Jul
06
2008
Today
 .

Hijri Date


Member Login

Attock News Video

 Daily Cartoon

Attock News Funny SMS

 Attock Urdu News

guest book

Attock Forum

WEB Links

Attock Poll

Do you think recent suicide blasts are a reaction against Lal Masjid operation?

Attock Weather

Attock
24°C

Tell a Friend

Like what you see? If you like what you see, please tell a friend or family member about us! It's simple! Just click on the Tell a Friend hotlink below

Govt. is not handing over dead body PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 


Source: http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/07/070717_cheema_foriegner_sen.shtml 

شاہد عثمان
’ہمیں اپنے بھائی کی شہادت پر فخر ہے کیونکہ یہ ایک اچھی موت ہے‘

لال مسجد آپریشن میں ہلاکت کے بعد حکومت کی جانب سے غیر ملکی قرار دیے جانے والے شاہد عثمان کی والدہ کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال ان کے بیٹے کی لاش نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کی لال مسجد آپریشن میں زخمی ہونے والے ان کے دوسرے بیٹے سے تفصیلی ملاقات کروائی گئی ہے۔

اٹک کے مضافاتی گاؤں شکردرہ سے تعلق رکھنے والی حنفیہ بی بی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ وہ تین چار دن سے لاش کی تلاش میں اسلام میں واقع جناح سٹیڈیم کے مسلسل چکر لگا رہی ہیں لیکن اُنہیں اپنے بیٹے کی میت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل رہا۔

ادھر وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر جاوید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ لال مسجد آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے دس کو ان کے خدوخال کی بناء پر غیر ملکی قرار دیا گیا تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومت کے پاس ان افراد کے بارے میں کوئی حتمی معلومات نہیں تھیں۔

بریگیڈئر چیمہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن افراد کی تصاویر شائع کی گئی ہیں، اگر وہ پاکستانی ہیں تو ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ان کی لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی جائیں گی۔

شاہد عثمان کی والدہ حنفیہ بی بی کا کہنا تھا کہ انہیں اسلام آباد کے ایک تھانے میں تصاویر اور فلم دکھائی گئی لیکن اُن کے بیٹے کی اُس میں کوئی تصویر نہیں تھی۔ حنیفہ بی بی نے بتایا کہ اُنہوں نے اور اُن کے شوہر نے مزید جانچ پڑتال کے لیے خون کے ٹیسٹ دیے ہیں جن کے بارے میں حُکام کا کہنا ہے تئیس جولائی کو رزلٹ آئے گا

۔

اٹک کے محمد اکثر کو بھی حکومت کی جانب سے غیر ملکی دہشتگرد قرار دیا گیا ہے

حنفیہ بی بی کے ساتھ آنے والی اُن کی بیٹی عارفہ بی بی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے بھائی کی شہادت پر فخر ہے کیونکہ یہ ایک اچھی موت ہے، دکھ اس بات کا ہے کہ اُسے غیر ملکی کہا جا رہا ہے‘۔

حنفیہ بی بی کا کہنا تھا کہ اُنہیں دو بار اپنے زخمی بیٹے صفی اللہ شاہ سے اسلام آباد کے ہسپتال میں ملنے دیا گیا اور جب وہ پہلی دفعہ صفی اللہ سے ملیں تو اُس کے ایک پاؤں میں بیڑی تھی لیکن گزشتہ روز کی ملاقات میں تو ان کے بیٹے کے پاؤں میں بیڑی نہیں تھی۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ اُنہیں بس چند منٹ کے لیے ہی اپنے بیٹے سے ملنے دیا گیا ہے۔

حنفیہ بی بی کے علاوہ کئی اور والدین اب بھی حکومت کی جانب سے معلومات کے حصول کے لیے جناح سٹیڈیم میں لگائے جانے والے کیمپ میں روزانہ آ رہے ہیں۔کیمپ کے انچارج چوہدری اصغر علی کا کہنا ہے کہ اب تک سنتالیس لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے خون کے نمونے لیے گئے ہیں اور اس ٹیسٹ میں دو ہفتے لگتے ہیں۔

سنتالیس لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے خون کے نمونے لیے گئے ہیں

چوہدری اصغر علی کا کہنا تھا کہ وہ تو صرف اُنہیں لوگوں کے بارے میں بتا سکتے ہیں جو یا تو جیل میں بند ہیں اور یا ہسپتالوں میں ہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ اب صرف ایک سو اسی کے قریب لوگ اڈیالہ جیل میں ہیں باقی سب کو رہا کر دیا گیا ہے۔ حکومتی اعدادو شمار کے مطابق اب تک پانچ سو لوگوں کو رہا کیا گیا ہے جن میں سے اٹھائیس خواتین شامل ہیں۔

حکومت کی جانب سے اب تک غیر ملکی قرار دیے جانے والے چار طلباء کے بارے میں اُن کے والدین یہ دعوی کر چُکے ہیں کہ اخبارات میں غیر ملکی ہونے کے حوالے سے چھپنے والی تصاویر اُن کے بچوں کی ہیں۔

ان میں سے شاہد عثمان اور محمد اکثر کا تعلق اٹک جبکہ محمد عمر نامی طالبلعم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اُن کا تعلق کہوٹہ سے ہے۔ اخبارات میں چھپنے والی ایک اور تصویر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے زین اللہ کی ہے۔

18-07-2007 20:21 BBC Urdu
Quote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.us
This entry was posted on 18-07-2007 20:21. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 16 time. You can leave a comment. Tags: lsquo, rsquo, . Last update on 05-06-2008 18:00
Views: 4558    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >