فتح جنگ میں پانی کی شدید قلت سینکڑوں نفوس کی آبادی بوند بوند کو ترس گئی. منتخب نمائندوں نے کامیابی کے بعد علاقے سے منہ پھیر لیا. خواتین میلوں دور دور سے پانی لانے پر مجبور، بعض علاقوں میں مضر صحت پانی پینے سے لوگ بیماریوں میں مبتلا ہو گئے. فتح جنگ میں پینے کے پانی کی قلت سے شہری پریشانی کا شکار، اصلاح احوال کا مطالبہ فتح جنگ کے شہریوں کو اس دور میں بھی پینے کے لئے صاف پانے میسر نہیں شہریوں کی سہولت کے لئیے شاہ پور دیم سے جو پانی سپلائی کیا جا رہا ہے حالیہ بارشوں کی وجہ سے پانی کا رنگ سرخی مائل ہے اور انتہائی گدلا ہے. یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابقہ ادوار میں پانی کی سپلائی اور فلٹریشن کے نام پر عوام کو بے وقوف بنیا جاتا رہا اور موجودہ دور میں بھی ابھی تک پانی جیسی بنیادی سہولت کی طرف نظر کرم نہیں کی گئی اور خواتین اور بچے دن بھر دور دراز سے پانی بھر کر لانے پر مجبور ہیں. مضر صحت پانی کے استعمال سے معدہ اور جگرالرجی کے امراض پھیل رہے ہیں مگر انتطامیہ کے کانوں پر کوئی جوں نہیں رینگ رہی. عوام کی مشکلات کا کیسی کو احساس ہی نہی
This entry was posted on 26-06-2008 11:04. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 11 time. You can leave a comment.
Views: 4998
Views: 4998