Nov
23
2008
Today
It's not hard to find own blood PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 

 Source : http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/07/070716_shahid_usman_father_zs.shtml

عثمان شاہ
میرے بیٹے کا تعلق کسی بھی شدت پسند تنظیم سے نہیں ہے

لال مسجد آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے شاہد عثمان کے والد سید عثمان شاہ کا کہنا ہے کہ اُنہیں اپنے بیٹے کی ہلاکت سے زیادہ افسوس اس بات کا ہوا کہ اُن کے بیٹے کی تصویر اخبار میں یہ کہہ کر شائع کی گئی کہ وہ ایک غیر ملکی ہیں۔

حکومت کی جانب سے اخبارات میں لال مسجد کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے چند افراد کی تصاویر یہ کہہ کر شائع کی گئی تھیں کہ یہ مسجد میں موجود غیر ملکی شدت پسند ہیں۔انہی میں سے ایک تصویر کے بارے میں ضلع اٹک کے مضافاتی گاؤں شکردرہ کے سید عثمان شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے شاہد عثمان کی ہے۔

سید عثمان کا کہنا تھا کہ جب لوگوں نے اُنہیں یہ تصویر لا کر دکھائی تو اُنہوں نے اور اُن کی اہلیہ نے فورًا یہ تصویر پہچان لی۔ ان کا کہنا تھا ’اگرچہ اپنے خون کو پہچاننے میں دیر نہیں لگتی، لیکن شاہد عثمان جو کپڑے گھر سے پہن کر گیا تھا تصویر میں وہی کپڑے پہن رکھے تھے اور سر پر ٹوپی بھی وہی پہن رکھی تھی‘۔

لوگوں کی جانب سے پہنائے جانے والے پھولوں کے ہار پہنے لال مسجد آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے بیٹے شاہد عثمان کے لیے جہاں دعائے مغفرت کرتے نظر آتے ہیں وہیں اُن کے اپنے گاؤں اور اردگرد کے لوگ اُنہیں بیٹے کی’شہادت‘ پر مبارکباد بھی دیتے نظر آتے ہیں۔

’ہمارے بھائی کی خواہش تھی کہ وہ شہید ہو اور اللہ نے اُس کی بات سُنی‘

سید عثمان شاہ کے گھر آنے والے اکثر لوگ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے نظر آئے کہ اس ملک میں اینٹیلیجنس ادارے یہ بھی پتہ چلانے سے قاصر ہیں کہ کون ملکی ہے اور کون غیر ملکی۔

شاہد عثمان کے والد کا کہنا تھا کہ اُن کے بیٹے کا تعلق کسی بھی شدت پسند تنظیم سے نہیں ہے اور وہ ایک سال پہلے ہی قرآن حفظ کرنے کے لیے گیا تھا۔

لال مسجد میں آپریشن کے دوران شاہد عثمان تو مارےگئے تاہم اُُن کے چھوٹا بھائی سید صفی اللہ زخمی حالت میں اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اور اس حوالے سے اُن کے والد کا کہنا ہے اُنہیں اپنے بیٹے سے ملنے نہیں دیا جا رہا اور صرف اُن کی اہلیہ کو چند لمحوں کے لیے اپنے بیٹے سے ملنے دیا گیا۔

شاہد عثمان کے چھوٹے بھائی محمد شعیب کا کہنا تھا کہ چھ جولائی کو جمعہ کے دن آخری بار اُن کی اپنے بھائی سے ٹیلی فون پر بات ہوئی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’حکومت ہمیں ختم کرنا چاہتی ہے اس لیے مجھے معاف کر دینا اور باقی دوستوں سے بھی کہنا کہ وہ معاف کر دیں اور یہ کہ انہوں نے محلے کے ایک دوکاندار کے پچیس روپے دینے ہیں وہ واپس کر دوں اور پھر کہا کہ زیادہ بات نہیں ہو سکتی کیونکہ بجلی نہ ہونے کے باعث موبائل فون کی بیٹری ختم ہو رہی ہے اور دوسرے ساتھیوں نے بھی گھر بات کرنی ہے‘۔

حکومت اس تصویر کو ازبک جنگجو کی تصویر بتاتی ہے جبکہ عثمان شاہد کے ورثاء کے مطابق یہ ان کے بیٹے کی تصویر ہے۔

ہلاک ہونے والے شاہد عثمان کے والد اور دونوں چھوٹے بھائیوں کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بھائی کی خواہش تھی کہ وہ شہید ہو اور اللہ نے اُس کی بات سُنی اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے‘۔شاہد عثمان کے والد کا کہنا ہے اُنہوں نے یہ معاملہ خدا کے سپرد کر دیا ہے اور وہی اس فیصلہ کرے گا۔

حکومت نے پہلے چار لاشوں کی تصاویر شائع کر کے کہا تھا کہ یہ غیرملکی ہیں اور بعد میں وزراتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے دعوٰی کیا تھا کہ شاخت کی جانے والی لاشوں میں سے دس غیر ملکیوں کی ہیں۔

 



18-07-2007 21:29 BBC Urdu
This entry was posted on 18-07-2007 21:29. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 17 time. You can leave a comment.
Views: 5560    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >