Your Favorite GSM Service ?
Attock
6°C
دہشت گردی کا خاتمہ اور طالبان
 
حضرت عثمان کا قول ہے کہ افسوس ہے کہ چار ٹانگوں والا جانور اپنے مالک کو پہچان لیتا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ اشرف المخلوقات کا درجہ رکھنے والا اپنے مالک کو فراموش کرچکا ہے۔خود کش بمباری اور دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں نے پورے ملک کو خاک و خون میں نہلادیا۔خود کش بمبار اتنے خود سر ہوچکے ہیں کہ وہ اب ملک کے سربراہوں سے لیکر بیوروکریٹوں تک اور فوجی جوانوں سے لیکر عام ادمیوں کو کہیں بھی نشانہ بنا نے کا دقیقہ برداشت نہیں کرتے ۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی ایجنسیاں خود کش حملوں کا توڑ کرنے میں نامراد ہوگئیں۔اب سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شاہی پیادوں اور سرکاری منصوبہ بازوں نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہمارے ہاں دہشت گردی کی تازہ فصل کیوں لہلہا اٹھی؟کیا خود کش حملوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور کیا افغانستان اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالبان ہی ایسی گھناونی وارداتوں کے زمہ دار ہیں؟پاکستان نے نائن الیون کے بعدامریکہ کی بڑی شد مد اور پرجوش انداز میں حمایت کی تھی۔امریکی دوستوں کو خوش کرنے کے لئے ہم نے اپنے ہی بھائیوں و ہم وطنوں پر بارود کی بوچھاڑ کردی۔عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے عوض ہم نے ہزاروں قبائلیوں کو بے خانماں بے سائباں کردیا اور ہزاروں گھروں کو مسمار کیا مدارس پر گولہ باری کی بچوں کے چیتھڑے اڑائے۔پاکستانی فوجوں اور قبائلی مجاہدوں نے ایک دوسرے کا جی بھر کر خون بہایا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ماضی میں جن مجاہدین کی ساخت پرداخت کرے انہیں اسلام کا ہیرو بنا یا گیا انہی کے گلے میں ہم نے انتہاپسندی کا ہار پہنایا اور انکی نسلی کشی شروع کردی۔ہمیں تسلیم کرنا چاہیی کہ جنرل مشرف کے دور میں ریاستی تشدد کا وحشیانہ استعمال کیا گیا۔ریاستی تشدد کو ریاستی یا سرکاری دہشت گردی کا نام دینا بے جا نہ ہوگا ۔یہ وہ قوت ہے جو طاقتور حکومتیں کمزور ملکوں کو زیر کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔جن ممالک میں ریاستی دہشت گردی کا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے وہاں کمزور یا نظریاتی تفاوت رکھنے والے مخالفین کی بات پر کان دھرنے کی بجائے انہیں سفاکانہ طور پر کچلا جاتا ہے۔نائن الیون کے فوری بعد امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کردی۔پورا ملک تباہ و برباد ہوگیا۔ہر طرف اگ و خون کے جکھڑ چلنے لگے۔کابل میں امریکہ کی ریاستی دہشت گردی بھوک و ننگ کا خنجر لے کر افغان بستیوں اور شہروں میں گھس گئی۔افغان بچوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین لیا گیا۔افغانستان کے لاکھوں ہنستے بستے گھر ماتم کدوں کا روپ دھار گئے۔خوشحال زندگی گزارنے والے غیروں کے دست نگر بن گئے۔دہشت گردی صرف گولیاں یا میزائل چلا کر زندگی کے چراغ کو بجھانے کا عمل نہیں ہے بلکہ بھوک بھی سفاک دہشت گردی ہے جو انسان کا معدہ ادھیڑ اور انتوں کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے۔امریکہ نے افغانستان اور مشرفی فوج نے قبائلی علاقوں پر اتش و اہن کی بارش کردی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قبائلی اور افغانی بھی سربکف ہوکر امریکہ اور پاک فورس کے خلاف سربکف ہوکر اتش نمرود میں کود گئے۔مشرف دور میں ہم نے مذاکرات کی میزیں اٹھالیں۔اور یہ سوچنے لگے کہ ہم قوت کے بل بوتے پر عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے لیکن مشرفان کو شائد یہ پتہ نہ تھا کہ صرف بم برسانے اور بارود کے قالین بچھادینے سے کسی کی ازادی سلب نہیں کی جاسکتی۔مشرف نے امریکی شفقت کو اپنی امریت کی طوالت کے لئے استعمال کیا۔افغانستان کو جس بے دردی سے کچلا گیا اس کی کچھ زمہ داری ہم پر بھی عائد ہوتی ہے۔یہ ہماری فضائیں اور ہوائیں تھیں جن میں سے امریکی طیارے گزر کر افغانستان پر موت کی برسات برساتے۔ہمارے زمینی راستے اور سڑکیں جارح امریکی فوجیوں کے لئے خوراک اور اسلحے کی بروقت فراہمی کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔طالبان کو کچلنے اور ملا سلام ایسے باکردار افغانیوں کو امریکہ کے حوالے کرکے حکمران اشرافیہ نے اربوں ڈالر کی خیرات لی ۔یوں مشرفی ٹولے نے خون مسلم کی باقاعدہ تجارت کی۔دہشت گردی اگ و خون کا عفریت بن کر افغانستان سے قبائلی علاقوں اور پھر وہاں سے اسلام اباد کے سبزہ زاروں اور کراچی کے مرغزاروں تک پہنچ چکی ہے۔پچھلے دو چار ماہ میں خوکش بمباری کی اگ میں راکھ ہوجانے والے ورثا کی بے نور انکھیں ہر کسی سے سوال کرتی نظر اتی ہیں کہ غیروں کی خوشنودی کے لئے لڑی جانے والی جنگ میں ہم اپنے اپکو جھلسا رہے ہیں؟ دہشت گردی کی اس جنگ کے اتش و فشاں کو گلستانوں میں بدلنے کے لئے اس اگ کو بجھایا کیوں نہیں جاتا۔دہشت گردی کی امریکی جنگ جسے مشرفی مریدین نے اپنے عرصہ اقتدار کو سدا بہار بنانے اور ڈالر اینٹھنے کے لئے شروع کیا تھا وہ اب ہمارے گلے کا پھندہ بن گئی ہے۔وائٹ ہاوس کی پرتشش کرتے ہوئے سابقہ اشرافی قبیلے نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کو ایک ایسی جنگ کا یندھن بنادیا جو نہ تو ہماری تھی اور نہ ہی قبائلیوں کی۔یہ تو امریکی صدر بش کی انا و ہٹ دھرمی اور سامراجی مفادات کے حصول کی جنگ ہے۔یہ تو صلیبیوں اور صہیونیوں کی مکارانہ سوچ کا مظہر ہے جس کے عوض انہوں نے پاکستان کو جوہری قوت سے تہی داماں کرنے اسرائیل کو مڈل ایسٹ کا چوہدری بنانے اور خلیج کے معدنی وسائل کو ہڑپ کرنا تھا اور المیہ تو یہ ہے کہ اس جنگ کی اگ نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔امریکہ کے خلاف نازیوں پر مظالم کی بھرمار کرنے کے جرم میں6 اگست1954 میں نیور مبرگ نامی جیوری نے عالمی عدالت انصاف کی منظوری پر مقدمہ قائم کیا تھا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے دور حاظر کے باضمیر مفکر نوم چومسکی نے کہا تھا کہ اگر عالمی عدالت انصاف امریکی جرائم کی پاداش میں ایک دفعہ پھر نیور مبرگ ٹائپ عدالت لگائے تو انیس سو پچاس کے بعد تمام امریکی صدور کو سزائے موت کی سزا ہوگی۔صدیوں سے گوریلا جنگ کے ماہرین کا استدلال ہے کہ بیس کیمپ کو مضبوبط بنائے بغیر گوریلا جنگ نہیں لڑی جاتی۔طالبان کے حقیقی مصور جلال الدین حقانی ہی ہیں جنہوں نے وزیرستان میں کئی مرتبہ امن معاہدے کروانے کے لئے پاکستان کی مدد کی ۔لیکن پاکستان کو خون میں نہلانے والے پاکستانی طالبان ملا عمر کے راستے اور طریقہ جنگ سے انحراف کررہے ہیں۔ جس سے تجزیہ نگاروں کے اس فلسفے کو تقویت ملتی ہے پاکستان پر خود کش حملوں کی خونخوار برسات کرنے والے ملا عمر کے پیروکار نہیں ہوسکتے۔ میڈیا میں ملا عمر کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں ہونے والی جنگ و جدال اور پاکستان میں ہونے والے خود کش حملوں پر رنجیدہ خاطر ہیں۔ ۔ملا عمر کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جو کھیل کھیلا جارہا ہے اسکے تانے بانے واشنگٹن اور نیو دہلی میں بنے جاتے ہیں علاوہ ازیں فاٹا میں کئی جہادی گروپ منظرعام پر اچکے ہیں۔ سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کمانڈر محسود اور ہم خیال گروپ ان عناصر کو کیوں راندہ درگاہ بنا رہے ہیں جنہوں نے ہمیشہ نیٹو فورسز کے خلاف پنجہ ازمائی کی ہے۔امریکہ نے اپنے مخصوص طریقوں سے جہادی گروپوں کو ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے لئے گروہوں میں تقسیم کردیا ہے۔ جسکا ثبوت یہ ہے کہ مہمند ایجنسی میں شاہ خالد نامی جہادی گروپ ملا عمر کا پروردہ ہے۔دوماہ قبل کمانڈر ولی اللہ نامی غیر معروف گروپ نے شاہ خالد گروپ کے بیس کیمپ پر حملہ کرکے اسے ہلاک کردیا۔ملا عمر کو اس سانحہ پر شدید کرب سے دوچار ہونا پڑا۔پاکستانی طالبان صرف پرو پاکستان گروہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔یہ اجڈ قسم کے جنونی نہ تو مذہبی روایات اور قبائلی قوانین کی پاسداری کرتے ہیں اور نہ ہی کسی پشتون تہذیب سے اشنائی رکھتے ہیں۔اور یہ سچ بھی عیاں ہے کہ امریکی معاونت کے زیر سایہ پروان چڑھنے والے مغرب الصوات گروپ تحریک ازادی افغانستان کے قلعوں کو زمین بوس کررہے ہیں۔ کیونکہ اگر طالبان پاکستانی عوام کی شفقتوں محبتوں سے محروم ہوجاتے ہیں تو پھر کسی بھی صورت ازادی افغانستان کا سپنا پورا نہیں ہوسکتا۔ادھر جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ملانزیر کا تعلق ان جہادیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے افغانستان کے ریگزاروں اور بے اب و گیاہ صحرواوں میں کئی معرے اور مورچے فتح کئے۔خیبر ایجنسی میں حاجی نامدار کو بیدردی سے ہلاک کردیا۔یہ وہ سالار ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کو اپنا محسن جانا۔اور اب یہی گروہ بیت اللہ محسود کے نشانے پر ہیں۔پٹھانوں کی روایت ہے کہ کوئی پشتون عورت یا بچے پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتا۔لیکن ان درندوں نے بچوں بیٹیوں اور ماوں بہنوں کو ہلاک کیا ہے۔افغانی طالبان کی کوتاہ اندیشی خامیاں غلطیاں ادہشت پنی جگہ لیکن پنجاب کے گلستانوں اور سرحد کے کوہساروں میں خون کی ہولیاں بہانے والے عسکریت پسند انکا حصہ قطی نہیں۔دہشت گرودوں کے خلاف کام کرنے والے ارباب اختیار کو انتہاپسندوں کو اگر مگر چناچہ اور چونکہ کی رعایت دینے والے اس فلسفے کو جتنا جلدی ہوسکے سمجھنے کی کوشش کریں۔پاکستان کے گلی کوچوں سڑکوں مارکیٹوں میں مسلمانوں کو خود کش بمباری کی صلیب پر چڑھانے والے عقل و شعور سے عاری ہیں کیونکہ وہ خدائی احکامات سے روگردانی کرنے خون انسانیت بہارہے ہیں۔حضرت عثمان نے شائد ایسے ظالموں اور جابروں کے متعلق کہا ہو کہ چار ٹانگوں والا جانور اپنے مالک کو پہچان لیتا ہے لیکن اشرف المخلوقات کے تخت پر جلوہ گر انسان و مسلمان تو جانوروں سے بدتر ہیں کیونکہ وہ خدا اور دین سے یکسر منہ منوڑ چکے۔ اور خدا کی بنائی ہوئی مخلوق کا نا حق خون بہا رہے ہیں۔پی پی کی سرکار قوت کے استعمال کی بجائے دوبارہ مذاکرات کی میز استعمال کرے۔حکمرانوں سے لیکر صاحبان اقتدار تک اور علمائے دین سے سے لیکر خودکش بمباروں اور عسکریت پسندوں کو حضرت محمد کے اس بصیرت افروز فرمان پر غور و فکر کرنا چاہیی۔حضرت محمد نے کہا تھا جس نے اپنے مسلمان بھائی کی ابرو بچائی اور اسکی حمایت کی تو بروز جزا اللہ تعالی ایسے لوگوں کے منہ سے دوزخ کی اگ دور کرلے گا۔رب العالمین نے مسلمان بھائی کی ابرو کی حمایت کرنے پر مسلمانوں کو جہنم کی اگ سے بچانے کی بشارت دی ہے اور ہمیں یہ پیش نظر رکھنا چاہیی کہ کسی مسلمان کی زندگی کو بچانے کی پاداش پر انسانوں کا خدا کے نذدیک کیا رتبہ ہوگا۔
24-09-2008 01:00 Rauf Amir
Quote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.us
This entry was posted on 24-09-2008 01:00. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 7 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 24-09-2008 01:00
Views: 318
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
Available characters: 600
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

2007-2009
< Prev   Next >