| چڑھ جا بچہ سولی رام بھلی کرے گا |
کچھ عرصہ سے ہمار ا سب سے بڑا دوست امریکہ ہوائی جہاز اور ہیلی کاپڑوں کے
علاوہ میزائلوں سے پاکستان کے ساتھ مختلف شمالی علاقوں میں ایک تواتر سے
حملے کر رہا ہے جس کے نتیجے میں جہاں بہت سارے عسکریت پسند مارے جا رہے
ہیں وہاں بہت سے بے گناہ پاکستانی بھی شہید ہو ئے ہیں ۔ پاکستانی حکومت نے
اس ضمن میں امریکہ سے بھرپور احتجاج بھی کیا اور اس کی قیادت کو بھی سخت
لہجے میں ان حملوں سے باز رہنے کو کہا علاوہ ازیں چیف آف آرمی سٹاف جنر
ل کیانی نے بھی واشگاف الفاظ میںکہا ہے کہ اگر کوئی باہر سے حملہ کرے گا
تو پاکستان کی حفاظت کیلئے بھر پور جوابی کاروائی کی جائے گی جبکہ وزیر
اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم بات چیت کے ذریعے امریکی حکومت کو قائل
کریں گے کہ وہ اپنی ان حرکتوں سے باز آ جائے کیونکہ اس کی اس طرح کی
حرکتیں ہماری آزادی کے منافی ہیں، ساتھ ہی آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم
لڑائی نہیں کر سکتے ، بات چیت کے ذریعے ہی حالات کو سدھارنے کی کوشش
کرینگے۔
آرمی چیف کے بیان پرجہاں کچھ لوگوں نے مسرت کا اظہار کیا وہاں کچھ لوگوں خاص طور پر پاکستانی سیاستدان ، مذہبی اکابرین اور بعض سابقہ فوجی جرنیلوں نے حکومت اور وزیر اعظم کو خوب لٹارا کہ اس نے بزدلی دکھائی ہے ،سا تھ ہی یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ فوری طور پر امریکی حملوں کا عملی طور پر جواب دیں یعنی ان کے طیارے آئیں تو ان کا مقابلہ کیا جائے یا جوابی حملے کیے جائیں نیز یہ کہ ان کو دی جانی والی لاجسٹک سپورٹ بھی معطل کر دیا جائے۔
اس طرح کے مطالبات کرنے والے بعض تو حقیقت میں اپنی سیاسی اور مذہبی دوکانداری چمکا رہے ہیں جبکہ بعض اپنے تئیں حکومت کو احمق اور بے وقوف سمجھتے ہوئے اپنی ذہانت کا بالواسطہ اظہار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جو حکومتی اکابرین کر رہے ہیں وہ سراسر غلط ہے اور وہ جو ہم کہہ رہے ہیں بس وہی ٹھیک ہے اور اس ضمن میں بڑھ بڑھ کر بیانات داغ رہے ہیں، اسی تناظر میں مورخہ 19ستمبر کو میاں نواز شریف نے لندن سے لاہور پہنچنے پر ایک بیان میں کہا کہ"امریکہ اور اتحادی فوجوں کا رویہ ناقابلِ قبول ہے"۔
جہاں اور بہت سے لوگ امریکی پالیسیوں کے خلاف ہیں وہاں میاں صاحب بھی آج تک اپنے اس فیصلے پر نازاں وشاداں ہیں جو انہوں نے ایٹمی دھماکے کرنے کے سلسلہ میں کئے تھے اور بار بار ذکر کرتے ہیں کہ کس طرح اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے ان کو فون کرکرکے دھماکے کرنے سے بعض رہنے کا کہا مگر انہوں نے کلنٹن کی بات نہیں مانی اور دھماکے کر دیئے۔ ایسی ہی سوچ کے بعض اور لوگ بھی ہیں جو ان ممالک کا حوالہ دے رہے ہیں جہاں سے ابھی حال ہی میں امریکہ کے سفیروں کا نکالا گیا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں صاحب نے اس وقت امریکی صدر کی بات نہیں مانی تھی اور اپنی مرضی کی تھی، یہ بھی سچ ہے کہ بعض ممالک سے ان دنوں امریکہ کے سفیر نکالے گئے ہیںمگر وہ تمام لوگ جو امریکی پالیسیوں کے خلاف ہیں کو اس بات کا ادراک نہیں ہے یا وہ جان بوجھ کر حقائق سے چشم پو شی کر رہے ہیں کہ ان ممالک کے سیاسی اور علاقائی حالات اور پاکستان کے سیاسی اور علاقائی حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے، ہمارے پیشتر ذرائع آمدن بیرونی قرضوں کی صورت میںہیں جو ان اداروں یا ملکوں سے لئے جاتے ہیں جو امریکی کے زیرِ اثر ہیں، فوج کو اسلحہ امریکی سے آتا ہے، اس کی تنخواہیں پوری کرنے کیلئے قرضے کے پیسے امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں سے آتے ہیں، ہماری خوراک کی ضروریات بھی امریکہ ہی کی مرہونِ منت ہیں ۔اس ضمن میں مورخہ19ستمبر کی ایک خبر کے مطابق امریکہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت پاکستان کو آٹھ عشاریہ چار ملین(8.4M) ڈالرکی امداد فقط خوراک کے بحران سے نپٹنے کے لئے دے گا، جس میں گیارہ ہزار میڑتک ٹن گندم بھی شامل ہے۔عالمی کساد بازاری اور تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث ملک کے اندر جمع ہونے والے وسائل میں بڑہوتی کی بجائے اس میںکمی ہو چکی ہے ، حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے جہاں دوسرے ملکوں سے قرضے لیتی ہے وہاں بہت سے ملکی مالیاتی اداروں سے بھی قرضے لیتی ہے اور اس وقت ملک کا جمع شدہ سرمایہ (زرِ مبادلہ) جو کبھی سولہ ارب کے قریب تھا کم ہو کرآٹھ ساڑھے آٹھ ارب کے قریب ہو چکا ہے۔
اس ساری صورتحال میں جب کہ ہماری ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہو،جب ہماری کثیر اشرافیہ ملک کے وسائل لوٹ چکی ہو، قرضے لے لے کر معاف کروا چکی ہو، صنعت کار، سرمایہ دار، جاگیر دار اور زمیندار(بڑے زمیندار خاص طور پر)ملکی معیشت کو سہار ا دینے کے لئے آگے آئیں گے ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اگرکوئی مجھ سے پوچھے تو صرف اور صرف نا میں ہے کیونکہ اگر یہ تمام لوگ ملک کے ساتھ مخلص ہوتے تو جھوٹ بول بول کر کبھی قرضے معاف نہ کراتے اور نہ ہی اس طرح اپنی تجوریوں کو بھرتے کہ ان کی دیکھا دیکھی اکثر چھوٹے سرمایہ دار اور بیوپاری بھی سچ کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور اپنے کاروبار میں جھوٹ کی ملونی کرکے دو دو ہاتھوں سے غریب لوگوں (عوام) کو لوٹ رہے ہیں اور ان کی پھر بھی تسلی نہیں ہو رہی اور ان کی کثیر تعداد کاروبار اور آمدن کی کمی کا رونا روتی دکھائی دیتی ہے۔
بھارت کے ساتھ ہونے والی دوجنگوں کے بعد ملک کا حال احوال وہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں جو مالی اعداد وشمار کے ماہر ہیں کہ ان چند دنوں کی جنگوں کے بعد ملک کی مالی حالت کسقدر خراب ہو گئی تھی اورجب ملک کی مالی حالت اس طرح دگر گوں ہو کہ نہ پیسہ ہو ،نہ وافر کھانے کو ہو اور نہ ہی لڑنے کو جدید اسلحہ ہو ، تو پھر ایسے میں امریکہ جیسی سپر طاقت کے ساتھ لڑائی کس طرح مول لی جا سکتی ہے یہ تو ایسا ہی ایک تماشہ ہے کہ کمزور کو ہلہ شیری دے کر طاقتور سے لڑا دیا جائے اور کہا جائے کہ رام بھلی کرے گا جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں۔ جو لوگ جنگ بدر، جنگ احد اور جنگ خندق کے حوالے دیتے ہیں ان کو جان لینا چاہیے کہ اس وقت قیادت میرے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور آپ کے ساتھی صحابہ اجمعین ؓتھے جو وفاشناسی اور قربانی کے جذبے میں ایک سے بڑھ کر ایک تھے اور ساتھ ہی اللہ کی تائید شامل حال تھی جبکہ اب ہمارے ساتھ کیا ہے؟ نہ ہمارے اپنے ہمارے ساتھ ہیں اورنہ دوست ہمارے ساتھ ہیں، نہ وہ لوگ ،نہ وہ جذبے ،نہ وہ صدق ،نہ وہ وفا ، نہ وہ قیادت نہ وہ حالات اگر کچھ ہمارے ساتھ ہے تو نفسا نفسی اور منافقت ۔چرب زبانی کا سہارا لیکر تو بہت کچھ کہا جا سکتا ہے مگر عملی طور پر ہم اس وقت صفر ہیں اور صفر کی اپنی کوئی وقت اور قدر و منزلت نہیں ہوا کرتی، پہلے اپنی اصلاح کریں، وہ جذبے پیدا کریں ، وطن کے ساتھ مخلص ہو جائیں تو پھر امریکہ کیا امریکہ سے بڑی بھی کوئی طاقت ہو گی تو شکست اس کا مقدر ہو گی اور ایسا نہیں ہو سکتا تو پھر ذلت تو سامنے ہی کھڑی ہے جسے ہمار ا مقدر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
آرمی چیف کے بیان پرجہاں کچھ لوگوں نے مسرت کا اظہار کیا وہاں کچھ لوگوں خاص طور پر پاکستانی سیاستدان ، مذہبی اکابرین اور بعض سابقہ فوجی جرنیلوں نے حکومت اور وزیر اعظم کو خوب لٹارا کہ اس نے بزدلی دکھائی ہے ،سا تھ ہی یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ فوری طور پر امریکی حملوں کا عملی طور پر جواب دیں یعنی ان کے طیارے آئیں تو ان کا مقابلہ کیا جائے یا جوابی حملے کیے جائیں نیز یہ کہ ان کو دی جانی والی لاجسٹک سپورٹ بھی معطل کر دیا جائے۔
اس طرح کے مطالبات کرنے والے بعض تو حقیقت میں اپنی سیاسی اور مذہبی دوکانداری چمکا رہے ہیں جبکہ بعض اپنے تئیں حکومت کو احمق اور بے وقوف سمجھتے ہوئے اپنی ذہانت کا بالواسطہ اظہار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جو حکومتی اکابرین کر رہے ہیں وہ سراسر غلط ہے اور وہ جو ہم کہہ رہے ہیں بس وہی ٹھیک ہے اور اس ضمن میں بڑھ بڑھ کر بیانات داغ رہے ہیں، اسی تناظر میں مورخہ 19ستمبر کو میاں نواز شریف نے لندن سے لاہور پہنچنے پر ایک بیان میں کہا کہ"امریکہ اور اتحادی فوجوں کا رویہ ناقابلِ قبول ہے"۔
جہاں اور بہت سے لوگ امریکی پالیسیوں کے خلاف ہیں وہاں میاں صاحب بھی آج تک اپنے اس فیصلے پر نازاں وشاداں ہیں جو انہوں نے ایٹمی دھماکے کرنے کے سلسلہ میں کئے تھے اور بار بار ذکر کرتے ہیں کہ کس طرح اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے ان کو فون کرکرکے دھماکے کرنے سے بعض رہنے کا کہا مگر انہوں نے کلنٹن کی بات نہیں مانی اور دھماکے کر دیئے۔ ایسی ہی سوچ کے بعض اور لوگ بھی ہیں جو ان ممالک کا حوالہ دے رہے ہیں جہاں سے ابھی حال ہی میں امریکہ کے سفیروں کا نکالا گیا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں صاحب نے اس وقت امریکی صدر کی بات نہیں مانی تھی اور اپنی مرضی کی تھی، یہ بھی سچ ہے کہ بعض ممالک سے ان دنوں امریکہ کے سفیر نکالے گئے ہیںمگر وہ تمام لوگ جو امریکی پالیسیوں کے خلاف ہیں کو اس بات کا ادراک نہیں ہے یا وہ جان بوجھ کر حقائق سے چشم پو شی کر رہے ہیں کہ ان ممالک کے سیاسی اور علاقائی حالات اور پاکستان کے سیاسی اور علاقائی حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے، ہمارے پیشتر ذرائع آمدن بیرونی قرضوں کی صورت میںہیں جو ان اداروں یا ملکوں سے لئے جاتے ہیں جو امریکی کے زیرِ اثر ہیں، فوج کو اسلحہ امریکی سے آتا ہے، اس کی تنخواہیں پوری کرنے کیلئے قرضے کے پیسے امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں سے آتے ہیں، ہماری خوراک کی ضروریات بھی امریکہ ہی کی مرہونِ منت ہیں ۔اس ضمن میں مورخہ19ستمبر کی ایک خبر کے مطابق امریکہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت پاکستان کو آٹھ عشاریہ چار ملین(8.4M) ڈالرکی امداد فقط خوراک کے بحران سے نپٹنے کے لئے دے گا، جس میں گیارہ ہزار میڑتک ٹن گندم بھی شامل ہے۔عالمی کساد بازاری اور تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث ملک کے اندر جمع ہونے والے وسائل میں بڑہوتی کی بجائے اس میںکمی ہو چکی ہے ، حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے جہاں دوسرے ملکوں سے قرضے لیتی ہے وہاں بہت سے ملکی مالیاتی اداروں سے بھی قرضے لیتی ہے اور اس وقت ملک کا جمع شدہ سرمایہ (زرِ مبادلہ) جو کبھی سولہ ارب کے قریب تھا کم ہو کرآٹھ ساڑھے آٹھ ارب کے قریب ہو چکا ہے۔
اس ساری صورتحال میں جب کہ ہماری ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہو،جب ہماری کثیر اشرافیہ ملک کے وسائل لوٹ چکی ہو، قرضے لے لے کر معاف کروا چکی ہو، صنعت کار، سرمایہ دار، جاگیر دار اور زمیندار(بڑے زمیندار خاص طور پر)ملکی معیشت کو سہار ا دینے کے لئے آگے آئیں گے ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اگرکوئی مجھ سے پوچھے تو صرف اور صرف نا میں ہے کیونکہ اگر یہ تمام لوگ ملک کے ساتھ مخلص ہوتے تو جھوٹ بول بول کر کبھی قرضے معاف نہ کراتے اور نہ ہی اس طرح اپنی تجوریوں کو بھرتے کہ ان کی دیکھا دیکھی اکثر چھوٹے سرمایہ دار اور بیوپاری بھی سچ کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور اپنے کاروبار میں جھوٹ کی ملونی کرکے دو دو ہاتھوں سے غریب لوگوں (عوام) کو لوٹ رہے ہیں اور ان کی پھر بھی تسلی نہیں ہو رہی اور ان کی کثیر تعداد کاروبار اور آمدن کی کمی کا رونا روتی دکھائی دیتی ہے۔
بھارت کے ساتھ ہونے والی دوجنگوں کے بعد ملک کا حال احوال وہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں جو مالی اعداد وشمار کے ماہر ہیں کہ ان چند دنوں کی جنگوں کے بعد ملک کی مالی حالت کسقدر خراب ہو گئی تھی اورجب ملک کی مالی حالت اس طرح دگر گوں ہو کہ نہ پیسہ ہو ،نہ وافر کھانے کو ہو اور نہ ہی لڑنے کو جدید اسلحہ ہو ، تو پھر ایسے میں امریکہ جیسی سپر طاقت کے ساتھ لڑائی کس طرح مول لی جا سکتی ہے یہ تو ایسا ہی ایک تماشہ ہے کہ کمزور کو ہلہ شیری دے کر طاقتور سے لڑا دیا جائے اور کہا جائے کہ رام بھلی کرے گا جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں۔ جو لوگ جنگ بدر، جنگ احد اور جنگ خندق کے حوالے دیتے ہیں ان کو جان لینا چاہیے کہ اس وقت قیادت میرے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور آپ کے ساتھی صحابہ اجمعین ؓتھے جو وفاشناسی اور قربانی کے جذبے میں ایک سے بڑھ کر ایک تھے اور ساتھ ہی اللہ کی تائید شامل حال تھی جبکہ اب ہمارے ساتھ کیا ہے؟ نہ ہمارے اپنے ہمارے ساتھ ہیں اورنہ دوست ہمارے ساتھ ہیں، نہ وہ لوگ ،نہ وہ جذبے ،نہ وہ صدق ،نہ وہ وفا ، نہ وہ قیادت نہ وہ حالات اگر کچھ ہمارے ساتھ ہے تو نفسا نفسی اور منافقت ۔چرب زبانی کا سہارا لیکر تو بہت کچھ کہا جا سکتا ہے مگر عملی طور پر ہم اس وقت صفر ہیں اور صفر کی اپنی کوئی وقت اور قدر و منزلت نہیں ہوا کرتی، پہلے اپنی اصلاح کریں، وہ جذبے پیدا کریں ، وطن کے ساتھ مخلص ہو جائیں تو پھر امریکہ کیا امریکہ سے بڑی بھی کوئی طاقت ہو گی تو شکست اس کا مقدر ہو گی اور ایسا نہیں ہو سکتا تو پھر ذلت تو سامنے ہی کھڑی ہے جسے ہمار ا مقدر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
2007-2009| < Prev | Next > |
|---|






(0 vote)
This article was favoured 5 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 19-09-2008 01:00
Views: 346