوں کو اقتصادی ،معاشی ،سیاسی اور فوجی لحاط سے بالادست رکھنے کیلئے القائدہ اور طالبان یا باالفاظ دیگر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی اور دہشت گردی کے نام پر جنگ شروع کر رکھی ہے امریکی صدر بش نے ایک دو مواقع پر کھل کر مسلمانوں کیخلاف صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا اور یورپ وامریکی مفکروں نے تو بہت پہلے تہذیبوں کے مابین کشمکش کے عنوان سے صلیبی جنگوں کی راہ ہموار کی تھی اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی اور نیٹو کی افواج تباہ شدہ افغانستان پر محض قبضہ برقرار رکھنا نہیں چاہتی بلکہ ان کا تو ارادہ ہے کہ پاکستان کی فوج کواپنے ہی عوام کیخلاف لڑاکر اس کو کمزورکیا جائے اور پھر پاک فوج کے پرکاٹنے کیلئے اس کو ایٹمی ہتھیاروں سے کسی بھی طرح محروم کر دیں صرف پاکستان امریکی نشانے پر نہیں امریکہ بیک وقت شام و ایران کو بھی برباد کرنے کی دھمکی دیتا آرہا ہے اور امریکیوں کے یہ خطرناک عزائم باشعور اور سنجیدہ فکر مسلمانوں سے پوشیدہ نہیں پاکستان اور امت مسلمہ کے دیگر ممالک خاموشی سے باری باری اپنی اموات اور تباہی کا تماشہ نہیںدیکھ سکتے قبل از وقت خطرے سے باخبر رہنا اور خطرے کو ٹالنے کی منصوبہ بندی کرنا تمام ممالک کا حق اور فرض ہے ۔
افغانستان کے اندار قابض امریکی اور نیٹو افواج سے پاکستان ،چین،ایران اور خطے کے دوسرے تمام ممالک کو سنگین خطرات لاحق ہیں حامد کرزئی کو سمجھناچاہیئے کہ خطے کے تمام ممالک اپنی بربادی کا تماشہ نہیں کرسکتے اس خطے میں تمام تر خون خرابے کی ذمہ دار ی صدر بش کی طرح افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستان کے غیر آئینی صدر جنرل پرویز مشرف پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ افغانستان کے اندر حامد کرزئی اور پاکستان کے اندر پرویز مشرف نے امریکی افواج کو یہاں قبضہ جمانے کیلئے سہولیات فراہم کیں جس سے انکی حب الوطنی مشکوک ہوگئی ہے پاکستان نے توکئی بار پیش کش کی ہے کہ عالمی برادری مغربی سرحد پر باڑ لگانے اور بارود ی سرنگیں بچھانے میں اسکی مالی اور تکنیکی مدد کریں تاکہ مشتبہ دہشتگرد وں کو مغربی سرحد پارکرنے کا موقع نہ ملے لیکن اس پر بھی حامد کرزئی نے شور مچایا اور پاکستان کی اس پیش کش کو ٹھکرا دیا افغان صدر حامد کرزئی کا فرض بنتا ہے کہ وہ امریکی اورنیٹو ائر فورس کے فضائی حملوں سے قبائلی پختونوں اور انکے ٹھکانوں کو محفوظ بنائیں پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے قوم کو اعتماد میں لئے بغیر نام نہاد دہشتگردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا جس سے خود پاکستان کی سلامتی اور خودمختیاری خطرے میں پڑگئیں ہیں اب تک امریکی طیاروں اور میزائل حملوں سے سینکڑوں بے گناہ قبائلی عوام مارے جاچکے ہیں کیا یہ سب قتل کئے جانے والے قبائلی عوام دہشتگرد تھے ؟پاکستان کی ہر گلی اور شہر میں بم دھماکوں سے معصوم افراد ہلاک کئے گئے اسکی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے حقیقت یہ ہے کہ اس خطے میں تمام تر بے آرامی اور بے قراری کی ذمہ داری امریکی حکومت اور بالخصوص صدر بش اور انکے اتحاد یوں پر عائدہوتی ہے جنہوں نے محض مال کمانے کیلئے بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا۔
حامد کرزئی صاحب کو پاکستانی طالبان کیخلاف کوئی اقدام کرنے سے پہلے خود ہی اپنے وطن کے اندر برسرپیکار طالبان اور مجاہدین کوکنٹرول کرنا چاہئیے امریکی اور نیٹو طیاروں کی بمباری سے افغانستان کے اندر حجرے،گھر،مساجد اور حتیٰ کہ شادی کے جلوس وغیرہ بھی محفوظ نہیں رہے اسلئے حامد کرزئی سب سے پہلے اپنے افغان ہم وطنوں کو امریکی درندوں سے محفوظ بنائیں پھر کہیں جاکر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کی سرکوبی کا سوچیں طالبان افغانستان کے اندر ثابت کرچکے ہیں کہ وہ امریکی اورنیٹو افواج کی بربریت اور ظلم وستم پر خاموش نہیں رہینگے اب تک امریکی افواج یا طیاروں کی ہر جارحیت کا جواب طالبان کے جنگجو دے چکے ہیں جناب عالی یہ مسئلہ کا حل نہیں افغانستان کے اندر لگی آگ سے پوری دنیا کی سلامتی کو خطرہ ہے اسلئے پوری عالمی برادری امریکی اور نیٹو افواج سے مطالبہ کریں کہ وہ سرزمین افغانستان سے نکل کر دنیا میں امن کے قیام کو یقینی بنائیں حامد کرزئی کی آئے روز کی دھمکیوں سے حالات مزید خراب ہونگے اور اگر پاکستان نے افغانستان کو مختلف اموال کی سپلائی روک دی تو پھر ایک ہفتہ کے اندر افغانستان کی چیخیں نکل جائینگی حالات کا تقاضہ ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج بلا تاخیر اپنا تسلط ختم کرکے اس خطے سے باعزت نکل جائیں اور اس سے پوری دنیا میں امن اور ترقی کے ایک نئے دور کاآغاز کیاجا سکتا ہے اس خطے اور پوری دنیا کے انسانوں کو چند افراد کے مفادات کیوجہ سے اس آگ کا ایندھن نہیں بننا چاہئیے آج کے انسانوں کے بے پناہ مسائل ہیں ان مسائل کے حل کیطرف عالمی برادری توجہ دیں افغانستان اور قبائلی خطے کے لوگ تو پتھر کے دور میں زندگی گزاررہے ہیں اور تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں انکو یہ حقوق دلانے کی ضرورت ہے ۔
تحریر :سدھیر احمدا ٓفریدی (جرأت اظہار) فون:0307-7138213
ای میل: afridicolumnist[L: 64]hotmail.com
حامد کرزئی ایک پختون قائد ضرور ہے لیکن میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ انکے خون سے احمد شاہ بابا کی ایمانی غیرت کیسے نکل گئی ہے افغانستان پر حکمرانی کرنے والے تمام پختون کمانڈروں نے ہمیشہ ماضی میں افغانستان کی سرزمین سے نکل کر ہندوستان کے اندرمظلوم اور محکوم مسلمانوں کو ہندئوں کی اذیتوں سے نجات دلائی ہے لیکن حامد کرزئی نے غیرت ایمانی سے سرشار اور پختون روایات کے پاسبان طالبان کی جائز حکومت کے خاتمے کے فوری بعد امریکی احکامات کے مطابق تخت کابل پر براجمان ہوئے اور اسطرح تمام پختون اور افغان ملت کے جذبہ ایمانی کو سخت ٹھیس پہنچائی ہے ڈاکٹر نجیب اللہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حامد کرزئی کو خارجی افواج کو سرزمین افغانستان سے نکال دینا چاہئیے تھا تاکہ افغان ملت اپنی روایات کی روشنی میں ازسر نو ایک آزاد اورخود مختار افغانستان کی بنیاد رکھتے لیکن انھوں نے ایسا بھی نہیں کیا۔
افغان صدر حامد کرزئی خوب جانتے ہیں کہ امریکی اور نیٹو افواج کی سر زمین ا فغانستان پر موجودگی سے اس پورے خطے کے مفادات اور اسلامتی کو سنگین خطرات در پیش ہیں امریکہ اوریورپ نے دراصل اپنی آئندہ کی نسلوں کو اقتصادی ،معاشی ،سیاسی اور فوجی لحاط سے بالادست رکھنے کیلئے القائدہ اور طالبان یا باالفاظ دیگر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی اور دہشت گردی کے نام پر جنگ شروع کر رکھی ہے امریکی صدر بش نے ایک دو مواقع پر کھل کر مسلمانوں کیخلاف صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا اور یورپ وامریکی مفکروں نے تو بہت پہلے تہذیبوں کے مابین کشمکش کے عنوان سے صلیبی جنگوں کی راہ ہموار کی تھی اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی اور نیٹو کی افواج تباہ شدہ افغانستان پر محض قبضہ برقرار رکھنا نہیں چاہتی بلکہ ان کا تو ارادہ ہے کہ پاکستان کی فوج کواپنے ہی عوام کیخلاف لڑاکر اس کو کمزورکیا جائے اور پھر پاک فوج کے پرکاٹنے کیلئے اس کو ایٹمی ہتھیاروں سے کسی بھی طرح محروم کر دیں صرف پاکستان امریکی نشانے پر نہیں امریکہ بیک وقت شام و ایران کو بھی برباد کرنے کی دھمکی دیتا آرہا ہے اور امریکیوں کے یہ خطرناک عزائم باشعور اور سنجیدہ فکر مسلمانوں سے پوشیدہ نہیں پاکستان اور امت مسلمہ کے دیگر ممالک خاموشی سے باری باری اپنی اموات اور تباہی کا تماشہ نہیںدیکھ سکتے قبل از وقت خطرے سے باخبر رہنا اور خطرے کو ٹالنے کی منصوبہ بندی کرنا تمام ممالک کا حق اور فرض ہے ۔
افغانستان کے اندار قابض امریکی اور نیٹو افواج سے پاکستان ،چین،ایران اور خطے کے دوسرے تمام ممالک کو سنگین خطرات لاحق ہیں حامد کرزئی کو سمجھناچاہیئے کہ خطے کے تمام ممالک اپنی بربادی کا تماشہ نہیں کرسکتے اس خطے میں تمام تر خون خرابے کی ذمہ دار ی صدر بش کی طرح افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستان کے غیر آئینی صدر جنرل پرویز مشرف پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ افغانستان کے اندر حامد کرزئی اور پاکستان کے اندر پرویز مشرف نے امریکی افواج کو یہاں قبضہ جمانے کیلئے سہولیات فراہم کیں جس سے انکی حب الوطنی مشکوک ہوگئی ہے پاکستان نے توکئی بار پیش کش کی ہے کہ عالمی برادری مغربی سرحد پر باڑ لگانے اور بارود ی سرنگیں بچھانے میں اسکی مالی اور تکنیکی مدد کریں تاکہ مشتبہ دہشتگرد وں کو مغربی سرحد پارکرنے کا موقع نہ ملے لیکن اس پر بھی حامد کرزئی نے شور مچایا اور پاکستان کی اس پیش کش کو ٹھکرا دیا افغان صدر حامد کرزئی کا فرض بنتا ہے کہ وہ امریکی اورنیٹو ائر فورس کے فضائی حملوں سے قبائلی پختونوں اور انکے ٹھکانوں کو محفوظ بنائیں پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے قوم کو اعتماد میں لئے بغیر نام نہاد دہشتگردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا جس سے خود پاکستان کی سلامتی اور خودمختیاری خطرے میں پڑگئیں ہیں اب تک امریکی طیاروں اور میزائل حملوں سے سینکڑوں بے گناہ قبائلی عوام مارے جاچکے ہیں کیا یہ سب قتل کئے جانے والے قبائلی عوام دہشتگرد تھے ؟پاکستان کی ہر گلی اور شہر میں بم دھماکوں سے معصوم افراد ہلاک کئے گئے اسکی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے حقیقت یہ ہے کہ اس خطے میں تمام تر بے آرامی اور بے قراری کی ذمہ داری امریکی حکومت اور بالخصوص صدر بش اور انکے اتحاد یوں پر عائدہوتی ہے جنہوں نے محض مال کمانے کیلئے بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا۔
حامد کرزئی صاحب کو پاکستانی طالبان کیخلاف کوئی اقدام کرنے سے پہلے خود ہی اپنے وطن کے اندر برسرپیکار طالبان اور مجاہدین کوکنٹرول کرنا چاہئیے امریکی اور نیٹو طیاروں کی بمباری سے افغانستان کے اندر حجرے،گھر،مساجد اور حتیٰ کہ شادی کے جلوس وغیرہ بھی محفوظ نہیں رہے اسلئے حامد کرزئی سب سے پہلے اپنے افغان ہم وطنوں کو امریکی درندوں سے محفوظ بنائیں پھر کہیں جاکر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کی سرکوبی کا سوچیں طالبان افغانستان کے اندر ثابت کرچکے ہیں کہ وہ امریکی اورنیٹو افواج کی بربریت اور ظلم وستم پر خاموش نہیں رہینگے اب تک امریکی افواج یا طیاروں کی ہر جارحیت کا جواب طالبان کے جنگجو دے چکے ہیں جناب عالی یہ مسئلہ کا حل نہیں افغانستان کے اندر لگی آگ سے پوری دنیا کی سلامتی کو خطرہ ہے اسلئے پوری عالمی برادری امریکی اور نیٹو افواج سے مطالبہ کریں کہ وہ سرزمین افغانستان سے نکل کر دنیا میں امن کے قیام کو یقینی بنائیں حامد کرزئی کی آئے روز کی دھمکیوں سے حالات مزید خراب ہونگے اور اگر پاکستان نے افغانستان کو مختلف اموال کی سپلائی روک دی تو پھر ایک ہفتہ کے اندر افغانستان کی چیخیں نکل جائینگی حالات کا تقاضہ ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج بلا تاخیر اپنا تسلط ختم کرکے اس خطے سے باعزت نکل جائیں اور اس سے پوری دنیا میں امن اور ترقی کے ایک نئے دور کاآغاز کیاجا سکتا ہے اس خطے اور پوری دنیا کے انسانوں کو چند افراد کے مفادات کیوجہ سے اس آگ کا ایندھن نہیں بننا چاہئیے آج کے انسانوں کے بے پناہ مسائل ہیں ان مسائل کے حل کیطرف عالمی برادری توجہ دیں افغانستان اور قبائلی خطے کے لوگ تو پتھر کے دور میں زندگی گزاررہے ہیں اور تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں انکو یہ حقوق دلانے کی ضرورت ہے ۔
تحریر :سدھیر احمدا ٓفریدی (جرأت اظہار) فون:0307-7138213
ای میل: afridicolumnist[L: 64]hotmail.com
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 2705