| Attock College Hostel |
|
|
|
![]() اٹک گورنمنٹ کالج کی عمارت موجود مگر طلبہ اس میں رہ نہیں سکتے |
گورنمنٹ کالج کی عمارت موجود ہے مگر اسے مخدوش قرار دے کر بند کر دیا گیا ہے۔ نئی عمارت کے لیے رقم مختص کی جاچکی ہے لیکن اس کی تعمیر شروع نہیں ہو سکی۔ اس صورت حال میں کالج کے طلباء انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔
گورنمنٹ ڈگری کالج اٹک کے ہاسٹل تقریباً دو سال سے بند پڑے ہیں اور وہاں کے درجنوں طالب علم بھاری اخراجات پر شہر میں پھیلے ہوئے گیسٹ ہاؤسوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
![]() ہاسٹل نہ ہونے کی وجہ سے طالب علم سستے ہوٹلوں میں کھانے پر مجبور |
کالج کے پرنسپل کا کہنا تھا کہ کالج کا پرانا ہاسٹل انیس سو بائیس میں بنا تھا اور اب رہنے کے لیے ٹھیک نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نیو ہاسٹل انیس سو ستر میں بنا تھا لیکن وہ بھی رہنے کے قابل نہیں۔
تاہم کالج کے موجودہ اور سابق طالب علم اس وضاحت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ وہ ہاسٹلوں کی بندش کے لیے ضلعی سیاست کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کچھ ناپسندیدہ افراد ہاسٹل میں مداخلت کرتے تھے جس کی وجہ سے جھگڑا ہوا اور ہاسٹل بند ہو گئے۔
کالج کے پرنسپل نے بتایا کہ ہاسٹل سن دو ہزار تین کے موسم گرما میں بند ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال دسمبر تک ہاسٹل کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
![]() اٹک کالج کا ہاسٹل بند ہونے کے باعث طالب علم پرائیوٹ ہاسٹلوں میں رہنے پر مجبور |
یہ پلازے بعض اوقات ورکشاپوں میں گھرے ہوئے ہیں اور سڑک پر چلنے والی ٹریفک کے شور میں وہاں کسی قسم کی پڑھائی ممکن نہیں۔
ملک پلازہ کی چھت پر کرکٹ کھیلنے والے طالب علموں ندیم احمد اور محمد علی خان نے بتایا کہ ان کا تعلق چھب سے ہے جو اٹک سے ڈھائی گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے ماہانہ اخراجات ڈھائی ہزار روپے کے قریب ہیں۔
ویلکم پلازہ میں رہنے والے طالب علم محمد قاسم نے بتایا کہ یہاں لوگ تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور ہر کوئی ایک ہی بچے کو پڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاسٹل میں اخراجات گیارہ سو کے قریب ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اب امتحانات کی تیاری کی کوئی جگہ نہیں۔
ملک پلازہ کے قریب ہی ایک گندہ سا ہوٹل ہےجہاں کئی طالب علم کھانا کھا رہے تھے اور کرکٹ میچ دیکھ رہے تھے۔
ان میں سے ایک محمد اکبر نے کہا کہ اگر اس وقت ان کو ایک چیز تبدیل کرنے کا اختیار دیا جائے تو وہ گورنمنٹ کالج کے ہاسٹل کھلوا دیں۔
انہوں نے کہا وہ پڑھنے کے لیے کالج کے لان میں درختوں کے سائے میں بیٹھتے تھے وہ بھی کٹوا دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پڑھائی کے لیے ہاکی سٹیڈیم بھی جاتے ہیں۔
محمد قاسم نے کہا کہ گھر والوں کو اچھا رزلٹ نہ ملنے پر تکلیف ہوتی ہے لیکن انہیں یہ نہیں سمجھایا جا سکتا کہ کالج میں حالات کیا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کالج کے ہاسٹل میں ایک تحفظ کا احساس ہوتا ہے لیکن ہوٹلوں میں نشہ فروخت کرنے والے افراد بھی آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے نئے آنے والے لڑکے بری عادات میں پڑ جاتے ہیں۔
ضلع میں تعلیم کی عمومی صورتحال کے بارے میں محمد اکبر نے بتایا کہ میٹرک پاس کرنے والے افراد میں سے پانچ فیصد لوگ کالج تا پہنچتے ہیں۔
محمد قاسم نے بتایا کہ دسویں میں ان کی جماعت میں ساٹھ لڑکے تھے جن میں سے صرف تین کالج تک پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے لڑکوں کے نمبر اچھے نہیں آئے اور باقی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
mXcomment 1.0.6 © 2007-2008 - visualclinic.fr
License Creative Commons - Some rights reserved
| < Prev | Next > |
|---|















(0 vote)
Views: 232