پاکستان کے حالات پر بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی تشو
میرے
بہت سارے قارئین جن کا تعلق پوری دنیا سے ہے ،پاکستان کی موجودہ صور ت حال
پر متفکر دکھائی دیتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ پاکستان جس دلدل میں دھنس
چکا ہے اس سے نکلنے کی سبیل کیا ہے ،میریٹ ہوٹل میں ہو نے والے بم دھماکے
کے بعد سے تو لوگوں میں بہت زیادہ فکر مندی پائی جا رہی ہے ، آج کا کالم
اس قرض کی ادائیگی ہے جو شائد میں کبھی بھی ادا نہیں کر پائوں گا اس لئے
کہ جو لوگ آپ سے محبت کرتے ہوں آپ کی تحریروں کو جلا بخشتے ہوں جو آپ
کے لفظوں کو زندگی عطا کرتے ہوں ان کی محبت اور چاہت کا قرض ادا کیا ہی
نہیں جا سکتا ۔پاکستانی خوا ہ کسی بھی ملک یا خطے میں جا بسیں کاروبار
کریں یا تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے وہاں مقیم ہوں ان کے دل پاکستان کے لئے
ہی دھڑکتے ہیں اور ان کا ہر لمحہ پاکستان کی بقا اور بہتری کے لئے ہی صرف
ہوتا ہے اور وہ پاکستان کے لئے متفکر ہی دکھائی دیتے ہیں اگر دیکھا جائے
تو بیرون ملک بسنے والے تمام پاکستانی پاکستان کے سفیر ہیں یہ لوگ کن
مشکلوں اور مصیبتوں میں ہوتے ہیں اس کا اندازہ ہمیں نہیں ہو سکتا مگر اس
کے باوجود پاکستان کے حالات سے نہ صرف با خبر رہتے ہیں بلکہ اس کی تعمیر و
ترقی کے لئے جو ان سے ممکن ہو سکتا ہے وہ وہاں بیٹھ کر کرتے رہتے ہیں
،پاکستان میں ہونے والے حالیہ واقعات نے بیروں ملک مقیم پاکستنیوں کو سخت
تشویش سے مبتلا کر رکھا ہے جس کا اظہار وہ گاہے کرتے رہتے ہیں میرے ایک
حالیہ لکھے گئے کالم پر مختلف ملکوں میں مقیم پاکستانیوں نے اپنے ردعمل کا
اظہار کرتے ہوئے ملک میں ہونے والے خود کش حملوں پر سخت تشویش کا اظہار
کیا ہے۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے ارشاد صاحب،لندن سے رمی خان، چائنہ سے
واجد پیر زادہ جن کا تعلق کراچی سے ہے اور آجکل بیجنگ میں کاروبار کر رہے
ہیں یہ وہاں پر تقریباً گزشتہ تیس سال سے مقیم ہیں لیکن پاکستان کے لئے
بہت فکر مند رہتے ہیں، دبئی سے حنیف صاحب جو ملتان کے رہنے والے ہیں
،امریکہ سے ڈاکٹر علی اکبر اعوان جو لاہور کے رہنے والے ہیں ،سعودی عرب سے
محمد جمیل جن کا تعلق انڈیا کے شہر لکھئنو سے ہے ،سعودی عرب سے ہی سیما
سمرن،دبئی سے مسز گنتارہ،اور کوثر پروین کے علاوہ لندن سے شاکر قریشی صاحب
جو خود بھی ایک اچھے کالم نگار ہیں میری حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں مگر
اس بار یہ تمام احباب کافی فکر مند دکھائی دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ
پاکستان میں لگی ہوئی آگ کا کوئی حل بھی ہے یا یہ ملک یونہی جلتا رہے گا
اس طرح کے سوالوں کے جواب عمومًا دینا مشکل ہوتے ہیں لیکن کیا کیا جائے
جواب تو ڈھونڈنا ہی پڑے گا اور اگر جواب نہ ڈھونڈا گیا تو ہم تاریخ کے
اوراق پر ایک سوال بن کر ہی رہ جائیں گے جس کا جواب آنے والا مورخ اپنے
حساب سے دے گا ۔ اب ہمیں خود بھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا اسلام کے نام پر
فتنہ و فساد پھیلانے والوں کو یونہی کھلی چھٹی دیی رکھی جا ئے کہ وہ جو
مرضی کرتے پھریں معصوم انسانوں کو بے گناہ قتل کرتے پھریں ،ان کی حرکتوں
کو دیکھا جائے جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں تو واضع طور پر نظر آتا ہے کہ یہ
لوگ اسلام کے بھی دشمن ہیں اور انسانیت کے بھی،اس سوال کا جواب کسی ایک
بندے کے پاس نہیں ہو سکتا اس کا جواب تو ہم سب کو ڈھونڈنا ہی نہیں اس کا
حل بھی تلاش کرنا ہے اور اس کا ایک حل تو یہ ہے جس طرح یہ لوگ اپنی مذموم
کاروائیوں کے ذریعے ملک کی اقتصادی ،معاشی اور سماجی تباہی کے درپے ہیں
ایسے ہی ان کا بھی معا شی ،سماجی اور اقتصادی طور پر ہر سطح پر بائیکاٹ
کیا جائے جہاد کے نام پر چندے نہ دئے جائیں،مذہب کے نام پر جو جگہ جگہ
دوکانے سجائے بیٹھے ہیں انہیں معاشرتی طور پر ڈسکرج کیا جائے ،اسلام امن و
سلامتی اور محبت کے فروغ کا دین ہے اسلام دنیا کا واحد دین ہے جو تمام
انسانیت کے دکھوں اور تکلیفوں اور ان کے حل کی بات کرتا ہے لیکن یہ لوگ تو
کھلی غنڈہ گردی اور بدمعاشی پر اتر آئے ہیں چندہ بھتے کی طرز پر وصول
کرنے کی خبریں عام ہیں اور جو کوئی ان کے خلاف بات کرئے اسے مارنے کی
دھمکیاں دی جاتی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اس نازک موقعے پر پوری قوم اس
ذہنیت کے خلاف نہ صرف آواز بلند کرے بلکہ متحد ہو کر مقابلہ کرئے اگر قوم
نے اب بھی اس بات کا احساس نہ کیا اور ان کی حمائیت اور مدد جاری رکھی تو
وہ دن دور نہیں جب یہاں ہر طرف ویرانی کا راج ہو گا نہ کوئی کاربار ہو گا
اور نہ ہی کاروباری سرگرمیاں جو ان کی حرکتوں کے بعد رفتہ رفتہ ختم ہو تی
جا رہی ہیں ،ہمارے ملک میں بیرونی سرمایہ کا ر آنے سے کترانے لگے ہیں اور
جو یہاں پر موجود ہیں وہ بھاگنے کی تیاری کر رہے ہیں،بیرون ملک پاکستانیوں
کو بھی چاہیی کہ وہ اس ذہنیت کی کسی طور اور کسی طرح کی بھی مدد نہ کریں
کیونکہ انہیں جو پیسہ دیا جاتا ہے وہ اس سے اسلحہ اور بارود خرید کر ہمارے
ہی بھائی بندوںپر استعمال کررہے ہیں ،یہ باتیں بھی اب کوئی راز نہیں رہیں
کہ پاکستان کے اندر جتنے گروہ جہادی سرگر میوں میں مصروف ہیں ان کی اکثریت
پاکستان دشمن ملکوں کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے انہیں جدید ٹرینگ
اسلحہ اور وافر پیسہ ان سے مل رہا ہے جس سے یہ پاکستان کے خلاف کام کر رہے
ہیں مذہب کا لبادئے میں یہ لوگ ملک دشمن قوتوں کے لئے کام کر رہے ہیں ۔ حکومت
کو بھی چاہیی کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کے نیٹ ورک کو فعال کرے اور مذہب کے نام
پر چندہ اکٹھا کرنے والوں کا احساب کتاب چیک کریں کیونکہ جتنا پیسہ یہ لوگ
اکٹھا کرتے ہیں اور معاشرہ بھی ہنسی خوشی انہیں دیتا ہے اگر اس پیسے
کو صیح طرح سے استعمال میں لایا جائے تو ملک سے غربت اور بھوک ختم ہو سکتی
ہے ۔ ملک میں غربت بے روزگاری اور بھوک کی ایک اہم وجہ بھی یہی لوگ ہیں
،کسی کے مال کو ناحق کھانے والوں کے بارئے میں قران نے بڑا سخت لہجہ
استعمال کیا ہے اور اسے برا ترین فعل قرار دیا ہے اس لئے معاشرے کے فمیدہ
طبقوں اور ذرائع ابلاغ کو اپنی انسانی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس
ذہنیت کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنا چاہیی کیونکہ اگر یہ ملک ہے تو ہم
سب ہیں اور اگر خدا نخواستہ ملک کو کچھ ہو گیا کہ جس طرح کے حالات پیدا
کئے جا رہے ہیں تو لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ہو جائے گا پھرکچھ بھی نہیں بچے
گا شورش زدہ ملکوں پر عموماً طاقت ور ملک چڑھ دوڑتے ہیں اور ملک کو اسی
جانب لے جایا جارہا ہے اس لئے حکومت اور عوام کو مل کر ملک بچانے کی فکر
کرنی چاہیی ۔
This entry was posted on 23-09-2008 01:00. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 4 time. . . .
You can leave a comment.
. . . Last update on 23-09-2008 01:00 Views: 335
This article was favoured 4 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 23-09-2008 01:00
Views: 335