| ایک نوجوان کا سوال؟ |
|
|
|
وہ نوجوان بہت ہی تپا ہوا لگ رہا تھا ،ٹیلی فون پر اس نے بہت ہی دل جلانے والی باتیں کیں اس کی باتوں سے لگ رہا تھا جیسے وہ مذہب،خدا اور معاشرے اور حکومت سب سے نالاں ہے ،اس نے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ کیا خدا عادل ہے ؟تو پھر یہ ہر طرف نا انصافی کیوں ہے؟ ۔میں نے اسے کہا کہ کچھ وقت نکال کر میرے پاس آجاو تا کہ ذرا کھل کر بات ہو سکے ،اگلے روز وہ مقررہ جگہ پر پہنچ گیا اور ہم ایک چاے خانے کے ایک گوشے میں جا بیٹھے ،میں نے اس کے سراپے کا جائزہ لیا وہ اچھا خاصا ہیند سم نوجوان تھا اور شکل صورت سے تعلیم یافتہ بھی لگ رہا تھا میں نے چاے کا آرڈر دیا اور اس نوجوان سے مخاطب ہوتے ہوے کہا کہ اب ہم کھل کر بات کر سکتے ہیں ۔وہ کہنے لگا آپ جیسے "سوکالڈ دانشور"جنہیں ہم پڑھتے ہیں اور کئی امیدوں کی جوت دلوں میں جگاتے ہیں مگر جو باتیں آپ اخبارات کے کالموں میں لکھتے ہیں معاشرے میں اس کے بر عکس ہو رہا ہو تا ہے ،میں نے کہا اپنے بارے میں کچھ بتاو ،وہ کہنے لگا مجھے ذاتی پریشانی کوئی نہیں ہے میں نے اسی سال ماسٹر کیا ہے اور کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق ہے ، میرا مسلہ یہ ہے کہ جب میں مذہبی کتابیں پڑھتا ہوں تو ان میں مجھے کئی طرح کے اختلاف نظر آتے ہیں ،ایک فرقہ کچھ کہہ رہا ہوتا ہے تو دوسرے کے ہاں سے کچھ اور ملتا ہے ہر محلے میں پانچ چھ مسجدیں ہیں ہونا تو یہ چاہیی تھا کہ امت متحد ہوتی مگر یہاںانسان تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہا ہے ،الہامی کتابوں میں یہ بتایا جا تا ہے کہ خدا عا دل ہے،رازق ہے ۔لیکن اس کے باوجود میری سمجھ میں یہ بات نہیں آسکی کہ وہ کیسا عادل اور رزاق ہے جواس دنیا میں لاکھوں کروڑوں انسانوں کو بھوک سے تڑپتا ، مرتا اور ظلم و جبر کی چکی میں پستا ہوا دیکھتا رہتا ہے مگر اس میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ ان لوگوں کے آنسو ہی پونچھ سکے،ان کے درد کی دوا بن سکے بلکہ میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ غریبوں کی زندگی میں المیی پر المیی ٹوٹتے ہیں،لگا تار حالات اس کی کمر توڑتے رہتے ہیں،مزید براں یہ لوگ ہوتے بھی نیک ہیں اور عبات گزار بھی ،خدا کے قران کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں ،لیکن اس کے باوجودتنگ دستی اور ظلم وستم کا شکار رہتے ہیں اور یہ لوگ پھر بھی اف تک نہیں کرتے ،اس ملک کا ملاء انہیں صبر کی تلقینکرتاہے اور جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہوتاہے اسے ان کی قسمت کا لکھا کہا جاتا ہے ،اامارت اور غربت اللہ کی طرف سے ہے بتاتا ہے اور یہ لوگ مجسم صبر ہوتے ہیں ۔جبکہ دوسری طرف طبقہ امراء اورحکمران ہیں جو فسق و فجور کی زندگی بسر کرتے ہیں ظلم اور زیادتی سے بھی باز نہیں آتے ،دولت ان کے قدموں کو بوسہ دیتی ہے دنیا کی تمام آسائشیں ان کو ہدیہ تبریک پیش کرتی ہیں ۔اسی طرح بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ رشوت خور کو اس دنیا میں پوری طرح سزا ہی مل جاے،پولیس اہلکار معصوم اور بے گناہ انسانوں پر صرف رشوت لینے کی خاطر اور رشوت کا ریٹ بڑھانے کے لئے اس قدر تشددکرتے ہیں کہ بعض لوگ ساری عمر کے لئے اپاہج ہو جاتے ہیں اور کئی ایک ہلاک،یہ لوگ پو لیس والوںکو خوف خدا یاد دلاتے ہیں مگر یہ اپنی روش سے باز نہیں آتے ،یہ لوگ تمام آسائشیں سمیٹتے ہیں ،بہترین زند گی گزارتے ہیں انہیں کچھ نہیں ہوتا حالانکہ یہ لوگ کئی لوگوں کی زندگیاں تباہ کر چکے ہوتے ہیں ۔یہاں کئی لوگ ایسے ہیں جو بڑھے گناہ گار ہیں لیکن قانون بھی ان کو ہاتھ نہیں ڈالتا ،بعض ملاووں سے جزا اور سزا کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ آخرت کا جواز پیش کرتے ہیں ،جو میرے نظریی کے خلاف ہے کہ انسان گناہ تو دنیا میں کرے اور سزا ۔۔۔؟میں خدا کو مانتا ہوں مگر جب اس طرح کی صورت حال ہر طرف نظر آتی ہے تو میرا یقین متزلزل ہونے لگتا ہے کہ ایک عادل خدا صرف آخرت میں ہی عدل کر سکتا ہے اور اس دنیا میں بلکل خاموشی سادھے ہوئے ہے تو کیا یقین وہ آخرت میں بھی عدل کرے گا؟اس لئے میری پریشانی کی وجہ ہی یہ ہے کہ خدا عادل ہے تو پھر اتنا ظلم ،زیادتی اور نا انصافی کیوں ہے ؟اس لئے بھی کہ جو کچھ ہم پڑھتے ہیں اور جو کچھ ہمیں بتایا جاتا ہے خدا کے حکم کے بغیر ا یک پتہ بھی نہیں ہل سکتا اور وہ انسان کی رگ جان سے بھی قریب ہے اس کی خدائی کائنات کے ذرے ذرے پر محیط ہے پھر یہ سب کیوں ہے؟اس کے بعد وہ نوجوان خاموش ہو گیا اسے دیکھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ جیسے وہ پر سکون ہو چکا ہے ،اور وہ خالی نطروں سے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا مجھے اس کی آنکھوں میں سوالوں کا ایک تلاطم نطر آرہا تھا ۔
میں نے اس نوجوان سے کہا کہ جو کچھ تم محسوس کرتے ہو جس کرب سے تم گزر رہے ہو ایسی محسوسات اور کرب تم جیسے بہت سارے نوجوانوں میں پایاجاتا ہے اور اس کرب اور اذیت سے کئی اور لوگ بھی گزرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ،انسانی فطرت میں یہ سب ہے با ضمیر لوگ اس طرح کی کیفیت کا شکار رہتے ہیں ۔میری بات ذرا توجہ سے سنو میں کوئی عالم ہوں نہ ملانہ ہی میرے پاس کوئی معجزہ ہے کہ میں تمہاری اس حالت کو پلک جھپکتے بدل دوں ہاں میں اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ اگر تمہیں اس کیفیت سے نہ نکالا گیا تم اور برگشتہ ہو جاو گے اس لئے سنو فلسفہ اخلاق میں یہ " معمہ"بہت قدیم اور مشہور ہے کہ اگر شر خدا کی مرضی سے موجود ہے تو خدا خیر نہیں ہو سکتا اور اگر وہ خدا کی مرضی کے خلاف ہے تو خدا قادر مطلق نہیں ہو سکتا لفظی طور پر یہ"معمہ"مشکل نظر آتا ہے ،لیکن جب ہم خدا کی بات کرتے ہیں تو اسے اس کی کتاب کی روشنی (قرآن) میں دیکھا جائے تو بڑا آسان ہو جاتا ہے یہ بات ویسے ہی سامنے آگئی ہے اب آتے ہیں تمہارے سوال "خدا کے عادل ہونے"کی طرف ۔سب سے پہلے یہ سمجھ لنا چاہیی کہ خدا نے اپنے لئے قرآن میں لفظ عادل استعمال نہیں کیا ،اس نے جو کچھ کہا اس نے جو کچھ کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے کائنات کے نظم ونسق کے لئے (جس میں انسانی دنیا بھی شامل ہے)کچھ قوانین مقررکر دئیی ہیں ان قوانین میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی لہذا یہاں ہر بات قانون کے مطابق عمل میں آتی ہے اگر عدل کی تعریف یہ ہے کہ جو بات قانون کے مطابق ہو اسے عدل کہا جاتا ہے تو اس اعتبا ر سے آپ خدا کو عادل کہہ سکتے ہیں ۔اس نے تو یہ کہا ہے کہ ظلم پر مبنی نظام کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔
اور اگر تمہارے ذہن میں خدا کے عادل ہونے کا یہ تصور ہے کہ جونہی کوئی شخص جھوٹ بولے اس کی زبان گنگ ہو جائے ،جونہی کوئی کسی کی طرف نطر بد سے دیکھے تو اس کی آنکھ پھوٹ جائے ،جونہی کوئی ظالم کسی کمزور کے خلاف ہاتھ اٹھائے تو اس کا ہاتھ پتھر کا بن جائے ،کوئی بھوکا ہو اور اسے فورابغیر کسی محنت کے کھانا مل جائے ،اگر ایسا ہو تو خدا کو عادل مانا جائے اور اگر ایسا نہ ہو (جیسا کہ ظاہر ہے کہ ایسانہیںہوتا)تو پھر خدا عادل کس طرح کہلا سکتا ہے ،یعنی اگر خدا ہمارے تصور کے مطابق عادل ہو تو اسے عادل کہا جائے اور اگر وہ ہمارے عدل کے تصور پرپورا نہ اترے تو اسے عادل کس طر ح ما ناجائے ؟اب تمہاری اس بات کا جواب کہ ظلم ہوتا کس طرح سے ہے اور اسے خدا روکتا کس طرح ہے ۔اگر معاشرہ کا نظام صیح خطوط پر متشکل ہو تو کوئی کسی پر ظلم نہیں کر سکتا ،اگر کہیں انفرادی طور پر کوئی شخص کسی پر دراز دستی کر بیٹھے تو صیح نظام حکومت اس کا فوری تدارک کر دیتا ہے ظلم ہوتا ہی اس معاشرے میں ہے جو غلط بنیادوں پر استوار ہوتا ہے ،لہذا سوال کسی فرد(ظالم )کے مواخذے کا نہیں اس غلط معاشرے کے مواخذہ کا ہے جس میں ظلم روا رکھا جاتا ہے ۔
اب ہم آتے ہیں اس طرف کہ اس کا حل کیا ہے ،اس کا حل یہ ہے کہ اس غلط کار نظام جس میں ظلم جبر ،ناانصافی عام ہے ،وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہے چند اجارہ داروں نے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں عدم اسحتکام اور بھوک ہے اس غلط نظام کو بدلنے کی کوشش کرنا ہی جہاد ہے ،خدا فردا فردا کسی کی ضرورتیں پوری نہیں کرتا وہ اس کی زمہ داری ریاست اور معاشرے پر ڈلتا ہے کہ وہ ملک میں ایسا عادلانہ قائم کریں جہاں کسی کے ساتھ ظلم وزیادتی نہ ہو اور معاشرہ ہر ایک کی ضرورتیں پوری کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہو رہتا ہے ،لوگ بے خوف وخطر ظلم و زیادتی کرتے ہے تب ہیں جب انہیں مواخذے کا ڈر نہ ہو اور اگر معاشرے کا نظام مظبوط بنیادوں پر قائم ہو اور ریاست اپنی پوری ذمہ داری نبھاتے ہوے ایسا انتظام کرے کہ کوئی بھی شخص قانون کی خلاف ورزی نہیں کرے گا تو اس معاشرے میں کوئی کسی کا استحصال نہیں کر سکے گا ، اب تم یہی دیکھ لو کہ جن معاشروں نے اپنے ہا ں چھوٹے بڑے کے امتیاز ختم کر دئیی ہیں اور وہاں قانوں کی حکمرانی ہے وہاں تمہیں اس طرح کی شکایت کرتے ہوے لوگ نظر نہیں آئیں گے کیونکہ جس مظبوط نظام میں وہ رہتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ اگر کسی نے ہمارے ساتھ زیادتی کی اور ہمارا حق چھینا تو ریاستی نظام فورا حرکت میں آجائے گا اس لئے وہا ں کوئی کسی پر ظلم وزیادتی نہیں کرتا ،کسی کا حق نہیں مارتا ،جھوٹ کو برائی جانتے ہوے سب اس سے نفرت کرتے ہیں ،اس لئے جلنے کڑھنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ،ہر فرد کو جو جہاں ہے اسے صیح بنیادوں پر معاشرے کے قیام کی کو ششوں میں حصہ لینا ہوگا کیونکہ یہ قوم کے نوجوانوں کا فرض ہے ،اور تم بھی یہ سوچ لے کراپنی صلاحیتں اسی مقصد کے لئے صرف کرو ،تمہاری بے چینی اور بے قراری ختم ہو جائے گی ،میری بات کے اختتام پر وہ اٹھا اور ایک اطمینان بھری مسکراہٹ لئے وہاں سے رخصت ہو گیا ۔
میں نے اس نوجوان سے کہا کہ جو کچھ تم محسوس کرتے ہو جس کرب سے تم گزر رہے ہو ایسی محسوسات اور کرب تم جیسے بہت سارے نوجوانوں میں پایاجاتا ہے اور اس کرب اور اذیت سے کئی اور لوگ بھی گزرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ،انسانی فطرت میں یہ سب ہے با ضمیر لوگ اس طرح کی کیفیت کا شکار رہتے ہیں ۔میری بات ذرا توجہ سے سنو میں کوئی عالم ہوں نہ ملانہ ہی میرے پاس کوئی معجزہ ہے کہ میں تمہاری اس حالت کو پلک جھپکتے بدل دوں ہاں میں اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ اگر تمہیں اس کیفیت سے نہ نکالا گیا تم اور برگشتہ ہو جاو گے اس لئے سنو فلسفہ اخلاق میں یہ " معمہ"بہت قدیم اور مشہور ہے کہ اگر شر خدا کی مرضی سے موجود ہے تو خدا خیر نہیں ہو سکتا اور اگر وہ خدا کی مرضی کے خلاف ہے تو خدا قادر مطلق نہیں ہو سکتا لفظی طور پر یہ"معمہ"مشکل نظر آتا ہے ،لیکن جب ہم خدا کی بات کرتے ہیں تو اسے اس کی کتاب کی روشنی (قرآن) میں دیکھا جائے تو بڑا آسان ہو جاتا ہے یہ بات ویسے ہی سامنے آگئی ہے اب آتے ہیں تمہارے سوال "خدا کے عادل ہونے"کی طرف ۔سب سے پہلے یہ سمجھ لنا چاہیی کہ خدا نے اپنے لئے قرآن میں لفظ عادل استعمال نہیں کیا ،اس نے جو کچھ کہا اس نے جو کچھ کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے کائنات کے نظم ونسق کے لئے (جس میں انسانی دنیا بھی شامل ہے)کچھ قوانین مقررکر دئیی ہیں ان قوانین میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی لہذا یہاں ہر بات قانون کے مطابق عمل میں آتی ہے اگر عدل کی تعریف یہ ہے کہ جو بات قانون کے مطابق ہو اسے عدل کہا جاتا ہے تو اس اعتبا ر سے آپ خدا کو عادل کہہ سکتے ہیں ۔اس نے تو یہ کہا ہے کہ ظلم پر مبنی نظام کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔
اور اگر تمہارے ذہن میں خدا کے عادل ہونے کا یہ تصور ہے کہ جونہی کوئی شخص جھوٹ بولے اس کی زبان گنگ ہو جائے ،جونہی کوئی کسی کی طرف نطر بد سے دیکھے تو اس کی آنکھ پھوٹ جائے ،جونہی کوئی ظالم کسی کمزور کے خلاف ہاتھ اٹھائے تو اس کا ہاتھ پتھر کا بن جائے ،کوئی بھوکا ہو اور اسے فورابغیر کسی محنت کے کھانا مل جائے ،اگر ایسا ہو تو خدا کو عادل مانا جائے اور اگر ایسا نہ ہو (جیسا کہ ظاہر ہے کہ ایسانہیںہوتا)تو پھر خدا عادل کس طرح کہلا سکتا ہے ،یعنی اگر خدا ہمارے تصور کے مطابق عادل ہو تو اسے عادل کہا جائے اور اگر وہ ہمارے عدل کے تصور پرپورا نہ اترے تو اسے عادل کس طر ح ما ناجائے ؟اب تمہاری اس بات کا جواب کہ ظلم ہوتا کس طرح سے ہے اور اسے خدا روکتا کس طرح ہے ۔اگر معاشرہ کا نظام صیح خطوط پر متشکل ہو تو کوئی کسی پر ظلم نہیں کر سکتا ،اگر کہیں انفرادی طور پر کوئی شخص کسی پر دراز دستی کر بیٹھے تو صیح نظام حکومت اس کا فوری تدارک کر دیتا ہے ظلم ہوتا ہی اس معاشرے میں ہے جو غلط بنیادوں پر استوار ہوتا ہے ،لہذا سوال کسی فرد(ظالم )کے مواخذے کا نہیں اس غلط معاشرے کے مواخذہ کا ہے جس میں ظلم روا رکھا جاتا ہے ۔
اب ہم آتے ہیں اس طرف کہ اس کا حل کیا ہے ،اس کا حل یہ ہے کہ اس غلط کار نظام جس میں ظلم جبر ،ناانصافی عام ہے ،وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہے چند اجارہ داروں نے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں عدم اسحتکام اور بھوک ہے اس غلط نظام کو بدلنے کی کوشش کرنا ہی جہاد ہے ،خدا فردا فردا کسی کی ضرورتیں پوری نہیں کرتا وہ اس کی زمہ داری ریاست اور معاشرے پر ڈلتا ہے کہ وہ ملک میں ایسا عادلانہ قائم کریں جہاں کسی کے ساتھ ظلم وزیادتی نہ ہو اور معاشرہ ہر ایک کی ضرورتیں پوری کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہو رہتا ہے ،لوگ بے خوف وخطر ظلم و زیادتی کرتے ہے تب ہیں جب انہیں مواخذے کا ڈر نہ ہو اور اگر معاشرے کا نظام مظبوط بنیادوں پر قائم ہو اور ریاست اپنی پوری ذمہ داری نبھاتے ہوے ایسا انتظام کرے کہ کوئی بھی شخص قانون کی خلاف ورزی نہیں کرے گا تو اس معاشرے میں کوئی کسی کا استحصال نہیں کر سکے گا ، اب تم یہی دیکھ لو کہ جن معاشروں نے اپنے ہا ں چھوٹے بڑے کے امتیاز ختم کر دئیی ہیں اور وہاں قانوں کی حکمرانی ہے وہاں تمہیں اس طرح کی شکایت کرتے ہوے لوگ نظر نہیں آئیں گے کیونکہ جس مظبوط نظام میں وہ رہتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ اگر کسی نے ہمارے ساتھ زیادتی کی اور ہمارا حق چھینا تو ریاستی نظام فورا حرکت میں آجائے گا اس لئے وہا ں کوئی کسی پر ظلم وزیادتی نہیں کرتا ،کسی کا حق نہیں مارتا ،جھوٹ کو برائی جانتے ہوے سب اس سے نفرت کرتے ہیں ،اس لئے جلنے کڑھنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ،ہر فرد کو جو جہاں ہے اسے صیح بنیادوں پر معاشرے کے قیام کی کو ششوں میں حصہ لینا ہوگا کیونکہ یہ قوم کے نوجوانوں کا فرض ہے ،اور تم بھی یہ سوچ لے کراپنی صلاحیتں اسی مقصد کے لئے صرف کرو ،تمہاری بے چینی اور بے قراری ختم ہو جائے گی ،میری بات کے اختتام پر وہ اٹھا اور ایک اطمینان بھری مسکراہٹ لئے وہاں سے رخصت ہو گیا ۔
Users' Comments (1) |
|
|
28-06-2008 23:15, , Registered Allah jale-shanho, aqueran kareem main fermate hain, jiska mufhoom yeh hai, " Khuda us qoom ki halat kabhee nahin badalta Na ho jisko khiyal khud apni halat ke balane ka" . Hum her lamha zulm dekhtay hain aur khamoosh hain. Mere padoosi ki baitee zalim utha ker le jate hain, ightesab kertay hain aur qatal ker daite hain aur un ke han safe matam bichee hotee hay aur mere han TV per naghme buj rahe hotay hain, English aur indian movies dekhi ja rahe hotee han. Hum ne zalim ko gale laga liya hay, zulm ko tasleem ker liya hay aur zalim ko sharee haq de diya hay. Allah jale shanhu ki sifat main do sifat yeh bhi hain ke woh qadre mutliq hai, yani jo chahta hay so kerta hay, her shakhs ko fardan fardan sunta hay, fardan fardan khana khila sakta hay, usper honay wale zulm ka madawa ker sakta hay, her dako ke hath ko pather ka bana sakta hay, her jhoot bolte wale ki zaban sulb ker sakta hay, her qatil to soli per latka sakta hay, her her beemar ko shafa de sakta hay, her gustakh ko rahe hidayat dikha sakta hai, her faqir ko ghani ker sakta hay aur her shah ko gadagar bana sakta hay. hum ne uski qudrat ki mukhtasir baat ki, ab uski aik aur sift sunat ki baat kertay hain, jahan uski qudrat yeh hay keh kisi beemar ko bughair dawa ke shafayab ker sakta hay, wahan uski sunat yeh hay keh dawa tum khaaow shafa main don ga, dawa main shafa naheen hay. Agar dawa main shafa hotee to her panadol khane wale ka ser ka dard theek ho jata. jisko chahta hay shafa de daita hay aur jisko chahta hay marz main mubtala rekhta hay. Rizq ki zaroorat hay to talash kero, kam kero aur rizq main donga. ghar ko tala laga ker jaao aur phir mere huwale kero, chahonga to hifazat keron ga aur agar naheen chahon ga to naheen. apne ghoray ko baandh ker mere huwale ker do yeh sunat hay aur iski hifazat chahon ga to keron ga aur naheen chaonga to naheen keron ga yeh mere qudrat hay. ab hum ne yeh jaan liya ke khuda us qoom ki halat kabhee naheen badalta na ho jisko khiyal khud apni halat ke badalne ka, dosree yeh bhee jan li keh Allah jale shanhu ki sifat main do sifat uski qudrat ur sunat hain. aaj hum aisee beshumar misalain dekh chuke hain. phillipin ke sadr markoos ki misal, shah-e Iran ki misal, Ayub khan aur Bhutto aur zia ul haq ki misal. In sub ko kis ne fana kiya. Apne zamane ke shah thay aur safha husti se mit gaiey. shah e iran jo khaleej ka sipahi kehlata tha, jub mura to us ki lash dafnane ke lieye 2 gus zameen maiyesar na thee. zameen us ki miyet per tung ker di gaiey thee, aur aakhir kar Egypt ne usko as amanat dafn ke lieye do guz zameen di. Be-shumar aaj aise waqaat humare saamne hain jinka zikr mujhe der hay aik naiya siyasa tanazea khuda ker de ga. Allah jale shanhu ne humain zalim ko zulm se rokne ka hukm diya hay, Jo quwat se rok sakta ho quwat aur taqat se rokay, zulm ke samne khada ho jaaiey, jo taqat se naheen rook sakta zaban se rokay, zulm ke khilaf naura-e haq buland kareaurjo iski taqat bhe naheen rakhta, woh dil se zulm ko bura sumjhay. humain Nusariyun ki terah yeh baat naheen bataaiey gaiey keh agar aik gal per zalim tamancha mary to dosra gal agay kerdo. humain uska haath rokne ko hukm diya gaiya hay. Haath ke badle haath, kaan ke badley kaan naak ke badley naak aur jaan ke badlay jaan ka hukm diya gaiya hay. Laikin aaj hum nafsee nafsee ke marz main mubtala hain. her shakhs apni zaat main gum hay muaashre aur qoom ki kisi ko fiqr naheen hay. mujhe aik shaer yad aaiya: jahane zulm o jo main sub se budhker koon zalim ha jo istabdad ke aagay jhukay ser wohi zalim hay nagoon ser hi jahan main hosla daite hain zalim ko jo buz dil zulm sehtay hain haqeeqat main woh zalim hain aaj humari qoom main kitnay aise loog hain jo zulm ke khilaf awaz utha rahe hain. Leaders ko chhor dain yeh sub mufad prast loog hain. Kiya siyasee leader aur kiya muzhaby leader masiwa chund aik ke( aur yeh izafa main ne is lieye ker diya hay keh kaheen mujh per kufr ka fatwa na luga diya jaaiey) sub ke sub zatee mufadat ke lieye kaam ker rahe hain. loot khusoot ka bazar gurm hai, aur qoom khamoosh tamashaaiey bunee baithee hay. Yeh bhe buda gunag hay, is khamooshee ka qiyamat ke din to jo hisab hoga so hoga, nateejah aaj bhe bhugat rahe hain. Yeh jo her shakhs zulm ki chakki main pis raha hay. behnoon aur baitiyon ka aghwa aur ightesab aur qatal, ghareebo ka isteasal, rishwat khooree, loot khasoot, chori dakay, bemaaree aur berozgaree jaise wabaaieyn aur museebtoon ne humain ghair huwa hay yeh sub humaree be rah ruwee, aur deen se doore and Allah jale shanhu se adam rajooe aur zulm ke khilaf awaz na uthane ka nateeja hain. laikin aisa naheen hay keh muaaz Allh, Allah jale shanhu khamoosh tamashaaiey bunay baithay yeh sub kuchh dekh rahe hain aur hisab kitab qiyamat ke din hi hoga. aisa qataan naheen hay. Allah jale shanhu fermate hain jiska mufhoom yeh hay " Aallh ki russee lambi hay" iska yeh mutlab naheen hai keh bila hudood hay, kaheen khatm naheen hotee, weel zuroor hay, laikin isk end bhi hay, jub end per pohchtee hay to phir faisle hotay hain.aur qadir bhi hay jub chahe faisla ker sakta hay. Is zulm o istebdad, jabro tushadad, qatlo ghart, choree aur dakoon, ghurbat aur aflas, bhook aur tung-dustee, rishwat aur haqqq ki salbee ke hum braber zimadar hain. Hum yeh naura to lagate hain " hum zinda qoom hain" laikin hum amal iske muwafiq naheen kertay. Kaash hum amal iske muwafiq kerne lugain. phir aik shaaer ka izafa keron ga: Utho meri duniya ke ghareebo ko juga do Jo naqshe kuhn tumko nazr aaiey mita do Jis khaliyan se maiyser na ho dehqan ko roti Us khait ke her khosha gundum ko jala do humaree qoom kis terah khamoosh tumaashaaiey bune dekhtee rehte hay aur kul ka mujrim aaj ka hukmran bun jata hai. yeh aik budee hi tulkh haqeeqat hai aur buda hi ghunawna baab hay, kaash muwarakh aur tujziya nagar is haqeeqton se pardah uthaaiyen keh ratoon ko ewanoon, dewanoon, rest houses, parlimentarian houses and cottages, circuit houses main kiya hota hay. kis kis terah ke qumqumay wahn jugmagate hain, kiya kiya khail wahan khaile jaate hain, qoom ne be sherny aur be hayaaiey la libadah audh liya hay, to phir Allah jale-shanhu se kaisa gila ur shikwa. Uska yeh waaeda hay jaise qoom hogee waisa hi salook kiya jaaiey ga. budee qoom per zalim hukmran mussalat ker diya jaaiey ga. Aaow hum sub mil ker Allah jale shanhu ke hazoor asteghfar kerain aur waaeda kerain aik naik insaan bun ker zindage guzarne ka aur koshish kerain naik aemal kernay ka, phir dekhain Allah jale shanhu humare saath kiya kertay hain. |
||
|
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 4506