Nov
22
2008
Today

Maj. Tahir Sadiq is ....
Attock
7°C
ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
حکومت نے سات قبائلی ایجنسیوں میں پولیٹیکل ایجنٹوں کی معاونت اور ان کا بوجھ کم کرنے کیلئے ان کے ساتھ ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کئے ہیں جو کہ تر قیاتی منصوبوں کے ذمہ دار ہو نگے حکومت کا یہ فیصلہ بہت عجیب اور سمجھ سے بالا تر لگتا ہے ہر ایجنسی میں ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر برائے دیہی ترقی (اے ڈی آر ڈی ) تعینات ہوتا ہے جوسالانہ ترقیاتی منصوبوں کی فیزیبلٹی اورنگرانی کا ذ مہ دار ہوتا ہے اور ہر معاملے میں متعلقہ ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے دوسرے قبائلی علاقوں کے بارے میں تو زیادہ نہیں جانتا لیکن خیبر ایجنسی میں تعینات اے ڈی صاحب کے اوپر تو اس ایجنسی کے سنجید ہ طبقے کے تحفظات بہت زیادہ ہیں ان پر الزام ہے کہ جو کچھ وہ کاغذ ات میں پیش کرتے ہیں وہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق نئے اے پی اے برائے ترقیاتی امور اور ایکزیکٹو آفیسر برائے فنانس اینڈ پلاننگ نے بھی اے ڈی خیبر پرتحفظات کا اظہار کیا ہے اورا بھی تک ان کو اپنا آفس بھی نہیں ملا ہے جس پر اگلے کالم میں تفصیل سے روشنی ڈالی جاےئگی ۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹوں کی تعیناتی سے قبائلی عوام کے مسائل کم ہونے کی بجائے اور بڑھ جائنیگے اگر ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹوں کی تعیناتی سے فرق پڑیگا تووہ کسی بھی قبائلی علاقے میں پہلے سے موجود بیورو کریسی کی آمدنی اور کرپشن پرپڑیگا اے پی ایز کی تعیناتی سے کرپشن اور بد عنوانی کسی صورت کم نہیںہوگی بلکہ اس میںاضافہ ہوگا پہلے سے تعینات فاٹا کے پولیٹیکل ایجنٹ اور اے ڈیز ان نئے اے پی ایز کی تعیناتی سے ضرور متاثر ہونگے اوریقیناوہ خوش بھی نہیں ہونگے ہمارے قبائلی حضرات پہلے تحصیل کے اے پی اے سے اوپر جاکر اے ڈی اے اور پھرپی اے کی خاطر مدارت کرکے ان کو مناتے تاکہ انکی کوئی اسکیم منظور کی جاسکے لیکن اب ان بیچاروں کو ان صاحبان کے علاوہ نئے متعین ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کو بھی خوش وخرم رکھنا ہوگا اور اس طرح مزید ذلیل ہو نگے۔
یہاں قبائلی علاقوں میں عجیب سا نظام نافذ ہے ہمارے ملک اور پوری دنیا میں عوام کے منتخب نمائندے اوربیوروکریٹس اپنے مخصوص علاقوں کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے دوڑ دھوپ کرتے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ انکے ماتحت لوگ چین اور سکون کی زندگی گزارکر انکو دعائوں میں یاد رکھیں لیکن یہاں قبائلی عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے منتخب افراد اور ان پر مسلط افسران بھی انکو لوٹ کر انکو پسماندہ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ بے پناہ پسماندگی اور مجبوری کیوجہ سے وہ فریاد بھی نہ کرسکیں۔
قبائلی علاقے حقیقت میں بیوروکریسی کی جنت ہیں اور اپنے باسیوں کیلئے دوزخ کی حیثیت رکھتے ہیں یہاں متعین افسران خوش اور مطمئن ہوتے ہیں جبکہ خود قبائلی عوام غربت اور بے روزگاری کیوجہ سے تنگ آکر اور موقع پاکر یہاں سے کوچ کرتے ہیں اگر فاٹا بیوروکریسی کی جنت نہ ہوتاتو یقینا بیوروکریسی یہاں آنے پر ناخوش اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتی لیکن ریکارڈ کیلئے عرض ہے کہ خصوصاً خیبرایجنسی میں پوسٹنگ اور ٹرانسفر کروانے کیلئے پولیٹیکل ایجنٹ سے لیکر ایک ادنیٰ کلرک تک تمام افراد بھاری رشوت دیکر آتے ہیں اور مسلسل اپنی کرپشن میں سے کچھ معقول حصہ نکال کر اعلیٰ حکام کو دیتے ہیں تاکہ وہ ان پر مھربان رہے اس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو افسران تحصیلدار اور اے پی اے سے لیکر پی اے تک خیبر ایجنسی سے آئوٹ ہوجاتے ہیں تو وہ بمشکل پانچ چھ مہینے باہر کسی دوسرے ضلع یا ایجنسی میں گزارتے ہیں جسطرح مچھلی پانی سے باہر ہوکر مرتی ہے اسی طرح یہاں سے کوئی افسر باہر نکال کر پریشان اور سرگرداں رہتا ہے اور پھر جلدی واپس آنے کیلئے بے تاب ہوتا ہے اور دوبارہ آنے کیلئے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہیں اس حوالے سے خیبرایجنسی کے اندر مختلف محکموں کے افسران کا ریکارڈ بھی چیک کیا جاسکتا ہے میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ میری ان تحریروں سے کوئی اصلاح احوال ممکن نہیں کیونکہ اوپر سے نیچے تک ساری بیوروکریسی ایک زنجیر کی طرح آپس میں ملی ہوئی ہے۔
ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹوں کو اگر پولیٹیکل ایجنٹوں کے اختیارات کم کرنے یا انتظامیہ کو عدلیہ سے جدا کرنے کیلئے تعینات کردیا جاتا تو پھر یہ ایک مثبت پیش رفت ہوتی اور اس سے یقینا قبائلی عوام کے مسائل کم ہوتے لیکن موجودہ فیصلہ سے تو لگتا ہے کہ جیسے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے بیوروکریسی کو خوش کرنے اور انکو مال کمانے کیلئے ایک اورنادر موقع فراہم کیا ہے اس فیصلے سے قبائلی عوام کی زندگی پر کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہونگے اس سے کرپشن کی ایک نئی کھڑکی کھول جائیگی ۔10جون کو لنڈیکوتل کے جرگہ ہال میں ذخہ خیل قوم کے ایک بہت بڑے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے پی اے خیبرایجنسی طارق حیات نے ببانگ دہل کہا کہ جو لوگ ایف سی آر جیسے اچھے قانون میں ترامیم کیلئے واویلا کرتے ہیں وہ سرے سے قبائل ہی نہیں بلکہ وہ تو بندوبستی علاقوں میں آباد لوگ ہیں جنکے باپ دادا یہاں سے ہجرت کرگئے تھے پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی طارق حیات نے ایف سی آر میں ترامیم کرانے والے تمام افراد اور جماعتوں کی دبے الفاظ میں سخت مذمت کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ فائیو سٹار ہوٹلوں میں ایف سی آر کے موضوع پر سیمنارز منعقدکروانے کی بجائے وہ خطیر رقم یہاں قبائلی علاقوں کی تعمیر و ترقی پر خرچ کریں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ یہی ایف سی آر کے کرشمے ہیں کہ آپ نے آتے ہی نئے خاصہ داروں کو منظور نظر افراد میں بانٹ دیا اور یہ سب کچھ میرٹ اور انصاف سے ہٹ کرکیا پی اے خیبر صاحب آپ نے تو آنے کیساتھ کچھ اعززی صوبیداروں کو معزول کردیا تھاجو کہ ایک احسن اقدام تھا لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ آپ نے ان میں سے بعض کو دوبارہ بحال کردیا اور حتیٰ کہ خیبر ہائوس اور پھر وہاں سے جمرود آفس کی حفاظت پر معمور صوبیدار بھی خیبر رائفلز سے ریٹائرڈ فردکو لے لیا اگر فاٹا میں ایف سی آر جیسے اندھا اور کالا قانون نہ ہوتا تو یقینا کوئی بھی افسر قانون سے ماوراء اور عوام کی مر ضی کیخلاف فیصلے کرنے کی جرأت نہ کرتا یہ درست ہے کہ اس غیر انسانی اور غیر جمہوری قانون نے قبائلی عوام سے سننے،دیکھنے اور بولنے کی آزادی چھین لی ہے اسلئے حکمرانوں کی مرضی ہے کہ وہ قبائلی عوام کے باشعوراور سنجیدہ لوگوں کی رائے معلوم کرنے کی زحمت گوارا نہ کریں لیکن جبر اور استحصال کے اس فرسودہ قانون کو ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹوں کی تعیناتی سے بچایا نہیں جاسکتا اب تو اسکا وقت ختم ہوچکا ہے۔



26-06-2008 13:43 Sudhir Afridi
This entry was posted on 26-06-2008 13:43. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 8 time. You can leave a comment.
Views: 2212    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >