Like what you see? If you like what you see, please tell a friend or family member about us! It's simple! Just click on the Tell a Friend hotlink below
Nelofar's Jump
وفاقی وزیرسیاحت نیلوفر بختیار نے فرانس میں ”فری فالنگ“ کا مظاہر ہ کر کے ایک نیا ایشو کھڑا کر دیا ہے۔انہوں نے چھاتہ برداروں کے لباس میں مشہور پیراشوٹر کے ذریعے جہاز سے چھلانگ لگائی۔کامیاب فری فالنگ پر ان کے انسٹرکٹر نے انہیں گلے لگا کر مبارکباد دی۔ نیلوفر بختیار کے ”فری فالنگ“ کی تصاویر سامنے آنے پر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے صاحب الرائے خواتین و حضرات نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ایک طبقے کا کہنا ہے کہ نیلوفر بختیار نے فری فالنگ کا مظاہر ہ کرکے اور ایک غیرمسلم سے گلے مل کر اسلامی تشخص کو پامال کیا ہے۔ ڈنڈا بردار طالبات سے شہرت حاصل کرنے والی جامعہ حفصہ کے مفتی نے وفاقی وزیر کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹا کر سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ لاہور کے ایک وکیل نے ا ن کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے وہ اپنے اس غیر اسلامی عمل پر بادشاہی مسجد میں جا کر معافی مانگیں۔ مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی نیلو فر بختیار کے فری فالنگ کو قابل مذمت قرارد یا ہے۔ جبکہ ان کی پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ نیلوفر بختیار نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو خلاف اسلام ہو۔ عمر رسیدہ انسٹر کٹر نے انہیں پدرانہ شفقت کے جذبے کے تحت گلے لگایا۔ خود نیلوفر بختیار بھی اپنے عمل پر کسی قسم کی ندامت محسوس نہیں کرتیں ۔ ان کا کہنا ہے انہوں نے فری فالنگ زلزلہ زدگان کی امداد کی غرض سے کی۔ مستقبل میں بھی انہیں ایسا کرنا پڑا تو کریں گی۔ انہوں نے کہا وہ کسی نام نہاد شریعت عدالت کے فتویٰ کو نہیں مانتیں۔ اور نہ ہی اللہ کے سوا کسی سے ڈرتی ہیں۔
Views: 4963